کیرالہ: ماہواری کے درد پر انڈین مرد چیخ کیوں رہے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہCUP OF LIFE
- مصنف, میرل سبیسچیئن
- عہدہ, بی بی سی نیوز
ماہواری اور اس کے ساتھ آنے والی تکالیف پر بات کرنا آج بھی انڈیا کے بہت سے حصوں میں ایک ممنوع موضوع ہے لیکن انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ میں ایک مہم چلائی جا رہی ہے جس کا مقصد اس رویے کو تبدیل کرنا ہے۔
اس مہم کے منتظمین ماہواری کی تکالیف کا احساس پیدا کرنے والی مشین سیمولیٹر کو ارناکولم ضلع کے مالز اور کالجوں میں لے جا رہے ہیں تاکہ مردوں کو ماہواری کے درد کا سامنا ہو اور اس موضوع کے بارے میں بات چیت کو معمول کا حصہ بنایا جا سکے۔
مہم کے منتظمین کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ ویڈیو میں مردوں کو درد سے کراہتے اور چیختے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ خواتین انھیں اس حالت میں دیکھ کر محظوظ ہو رہی ہیں۔
مقامی سوشل میڈیا انفلوئنسر شرن نائر نے ایک مال میں سیمولیٹر کا استعمال کیا اور پھر انھوں نے کہا کہ ’یہ واقعی تکلیف دہ تھا۔ میں دوبارہ کبھی اس کا تجربہ نہیں کرنا چاہتا۔‘
یہ سیمولیٹر ’کپ آف لائف‘ نامی ایک پروجیکٹ کا حصہ ہے جس کا مقصد ماہواری سے متعلق فرضی باتوں کو ختم کرنا ہے۔
اسے کانگریس پارٹی کے مقامی قانون ساز ہیبی ایڈن نے انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) کے ساتھ مل کر شروع کیا ہے۔ یہ ایسوسی ایشن ڈاکٹروں کی نمائندگی کرتی ہے۔
خواتین کی صحت اور خاص طور پر ماہواری سے متعلق مسائل پر انڈیا میں کم ہی بات کی جاتی ہے۔ بہت سے علاقوں میں اب بھی خواتین کو ماہواری میں ناپاک سمجھا جاتا ہے اور انھیں سماجی اور مذہبی تقریبات اور یہاں تک کہ باورچی خانے سے بھی دور رکھا جاتا ہے۔
اگرچہ شہری علاقوں میں یہ رویہ تھوڑا سا تبدیل ہوا ہے لیکن زیادہ تر خواتین اب بھی ماہواری یا شدید درد کے بارے میں اپنی کام کی جگہ اور یہاں تک کہ خاندان کے مردوں کے ساتھ بات کرنے میں آرام محسوس نہیں کرتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دنیا بھر میں اور انڈیا میں بھی کچھ کمپنیوں نے ماہواری کی چھٹی کی پیشکش شروع کردی ہے لیکن اس پر ابھی بھی لوگوں کی آرا منقسم ہے۔
مہم کے منتظمین پرامید ہیں کہ وہ کیرالہ میں تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ کیرالہ کو انڈیا کی سب سے ترقی پسند ریاستوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
وکیل سینڈرا سنی نے feelthepain# ایونٹ کو ڈیزائن کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ سیمولیٹر بامعنی گفتگو کی حوصلہ افزائی کرنے اور اس طرح کے رویوں کو تبدیل کرنے کا ’سب سے آسان طریقہ‘ ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ کالج کے لڑکوں سے براہ راست پوچھیں کہ ماہواری کے درد کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں، تو وہ اس بارے میں بات کرنے ہوئے ہچکچاہٹ کا شکار نظر آئیں گے لیکن اگر آپ ان سے سیمولیٹر لگانے کے بعد ایسے سوال پوچھیں کہ ’کیا انھوں نے کسی کے ساتھ پیریڈز کے بارے میں بات کی ہے، یا اس بارے میں بات کرنے سے ہچکچاتے کیوں ہیں‘ تو وہ پھر کھل کر بات کرنے لگتے ہیں۔‘
سیمولیٹر میں دو تاریں ہوتی ہیں جو ایک ہی وقت میں دو لوگوں سے منسلک کی جا سکتی ہیں اور ایک بٹن ہے جس سے درد کی سطح کو ایک سے 10 تک بڑھایا جاسکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہCUP OF LIFE
نائر یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب یہ لڑکیوں کو لگائے گئے تو انھیں ’کچھ محسوس نہیں ہوا‘ اور یہ جب لڑکوں کو لگائے گئے تو ’مجھ سمیت سارے لڑکے چیخ رہے تھے اور آسمان سر پر اٹھا رکھے تھے۔‘
منتظمین کا کہنا ہے کہ سیمولیٹر نے ایرناکولم ضلع کے کالجوں میں کھل کر بات چیت شروع کرنے میں مدد کی ہے۔
ایک پرائیویٹ کالج میں سیمولیٹر آزمانے والے چند طلبا نے کہا کہ وہ بمشکل درد برداشت کر سکے۔
انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کی مقامی شاخ کے جوائنٹ سکریٹری اور ’کپ آف لائف‘ مہم کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر اکھل مینوئل کا کہنا ہے کہ یہ ایک عام ردعمل ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’خواتین درد کی نویں سطح کو بھی برداشت کر لیتی ہیں جبکہ مردوں کے لیے لیول چار سے آگے جانا مشکل ہو جاتا ہے حالانکہ سیمولیٹر اصل درد کا صرف 10 فیصد منتقل کرتا ہے۔‘
سینڈرا سنی کہتی ہیں کہ سیمولیٹر مردوں کو یہ سمجھنے میں مدد کرتا ہے کہ برسوں تک اس طرح کے شدید درد کا سامنا کرنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے۔
’ان کے لیے یہ ایک مشین ہے جسے وہ روک سکتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں کر سکتے۔‘
یہ بھی پڑھیے
یہ پہلا موقع نہیں جب پیریڈز کے درد کا احساس دلانے کے لیے سیمولیٹرز کا انڈیا کے مردوں پر استعمال کیا گيا ہو۔
پچھلے سال دو غیر منافع بخش تنظیموں نے شمالی انڈیا میں پیریڈز کے موضوع پر تقریبات میں اس کا استعمال کیا تھا۔ اس کے بعد سے اس کا استعمال مختلف ورک شاپس میں ہوتا رہا ہے تاکہ مردوں کو ماہواری کے درد اور تکلیف سے روشناس کرایا جا سکے۔
ڈاکٹر مینوئل کا کہنا ہے کہ ’سیمولیٹر جمود کو توڑنے اور لوگوں کو گفتگو میں شامل ہونے میں مدد کرنے کے لیے ایک آلہ تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہCUP OF LIFE
جولائی میں امریکہ میں مقیم ایک پیریڈ پروڈکٹ کمپنی سم ڈیز (Somedays) نے مردوں کے سیمولیٹر استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کی تاکہ ان میں ہمدردی کا جذبہ پیدا کیا جا سکے۔
اس طرح کے پروگرامز پر مبنی ٹک ٹاک ویڈیوز کو اس کے بعد سے لاکھوں لوگ دیکھ چکے ہیں۔
خیال رہے کہ ’کپ آف لائف مہم‘ منگل کو شروع ہوئی اور چار ماہ تک جاری رہے گی اور یہ عالمی ریکارڈ بنانے کے لیے ایک لاکھ سے زائد ماہواری کپ تقسیم کرنے سمیت متعدد سرگرمیوں کا اہتمام کرے گی۔
لیکن مسٹر ایڈن کا کہنا ہے کہ اس کا بڑا مقصد ماہواری سے متعلق صحت مند اور کھلی بات چیت کا ماحول اور ترقی پسندانہ رویہ پیدا کرنا ہے۔
ڈاکٹر مینوئل کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں بہت سے قانون سازوں اور تنظیموں نے اس مہم میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور اسے اپنی برادریوں میں چلانے کے طریقے پوچھے ہیں۔
’آپ کو اپنی برادریوں کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے، یہ سمجھنا ہو گا کہ یہ کیسے کام کرتا ہے اور پھر اپنے ڈھانچے کے اندر ایسے راستے تلاش کریں جو آپ کو اس پر بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کرے۔‘













