انڈیا: سرکاری سکولوں میں پڑھانے والی اساتذہ کا ماہواری کے دوران تین دن کی چھٹی کا مطالبہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, گیتا پانڈے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش میں خواتین اساتذہ نے ایک مہم شروع کی ہے جس میں ہر ماہ تین دن کی چھٹی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بہت سی اساتذہ کا کہنا ہے کہ انھیں ان علاقوں تک لمبا سفر کرنا پڑتا ہے جہاں پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں جاتی اور سکولوں میں گندے بیت الخلا ہیں جو ناقابل استعمال ہیں اور یہ سب چیزیں ماہواری کے دوران ان کی تکلیف میں اضافہ کرتی ہیں۔
یہ مہم پچھلے مہینے شروع کی گئی تھی اور اب اس میں مزید اساتذہ شامل ہوتی جا رہی ہیں۔ اس کی قیادت اتر پردیش مہیلا شکاک سنگھ کر رہی ہے، جو ریاست میں خواتین اساتذہ کی ایک تنظیم ہے جو 168000 سرکاری سکولوں میں کام کرنے والی دو لاکھ سے زائد خواتین اساتذہ کی نمائندگی کرتی ہے۔
ضلع بارابنکی کے ایک سکول کی پرنسپل اور ایسوسی ایشن کی صدر سولوچنا موریہ کا کہنا ہے کہ دیہات میں 70 فیصد سے زائد خواتین سٹاف تعینات ہیں۔
موریہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ بات سب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ماہواری کے دوران خواتین کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ بہت سی خواتین کو جسمانی تکلیف کے ساتھ ساتھ جذباتی اذیت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور دور دراز دیہی علاقوں کے سکولوں تک پہنچنے کے لیے 30 سے 60 کلومیٹر کا سفر ماہواری کے دوران ان کی اذیت کو بڑھا دیتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا ’جن علاقوں میں باقاعدہ پبلک ٹرانسپورٹ نہیں جاتی، وہاں انھیں لفٹ لینا پڑتی ہے، بعض اوقات تو ٹریکٹر یا بیل گاڑیوں پر بھی سفر کرنا پڑتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ریاست لکھنؤ سے تقریباً 200 کلومیٹر (124 میل) کے فاصلے پر ایک دیہی سکول میں پڑھانے والی ایک استانی جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتیں، کا کہنا ہے کہ اساتذہ صرف ایمرجنسی میں سکول کے بیت الخلا استعمال کرتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں ’ہمارے سکول میں چھ بیت الخلا ہیں لیکن زیادہ تر دنوں میں یہ سب گندے ہوتے ہیں۔ انھیں ہر روز صاف نہیں کیا جاتا اور سینکڑوں طلبا وہیں جاتے ہیں، مگر یہ سارے ناقابل استعمال ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’مقامی اساتذہ کے لیے یہ اتنا مسئلہ نہیں ہے کیونکہ اگر انھیں باتھ روم استعمال کرنے کی ضرورت ہو تو وہ گھر جا سکتی ہیں، لیکن ان اساتذہ کے لیے جو دوسرے دیہات یا دور دراز سے آتی ہیں، یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔`
موریہ کا کہنا ہے کہ بہت سی طالبات پیریڈز کے دنوں میں سکول نہیں آتیں۔ وہ کہتی ہیں ’اس وقت ہم اساتذہ کو چھٹی دلوانے کے لیے لڑ رہے ہیں۔ بعد میں ہم طلبا کے لیے بھی یہی کوشش کریں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں ماہواری کے دوران چھٹی مانگنے کا تصور نیا نہیں ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں کئی نجی کمپنیوں، جیسے ڈیجیٹل انٹرٹینمنٹ فرم کلچر مشین، ٹاٹا سٹیل اور فوڈ ڈیلیوری ایپ زوماٹو نے اپنی خواتین ملازمین کے لیے پیریڈ لیو (ماہواری کے دنوں میں چھٹی) کا اعلان کیا ہے۔
پڑوسی ریاست بہار میں خواتین سرکاری ملازمین پچھلے 30 سالوں سے ہر ماہ دو دن کی خصوصی چھٹی لینے میں کامیاب رہی ہیں۔
موریہ پوچھتی ہیں ’تو اتر پردیش ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟ ہم سب ایک ملک کے شہری ہیں تو مختلف ریاستوں میں خواتین کے لیے مختلف قاعدے کیوں ہیں؟‘
موریہ اور ایسوسی ایشن کے اراکین نے اپنا مطالبہ ریاستی خواتین کمیشن کو پیش کیا ہے۔ انھوں نے ٹویٹر پر مہم چلائی ہے اور وہ وزرا، قانون سازوں اور عوامی نمائندوں کے آگے بھی لابنگ کر رہی ہیں۔ لیکن ایک حکومتی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی اس مطالبے پر غور کرنا باقی ہے۔
’کمپنیاں اس بہانے کو استعمال کرتے ہوئے کم خواتین کو ملازمت دیں گی‘
اساتذہ کی لڑائی نے ایک بار پھر اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ آیا ماہواری کی چھٹی خواتین کے لیے جسمانی اور ذہنی طور پر راحت کا باعث بنتی ہے یا نہیں۔
یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر رائے منقسم ہے اور اس بارے میں کافی بحث ہوئی ہے کہ آیا یہ ایک ترقی پسند اقدام ہے یا صرف دقیانوسی تصورات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ خواتین کمزور ہیں اور دفاتر میں کام کی اہل نہیں۔
بہت سی خواتین کا کہنا ہے کہ ماہورای کے تکلیف دہ دنوں کے دوران دوران چھٹی ان کی اذیت کو کم کرتی ہے، تاہم چھٹی کے مطالبے پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ماہواری کے دوران چھٹی مانگنا خود خواتین کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ کمپنیاں اور ملازمت دینے والے افراد اس بہانے کو استعمال کرتے ہوئے کم سے کم خواتین کو ملازمت پر رکھیں گے۔
مرد باس سے چھٹی مانگنے میں ہچکچاہٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ماہواری کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کے نیٹ ورک مینسٹرل ہیلتھ الائنس آف انڈیا (ایم ایچ اے آئی) کی تانیا مہاجن کا کہنا ہے کہ ماہواری کی چھٹیاں خواتین کے لیے آسانی کا باعث بنتی ہیں۔
’ خاص طور پر ان خواتین کے لیے جن کو ماہواری کے دوران شدید تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے اور انھیں کم از کم ایک دن کی چھٹی لینی پڑتی ہے۔‘
لیکن وہ کہتی ہیں کہ بہت سی خواتین اب بھی تکلیف سے گزرتی رہتی ہیں مگر چھٹی مانگنے سے ہچکچاتی ہیں، خاص طور پر جب باس مرد ہو۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ انڈیا میں ماہواری پر بات معیوب سمجھی جاتی ہے اور ماہواری کے دنوں میں عورتوں کو ناپاک تصور کیا جاتا ہے۔ انھیں بڑے پیمانے پر امتیازی سلوک کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ماہواری کے دوران وہ سماجی اور مذہبی تقریبات میں شرکت نہیں کر سکتیں، انھیں مندروں اور مزاروں میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا اور یہاں تک کہ ان کا کچن میں بھی گھسنا منع ہوتا ہے۔
مغربی انڈیا کی کچھ قبائلی برادریوں میں تو انھیں ماہواری کے دوران جنگل کے کنارے گاؤں کے مضافات میں بنی ایک جھونپڑی میں رہنا پڑتا ہے۔
شہری، تعلیم یافتہ خواتین ان رجعت پسندانہ نظریات کو چیلنج کر رہی ہیں، لیکن ماہواری کے بارے میں بات چیت اب بھی بڑی حد تک سرگوشیوں میں ہوتی ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق سکولوں میں ماہواری سے متعلق حفظان صحت کی سہولیات کے فقدان (جن میں سینیٹری پیڈز اور سکولوں میں صاف بیت الخلا تک رسائی شامل ہے) کے باعث، بلوغت پر پہنچنے والی سالانہ دو کروڑ 30 لاکھ لڑکیاں سکول چھوڑ دیتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPrashant Mandawar
مہاجن کا کہنا ہے کہ ماہواری کے دنوں میں چھٹی دینا مسئلے کا آدھا حل ہے۔ لیکن اہم یہ ہے کہ ماہواری کے بارے میں کھل کر بات چیت کی جائے۔
وہ کہتی ہیں ’لیکن کیا یہ بات چیت ہو رہی ہے؟ کیا دفاتر اور سکول خواتین کو صاف بیت الخلا تک رسائی اور بہتر سہولیات فراہم کر رہے ہیں؟‘
’جب تک عملی کام نہ کیا جائے، صرف پالیسی تبدیل کرنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔‘









