اگنی پتھ: نیپال کے خدشات، انڈین فوج میں نیپالی گورکھوں کی بھرتی کی مہم پر سوال

انڈین فوج میں نیپالی گورکھوں کی بھرتی کی مہم نیپال کی حکومت کی جانب سے جواب نہ ملنے کے باعث شروع نہیں ہو سکی ہے اور نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ اس بارے میں فیصلہ کرنا آسان نہیں ہے۔

مودی حکومت کی اگنی پتھ سکیم کے تحت نیپالی گورکھوں کی بھرتی کے لیے مہم 25 اگست سے سات ستمبر کے درمیان بٹوال میں چلائی جانی تھی

اس کا اہتمام ریاست اترپردیش کے علاقے گورکھپور میں واقع 'گورکھا ریکروٹمنٹ ڈپو' نے کیا تھا جو انڈین فوج میں گورکھا سپاہیوں کو بھرتی کرتا ہے۔

اس سلسلے میں نیپال میں انڈین سفارت خانے نے نیپال کی وزارت خارجہ کو خط بھیج کر اجازت طلب کی تھی لیکن نیپال کی حکومت نے اس معاملے میں خاموشی اِختیار کی اور بروقت جواب نہیں دیا۔

نیپال کے وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا کی پارٹی نیپالی کانگریس کے ایک سینیئر رہنما اور ملک کے وزیر دفاع منیندر رجال نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ حکومت کے لیے اس معاملے میں ہاں یا نہیں کہنا اتنا آسان نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مخلوط حکومت ہے اور پارلیمانی انتخابات بھی چند ماہ میں ہونے والے ہیں اس لیے یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔

دیوبا حکومت اس معاملے میں کھل کر بات کرنے سے گریز کر رہی ہے اور بظاہر وہ نہ تو اپنے اتحادیوں اور اپوزیشن کو ناراض کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی انڈیا کو۔

اگنی پتھ کا منصوبہ اور نیپال میں بھی احتجاج

خیال رہے کہ اس سال 14 جون کو انڈین فوج میں بھرتی کے لیے اگنی پتھ کے نام سے ایک نئی سکیم کا اعلان کیا گیا تھا جس کے تحت 17 سے 21 سال کے نوجوانوں کو اگنیور کے طور پر منتخب کیا جانا ہے اور چار سال کے بعد کارکردگی کی بنیاد پر ان کی ملازمت کو باقاعدہ بنایا جائے گا۔

بھرتی کیے جانے والے نوجوانوں میں سے صرف 25 فیصد کو باقاعدہ ملازمتیں ملنی ہیں جبکہ باقی کو واپس جانا پڑے گا۔

انڈیا میں اس نئے منصوبے کے خلاف کئی ریاستوں میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے اور اب نیپال بھی اس منصوبے کو ماننے کو تیار نہیں۔

نیپال کے گورکھوں کو آزادی کے بعد سے انڈین فوج میں بھرتی کیا جاتا رہا ہے۔ یہ بھرتیاں 1947 میں انڈیا، نیپال اور برطانیہ کے درمیان ہونے والے سہ فریقی معاہدے کے تحت ہوتی رہی ہیں۔

نیپال میں بھی اگنی پتھ سکیم پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اگر نوجوان فوج میں چار سال گزارنے کے بعد ملازمت حاصل نہیں کر پاتے اور واپس آتے ہیں تو وہ کیا کریں گے؟

نیپال کی موجودہ شیر بہادر دیوبا کی حکومت نیپال کے سابق وزیر اعظم پشپا کمل دہل پراچندا کی کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (ماؤسٹ سینٹر) اور دیگر بائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت سے قائم ہے اور یہ جماعتیں اگنی پتھ کو اس کی موجودہ شکل میں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

اگنی پتھ سکیم پر نیپال کو کیا تشویش ہے؟

وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا کے خارجہ امور کے مشیر ارون کمار سویدی نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ نیپال کو اگنی پتھ منصوبے کے بارے میں کچھ خدشات ہیں اور ان خدشات سے جلد ہی انڈیا کو آگاہ کر دیا جائے گا۔

ارون کمار سویدی نے کہا کہ اگر نوجوان چار سال بعد فوج کی تربیت لے کر نیپال واپس آتے ہیں تو ان کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیپال کے انتہاپسند گروپ ان نوجوانوں کی تربیت کا غلط استعمال کر سکتے ہیں۔

سوویدی نے کہا کہ نیپال کی حکومت ان خدشات کو انڈین حکومت کے ساتھ اٹھائے گی اور اس پر دوبارہ غور کرنے پر زور دے گی۔

یہ بھی پڑھیے

نیپال کے سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یونیفائیڈ مارکسسٹ-لیننسٹ) اگنی پتھ منصوبے کی کھل کر مخالفت کر رہی ہے۔

بی بی سی ہندی نے پی کے اولی کی حکومت میں وزیر خارجہ رہنے والے پردیپ گیاوالی سے پوچھا کہ دیوبا حکومت کو بروقت جواب کیوں نہیں دینا چاہیے تھا تو ان کا کہنا تھا ’حکومت کو خاموش رہنے کے بجائے سیدھا جواب دینا چاہیے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس 25 اگست کی سہ پہر ہونے جا رہا ہے اور اس میں حکومت اپنا موقف واضح کرے گی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری جماعت کل شام تک حکومت کے جواب کا انتظار کرے گی لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ اس معاملے کو اتنے عرصے تک التوا میں رکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اگر نیپالی گورکھوں کو اگنی پتھ اسکیم کے تحت بھرتی کیا جاتا ہے تو یہ 1947 کے سہ فریقی معاہدے کی خلاف ورزی ہے‘۔

نیپالی فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل بنوز بسنایت اگنی پتھ پر نیپال حکومت کے موقف کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’نیپال کے لیڈر اقتدار کے لیے نوجوانوں کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ نیپال کی سیاسی جماعتیں ووٹ بینک کے نکتہ نظر سے اپنے فائدے اور نقصانات کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں۔ مجھے اگنی پتھ سکیم میں کچھ غلط نظر نہیں آتا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’چار سال بعد بھی اگر نیپالی نوجوان انڈین فوج سے واپس آتے بھی ہیں تو انھیں کافی رقم ملے گی۔ انھیں جو تربیت ملتی ہے اس سے وہ دوسری ملازمتیں بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ نیپال کے لیڈروں کو سمجھنا ہوگا کہ نیپال کا دفاعی بجٹ اتنا نہیں ہے جتنا کہ نیپالیوں کو انڈین فوج سے ملنے والی پنشن ہے‘۔

نیپال حکومت کا موقف دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر کیا اثر ڈالے گا؟

اس سوال کے جواب میں نیپال کے سابق وزیر دفاع منیندرا رجال کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کسی ایک معاملے پر منحصر نہیں ہوتے۔ انھوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ کسی ایک معاملے پر اختلاف دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو پٹڑی سے اتار دے گا۔‘

انڈیا میں نیپال کے سفیر رہنے والے دیپ کمار اپادھیائے کا خیال ہے کہ انڈین حکومت کو فوج کی بھرتی کے منصوبے کو تبدیل کرنے سے پہلے نیپال کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔

’انڈیا نیپال کو پہلے ہی مطلع کر سکتا تھا۔ ہندوستان جانتا ہے کہ نیپال بھی اس منصوبے سے متاثر ہوگا لیکن اچانک ہمیں چیزوں کا علم ہوا۔ اسی طرح حکومت ہند نے نوٹ بندی کا فیصلہ لیا تھا اور نیپال اس سے بری طرح متاثر ہوا تھا۔ بھارت کے پرانے پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ اب بھی نیپال راشٹرا بینک میں پڑے ہیں‘۔

تاہم، دیپ کمار اپادھیائے کا خیال ہے کہ اگنی پتھ منصوبہ 1947 کے سہ فریقی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں، ’نیپالی گورکھے برطانوی اور ہندوستانی فوج میں ایک تاریخی معاہدے کے نتیجے میں شامل ہوتے ہیں لیکن سنگاپور پولیس اور برونائی کی فوج میں کسی معاہدے کے بغیر۔ میرے خیال میں اس پر مزید توجہ کی ضرورت ہے۔ نیپال کے کمیونسٹ اپنی سیاست کی مجبوری ہیں کہ وہ ہندوستان کے بارے میں کچھ نہ کچھ کرتے رہیں‘۔

انڈین فوج کے میجر جنرل (ریٹائرڈ) جنرل اشوک مہتا کا، جو گورکھا رجمنٹ میں تھے، خیال ہے کہ اگنی پتھ منصوبہ نیپالی گورکھوں کے ساتھ تعلقات کی گہرائی اور لگن کو بری طرح متاثر کرے گا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا، ’اگنی پتھ کا اثر نیپال پر بہت وسیع پیمانے پر ہوگا۔ انڈین فوج میں اس وقت 35 ہزار نیپالی گورکھے ہیں۔ اس کے علاوہ انڈین فوج سے ریٹائر ہونے والے نیپالی گورکھوں کی تعداد ایک لاکھ 35 ہزار ہے۔ اگر ان کی تنخواہ اور پنشن کو شامل کیا جائے تو یہ رقم 62 ملین ڈالر بنتی ہے جو نیپال کے جی ڈی پی کا تین فیصد ہے‘۔

ان کے مطابق ’دوسری طرف نیپال کا دفاعی بجٹ صرف 43 ملین ڈالر ہے یعنی نیپالی گورکھوں کو ہر سال انڈیا سے نیپال کے دفاعی بجٹ سے زیادہ تنخواہ اور پنشن مل رہی ہے ایسے میں اگنی پتھ کی وجہ سے نیپال کی معیشت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے‘۔