فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ: ایک کروڑ 71 لاکھ صارفین کو استثنیٰ مگر یہ پیسے کون دے گا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
‘مسلسل چند ماہ سے میرے گھر کے بجلی کے بل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک آدھ مہینہ تو انسان برداشت کر لے لیکن یہ اضافہ مسلسل ہو رہا ہے۔ اگست کے بل میں تو اضافہ بہت زیادہ ہے جو اب میری مالی برداشت سے باہر ہو چکا ہے۔‘
کراچی کے علاقے لی مارکیٹ کے رہائشی رمضان بلوچ نے اگست کے مہینے میں اپنے بجلی کے بل میں اضافے پر بی بی سی کو بتایا کہ مئی کے مہینے میں ان کا بجلی کا بل تقریباً ساڑھے پانچ ہزار تھا، جون میں یہ بل 7800 تک چلا گیا، جولائی کے مہینے میں یہ آٹھ ہزار اور اگست کے مہینے میں تو یہ ساڑھے بارہ ہزار ہو گیا۔
رمضان کہتے ہیں ان کے گھر میں اے سی وغیرہ تو نہیں اور بجلی کا استعمال بہت کم ہے لیکن اگست کے مہینے میں بجلی کے بل نے انھیں پریشان کر کے رکھ دیا۔
اسلام آباد کے رہائشی بشیر احمد نے بھی اپنے بجلی کے بل میں اضافے کی شکایت کی اور بتایا کہ ان کا بل بہت بڑھ گیا ہے۔
بشیر احمد سرکاری ملازم ہیں جو ایک سرکاری فلیٹ میں رہتے ہیں۔ ان کے مطابق بجلی کے بہت کم استعمال کے باوجود ان کا بجلی کا بل دس ہزار تک پہنچ گیا ہے۔
کراچی میں رہنے والے عمران نے بھی اپنے بجلی کے بل میں اضافے کی شکایت کی۔ انھوں نے کہا چھ سو یونٹ استعمال کرنے والے کو 30000 سے 32000 روپے بجلی کا بل سراسر ظلم اور ناانصافی ہے۔
اگست میں بجلی کے اضافی بلوں سے صرف یہی تین صارفین پریشان نہیں بلکہ اس وقت پورے ملک میں بجلی کے زیادہ بلوں کی وجہ سے عوام احتجاج کر رہے ہیں۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے منگل کی شام اعلان کیا کہ ملک میں بجلی کے تین کروڑ صارفین میں سے ایک کروڑ 71 لاکھ کو بجلی کے بلوں پر فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز نہیں دینا پڑیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہTwitter
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں وزیر اعظم نے کہا کہ ان صارفین کے علاوہ باقی ایک کروڑ 30 لاکھ صارفین کو بھی ریلیف دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’باقی ایک کروڑ 30 لاکھ صارفین میں سے زیادہ صاحب حیثیت لوگ ہیں تاہم ان کے لیے بھی اس فیول ایڈجسٹمنٹ چارج کے حوالے سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘
پاکستان میں بجلی سب سے زیادہ گھریلو صارفین استعمال کرتے ہیں اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ان کی تعداد 50 فیصد کے لگ بھگ ہے۔
تجارتی بنیادوں پر بجلی استعمال کرنے والے سات فیصد اور صنعتی صارفین 25 فیصد ہیں۔ اس کے علاوہ زرعی صارفین کی تعداد نو فیصد اور دیگر شعبے آٹھ فیصد بجلی استعمال کرتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایک کروڑ 71 لاکھ صارفین کو ریلیف دینے کا یہ فیصلہ حکومتی اتحاد میں شامل ان کی حلیف جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا گیا ہے تاہم اس اعلان کے ساتھ ہی یہ سوال بھی گردش کرنے لگا کہ حکومت یہ رعایت کیسے دے گی اور اس ریلیف کے لیے رقم کہاں سے آئے گی۔
یہ جاننے سے پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ بجلی کے بلوں میں بہت زیادہ اضافہ کیوں ہوا تھا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگست کے مہینے میں بجلی کے ان بلوں میں اضافے کی وجہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو قرار دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ بجلی کے شعبے کے ریگولیٹر نیپرا نے کے الیکٹرک کو 11.37 روپے فی یونٹ اور پاکستان کی دوسری پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو 9.89 روپے فی یونٹ فیول ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دی تھی جسے اگست کے مہینے میں وصول کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
پلاننگ کمیشن آف پاکستان کے سابق ممبر توانائی سید اختر علی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حقیقت ہے کہ فیول کوسٹ بہت زیادہ بڑھ گئی تھی۔
ان کے مطابق جو کوئلہ پچھلے سال مئی جون میں سو ڈالر فی ٹن تھا وہ اس سال ان مہینوں میں تین سو ڈالر تک پہنچ گیا اور اسی طرح آر ایل این جی جو گذشتہ سال کے وسط میں سات آٹھ ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تھی وہ اس سال کے وسط میں 40 ڈالر تک چلی گئی۔
یہ بھی پڑھیے
سید اختر علی کا کہنا ہے کہ ان مہینوں میں پاکستان کی پن بجلی کی پیداوار بھی کم تھی اور زیادہ بجلی درآمدی ایندھن سے پیدا کی گئی جس کی وجہ سے بجلی کی پیداواری قیمت میں اضافہ ہوا اور اسے پرائس ایڈجسٹمنٹ کے فارمولے کے تحت صارفین سے ماہانہ بنیادوں پر وصول کیا جانا تھا۔
توانائی کے شعبے کے ماہر مصطفیٰ امجد کا کہنا ہے کہ فیول ایڈجسٹمنٹ کا ایک سیدھا سادھا مینکنزم ہے جس کے تحت بجلی کی پیداوار کی لاگت میں اضافے کو صارفین سے وصول کیا جاتا ہے اور اگست کے مہینے میں بھی یہی نظر آیا کہ بجلی کی پیداوار کی لاگت میں اضافے کو صارفین سے وصول کیا گیا، جس کی وجہ سے بجلی کے بل بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔
فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج معاف کرنے کی فنانسنگ کیسے ہو گی؟
امور توانائی کے ماہر سمیع اللہ طارق کا کہنا ہے کہ صارفین کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ حکومت معاف کر سکتی ہے تاہم بجلی کمپنیاں تو اسے وصول کریں گی اور اس کے لیے ایک ہی طریقہ ہے کہ حکومت اس کے لیے کمپنیوں کو سبسڈی دے۔
انھوں نے کہا ’لگتا یہی ہے کہ حکومت ٹارگٹڈ سبسڈی دے گی جس میں بجلی کے کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفین شامل ہیں، جو گھریلو صارفین ہوتے ہیں اور ان میں بھی جو کم بجلی استعمال کرتے ہیں‘۔
انھوں نے کہا ’اگر جولائی کے مہینے میں بجلی کی کھپت کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو کے الیکٹرک کے علاوہ پورے ملک میں 14 ارب یونٹ بجلی استعمال ہوئی تھی۔ اگر کراچی کو شامل کیا جائے تو یہ نمبر اور اوپر چلا جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’اگر صرف 14 ارب یونٹ کو لیا جائے اور اسے مکمل طور پر سبسڈی دی جائے تو ایک مہینے میں نو اور دس روپے کے حساب سے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کل رقم 130 سے 140 ارب بنتی ہے اور حکومت اتنی زیادہ سبسڈی نہیں دے سکتی کیونکہ ایک تو حکومت کے پاس اتنے مالی وسائل نہیں، دوسرا آئی ایم ایف اس کی اجازت نہیں دے گا جہاں سے ہمیں قرض کی اگلی قسط ملنی ہے۔
سمیع اللہ طارق کے مطابق فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کی معافی کی تفصیلات تو حکومت ہی بتا سکتی ہے تاہم لگتا یہی ہے کہ یہ فیول ایڈجسٹمنٹ یا تو ٹکڑوں میں اگلے مہینوں میں ایڈجسٹ کیا جائے گا یا پھر حکومت ٹارگٹڈ سبسڈی دے گی جس کے لیے شاید اس نے آئی ایم ایف سے بات کی ہو۔
پاکستان کے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کا بھی یہی کہنا ہے کہ ’بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں پیسے تو دینے ہوں گے کیونکہ اگر یہ نہ دیے گئے تو اس شعبے کا گردشی قرضہ بڑھ جائے گا جس پر آئی ایم ایف کو اعتراض ہے۔’
ان کے خیال میں یہ ٹارگٹڈ سبسڈی ہی ہو سکتی ہے جس میں وہ گھریلو صارفین جو دو سے تین سو یونٹ بجلی استعمال کرتے ہیں اس کی ادائیگی حکومت کرے تاہم اسے ممکن بنانے کے لیے بھی حکومت کو اضافی ٹیکس ہی جمع کرنا ہو گا۔
وزیر اعظم شہاز شریف کی جانب سے ایک کروڑ 71 لاکھ صارفین کے اگست کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ معاف کرنے کے بارے میں جب وزیر اعظم پاکستان کے کوآرڈینیٹر برائے انرجی بلال اظہر کیانی سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ اس کی تفصیلات وزیر توانائی ایک پریس کانفرنس میں دیں گے۔
انھوں نے سبسڈی دے کر فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج معاف کرنے کے جواب میں ایک تحریری پیغام میں بی بی سی کو بتایا کہ ’فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کی وصولی اس وقت تک مؤخر کی گئی ہے جب تک بجلی کے نرخ کم نہیں ہوتے۔‘












