’بجلی بچائیے‘ کا رواج ختم: کیا سستی بجلی سردیوں میں گیس کا متبادل ہو سکتی ہے؟

بجلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننئے ٹیرف کا اطلاق یکم نومبر 2021 سے 28 فروری 2022 تک ہو گا اور اس سے 300 یونٹ یا اس سے زائد بجلی استعمال کرنے والے مستفید ہو سکیں گے
    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی، کراچی

پاکستان میں وفاقی حکومت کی جانب سے سردیوں میں صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی منظوری دی گئی ہے۔ توانائی پر کابینہ کمیٹی کے ایک فیصلے کے مطابق سردیوں میں بجلی کے صارفین کو 12.66 فی یونٹ کے حساب سے بل ادا کرنا پڑے گا۔

تاہم یہ واضح رہے کہ اس کا اطلاق اُن صارفین پر ہو گا جو ماہانہ تین سو یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرتے ہیں۔ ملک میں تین سو یونٹ یا اس سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین پہلے ہی بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

اس فیصلے کے اطلاق کے بعد تین سو یونٹ تک اور اس سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین تقریباً یکساں نرخوں پر بجلی کے بل کی ادائیگی کریں گے۔

وفاقی حکومت کی کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے فیصلے کے تحت اس ٹیرف کا اطلاق یکم نومبر 2021 سے 28 فروری 2022 تک ہوگا، جو پاکستان میں سردی کا سیزن ہوتا ہے۔

اس شعبے کے ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے سردی کے موسم میں بجلی کے نرخ میں کمی کا مقصد سردیوں میں بجلی کی کھپت کو بڑھانا ہے اور ان کے مطابق حکومت کے اس اقدام سے غریب طبقے کو تو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا تاہم زیادہ آمدنی والے طبقے کو بجلی استعمال کرنے پر وقتی ریلیف ضرور حاصل ہو گا۔

پاکستان میں بجلی کن نرخوں پر فروخت کی جاتی ہے؟

بجلی

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا کیپشنسردیوں میں بجلی کے صارفین کو 12.66 فی یونٹ کے حساب سے بل ادا کرنا پڑے گا

پاکستان میں بجلی کی پیداوار مختلف ذرائع جیسا کہ پانی، کوئلے، فرنس آئل، سولر، گیس وغیرہ سے کی جاتی ہے۔ اس انرجی مکس کے تحت حاصل کی جانے والی بجلی سات سلیبز میں صارفین کو فراہم کی جاتی ہے۔

ملک میں بجلی کے شعبے کے ریگولیٹری ادارے نیپرا کے مطابق ان سات سلیب کو بجلی کے استعمال کےلحاظ سے ترتیب دیا گیا ہے۔

ان سلیبز میں وہ صارفین ہیں جو 50 یونٹ، 51 سے 100 یونٹ، 101 سے 200 یونٹ، 201 سے 300 یونٹ، 301 سے 700 یونٹ ، 700 یونٹ سے زیادہ اور پانچ کلو واٹ اور اس سے زیادہ کا منظور شدہ لوڈ تک استعمال کرتے ہیں۔

ان سلیبز پر ٹیرف کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں 100 سے 200 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین 10.06 روپے فی یونٹ ادا کرتے ہے اور 200 سے 300 یونٹ کا نرخ 12.15 روپے فی یونٹ ہے۔

اسی طرح 301 سے 700 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو 21 روپے سے زائد ایک یونٹ پر ادا کرنا ہوتے ہیں اور 700 سے زیادہ یونٹ استعمال کرنے والوں کو 24.30 روپے فی یونٹ ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔

ان نرخوں میں سلیز ٹیکس، فیول ایڈجسٹمنٹ وغیرہ شامل کیا جائے تو فی یونٹ قیمت مزید بڑھ جاتی ہے۔

سردیوں کے لیے حکومتی فیصلہ کیا ہے؟

وفاقی حکومت کی کابینہ کیمٹی برائے توانائی نے سردیوں کے مہینے میں 300 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے پر ایک نئے ٹیرف کی منظوری دی ہے جس کے مطابق 300 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے پر 12.66 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی کا بل وصول کیا جائے گا۔

گیس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس ٹیرف کا اطلاق سردیوں کے چار مہینوں یعنی یکم نومبر 2021 سے 28 فروری 2022 تک رہے گا۔ موجودہ وقت میں 300 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے کو ایک یونٹ پر 22 روپے سے زیادہ بل ادا کرنا پڑتا ہے جن میں ٹیکس شامل نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

حکومت کے اعلان کے مطابق یہ اقدام سردیوں کے موسم میں بجلی کے استعمال کر بڑھانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ پاکستان میں گرمی کے موسم میں بجلی کا استعمال 25 ہزار میگا واٹ سے بھی زیادہ رہتا ہے جب کہ سردیوں میں بجلی کی طلب تقریباً آدھی رہ جاتی ہے یعنی 12 سے 14 ہزار میگاواٹ کے درمیان۔

حکومت سردیوں میں بجلی کی کھپت میں اضافہ کیوں چاہتی ہے؟

حکومت کی جانب کیا گیا اقدام موسم سرما کے دوران بجلی کے استعمال کو بڑھانا ہے کیونکہ بجلی بنانے والے پلانٹس سے کیے جانے والے معاہدوں کے تحت حکومت پیدا ہونے والی بجلی کی ادائیگی کی پابند ہے، چاہے وہ بجلی استعمال ہو یا اس کا استعمال نہ کیا جائے۔

حکومت بجلی بنانے والے پلانٹس کو کیپسٹی پیمنٹ کی مد میں یہ ادائیگی کرنی کی پابند ہے۔

اس سلسلے میں توانائی کے شعبے کے ماہر راؤ عامر کہتے ہیں کہ حکومت کا یہ فیصلہ دراصل سردیوں میں پیدا ہونے والی بجلی کو استعمال میں لانا ہے کیونکہ گرمیوں میں تو بجلی کی کھپت زیادہ ہوتی ہے لیکن سردیوں میں اس کی طلب بہت زیادہ گر جاتی ہے۔

انھوں نے کہا سردیوں کے لیے کم نرخ کا فائدہ ماہانہ 300 یونٹ سے زیادہ استعمال کرنے والوں کو ہوگا۔ انھوں نے کہا پاکستان میں کم آمدنی یا غریب طبقہ ماہانہ 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتا ہے اس لیے وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔

عامرنے بتایا کہ 300 یونٹ سے زائد بجلی وہاں استعمال ہوتی ہے جہاں اے سی چل رہا ہو، اس لیے حکومت چاہتی ہے کہ سردیوں میں اے سی نہیں چل رہا تو بجلی کی کھپت کو برقرار رکھنے کے لیے صارفین ہیٹر اور گیزر بجلی پر چلائیں جس کے لیے انھیں سردیوں میں کم نرخ پر بجلی کی فراہم کی مراعات دی گئی ہے۔

بجلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن’حکومت چاہتی ہے کہ صارف گیس پر ہیٹر اور گیزر چلانے کے بجائے بجلی کے ذریعے ان آلات کو چلائیں تاکہ سردیوں میں گیس کی طلب اور رسد میں بڑا فرق نہ پڑے‘

توانائی کے شعبے کے ماہر اور اس شعبے کی کمپنیوں میں کام کرنے والے نجم فاروقی کہتے ہیں کہ پاکستان میں جس قیمت پر بجلی بنتی ہے وہ اس قیمت سے ایک تہائی حصے پر فروخت ہوتی ہے، اس لیے ملک میں توانائی کے شعبے میں سرکلر ڈیبٹ کا مسئلہ کھڑا ہوا ہے۔

انھوں نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ اس شعبے میں مزید سبسڈی دی جائے اور کہا سبسڈی کی وجہ سے ہمارے توانائی کے شعبے کا برُا حال ہوا ہے اور اس میں سرکلر ڈیبٹ کا مسئلہ بنا ہے۔

مزید پڑھیے

سردی کے موسم میں حکومت کیجانب بجلی کے نرخ میں کمی اس کے استعمال کو بڑھانے کا ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے وہ سردیوں میں گیس کی کھپت کو مینیج کرنا چاہتی ہے۔

نجم فاروقی نے بتایا کہ اس اقدام کا اصل مقصد یہی ہے کیونکہ گیس کے استعمال کوکم رکھا جائے کیونکہ گیس اس وقت ہمارے پاس ہے نہیں اور باہر سے درآمد کی جانے والی ایل این جی ہم ایک خاص حد سے زیادہ منگوا نہیں سکتے کیونکہ وہ ملکی صارفین کو بہت مہنگی پڑتی ہے۔

راؤ عامر نے بتایا کہ جو لوگ سردیوں کے موسم میں گیزر اور ہیٹر کا استعمال کرتے ہیں وہ گیس کی بجائے بجلی پر کریں گے تو گیس کی بچت ہو گی اور انھیں بھی کم نرخوں پر بجلی فراہم ہو گی۔