چین کا مبینہ جاسوس جہاز سری لنکا میں لنگر انداز ہونے پر انڈیا کی تشویش میں اضافہ

چینی جہاز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کی جانب سے خدشات کا اظہار کیے جانے کے باوجود سری لنکا نے چینی بحری جہاز 'یوآن وانگ 5' کو اپنے ہمبنٹوٹا بندرگاہ پر آنے کی اجازت دے دی ہے۔

خیال رہے کہ سری لنکا کی حکومت نے انڈیا کے تحفظات کو نظرانداز کرتے ہوئے چینی جہاز کو یہ اجازت دی ہے۔

سری لنکا کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ چینی جہاز یوآن وانگ 5 کو 16 سے 22 اگست تک ہمبنٹوٹا بندرگاہ پر پورٹ کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

9 اگست کو خبر رساں ادارے روئٹرز نے اطلاع دی تھی کہ چینی تحقیقی جہاز ہمبنٹوٹا کے لیے روانہ ہوا تھا اور راستے میں تھا۔

انڈیا کو خدشہ ہے کہ چین اس بندرگاہ کو فوجی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ ڈیڑھ ارب ڈالر کی لاگت سے تیار کیا جانے والا ہمبنٹوٹا بندرگاہ ایشیا اور یورپ کے لیے اہم بحری راستوں کے قریب ہے۔ انڈیا اس وقت سے اس بندرگاہ کے متعلق اپنی تشویش کا اظہار کر رہا ہے جب سے سری لنکا نے قرض کی ادائیگی نہ کرنے کے بدلے میں 99 سال کے لیے اسے گروی رکھ دیا تھا۔

اب سری لنکن حکومت کے اس فیصلے سے انڈیا کی تشویش میں یقیناً دو چند اضافہ ہو جائے گا۔

چین اپنے 'یوآن وانگ 5' کو ایک بین الاقوامی شپنگ اور تحقیق اور سروے کرنے والے جہاز کے طور پر بیان کرتا ہے، لیکن اسے دوہرے استعمال والا جاسوس جہاز بھی کہا جاتا ہے۔

انڈیا نے پہلے بھی بحر ہند میں چین کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سری لنکا پر جس طرح چین کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے، وہ بھی انڈیا کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

جہاز

،تصویر کا ذریعہISHARA S. KODIKARA/AFP/GETTY IMAGES

سری لنکا نے اس صورت حال سے بچنے کی کوشش کی تھی

اس سے قبل سری لنکا نے چین سے کہا تھا کہ وہ انڈیا کے اعتراض کے بعد اپنے جہاز بھیجنے کا منصوبہ ملتوی کر دے۔

سری لنکا کی حکومت کے ذرائع نے بتایا تھا کہ انڈیا نے اس سلسلے میں صدر رانیل وکرماسنگھے سے براہ راست بات کی تھی اور اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ لیکن انڈیا کی طرف سے کوئی تسلی بخش وجہ نہیں بتائی گئی کہ جہاز کو بندرگاہ پر کیوں نہ لنگر انداز ہونے دیا جائے۔

سری لنکا کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ '12 اگست 2022 کو، چین کے سفارت خانے نے ایک سفارتی نوٹ کے ذریعے وزارت کو مطلع کیا کہ ان کا جہاز 'یوآن وانگ 5' 16 اگست کو ہمبنٹوٹا بندرگاہ پر پہنچنے والا ہے۔ اور انھوں نے اسے کلیئرنس دینے کی درخواست بھی کی ہے۔'

وزارت خارجہ نے مزید کہا ہے کہ تمام چیزوں کو ان کی صحیح جگہ پر دیکھتے ہوئے 13 اگست کو چینی جہاز کو کلیئرنس دے دی گئی۔ اس جہاز کو 16 سے 22 اگست تک ہمبنٹوٹا بندرگاہ پر رکنے کی منظوری مل گئی ہے۔

بندرگاہ کے حکام نے جمعہ کو بتایا کہ چینی جہاز سری لنکا کے جنوب مشرق میں تقریباً 1000 کلومیٹر دور تھا جو آہستہ آہستہ ہمبنٹوٹا سمندری بندرگاہ کی طرف بڑھ رہا تھا۔

انڈین ایکسپریس نے انڈین خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے حوالے سے بتایا کہ چینی جہاز 16 اگست سے ہمبنٹوٹا بندرگاہ پر ایک ہفتے کے لیے لنگر انداز رہے گا۔

چین صدر شی جن پنگ اور سری لنکا کے اس وقت کے رہنما مہندا راج پکشے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچین صدر شی جن پنگ اور سری لنکا کے اس وقت کے رہنما مہندا راج پکشے

چین کی طرف سے دباؤ

چین پر اکثر تنقید کی جاتی ہے کہ وہ غریب اور ضرورت مند ممالک کو قرضے دے کر اس پر دباؤ ڈالتا ہے لیکن در حقیقت چین اسے اپنی توسیع پسندانہ پالیسی جاری رکھنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

ہمبنٹوٹا کی بندرگاہ سری لنکا کے جنوب میں اسٹریٹجک لحاظ سے ایک اہم مقام پر واقع ہے۔ اسے سری لنکا نے چین سے قرض لے کر بنایا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سابق صدر مہندا راجا پکشے کے دور میں اربوں ڈالر کی مدد سے بنائے گئے اس بندرگاہ پر چین سے آنے والے سامان کو اتار کر ملک کے دیگر حصوں میں پہنچانے کا منصوبہ ہے۔ تقریباً آٹھ کروڑ امریکی ڈالر کی مدد سے تعمیر ہونے والے اس بندرگاہ پر چین کے ایگزم بینک کا 85 فیصد دعویٰ ہوگا کیونکہ تعمیر میں تقریبا ساری رقم اسی نے لگائی ہے۔

سری لنکا کو قرض دینے والے بڑے ممالک میں چین ایک ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چین نے سری لنکا میں انڈیا کی موجودگی کو کم کرنے کے لیے سڑکوں، ریل اور ہوائی اڈوں میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔

مودی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کا موقف

انڈیا کو خدشہ ہے کہ چین اس بندرگاہ کو فوجی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ انڈیا کے اعتراض پر سری لنکا نے پہلے کہا تھا کہ چینی جہاز ہمبنٹوٹا بندرگاہ پر صرف ایندھن بھرنے کے لیے رکے گا۔

شمالی سری لنکا کے معروف شہر جافنا میں چین کی موجودگی کو انڈیا کے لیے خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ سری لنکا کا یہ علاقہ انڈیا کی جنوبی تمل ناڈو سے صرف 50 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

سری لنکا اس وقت معاشی بحران کا شکار ہے اور چین سے چار ارب ڈالر کی امداد مانگ رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت بھی جاری ہے۔ سری لنکا نہ چین کو ناراض کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی انڈیا۔ لیکن ان کے لیے دو بڑے ممالک کے درمیان توازن قائم کرنا آسان نہیں ہے۔ انڈیا نے سری لنکا کو ساڑھے تین ارب ڈالر کی امداد فراہم کی ہے۔

سنہ 2020 میں مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر فوجی جھڑپ کے بعد سے چین اور انڈیا کے تعلقات خراب ہو گئے ہیں۔ اس میں کم از کم 20 انڈین فوجی اور چار چینی فوجی مارے گئے تھے۔ چین اور انڈیا کے درمیان تعلقات معمول پر نہیں ہیں اور ایسے میں انڈیا بار بار اس جہاز کے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کر رہا ہے۔

ہمبنٹوٹا

،تصویر کا ذریعہAFP

ہمبنٹوٹا بندرگاہ کی اہمیت

150 ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہونے والا ہمبنٹوٹا بندرگاہ دنیا کے مصروف ترین بندرگاہوں میں سے ایک ہے۔

اس بندرگاہ کی تعمیر چین کی سرکاری تنظیم چائنا مرچنٹ پورٹ ہولڈنگز نے کی ہے۔ اس میں 85 فیصد حصے کی سرمایہ کاری چین کے ایگزم بینک نے کی ہے۔

یہ بندرگاہ تعمیر کے وقت سے ہی تنازعات کا شکار رہا ہے اور اس کی مخالفت کی جاتی رہی ہے۔

یہ اس وقت کے صدر مہندا راج پکشے کے دور میں بنایا گیا اور اس کا چین سے آنے والے سامان کو اتار کر ملک کے دوسرے حصوں میں پہنچانے کا منصوبہ رہا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نئے قانون کے ذریعے سری لنکا چین کی کاروباری سرگرمیوں پر لگام ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے اور سکیورٹی کا کنٹرول بھی اپنے پاس رکھ رہا ہے۔

جہاز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یوآن وانگ 5 جہاز اور اس سے منسلک خدشات

چین اس جہاز کو تحقیقی جہاز کہتا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک تحقیقی اور سروے والا جہاز ہے۔ چین مصنوعی سیاروں، راکٹوں اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی لانچنگ کو ٹریک کرنے کے لیے جہازوں کی اس کلاس کا استعمال کرتا ہے۔

چین کے پاس ایسے سات بحری جہاز ہیں جو بحرالکاہل، بحر اوقیانوس اور بحر ہند سے چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عام زبان میں، جس طرح سیٹلائٹ، راکٹ وغیرہ کو ٹریک کرنے کے لیے زمین پر سٹیشن ہوتے ہیں، اسی طرح یہ جہاز سمندر میں ہوتے ہیں۔

بھارت کے ساتھ ساتھ امریکہ نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے

اس جہاز کے ہمبنٹوٹا پہنچنے پر انڈیا کے خدشات تو ہیں ہی لیکن امریکی محکمہ دفاع کی ایک رپورٹ کے مطابق اس جہاز کو پی ایل اے کی اسٹریٹجک سپورٹ فورس (ایس ایس ایف) چلاتے ہیں۔ یہ پی ایل اے کی حکمت عملی، سائبر الیکٹرانک، معلومات، مواصلات اور نفسیاتی جنگی مشنوں کی نگرانی کرتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ جہاز چین کے جیانگن شپ یارڈ میں بنایا گیا ہے اور سنہ 2007 سے خدمات انجام دے رہا ہے۔ 222 میٹر لمبا اور 25.2 میٹر چوڑا جہاز جدید ترین ٹریکنگ ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ یہ گزشتہ ماہ چین کے لانگ مارچ 5بی راکٹ کی نگرانی والے مشن میں شامل تھا۔