سری لنکا کا بحران: کیا انڈیا بحران کے شکار اس جزیرے میں چین پر سبقت حاصل کر رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, امبرآسن اتھیراجن
- عہدہ, بی بی سی نیوز، کولمبو
سری لنکا میں جاری حکومت مخالف احتجاج میں مظاہرین سابق صدر گوتابایا راجاپکشے اور ان کے خاندان کے خلاف نعرے لگاتے آئے ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ انھوں نے انڈیا کے خلاف بھی نعرہ بازی کی ہے۔
اس طرح کے نعرے جیسے: ’انڈیا اور امریکہ کو ملک نہ بیچیں‘ یا ’انڈیا: سری لنکا ایک اور ریاست نہیں ہے‘ اور ’انڈیا سری لنکا کی صورتِ حال کا ناجائز فائدہ نہ اٹھاؤ‘ وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے نعرے اکثر مظاہروں میں سنے جاتے رہے ہیں۔
اگرچہ اس طرح کے انڈیا مخالف جذبات ابھی بھی موجود ہیں، شاید یہ ضرور بدل رہا ہے کہ اب سری لنکن باشندے سیاسی اور معاشی بحران میں انڈیا کو کس طرح دیکھنے لگے ہیں۔
سری لنکا اس وقت ایک گہرے اور بے مثال معاشی بحران میں پھنسا ہوا ہے جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوئے اور اس کا صدر ملک چھوڑنے اور اس کے بعد اپنے عہدے سے استعفی دینے پر مجبور ہوا۔
کئی سالوں سے سری لنکا قرضہ لے رہا ہے اور اب وہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ ضروری اشیا جیسے خوراک، تیل اور ادویات لینے کے لیے بھی اسے مشکلات کا سامنا ہے۔
مظاہرین راجاپکشے اور ان کے خاندان کو اس صورتِ حال کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں، جو گذشتہ ہفتے فرار ہو کر سنگاپور چلے گئے تھے۔ پارلیمان نے نئے صدر انیل وکرمسنگھے کو منتخب کر لیا ہے۔
سری لنکا کے کچھ سیاسی گروہ اپنے بڑے اور طاقتور پڑوسی ملک انڈیا کی موجودگی کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھتے رہے ہیں۔ میں نے سری لنکا میں اکثریتی سنہالی قوم پرستوں اور بائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے گزشتہ برسوں میں کئی انڈیا مخالف مظاہرے دیکھے ہیں۔
لیکن جب سری لنکا نے چند ماہ قبل اچانک خود کو ایک گہرے معاشی بحران میں پایا تو اس نے انڈیا کا رخ کیا اور دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے فوراً اس کی مالی مدد بھی کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا، حقیقت میں کسی اور ملک یا ادارے نے سری لنکا کی اتنی مدد نہیں کی جتنی پچھلے سال انڈیا نے کی تھی۔
ماہرین کہتے ہیں کہ سری لنکا کی شدید مالی ضرورت نے، ایک طرح سے، دہلی کو 22 ملین آبادی والے جزیرے پر اپنا اثر و رسوخ دوبارہ حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔ اس سے پہلے پچھلے 15 سالوں میں چین بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے قرضوں اور دیگر قسم کی مالی امداد سے اپنی جگہ بنا چکا ہے۔
سری لنکا کے مرکزی اپوزیشن لیڈر ساجیت پریماداسا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’انڈیا نے ایک بہت اہم کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر اس نازک موڑ پر۔ ہم ایک ملک کے طور پر ایک بہت بڑے بحران سے گزرے ہیں، اور انڈیا نے آگے بڑھ کر ہمارا ساتھ دیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا اور سری لنکا کے درمیان صدیوں سے قریبی ثقافتی، مذہبی اور اقتصادی تعلقات ہیں۔
دہلی کولمبو کا ایک بڑا تجارتی پارٹنر رہا ہے، جو انڈیا سے بہت سی مصنوعات، خاص طور پر کھانے کی اشیاء درآمد کرتا ہے۔ جزیرے پر رہنے والی اقلیتی تمل برادری جنوبی انڈیا کی ریاست تمل ناڈو کی آبادی کے ساتھ قریبی ثقافتی اور نسلی روابط رکھتی ہے۔
مہندا راجا پکشے کے صدر منتخب ہونے کے بعد 2005 سے کولمبو انڈیا کے اثر و رسوخ سے دور ہو گیا تھا۔ ان کے عہد حکومت کے دوسرے دور کے دوران انڈیا سے دوری کی یہ تبدیلی جاری رہی اور چین کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر کئی معاہدے ہوئے، جیسا کہ جنوبی قصبے ہمبنٹوٹا میں ایک بندرگاہ۔
اعداد و شمار کے مطابق چین نے سری لنکا کو اب تک 5 ارب ڈالر سے زیادہ کا قرض دیا ہے، جو سری لنکا کے کل بیرونی قرضوں کا تقریباً 10 فیصد ہے۔
لیکن موجودہ مسائل سے نمٹنے کے لیے اضافی قرضوں کے باوجود سری لنکا میں ایندھن کی شدید قلت ہے اور خوراک کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ تاہم بیجنگ نے ابھی تک کسی نئے قرضے کا وعدہ نہیں کیا ہے۔
دوسری طرف انڈیا نے تقریباً 3.5 ارب ڈالر کریڈٹ اور کرنسی کے تبادلے کے طور پر فراہم کیے ہیں۔ کریڈٹ لائن کی مد میں اس نے حالیہ مہینوں میں سری لنکا کو انتہائی ضروری ایندھن، خوراک اور کھاد بھیجی ہیں۔
دہلی کے قرضوں کے علاوہ، ڈی ایم کے پارٹی کے وزیر اعلی ایم کے سٹالن کی قیادت میں تمل ناڈو کی حکومت نے سری لنکا کو خوراک اور ادویات بھی بھیجی ہیں۔ تمل ناڈو میں سیاسی جماعتوں نے منگل کو دہلی سے کہا تھا کہ وہ پڑوسی ملک میں بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ایک میٹنگ طلب کرے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا کی اربوں ڈالر کی مالی امداد سری لنکا کے عوام کے تاثرات میں تبدیلی کا باعث بنی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نجی شعبے سے وابسطہ ٹائرون سیباسٹین کہتے ہیں کہ ’انڈیا نے ہمیں ایندھن اور خوراک بھیج کر بروقت مدد فراہم کی ہے۔ انڈیا کی مدد کے بغیر سری لنکا کے لیے یہ مشکل ہوتا۔‘
میلانیا گوناتھیلیکے، ایک سماجی کارکن ہیں، وہ کہتی ہیں کہ ’یکجہتی اور حمایت کے شاندار مظاہرے‘ کے لیے وہ انڈیا کے عوام کی مشکور ہیں۔
لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ سری لنکا کو مدد کی پیشکش کرنے کے انڈیا کے فیصلے کی بھی سٹریٹیجک اہمیت ہے، جس سے دہلی کو اپنے پڑوسی پر سبقت حاصل ہوتی ہے۔
انڈیا کی طرف سے ابتدائی کریڈٹ لائن کے اعلان کے بعد، دونوں ممالک نے جنوری میں شمال مشرقی ٹرنکومالی بندرگاہ میں دوسری جنگ عظیم کے دوران تعمیر کیے گئے 61 بڑے تیل کے ٹینکوں کو مشترکہ طور پر چلانے پر اتفاق کیا تھا۔ 30 سال سے زیادہ عرصے سے، انڈیا برطانوی دور کی سہولت تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو اسے تیل کے سٹریٹجک ذخائر کو ذخیرہ کرنے کے قابل بنائے گا۔
اسی طرح ستمبر میں انڈیا کے اڈانی گروپ کو کولمبو بندرگاہ پر ویسٹرن کنٹینر ٹرمینل کی تعمیر اور اسے چلانے کے معاہدے میں اکثریتی حصہ ملا تھا۔
بائیں بازو کی نیشنل پیپلز پاور الائنس کی رکن پارلیمنٹ ہرینی امرسوریا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی ملک بدلے میں کچھ چاہے بغیر ہماری مدد کرے گا۔ انڈیا یقیناً اپنے مفادات کو مدِ نظر رکھے گا۔‘
امرسوریا کہتی ہیں کہ انڈیا کی طرح سری لنکا کو بھی ایسے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے جو اس کے بہترین مفاد میں ہوں، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا ملک کو اپنے اقتصادی اور سٹریٹجک مقامات پر کنٹرول چھوڑنا پڑے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سری لنکا کی تمل اقلیتوں کے متعلق سوال اور ان کے حقوق کا مطالبہ بھی انڈیا کے ساتھ سفارتی مذاکرات پر اثر انداز ہوتا رہے گا۔
1980 کی دہائی میں سری لنکا کے بہت سے تمل باغی گروپوں کے انڈیا میں پناہ لینے کے بعد دو طرفہ تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا تھا۔ کولمبو نے دہلی پر عسکریت پسندوں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کرنے کا الزام لگایا تھا، جو سری لنکا میں تملوں کے لیے علیحدہ وطن کے لیے لڑ رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مئی 2009 میں باغیوں کی شکست کے ساتھ خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا تھا اور انڈیا جنگ کے دوران سری لنکا کی حکومت کے ساتھ کھڑا رہا۔
تاہم، سری لنکا نے ابھی تک 1987 کے بھارت۔سری لنکا امن معاہدے کو مکمل طور پر لاگو کرنا ہے جس میں نئے قوانین کا وعدہ کیا گیا تھا کہ تمام صوبوں کو اختیارات منتقل ہوں، بشمول تمل اکثریت والے علاقوں کے۔
امراسوریہ کہتی ہیں کہ ’ماضی میں ہمیشہ یہ تشویش پائی جاتی تھی کہ سیاسی لحاظ سے انڈیا کی طرف سے براہ راست مداخلت ہوتی تھی۔‘
تاہم، توقع ہے کہ موجودہ اقتصادی بحران دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی خدشات کو فی الوقت ختم کرے گا۔
پہلے ہی متعدد سری لنکن باشندے، خاص طور پر تمل اکثریت والے شمال سے، معاشی بحران کی وجہ سے تمل ناڈو میں پناہ حاصل کر چکے ہیں اور اگر جزیرے میں معاشی صورت حال مزید خراب ہوئی تو ان کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
سری لنکا کی اقلیتی تمل اور مسلم برادریوں کو جب بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑا انھوں نے ہمیشہ انڈیا کی طرف دیکھا ہے۔
ماضی کے مسائل کے باوجود، اکثریتی سنہالا برادری کے زیادہ تر افراد بھی حالیہ مہینوں میں انڈیا کی مدد کی تعریف کرتے نظر آئے ہیں۔
آئی ٹی پروفیشنل محمد سفیان کہتے ہیں کہ ’لنکا-انڈین آئل کارپوریشن اب بھی کچھ سپلائی فراہم کر رہی ہے جس سے کچھ کام چل رہا ہے۔‘
’اگر انڈیا نہ ہوتا تو پورے ملک میں ہمارے پٹرول سٹیشن مکمل طور پر بند ہو چکے ہوتے۔‘







