شیخ رحیم اللہ حقانی: طالبان کے حامی سرکردہ افغان عالم مبینہ خودکش حملے میں ہلاک

شیخ رحیم اللہ حقانی
،تصویر کا کیپشنشیخ رحیم اللہ حقانی مئی 2022 میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے

افغان طالبان کے ایک ترجمان بلال کریمی نے اپنی ایک ٹویٹ میں تصدیق کی ہے کہ ’شیخ رحیم اللہ حقانی دشمن کے حملے میں‘ ہلاک ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی افغان اسلامک پریس کے مطابق وہ افغان دارالحکومت کابل میں قائم ایک مدرسے میں ہونے والے خود کش حملے میں ہلاک ہوئے۔

ابھی تک کسی نے اس حملےکی ذمہ قبول نہیں کی ہے۔

ذرائع کے مطابق شیخ حقانی افغان طالبان کے زبردست حامی اور نام نہاد دولت اسلامیہ (آئی ایس) کے شدید مخالف تھے۔

وہ لڑکیوں کی تعلیم کے بھی حامی تھے اور اس سلسلے میں انھوں نے ایک فتویٰ بھی جاری کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

نیوز ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذکورہ مدرسہ رحیم اللہ حقانی کا ہی تھا اور وہ ہی اس خودکش حملے کا نشانہ تھے۔

افغان اسلام پریس کے مطابق انھوں نے نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف جہاد کرنے کا فتویٰ دے رکھا تھا۔

روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب ایک شخص نے، جس کی ایک ٹانگ پہلے سے کٹی ہوئی تھی، اپنی مصنوعی ٹانگ میں چھپے ہوئے دھماکہ خیز مواد کو اڑا دیا۔

تعلیم
،تصویر کا کیپشنشیخ رحیم اللہ خواتین کی تعلیم کے حامی تھے

ان کا ایک مدرسہ پشاور میں بھی ہے جہاں 2020 میں ایک خود کش حملہ کیا گیا تھا۔ پشاور میں ان پر دو حملے ہوئے تھے جن میں وہ محفوظ رہے تھے۔

بی بی سی کے سکندر کرمانی کو رواں برس کے آغاز میں دیے گئے ایک انٹرویو میں شیخ رحیم اللہ نے کہا تھا کہ افغانستان کی خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم حاصل کرنے تک رسائی ضروری ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’شریعت میں یہ کہنے کا کوئی جواز نہیں ہے کہ کہا جائے کہ لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایسا کہنے کا بالکل بھی کوئی جواز نہیں ہے۔‘

اس انٹرویو میں انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’تمام مذہبی کتب میں کہا گیا ہے کہ خواتین کو تعلیم کی اجازت ہے بلکہ یہ فرض ہے کیونکہ مثال کے طور پر اگر پاکستان اور افغانستان جیسے معاشروں میں کوئی خاتون بیمار پڑ جاتی ہے اور اسے علاج کی ضرورت پڑتی ہے تو یہ بہتر ہو گا کہ اس کا علاج کوئی خاتون ہے کرے۔‘