ایمن الظواہری کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کے ممکنہ نئے سربراہ ’سیف العدل‘ کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, بی بی سی مانیٹرنگ
- عہدہ, ایسینشل میڈیا اِنسائٹ
القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد فطری طور پر توجہ اس جانب ہے کہ اب اس شدت پسند تنظیم کی باگ ڈور کون سنبھالے گا۔
مصر میں پیدا ہونے والے سیف العدل سب سے ممکنہ امیدوار نظر آ رہے ہیں۔ وہ ایمن الظواہری کے نائبین قرار دیے گئے پانچ القاعدہ رہنماؤں میں سے آخری زندہ شخص ہیں اور خیال ہے کہ وہی ممکنہ طور پر ان کے جانشین ہوں گے۔
مگر ایک مسئلہ ہو سکتا ہے۔
سیف العدل کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ فی الوقت ایران میں پابندیوں کی زندگی گزار رہے ہیں، ایسا ملک جسے القاعدہ اپنا سخت ترین دشمن تصور کرتی ہے۔
ایک پراسرار شخصیت
سیف العدل القاعدہ کے بانی ارکان میں سے ہیں اور اسامہ بن لادن کے بھروسہ مند ساتھیوں میں سے رہے ہیں۔ وہ ایک پراسرار شخصیت ہیں اور اپنے حلقے میں کافی مقبول بھی ہیں۔
امریکی حکام کی بھی ان میں کافی دلچسپی رہی ہے اور وہ امریکہ کے فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (ایف بی آئی) کی ’سب سے مطلوب دہشتگردوں کی فہرست‘ میں بھی موجود ہیں۔ ایف بی آئی نے ان کی معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر انعامی رقم کا اعلان کر رکھا ہے۔
ان پر اگست 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر بیک وقت ہونے والے بم حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا جاتا ہے جس میں 220 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
مگر اطلاعات کے مطابق اُنھوں نے 11 ستمبر کو واشنگٹن اور نیویارک پر ہونے والے حملوں کی مخالفت کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فروری 2021 میں امریکی ملٹری اکیڈمی (ویسٹ پوائنٹ) کے محققین کی ایک دستاویز میں دعویٰ کیا گیا کہ سیف العدل اور دیگر سینیئر القاعدہ رہنماؤں کو خوف تھا کہ امریکی سرزمین پر ایک بڑے حملے کا بھرپور ردِ عمل سامنے آ سکتا ہے جس میں افغانستان پر حملہ بھی شامل ہو سکتا ہے جو اس وقت القاعدہ ارکان کے لیے ایک محفوظ ٹھکانہ تھا۔
ان افراد کا یہ خدشہ بعد میں درست ثابت ہوا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سیف العدل نے ماضی میں کئی موضوعات بشمول ’سکیورٹی اور انٹیلیجنس‘، جنگ، اور انقلابوں پر لکھا ہے۔
ابتدائی ایام
القاعدہ میں شمولیت سے پہلے کی ان کی زندگی کے بارے میں کچھ زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ ایف بی آئی کے مطابق العدل 11 اپریل 1963 یا پھر اس سے تین سال پہلے پیدا ہوئے۔
القاعدہ تنظیم میں اعلیٰ رتبے کے باوجود وہ گروہ کی جانب سے نشر ہونے والے پروپیگنڈا میں بہت کم نظر آئے۔ ان کی اصل شناخت کے بارے میں بھی ابہام ہے۔ ان کا نام سیف العدل جس کا عربی میں مطلب ’انصاف کی تلوار‘ ہے، بھی غالباً ایک فرضی نام ہے۔
امریکی ملٹری اکیڈمی (ویسٹ پوائنٹ) کے محققین دعویٰ کرتے ہیں کہ سیف العدل کو اکثر غلطی سے مصری فوج کے سپیشل فورسز دستے کے سابق کرنل محمد ابراہیم سے ملایا جاتا ہے۔
ان کے بارے میں یہ بات معلوم ہے کہ انھوں نے افغانستان میں 1980 کی دہائی میں اسامہ بن لادن کے ساتھ اس وقت سوویت یونین کے خلاف جنگ میں حصہ لیا جب القاعدہ کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔
افغانستان کے بعد العدل صومالیہ منتقل ہوئے جہاں انھوں نے خانہ جنگی میں امریکی مداخلت کے خلاف لڑنے کے لیے مقامی جنگجوؤں کو تربیت دی۔
اس لڑائی کو اس وقت عالمی شہرت ملی جب صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں دو امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر راکٹ سے تباہ کر دیے گئے تھے۔ اس واقعے پر سنہ 2001 میں ہالی وڈ فلم بلیک ہاک ڈاؤن بھی بنائی گئی تھی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک راکٹ سیف العدل کے گروہ کے تیونس سے تعلق رکھنے والے رکن نے چلایا تھا۔
سیف العدل 90 کی دہائی میں افغانستان لوٹے۔ یہ وہ وقت تھا جب افغانستان میں طالبان اپنا اثر و رسوخ جما رہے تھے۔ وہ 2001 میں امریکی حملے کے بعد ملک چھوڑ کر چند القاعدہ اراکین کے ہمراہ ایران منتقل ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیے
خیال کیا جاتا ہے کہ ان کو ایرانی حکام نے سنہ 2003 میں حراست میں لے لیا تھا۔ 12 سال بعد ان کو قیدیوں کے ایک تبادلے میں دیگر القاعدہ اراکین کے ساتھ رہا کر دیا گیا تھا۔
اس طویل حراست کے باوجود سیف العدل کو القاعدہ میں اہم شخصیت کا درجہ حاصل رہا اور انھوں نے 2011 میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ایمن الظواہری کو تنظیم کے نئے سربراہ کے طور پر مستحکم کرنے میں بھی مدد فراہم کی۔
تاہم ان کو نیا سربراہ تعینات کرنا ایک پیچیدہ عمل ہو سکتا ہے۔ امریکی انسداد دہشت گردی کے ماہر کولن پی کلارک کا دعوی ہے کہ سیف العدل اب بھی ایران میں ہی ہیں اور نظر بندی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اگر واقعی ایسا ہے تو پھر ان کی تعیناتی مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔ ایران میں زیر حراست یا پھر نظر بندی کی زندگی گزارتے ہوئے ایک عالمی دہشت گرد گروہ کو چلانا بہت مشکل ہو گا۔ وہ بھی ایسے میں جب ان کو سکیورٹی مسائل کا بھی سامنا ہو گا۔
واضح رہے کہ القاعدہ کے ایک اور اہم رہنما ابو محمد المصری کو 2020 میں تہران میں مبینہ طور پر اسرائیلی کمانڈوز نے ایک خفیہ آپریشن میں ہلاک کر دیا تھا۔
سیف العدل نہیں تو کون؟
القاعدہ کی سربراہی کے لیے امیدواروں کی کوئی لمبی چوڑی فہرست نہیں کیونکہ بہت سے اہم اور سینیئر رہنما بھی الظواہری کی طرح مارے جا چکے ہیں۔
ممکن ہے کہ القاعدہ ان علاقائی تنظیموں میں سے کسی ایک کے سربراہ کو چن لے جن سے اس کا الحاق ہے۔ ان میں صومالیہ کی الشباب، یمن اور مالی کی تنظیمیں شامل ہیں۔
یہ نہایت غیر معمولی ہو گا کیونکہ ایسی کوئی نظیر اب تک موجود نہیں۔ لیکن یہ حیران کن اس لیے نہیں ہو گا کہ ایمن الظواہری کی سربراہی میں القاعدہ نے رفتہ رفتہ ذیلی تنظیموں کو زیادہ اختیارات دیے ہیں۔
سنہ 2013 میں القاعدہ مالی کے رہنما ناصر الوحشی کے بارے میں کہا گیا تھا کہ ان کو الظواہری کا نائب مقرر کر دیا گیا ہے۔
اس سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ علاقائی رہنما بھی مرکزی سربراہ کے کردار کے لیے امیدوار ہو سکتے ہیں۔ لیکن الوحشی نہیں کیونکہ وہ 2015 میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
الظواہری کی جگہ لینے کے لیے جس کسی کو بھی چنا جائے گا اس کو امریکی حملے سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو خفیہ رکھنے میں ویسی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جن کا سامنا ایمن الظواہری یا دیگر القاعدہ رہنماؤں کو تھا۔











