چیتا: دنیا کا تیز ترین جانور 60 سال بعد انڈیا کے جنگلات میں دوبارہ نظر آئے گا

جنوبی افریقہ اور نمیبیا سے کم از کم 16 چیتے انڈیا لے جائے جا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہADRIAN TORDIFFE

    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, بی بی سی

بالآخر اگلے ہفتے متعدد چیتے افریقہ سے انڈیا میں اپنے نئے گھر تک کا سفر شروع کریں گے جہاں اُنھیں ایک وسیع و عریض جنگل میں رکھا جائے گا۔

دنیا کا تیز ترین زمینی جانور چیتا انڈیا سے معدوم ہونے کے تقریباً 60 برس بعد ایک مرتبہ پھر اس سرزمین پر آ رہا ہے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اتنے بڑے گوشت خور جانور کو ایک برِاعظم سے دوسرے براعظم اس لیے منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ وہاں اِنھیں جنگل میں دوبارہ متعارف کروایا جا سکے۔

وائلڈ لائف انسٹیٹیوٹ آف انڈیا کے ڈین ڈاکٹر یادویندردیو جھالا کہتے ہیں کہ ’یہ ولولہ انگیز ہے، مشکل ہے، ایک کھوئے ہوئے خزانے کی واپس تلاش اور بحالی انڈیا کا بڑا کارنامہ ہے۔‘

یہ چیتے کہاں سے آ رہے ہیں؟

جنوبی افریقہ اور نمیبیا سے کم از کم 16 چیتے آ رہے ہیں۔ ان دونوں ممالک میں سات ہزار چیتے پائے جاتے ہیں اور بوتسوانا سمیت ان تینوں ممالک میں دنیا میں چیتوں کی آدھی آبادی پائی جاتی ہے۔

جنوبی افریقہ میں چیتے تین مختلف جگہوں پر پائے جاتے ہیں: ایک مختصر آبادی جو تیزی سے مزید کم ہوتی جا رہی ہے، ان کی تعداد آزاد گھومتی ہے اور غیر محفوظ علاقوں میں رہتی ہے۔ ایک بڑی اور مستحکم آبادی بڑے نیشنل پارکس میں رہتی ہے، اور باقی چیتے باڑ لگی محفوظ جگہوں یا ریزروز میں رہتے ہیں جو زیادہ تر نجی ملکیت میں ہوتے ہیں۔

انڈیا لے جائے جانے والے ان چیتوں میں سے زیادہ تر کا انتخاب محفوظ جگہوں یا ریزروز سے کیا گیا ہے جہاں ان کی افزائشِ نسل اچھی طرح ہوتی ہے۔ جنوبی افریقہ میں اس طرح کے 50 ریزروز میں تقریباً 500 چیتے رہتے ہیں۔

ان چیتوں کو پکڑنے کے لیے ہیلی کاپٹرز میں سوار شکاریوں نے نشہ آور ڈارٹ فائر کیے۔ اس مشن میں شامل جنوبی افریقہ میں چیتوں کے تحفظ کے ماہر وِنسینٹ وین در مروے کہتے ہیں کہ ’اُن میں سے کچھ تھوڑے زیادہ جنگلی تھے۔‘

پکڑنے کے بعد گہری نیند سو چکے چیتوں کو کسی بھی ممکنہ انفیکشن سے محفوظ رکھنے کے لیے اینٹی بائیوٹکس لگائے گئے، پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے ڈرپس لگائی گئیں اور ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے ان کے خون کے نمونے لیے گئے۔

پھر انھیں پنجروں میں ڈال کر قرنطینہ مراکز تک لے جایا گیا۔

جنوبی افریقہ میں تقریباً بارہ سو چیتے پائے جاتے ہیں

،تصویر کا ذریعہVINCENT DER MEWE

ان چیتوں میں چھ سے زیادہ مادہ بھی شامل ہیں۔ یہ سب نوجوان ہیں جو افزائشِ نسل کے لیے اپنی بہترین عمر میں ہیں۔

ونسینٹ کہتے ہیں کہ ’یہ وہ چیتے ہیں جو اپنی ماؤں کو چھوڑ چکے ہیں اور اب مکمل طور پر خود اپنا خیال رکھ سکتے ہیں۔‘

یہ چیتے اب کہاں ہیں؟

جنوبی افریقی چیتے اب روئی برگ میں ایک جانوروں کے ہسپتال میں قرنطینہ پنجروں میں، اور زولولینڈ میں ایک گیم ریزرو میں ہیں۔ دیگر چار چیتے نمیبیا میں ہیں۔

ان کی متعدد امراض سے متعلق ٹیسٹنگ کی جاری ہے اور کم از کم چھ قسم کے ٹیکے لگائے جا رہے ہیں جن میں ریبیز اور ہرپیز کے خلاف ٹیکے بھی شامل ہیں۔ مروے کے بقول قرنطینہ میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ یہ کسی بھی مرض سے متاثر نہ ہوں۔

طویل سفر کے چیلینجز کیا ہیں؟

ماہرین کا خیال ہے کہ جنگلی چیتوں کی منتقلی میں ان کا ایک پنجرے میں قید ہونا بڑا چیلینج ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انسانوں کے بہت نزدیک ہونے کی بھی ان جانوروں کو عادت نہیں ہوتی۔

انڈیا بھیجنے کے لیے چیتوں کو کارگو طیاروں میں جوہانسبرگ سے دلی تک کا طویل سفر طے کرنا ہو گا۔ اس کے بعد انھیں سڑک کے راستے یا ہیلی کاپٹروں کی مدد سے مدھیہ پردیش کے کونو نیشنل پارک تک لے جایا جائے گا۔

سفر سے پہلے چیتوں کو نشے کا انجیکشن لگایا گیا

،تصویر کا ذریعہADRIAN TORDIFFE

،تصویر کا کیپشنسفر سے پہلے چیتوں کو بے ہوشی کا انجیکشن لگایا گیا

اس درمیان انھیں نشے کے انجیکشنز لگا کر بے ہوش کر کے پنجروں تک محدود کر دیا جائے گا۔ اس سفر میں ان کے ساتھ جنگلی حیات کے ماہر اور جانوروں کے ڈاکٹر بھی ہوں گے۔

پنجروں میں داخل کیے جانے کے بعد انھیں دواؤں کی مدد سے دوبارہ ہوش میں لایا جائے گا۔ لیکن ایسی ادویات بھی ضروری ہوں گی جو انھیں سفر کے دوران ہلکے نشے کی حالت میں ہوش میں رکھیں۔

یونیورسٹی آف پریٹوریا میں ویٹرینری وائلڈ لائف کے پروفیسر ایڈیئن ٹورڈیف کا کہنا ہے کہ ’اس پورے عمل کے ذریعے جانوروں کی ایک مقام سے دوسرے تک منتقلی آسان ہو جاتی ہے۔‘

ماضی میں بھی چیتوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا چکا ہے۔

مروے کے مطابق ایک مرتبہ انھوں نے ایک مادہ چیتے کو جنوبی افریقہ سے ملاوی تک سڑک کے راستے 55 گھنٹے لمبا سفر طے کر کے پہنچایا تھا۔ اُن کا کہنا تھا ’یہ جانور خود کو ماحول کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔‘

کیا چیتوں کو فضائی سفر کے دوران کھانا دیا جائے گا؟

نہیں، ایسا نہیں کیا جائے گا۔ چیتے ایک بار میں تقریباً 15 کلو گوشت کھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر جنوبی افریقہ میں عام طور پر چیتوں کو کھانے میں جنگلی سور کا گوشت دیا جاتا ہے حالانکہ انھیں ہرن اور بارہ سنگھوں کا گوشت بہت پسند ہوتا ہے۔

سفر کے دوران چیتوں کو کھانا کھلانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کی سفر میں طبعیت خراب ہو سکتی ہے یا قے آنے سے ان کا دم گھٹ سکتا ہے۔

مروے نے بتایا کہ انڈیا بھیجے جانے والے چیتوں کو سفر سے دو روز پہلے سے کھانا نہیں دیا جائے گا۔

افریقہ کے چیتوں کو انڈیا کے کونو نیشنل پارک میں رکھا جائے گا

،تصویر کا ذریعہADRIAN TORDIFFE

،تصویر کا کیپشنافریقہ کے چیتوں کو انڈیا کے کونو نیشنل پارک میں رکھا جائے گا

انڈیا پہنچنے کے بعد کیا ہو گا؟

انڈیا پہنچنے کے بعد چیتوں کو کونو نیشنل پارک کے ایک پنجرے نما کیمپ میں ایک ماہ تک قرنطینے میں رکھا جائے گا۔

اس کی ضرورت اس لیے پڑتی ہے تاکہ جانور نئی جگہ کے ساتھ واقف ہو جائیں۔ مروے نے بتایا ’سبھی جانور قدرتی طور پر اپنے گھروں کو لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی اسی کوشش کو روکنے کے لیے ہم ایک سے دو ماہ تک انھیں ایک خاص علاقے تک محدود کر دیتے ہیں۔‘

اس دورانیے کے بعد چیتوں کو ایک لاکھ 15 ہزار ہیکٹر علاقے والے نیشنل پارک میں آزاد چھوڑ دیا جائے گا۔

چیتوں کو کن چیلینجز کا سامنا ہو سکتا ہے؟

پہلا خطرہ تیندوؤں سے ہو گا۔ کونو نیشنل پارک میں انھیں خاص اس بات کا خطرہ ہو گا کہ ان کے بچوں کو تیندوے نہ کھا جائیں۔

چیتے عام طور پر سیدھے جانور ہوتے ہیں جن کی سب سے بڑی خوبی اُن کی تیز رفتار ہے۔ وہ کسی بھی قسم کے تنازع سے دور رہتے ہیں اور اکثر انھیں ساتھ والے شکاری جانوروں سے خطرہ رہتا ہے۔

ماضی میں بھی چیتوں کو انڈیا میں شیر، تیندوے، لگڑ بگے اور جنگلی کتوں کا خطرہ رہا ہے۔ کونو نیشنل پارک میں ان کا سامنا پہلی بار دھاری دار لگڑ بگوں، جنگلی بھالوؤں اور بھیڑیوں سے ہو گا۔

اور وہ خود انڈیا میں چھوٹے دھبے دار ہرن، بڑے ہرن اور چار سینگوں والے چوسنگے کا شکار کر سکیں گے۔

عالمی سطح پر اس وقت تقریباً سات ہزار چیتے پائے جاتے ہیں

،تصویر کا ذریعہROSIE MILES

،تصویر کا کیپشنعالمی سطح پر اس وقت تقریباً سات ہزار چیتے پائے جاتے ہیں

مروے کا کہنا ہے ’ہمارا خیال ہے کہ تیندوؤں کے کسی بھی قسم کے خطرناک حملوں کا سامنا کرنے کا چیتوں کے پاس پہلے سے تجربہ ہے۔‘

ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ کونو کا جنگل بہت وسیع ہے۔ چیتوں کے پاس تیندوؤں سے فاصلہ قائم کرنے کے لیے جگہ کی کوئی کمی نہیں، انھیں واپس جنگل کے درمیان میں لانے کے لیے وی ایچ ایف ٹریکنگ کالرز یا سیٹلائٹ کی بھی مدد لی جا سکتی ہے۔

پروفیسر ٹورڈف نے بتایا کہ ’چیتے خود ہی کچھ دیر بعد تھم جاتے ہیں، اور ہمارے پاس خوشبو کی مارکنگ کی مدد سے انھیں جنگل کے مرکزی حصوں میں لانے کے مختلف طریقے بھی موجود ہیں۔‘

جانوروں کی منتقلی ہمیشہ ہی خطروں سے بھرپور کام ہوتا ہے۔

پروفیسر ٹورڈف نے کہا ’ہم جانوروں کو ان کے مانوس ماحول سے باہر نکال رہے ہیں، اور کسی بھی نئی جگہ واقفیت پیدا کرنے میں وقت لگتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ اپنے ماحول سے باہر کسی نئی جگہ زندہ رہ پانے کی شرح دوسرے بڑے شکاری جانوروں کے نسبت چیتوں میں کم دیکھی جاتی ہے۔

لیکن وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ اس سے قبل ملاوی لے جائے گئے چیتوں کی آبادی میں سے 80 فیصد ایک سال بعد بھی زندہ تھے اور 20 فیصد آبادی کے نقصان کے باوجود ان کی آبادی میں آگے اضافہ بھی دیکھا گیا۔

کیا انڈیا چیتوں کی اس آبادی کو زندہ رکھ سکے گا؟

انڈیا میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے افراد چیتوں کو انڈیا لانے کے خیال سے متفق نہیں ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ ماضی کے ایسے علاقے جہاں چیتے پائے جاتے تھے آہستہ آہستہ چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں۔

لیکن جھالا جیسے کچھ اہلکار پُرامید ہیں اور اُن کا خیال ہے کہ کونو پارک میں بہت جگہ ہے اور شکار کے بھی مواقع ہیں۔ ساتھ ہی انسانی آبادی کا دباؤ بھی نہیں ہے۔ یہ سبھی باتیں چیتوں کے مستقبل میں زندہ رہنے کے لیے ضروری ہیں۔

انڈیا کے کونو نیشنل پارک میں 20 چیتوں کو رکھے جانے کا منصوبہ ہے۔

چیتا دنیا کا سب سے تیز رفتار دوڑنے والا جانور ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچیتا دنیا کا سب سے تیز دوڑنے والا جانور ہے

آنے والے پانچ سے چھ برسوں میں انڈیا اپنے آدھا درجن قدرتی جنگلات اور نیشنل پارکوں میں رکھنے کے لیے 50 سے 60 چیتوں کی در آمد کرنا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ان جانوروں کو ایک سے دوسری جگہ منتقل کر کے جینیاتی اور نسلی اعتبار سے حیاتیاتی تنوع پیدا کرنا چاہتا ہے۔

اس منصوبے کی عالمی اہمیت کیوں ہے؟

ماہرین کا خیال ہے کہ چیتوں کے تحفظ کے لیے یہ تجربہ بے حد اہم ہے۔

ایران کے جنگلات میں اب محض 12 ایشیائی نسل کے چیتے زندہ بچے ہیں۔ حال میں ایک جینیاتی تحقیق میں یہ پایا گیا کہ ان جانوروں کی افزائش شدید متاثر ہے۔

پروفیسر ٹورڈف کا کہنا ہے کہ ’میرا خیال ہے کہ اب اس نسل کی اتنی چھوٹی آبادی سے ان کی تعداد میں اضافے کی امید کرنا فضول خیال ہے۔ اس طرح نسلوں کا تحفظ وقت کی بربادی ہے کیونکہ اس کی کامیابی کے زیادہ امکانات نہیں۔ تاہم ان کی عالمی آبادی پر فوکس کرنا زیادہ بہتر طریقہ ہے، چاہے دو مختلف نسلوں کے درمیان کسی حد تک افزائش کروانی پڑے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’چیتوں کو انڈیا لے جانا ایک بڑا قدم ہے۔ اور اگر ہم ان کی نسل کو معدومیت سے بچانا چاہتے ہیں تو اس قدم کی شدید ضرورت بھی ہے۔‘