نیپال میں شیروں کی واپسی سے لوگ خوش بھی اور خوف زدہ بھی

،تصویر کا ذریعہDeepak Rajbanshi
- مصنف, انبراسین ایتھیراجن اور ریبیکا ہینشکی
- عہدہ, بی بی سی
نیپال نے گذشتہ 10 برسوں میں اپنے ملک میں معدومیت کے قریب پہنچ جانے والےشیروں(ٹائیگر) کی آبادی کو دوگنا کرنے کا حیران کُن کارنامہ سرانجام دیا ہے مگر مقامی آبادیوں کو اس کی قیمت شیروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کی صورت میں ادا کرنا پڑی ہے۔
ان بڑی بلیوں کی حفاظت پر مامور یونٹ کے رکن کیپٹن ایوش جنگ بندرا رانا کہتے ہیں کہ ’جب آپ کا سامنا کسی ٹائیگر سے ہو تو دو طرح کے احساسات ذہن میں آتے ہیں۔‘
’اوہ خدایا، کیا شاندار جانور ہے، اور اوہ خدایا، کیا میری موت کا وقت آ گیا ہے؟‘
وہ نیپال کے ترائی خطے میں سب سے بڑے اور انسانی پہنچ سے دور نیشنل پارک بردیا کے گھنے جنگلات اور وسیع و عریض میدانوں میں مسلح گشت پر نکلتے ہیں تو اکثر اُن کی نگاہ بنگال کے شیروں پر پڑ جاتی ہے۔
کیپٹن ایوش گھنے جنگل پر نظر دوڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’شیروں کی حفاظت کی ذمہ داری ملنا ایک اعزاز ہے۔ کسی بہت بڑی چیز کا حصہ بننا خوش قسمتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہKevin Kim/BBC
نیپال میں شیروں کے شکار پر مکمل پابندی نے ان کی حفاظت میں کردار ادا کیا ہے۔ فوجی یونٹ نیشنل پارک ٹیموں کی مدد کرتے ہیں اور پارک کے ساتھ والے بفر زونز میں کمیونٹی اینٹی پاؤچنگ یونٹس قدرتی جنگلوں کی نگرانی کرتے ہیں جو شیروں یا ٹائیگروں کو محفوظ طریقے سے گھومنے کا موقع دیتے ہیں۔
زمین کی ایسی ہی ایک پٹی کھٹا کوریڈور، بردیا نیشنل پارک کو انڈیا میں سرحد کے اس پار کٹارنیا گھاٹ وائلڈ لائف سینکچری سے ملاتی ہے۔


لیکن شیروں کی واپسی نے پارک کی سرحد پر رہنے والے لوگوں کے لیے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منوج گٹم جو ایک ماحولیاتی کاروبار کے مالک اور تحفظ پسند ہیں، کہتے ہیں کہ کمیونٹی ڈر میں رہتی ہے۔
‘شیروں، شکار کی نسلوں اور انسانوں کا رہنے والا مشترکہ علاقہ بہت تنگ ہے۔ نیپال میں شیروں کی تعداد کو دوگنا کرنے کے لیے کمیونٹی نے ایک قیمت ادا کی ہے۔‘
گذشتہ 12 ماہ میں نیپال میں شیروں کے ہاتھوں 16 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ پچھلے پانچ سال میں مجموعی طور پر 10 افراد ہلاک ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہDeepak Rajbanshi
زیادہ تر حملے اس وقت ہوئے جب گاؤں والے نیشنل پارک یا بفر زونز میں مویشی چرانے یا پھل، مشروم اور لکڑیاں جمع کرنے گئے۔
کچھ واقعات میں ٹائیگر پارکوں اور نیچر کوریڈورز سے نکل کر گاؤں میں داخل ہوئے ہیں۔ جنگلی حیات اور انسانوں کو الگ کرنے کے لیے باڑ لگائی گئی ہیں لیکن جانور انھیں توڑ کر نکل آتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہKevin Kim/BBC
بھدائی تھارو کے چہرے اور جسم پر شیروں کے دیے کئی زخم نظر آتے ہیں مگر پھر بھی وہ ان کے تحفظ میں مدد کر رہے ہیں۔ سنہ 2004 میں اپنے گاؤں کے قریب کمیونٹی جنگل میں گھاس کاٹتے ہوئے ٹائیگر نے ان پر حملہ کیا۔ اس حملے میں انھوں نے ایک آنکھ گنوا دی۔
وہ یاد کرتے ہیں کہ ‘ٹائیگر نے دھاڑتے ہوئے میرے چہرے پر چھلانگ لگائی۔‘
‘میں نیچے گر گیا، پھر ٹائیگر اچھلتی ہوئی گیند کی طرح پیچھے ہٹ گیا۔ میں نے اپنی پوری طاقت سے اسے مُکے مارے اور مدد کے لیے پکارا۔‘
وہ شاذو نادر ہی اپنا دھوپ کا چشمہ اتارتے ہیں مگر ایسا کرنے پر ان کے چہرے پر زخموں کے گہرے نشانات اور ان کی ضائع شدہ آنکھ نظر آتی ہے۔
وہ اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’میں غصے میں تھا اور افسردہ بھی۔ نیچر کے ایک محافظ کی حیثیت سے میں نے کیا غلط کیا؟ لیکن یہ شیر معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں اور ان کا تحفظ ہمارا فرض ہے۔‘
ٹائیگروں سے متعلق حالیہ تاریخ اچھی نہیں ہے۔
ایک صدی قبل شیروں کی آبادی تقریباً ایک لاکھ تھی جو ایشیا کے مخلتف علاقوں میں پھیلی ہوئی تھی۔ سنہ 2000 کی دہائی تک ان کی تعداد میں 95 فیصد کمی ہو چکی تھی جس کی بڑی وجوہات شکار، غیر قانونی شکار اور ان جنگلات میں کمی تھی جو ان کا مسکن ہوا کرتے تھے۔ اس وقت جنگلوں میں رہنے والے ٹائیگروں کی تعداد چار ہزار سے بھی کم رہ گئی ہے۔
968 مربع کلومیٹر پر پھیلے ہوئے بردیا نامی علاقے کو سنہ 1988 میں نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا تاکہ معدومیت کے شکار ان شیروں کو تحفظ دیا جا سکے۔ اس زمانے میں یہ علاقے شاہی شکار گاہ ہوا کرتے تھے۔
سنہ 2010 میں 13 ایسے ممالک نے جہاں ٹائیگر پائے جاتے ہیں عزم کیا کہ اپنے اپنے علاقوں میں ان کی تعداد کو بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ انھیں معدمیت کے خطرے سے نکالا جا سکے۔
اس وقت تک صرف نیپال نے اپنا ہدف پورا کیا ہے۔
نیپال میں شیروں (ٹائیگر) کی تعداد جو سنہ 2009 میں 121 تھی اب 10 سال سے زیادہ عرصے میں بڑھ کر 300 ہو گئی ہے۔ یہ درندے زیادہ تر ملک کے پانچ نیشنل پارکوں میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسرے جنگلی جانوروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے جن میں گینڈے، ہاتھی اور تیندوے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہDeepak Rajbanshi
شیروں کو ایک اچھا اور صحت مند ماحول فراہم کرنے کے لیے حکام نے گھاس سے بھرے مزید میدان تیار کیے ہیں۔ وہاں کئی تالاب بھی بنائے گئے ہیں تاکہ ہرنوں کے لیے ساز گار ماحول پیدا کیا جا سکے۔ اس طرح شیروں کو انھیں شکار کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔
بردیا نیشنل پارک کے چیف وارڈن بشنو شرسترا اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ اس طرح کے انسانی اقدامات سے، جن سے شیروں کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے، صورتحال خراب ہو رہی ہے۔
’نیشنل پارک میں اب کافی جگہ اور شکار موجود ہے۔ شیروں کے لیے ہمارے انتظام کا طریقہ پائیدار ہے۔‘
بردیا نیشنل پارک کے آس پاس رہنے والے لوگوں نے شیروں کے تحفظ کی کوششوں کی بڑی حد تک حمایت کی ہے لیکن شیروں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ان کی پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سمجھانہ نامی مقامی رہائشی جن کی ساس گذشتہ برس ایک ٹائیگر کے حملے میں ہلاک ہو گئی تھیں کہتی ہیں ’سیاح تو یہاں ٹائیگروں کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں لیکن ہمیں تو ان کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔‘
سمجھانہ کی ساس نیشنل پارک کی سرحد کے کافی اندر اپنے مویشیوں کے لیے گھاس کاٹ رہی تھیں جب ٹائیگر نے ان پر حملہ کیا۔
سمجھانہ نے اپنی ساس کی تصویر ہاتھوں میں اٹھاتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ وہ اپنی ساس سے اپنی ماں سے زیادہ محبت کرتی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہKevin Kim/BBC
سمجھانہ خبردار کرتے ہوئے کہتی ہیں ’آنے والے برسوں میں میری طرح مزید خاندان نقصان اٹھائیں گے اور حملوں کے شکار افراد میں اضافہ ہو گا۔‘
اس علاقے میں کھیتوں کے علاوہ یہ ٹائیگر قریبی دیہات میں بھی گھُس جاتے ہیں۔
اس سال مارچ میں بردیا نیشنل پارک کے کنارے پر واقع سینابگر نامی گاؤں کی رہائشی للی چوہدری اپنے گھر کے پاس اپنے سوؤروں کو چارہ دینے گئیں۔ گاؤں والوں کو وہ ٹائیگر کے حملے کے نتیجے میں انتہائی زخمی حالت میں ملیں۔ کچھ دیر بعد ان کی وفات ہوگئی۔
ان کی چھوٹی بہن اشمیتا تھارو کہتی ہیں ’اس کے بعد سے ہم سب سوؤروں کو چارہ ڈالنے کے لیے اکیلے جاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہDeepak Rajbanshi
چھ جون کو بھدائی تھارو کے گاؤں میں اشمیتا تھارو اور ان کے شوہر پر ایک تیندوے کے حملے کے بعد لوگ احتجاج کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ اس واقعے سے ایک ہفتے قبل قریبی جنگل میں ٹائیگر کے حملے میں ایک شخص ہلاک ہو چکا تھا۔
تقریباً 300 لوگوں نے سڑک پر جمع ہو کر احتجاج کیا اور حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں۔
لوگوں نے کمیونٹی فورسٹ آفس کو نذرِ آتش کر دیا۔ جب پولیس آئی تو اس پر بھی پتھر برسائے گئے۔ پولیس کی فائرنگ سے نبینہ چوہدری نامی لڑکی ہلاک ہو گئی جو ان میاں بیوی کی بھانجی تھی جن پر تینوے نے حملہ کیا تھا۔
نبینہ کے بھائی نبین تھارو بھی اس وقت قریب ہی موجود تھے۔
’میں اپنی بہن کی لاش کو وہاں سے لے جانا چاہتا تھا لیکن پولیس لوگوں کو بُری طرح پیٹ رہی تھی۔ میری بہن نے کچھ غلط نہیں کیا تھا۔ کیا اپنے لیے سکیورٹی اور تحفظ مانگنا غلط ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہNabin Tharu
نیپالی حکومت نے نبین کے خاندان کے لیے 16 ہزار ڈالر کے معاوضے کا اعلان کیا اور یہ وعدہ بھی کیا کہ انھیں ’شہید‘ قرار دے کر ان کا مجسمہ نصب کیا جائے گا۔ لیکن ان کا خاندان مکمل تحقیقات کا مطالبہ کر رہا ہے۔
اس کشیدگی کے بعد مقامی افراد اور حکام کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے تحت جنگلی حیات اور مقامی آبادی کو ایک دوسرے سے دور رکھنے کے لیے مزید باڑیں اور دیواریں تعمیر کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
نیپال میں جب کوئی ٹائیگر کسی انسان کو ہلاک کرتا ہے تو اس ٹائیگر کو ڈھونڈ کر قید کر دیا جاتا ہے۔ اس وقت ایسے سات ٹائیگر قید میں ہیں۔
کیپٹن ایوش کہتے ہیں کہ ’شیروں کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے لیکن لوگوں کی حفاظت بھی ہماری ڈیوٹی ہے۔‘
’جب شیر زیادہ تعداد میں ہوں گے اور ان کے آس پاس زیادہ تعداد میں انسان بھی ہوں گے تو خطرات اور تنازع پیدا ہونے کا خدشہ بھی رہے گا۔ ان دونوں کے درمیان بقایۂ باہمی ایک چیلنچ ہے۔‘
حکام کی کوشش ہے کہ ان افراد کو متبادل روزگار فراہم کیا جائے جن کی روزمرہ زندگی کا دار و مدار نیشنل پارک پر ہے۔
اس سلسلے میں لوگوں کو تربیت دی جا رہی ہے کہ وہ کوئی چھوٹا کاروبار شروع کر سکیں یا محکمۂ سیاحت سے وابستہ ہو جائیں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہ Kevin Kim/BBC
بھدائی تھارو ٹائیگر کے تحفظ کی اپنی ٹیم کی میٹنگ بلاتے ہیں اور انھیں بتاتے ہیں کہ ایک غلط فہمی انسانوں اور جنگلی حیات کو تقسیم کر دیتی ہے۔
’ہمارا جنگل ٹائیگر کا گھر ہے۔ اگر ہم ان کے مسکن میں دخل اندازی کریں گے تو انھیں غصہ آئے گا۔ اگر ہم اپنی بکریوں کو چرنے کے لیے جنگل میں جانے دیں گے تو وہ ان پر حملے کریں گے۔‘
بھدائی تھارو کی ٹیم مویشیوں کے لیے زیادہ محفوظ غذا اور نیشنل پارک سے ملحقہ جنگلات میں مویشیوں کی چرا گاہیں قائم کرنے کے منصوبے بنا رہی ہے تاکہ شیروں کے شکار کے لیے بڑی تعداد میں ہرن موجود ہوں اور وہ انسانوں پر حملے نہ کریں۔
جنگلی حیات کے بارے میں نوجوانوں کی سمجھ بوجھ بڑھانے کے لیے کلاسوں کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے۔ بچوں کو شیروں کے مزاج کے بارے میں سکھایا جا رہا ہے اور انھیں بتایا جا رہا ہے کہ جنگل میں اکیلے نہ جائیں۔
بھدائی کہتے ہیں کہ وہ لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ شیروں کو بھی زندہ رہنے کا حق ہے۔ ’یہ حق صرف انسانوں ہی کو کیوں حاصل ہو۔‘
اضافی رپورٹنگ: راما پراجلی، کیون کم، راجن پراجلی اور سرندر پھوول












