یاسین ملک نے دو ماہ کے لیے بھوک ہڑتال ملتوی کر دی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں تین دہائیوں سے جاری ’مسلح شورش کے ماسٹر مائنڈ‘ سمجھے جانے والے علیحدگی پسند رہنما محمد یاسین ملک نے دلی کی تہاڑ جیل کے حکام کی یقین دہانی کے بعد دس روز سے جاری بھوک ہڑتال کو دو ماہ کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔
58 سالہ یاسین ملک کشمیر کی کالعدم تنظیم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین ہیں۔
’ٹیرر فنڈنگ‘ کے ایک معاملے میں عدالت نے انھیں رواں سال مئی میں عمر قید کی سزا سُنائی تھی تاہم اُن پر 1989 میں اُس وقت کے بھارتی وزیرِ داخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی ڈاکٹر روبیہ سعید کے اغوا اور 1990 میں سکواڈرن لیڈر روی کھنہ سمیت بھارتی فضائیہ کے چار اہلکاروں پر فائرنگ کر کے انھیں ہلاک کرنے کا بھی الزام ہے۔
32 سال پرانے ان معاملات کی فائل مارچ 2020 میں دہشت گردی کی کارروائیوں سے متعلق جموں کی ایک عدالت میں دوبارہ کُھلی تھی۔ جموں کی ایک عدالت میں زیرِ سماعت ان مقدمات کے لیے یاسین ملک ذاتی طور پر عدالت میں حاضر ہونے اور گواہوں سے خود جرح کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
گذشتہ برس ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہونے والی ایک سماعت کے دوران یاسین ملک نے کسی بھی وکیل کی مدد لینے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ گواہوں پر خود ہی جرح کریں گے۔
ان ہی مطالبات کو منوانے کے لیے انھوں نے 12 جولائی کو بھوک ہڑتال شروع کی تھی جس کے بعد ان کی طبعیت خراب ہو گئی تھی اور انھیں دلّی کے رام منوہر لوہیا ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ ہسپتال سے جیل واپسی پر بھی انھوں نے کچھ بھی کھانے پینے سے انکار کر دیا تھا۔
اب تہاڑ جیل کے حکام نے بھارتی میڈیا کو بتایا ہے کہ نئی دلی کی تمام جیلوں کے نگران ڈی جی پرزنز سندیپ گوئیل نے یاسین ملک کو یقین دلایا کہ ان کے مطالبات انڈین حکومت تک پہنچا دیے گئے ہیں جس کے بعد انھوں نے دو ماہ کے لیے ہڑتال ملتوی کر دی ہے۔
یاسین ملک کو فی الوقت تہاڑ کی جیل نمبر سات کے ’ہائی رِسک سیل‘ میں قید رکھا گیا ہے۔ بھوک ہڑتال کے دوران جب ان کی طبعیت خراب ہوئی تو انھیں جیل میڈیکل انوسٹگیشن رُوم میں شفٹ کیا گیا، تاہم انھوں نے وہاں بھی ڈاکٹروں کو ایک خط کے ذریعے کہا تھا کہ اُن کا علاج نہ کیا جائے لیکن ڈی جی جیل خانہ جات سندیپ گوئل کے مطابق جب یاسین ملک کو بتایا گیا کہ ان کے مطالبات کو تحریری طور پر اعلیٰ سطحی حکام کو بھیج دیے گئے ہیں تو انھوں نے دو ماہ کے لیے بھوک ہڑتال ملتوی کر دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاسین ملک پر ’ٹیرر فنڈنگ‘ کے الزامات انڈیا کے نئے دہشت گردی مخالف قانون ’اَن لافُل ایکٹوِٹیز ایکٹ‘ یعنی یوے اے پی اے اور انڈین پینل کوڈ کے تحت عائد کیے گئے ہیں۔
دو ماہ قبل ہوئی سماعت کے دوران اُنھیں سنہ 2017 میں دہشت گرد کی کی کارروائیوں، دہشت گردی کے لیے سرمایہ اکھٹا کرنے، دہشت گردانہ حملوں کی سازش کرنے، مجرمانہ سازش اور ملک دُشمن خیالات کے اظہار جیسے جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا اور عدالت نے اس کیس میں انھیں عمرقید کی سزا سُنائی لیکن مفتی محمد سعید کی بیٹی روبیہ سید کو اغوا کرنے اور انڈین فضائیہ کے چار افسروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے والے مقدمات اب بھی زیرسماعت ہیں۔
بھوک ہڑتال کے اعلان سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کالعدم لبریشن فرنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ’یاسین ملک نے گزشتہ سماعت سے ایک دن قبل یعنی 12 جولائی کو ہی کہا تھا کہ وہ اگلے روز سے بھوک ہڑتال کریں گے لیکن جیل حکام نے انھیں کہا کہ اُن کا خط حکومت کے پاس پہنچانے میں کچھ وقت لگے گا جس کے بعد انھوں نے بھوک ہڑتال کا فیصلہ مؤخر کردیا تھا۔ اب بھی اُن کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ 22 جولائی سے بھوک ہڑتال پر ہوں گے۔‘

کیا یاسین ملک کیس کشمیری سیاست کو متاثر کررہا ہے؟
سنہ 1989 میں لبریشن فرنٹ سے وابستہ عسکریت پسندوں نے جیل سے اپنے ساتھیوں کو چُھڑوانے کے لیے اُس وقت کے انڈین وزیرداخلہ مفتی محمد سید کی بیٹی روبیہ سید کا اغوا کر لیا۔
کئی روز کے مذاکرات کے بعد فرنٹ کے کئی مسلح لیڈروں کو رہا کیا گیا جس کے بعد روبیہ سید کو بھی رہا کیا گیا۔
مفتی سید کئی دہائیاں بعد سنہ 2002 میں جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ بن گئے اور سنہ 2015 میں سید کی موت کے بعد اُن کی بڑی بیٹی اور روبیہ سید کی بہن محبوبہ مفتی بھی جموں و کشمیر کی وزیراعلیٰ بن گئیں۔
گزشتہ ہفتے ہوئی سماعت کے دوران روبیہ سیّد کو عدالت میں طلب کر کے اُنھیں قصورواروں کی پہچان کے لیے کہا گیا ، تاہم انھوں نے صرف یاسین ملک کی شناخت کی۔
محبوبہ مفتی فی الوقت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ ہیں اور کشمیر کی خودمختاری سے متعلق نہایت سخت مؤقف رکھتی ہیں۔ انھیں نئی دلی میں کئی حلقے 'نیم علیحدگی پسند' بھی کہتے ہیں۔ اُن کی بہن کے ذریعے یاسین ملک کی عدالت میں شناخت پر اُن کے حریفوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔
محبوبہ کی کابینہ میں وزیر رہنے والے سجاد غنی لون نے اپنے ردعمل میں کہا 'یاسین ملک فیئر ٹرائل (شفاف سماعت) کے مستحق ہیں۔ لوگوں کو مجرم ٹھہرانے اور اُن کی شناخت کرنے والوں کو کوئی حق نہیں کہ وہ مذاکرات کی باتیں کریں۔'
سجاد لون ہندنواز سیاست میں داخلے سے قبل علیحدگی پسندوں کے اتحاد حریت کانفرنس کے ساتھ وابستہ تھے۔ انھوں نے محبوبہ مفتی کو سیدھا نشانہ بناتے ہوئے کہا : 'کم از کم یہ لوگ پرینکا گاندھی سے ہی سبق لیتے کہ انھوں نے اپنے والد کے قاتلوں کو اعلانیہ معاف کردیا تھا، یہ تو پھر بھی اغوا کا معاملہ ہے۔'
محبوبہ مفتی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'یہ 32 برس پُرانی بات ہے۔ روبیہ سید باقی سب کو نہیں پہچان پائی کیونکہ انھوں نے انھیں تب سے کبھی نہیں دیکھا۔ یاسین ملک چونکہ ایک معروف شخصیت ہیں اور برسوں سے انھیں لوگوں نے ٹی وی پر اور اخباروں پر دیکھا ہے لہٰذا روبیہ کے لیے انھیں پہچاننا آسان تھا۔ انھوں نے یہ کام کرکے قانون کے تئیں اپنا فرض نبھایا ہے'۔
قابل ذکر ہے کشمیر میں ہندنواز سیاست کا بیانیہ سنہ 2019 سے قبل علیحدگی پسند تحریک کے اِرد گرد گھومتا رہا ہے۔
سبھی سیاسی گروپ علیحدگی پسندوں اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات، ہندپاک تجارت، قیدیوں کی رہائی اور آرپار تجارت کے نعروں پر انتخابی مہم چلاتے تھے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ یاسین ملک کا معاملہ بھی یہاں کے سیاسی حلقوں کو ایک دوسرے کے خلاف مورچہ بندی کا موقع فراہم کرسکتا ہے۔
اس دوران بعض دیگر حلقوں نے یاسین ملک کی طرف سے بھوک ہڑتال کو بلاجواز قرار دیا ہے۔
کشمیری پنڈت اُتپل کول نے ایک مباحثے کے دوران بتایا کہ 'یاسین ملک ایک دہشت گرد ہے، اُس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کشمیری پنڈتوں، سیاسی کارکنوں، پولیس اہلکاروں اور دوسرے لوگوں کا قتل کیا ہے۔ انھیں سزا ملنی چاہیے۔' اُتپل کول نے مزید بتایا: 'گزشتہ برسوں کے دوران انڈیا ایک بنانا ریپبلک بن گیا تھا کیونکہ یاسین ملک کو جیلوں میں یخنی (گوشت اور دہی سے بننے والا کشمیری پکوان) اور بریانی کھلائی جاتی تھی۔ یہ اب نہیں چلے گا'۔
یہ بھی پڑھیے

شفاف سماعت کے لیے مہم
دریں اثنا یاسین ملک کی کالعدم تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے ٹویٹر ہینڈل 'جے کے ایل ایف میڈیا سیل' پر اعلان کیا گیا ہے کہ 'قائد انقلاب یاسین ملک سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 21 جولائی سے 23 جولائی تک ضلعی سطح پر بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے جائیں گے'۔ پنجاب کے سابق گورنر اور برطانوی پارلیمان و پاکستانی سینیٹ کے سابق رکن چوہدری محمد سرور نے بھی لندن میں یاسین ملک کے حق میں دستخطی مہم شروع کردی ہے۔
گزشتہ ماہ جب یاسین ملک کو 'ٹیرر فنڈنگ' کیس میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تو سرینگر میں مظاہرے ہوئے اور کئی علاقوں میں ہڑتال کی گئی۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں بھی جگہ جگہ اُن کے حق میں مظاہرے کیے گئے تھے۔
اس سے قبل برطانوی پارلیمنٹ میں بعض پاکستانی نژاد اراکین نے حکومت برطانیہ سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی تھی، لیکن حکومت نے واضح کردیا کہ 'یاسین ملک کو انڈین قانون کے تحت قید کیا گیا ہے اور ہم براہِ راست انڈیا کے قانونی عمل میں مداخلت نہیں کرسکتے، تاہم ہم اس سماعت کو نہایت قریب سے دیکھ رہے ہیں اور سفارتی ذرائع سے یہ پیغام پہنچا رہے ہیں کہ قیدیوں کے ساتھ سلوک سے متعلق عالمی سطح پر متفقہ اصولوں پر عمل کیا جائے'۔










