انڈیا سری لنکا میں 1987 والی ’غلطی‘ کیوں نہیں دہرائے گا؟

श्रीलंका

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سروج سنگھ
    • عہدہ, نامہ نگار بی بی سی

سری لنکا 1948 میں آزاد ہوا۔ یہ ملک آج جس سیاسی اور معاشی عدم استحکام سے گزر رہا ہے، ایسی صورت حال وہاں پہلے کبھی پیدا نہیں ہوئی۔

یہی وجہ ہے کہ انڈیا نے بھی اچھے پڑوسی ہونے کے ناطے سری لنکا کو مالی امداد بھیجی ہے۔

بحران کی اس گھڑی میں بہت سے لوگ انڈیا کی طرف سے دی جانے والی اس مالی مدد کو ناکافی سمجھ رہے ہیں۔

بی جے پی کے سابق راجیہ سبھا ایم پی سبرامنیم سوامی بھی ایسے ہی لیڈروں میں شامل ہیں.

ان کا کہنا ہے کہ انڈین حکومت کو کسی بھی قیمت پر سری لنکا میں کسی بھی غیر جمہوری حکومت کے قیام کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

सुब्रमण्यम स्वामी

،تصویر کا ذریعہ@SWAMY39

فوجی امداد پر سبرامنیم سوامی کی دلیل

سبرامنیم سوامی کا کہنا ہے کہ ’بہت سے ایسے ممالک ہیں جو انڈیا سے دشمنی رکھتے ہیں اور مواقع کی تلاش میں ہیں۔ چین ان میں سے ایک ہے، جس کی مدد میانمار اور پاکستان جیسے کئی ممالک بھی کر سکتے ہیں۔ انڈیا پورے معاملے کو 'اچانک' پیدا ہونے والی صورت حال کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ انڈیا اس پورے معاملے کو ایک قسم کے 'سیکیورٹی خطرے' کے طور پر لے اور اس کے مطابق اقدامات کرے۔

’اس وقت راجا پاکشے سری لنکا میں موجود نہیں ہیں، ایسی صورت حال میں یہ مناسب نہیں ہے کہ انڈیا ایسے ملک میں فوج بھیجے جہاں کوئی ’حکومت‘ ہی نہیں ہے۔‘

لیکن سبرامنیم سوامی کا یہ بھی کہنا ہے کہ انڈیا کو اپنی فوج کی مدد سے سری لنکا میں کسی بھی غیر جمہوری حکومت کے قیام کو روکنا ہوگا۔

ان کا خیال ہے کہ اب انڈیا کے لیے اپنے ہنگامی منصوبے کو نافذ کرتے ہوئے امریکہ کی مدد سے سری لنکا میں داخل ہونے کا صحیح وقت ہے۔ انڈیا کو امریکہ اور 'کواڈ' (امریکہ، آسٹریلیا، جاپان اور انڈیا 'کواڈ' میں شامل ہیں جسے ایک غیر رسمی اتحاد کہا جاتا ہے) کی ​​مدد سے وہاں امن بحال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

انڈیا اس سے پہلے بھی سری لنکا میں ایسا کر چکا ہے۔ جمعرات کو سبرامنیم سوامی نے ایک نجی انگریزی ٹی وی چینل نیوز ایکس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ’راجا پاکشے اور ان کے بھائی الیکشن جیت کر اقتدار میں آئے، یہ منتخب حکومت تھی اور آج کچھ لوگ انھیں اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں۔۔۔۔ انھیں استعفیٰ دینے پر مجبور کرنا بہت خطرناک صورتحال ہے۔ سری لنکا انڈیا کی سرحد پر ایک جزیرہ نما ملک ہے۔‘

जाफ़ना

،تصویر کا ذریعہSURENDER SANGWAN

جب انڈیا نے سری لنکا میں امن فوج بھیجی

سبرامنیم سوامی جس واقعے کا ذکر کر رہے تھے وہ 1987 کا ہے۔

1987 میں، انڈیا کی امن فوج شمالی سری لنکا میں امن کے قیام کے مقصد سے وہاں گئی، لیکن لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلم (ایل ٹی ٹی ای) کے ساتھ جنگ ​​میں اس کے تقریباً 1200 فوجی مارے گئے۔

انڈین پیس کیپنگ فورس (آئی پی کے ایف) کا مقصد ایل ٹی ٹی ای کے جنگجوؤں کو ہتھیاروں سے بچانا اور سری لنکا میں امن قائم کرنا تھا۔ لیکن چند ہی ہفتوں میں آئی پی کے ایف اور ایل ٹی ٹی ای کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔

جب آئی پی کے ایف سری لنکا پہنچی تو سری لنکا کے تاملوں نے سوچا کہ آئی پی کے ایف ان کی حفاظت کے لیے آئی ہے۔ ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

سری لنکا کے بہت سے اقلیتی تاملوں نے محسوس کیا کہ اکثریتی سنہالی اپنی زبان اور مذہب کے اثر کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات خراب تھے۔

श्रीलंका

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنصدر گوتابایا راجا پاکسے نے اپنا استعفیٰ ای میل کے ذریعے اسپیکر پارلیمنٹ کو بھجوایا ہے

سنہالا کو ملک کی واحد قومی زبان قرار دینے کے لیے 1956 میں ایک متنازعہ قانون منظور کیا گیا جس نے سرکاری شعبے میں تامل کارکنوں کو ناراض کیا کیونکہ اس سے ان کی ملازمتیں متاثر ہوئی تھیں۔ رفتہ رفتہ ان وجوہات کی وجہ سے تاملوں نے الگ ملک کا مطالبہ اٹھانا شروع کر دیا۔

تاملوں کے خلاف پرتشدد واقعات بھی ہوئے۔ 1983 میں، ایل ٹی ٹی ای کے ایک حملے میں 23 فوجی مارے گئے، جس کے نتیجے میں سری لنکا میں فسادات پھوٹ پڑے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان فسادات میں تقریباً 3000 تامل مارے گئے تھے۔

اس کی وجہ سے سری لنکا کی حکومت اور ایل ٹی ٹی ای کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔

یہ بھی پڑھیے

سری لنکا میں علیحدہ تامل ایلم ملک کے مطالبے پر انڈیا میں تشویش پائی جاتی تھی کیونکہ بڑی تعداد میں تامل انڈیا میں رہتے ہیں۔

بہت سے انڈین تامل ایل ٹی ٹی ای کے الگ ملک کے مطالبے کے حامی تھے۔ انڈیا اور سری لنکا کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا اور معاہدے پر دستخط کے چند گھنٹے بعد ہی انڈین پیس کیپنگ فورس (آئی پی کے ایف) سری لنکا کے لیے روانہ ہوگئی تھی۔

जाफ़ना

،تصویر کا ذریعہSURENDER SANGWAN

سری لنکا میں بہت سے لوگ اس معاہدے سے ناراض تھے۔ انھوں نے محسوس کیا کہ انڈیا ایک بڑا ملک ہونے کے ناطے چھوٹے پڑوسی کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔

سری لنکا پہنچنے کے فوراً بعد، آئی پی کے ایف (انڈین پیس کیپنگ فورس) کے سپاہیوں نے شمالی علاقوں میں سری لنکا کے فوجیوں کی جگہ لے لی۔

آئی پی کے ایف اور ایل ٹی ٹی ای کے درمیان جلد ہی جنگ چھڑ گئی، اور آئی پی کے ایف نے اکتوبر 1987 میں ایل ٹی ٹی ای کے مضبوط گڑھ جافنا پر قبضہ کرنے کے لیے حملہ کیا۔

مارچ 1990 میں انڈین فوج کو واپس بلا لیا گیا۔

بہت سے ماہرین آج بھی حکومت ہند کے اس اقدام کو تاریخی غلطی قرار دیتے ہیں۔

اور بہت سے لوگ اسے سری لنکا کے اندرونی معاملے میں مداخلت سمجھتے ہیں۔ ایسے افراد میں پروفیسر پولپری بالاکرشنا بھی ہیں جن کی سری لنکا کی معیشت پر اچھی گرفت ہے۔ وہ فی الحال اشوکا یونیورسٹی، سونی پت میں پڑھاتے ہیں۔

श्रीलंका

’ہماری فوج کو جنگل میں لڑنا پڑا جس کا انھیں تجربہ نہیں تھا‘

پروفیسر پولپری بالاکرشنا کا تجزیہ ہے کہ 1987 میں فوج بھیجنے کا فیصلہ غلط تھا، ہمیں فوجی مداخلت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے امن بحال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔

’فوجی نقطہ نظر سے بھی یہ غلط تھا کیونکہ ہماری فوج کو جنگل کے علاقے میں لڑنا تھا جس کا انھیں تجربہ نہیں تھا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ تاریخی طور پر بھی گوریلا فوج کے خلاف لڑائی کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ سری لنکا کی حکومت جنگ جیت گئی کیونکہ اس نے شہریوں پر بمباری بھی کی۔ انڈین حکومت ایسا نہیں کر سکی۔ اس لیے ہم کامیاب نہیں ہوئے لیکن بڑی تعداد میں نوجوان انڈین فوجیوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔ راجیو گاندھی کو بہت غلط مشورہ دیا گیا۔

’مجھے لگتا ہے کہ ہم نے سبق سیکھا ہے۔ ہم سری لنکا میں داخل ہونے کے بجائے اس وقت نہ صرف بہت مدد کر رہے ہیں بلکہ وہاں کے لوگوں کی سڑک پر آنے سے پہلے ہی مدد کر رہے ہیں۔ ایک ماہ قبل، ہم نے 3.5 بلین ڈالر کی امداد فراہم کی۔ اس بار ہمارے قدم درست سمت میں ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ فوج کو کسی بھی طرح مدد کرنی چاہیے۔‘

تو کیا انڈین حکومت اب بھی سری لنکا کی حکومت کی سیاسی مدد کر سکتی ہے؟

श्रीलंका संकट

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن36 سال پہلے کے فلپائن اور آج کے سری لنکا میں بہت سی مماثلتیں ہیں

’جو لوگ فوج بھیجنے کا کہتے ہیں، یہ بڑی حماقت کی بات ہے‘

سابق سفارت کار اشوک کانتھ کا تجزیہ کہتے ہیں 1948 میں اپنی آزادی کے بعد سے سری لنکا کا موجودہ معاشی بحران بے مثال ہے۔ انڈیا نے تعاون کرنے والا سب سے پہلے ملک ہے۔

’انڈیا نے سری لنکا کی اپنی پوری صلاحیت کے مطابق مدد کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ اس سال کے آغاز سے انڈیا کی حکومت نے 3.8 بلین ڈالر کی کریڈٹ لائن فراہم کی ہے۔۔ اس کے علاوہ تمل ناڈو حکومت سمیت دیگر سماجی تنظیموں نے بھی سری لنکا کی مدد کی ہے۔ ہم ایندھن، راشن، ادویات جیسی ضروری اشیا بھیج رہے ہیں۔ ہمارا کردار ’پڑوسی پہلے` پالیسی کے تحت رہا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ معاشی بحران کے ساتھ سری لنکا میں سیاسی بحران کی صورت میں افراتفری پھیلی ہوئی ہے۔ اس میں انڈیا کا محدود کردار ہوسکتا ہے۔ انڈیا نے واضح کردیا ہے کہ ہم سری لنکا کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔ عام طور پر انڈیا چاہے گا کہ سری لنکا کے آئین اور جمہوری نظام کے تحت اس مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔

’جو لوگ یہ بات کرتے ہیں کہ فوج بھیجی جائے، یہ بڑی حماقت کی بات ہے، انڈیا کی ایسی کوئی پالیسی نہیں، انڈیا سری لنکا میں مداخلت نہیں چاہتا، ہم چاہتے ہیں کہ جو کچھ سری لنکا کے عوام کے مفاد میں ہو، وہ ہو۔ سری لنکا ہمارا پڑوسی اور دوست ہے، ہم وہاں انتشار نہیں چاہتے لیکن وہاں جو سیاسی بحران ہے اس کا حل سری لنکا کے عوام کو تلاش کرنا ہوگا۔

اشوک کانتھ کہتے ہیں کہ 1987 میں حالات مختلف تھے۔ اس بار سیاق و سباق بالکل بدل گیا ہے۔ اس وقت جو سیاسی بحران چل رہا ہے وہ سری لنکا کا اندرونی معاملہ ہے۔ جہاں تک معاشی بحران کا تعلق ہے، تو انھیں عالمی برادری کی مدد کی ضرورت ہے۔ سب سے زیادہ مدد انڈیا سے آئی ہے جو جاری رہے گی لیکن ہم معاشی بحران اور سیاسی بحران میں فرق کو بھی سمجھ رہے ہیں۔

’سیاسی بحران پر انڈیا کا موقف بالکل واضح ہے کہ ہم سری لنکا کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔ سیاسی بحران کا حل انھیں جمہوری نظام اور آئینی طریقوں سے نکالنا ہے۔‘