بیگم حضرت محل جنھوں نے 1857 کی ’جنگِ آزادی‘ میں انگریزوں کا جینا دوبھر کر دیا تھا

بیگم حضرت محل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبیگم حضرت محل
    • مصنف, ریحان فضل
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی

یہ واقعہ تین جولائی 1857 کا ہے۔ لکھنؤ کے قیصر باغ محل کے باغ میں ایک بڑا جلوس چاندی والی بارہ دری کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس جلوس میں، ایک 14 سالہ دبلا پتلا، سیاہ چمڑی والا لڑکا چل رہا تھا۔

اس لڑکے کا نام برجیس قدر تھا۔ وہ اودھ کے نواب واجد علی شاہ کے بیٹے تھے، جنھیں ایک سال قبل جلاوطن کر دیا گیا تھا۔ان کی والدہ بیگم حضرت محل ان نو خواتین میں شامل تھیں جنھیں واجد علی شاہ نے لکھنؤ چھوڑنے سے پہلے طلاق دے دی تھی۔

اس جلوس کا مقصد 14 سالہ برجیس قدر کو آودھ کا نیا نواب قرار دینا تھا۔

روزی لیولن جونز اپنی کتاب 'دی گریٹ اپریزنگ ان انڈیا: ان ٹولڈ سٹوریز انڈین اینڈ برٹش' میں لکھتی ہیں، 'انگریزوں کا خیال تھا کہ ان کے خلاف بغاوت کرنے والے محض علامتی جلوس میں حصہ لے رہے تھے، جب کہ یہ سچ نہیں تھا۔ یہ ایک سنجیدہ لمحہ تھا جس نے آودھ کے برطانوی الحاق کے بعد الگ کیے گئے گروہ کے رہنماؤں کو ایک ساتھ آنے اور چھینی گئی ریاست کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرنے کا موقع فراہم کیا۔

دہلی، میرٹھ اور کانپور کے بعد 1857 کی بغاوت کی آگ لکھنؤ تک پہنچ گئی تھی۔ بغاوت کی پہلی چنگاری 30 مئی 1857 کو لگی تھی جب شہر کی ماریان گیریژن کے فوجیوں نے افسران کے گھروں کو آگ لگا دی اور تین برطانوی فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

1857 کی جنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بیگم حضرت محل کو حکمرانی کی ذمہ داری ملنا

لکھنؤ کے چیف کمشنر سر ہنری منٹگمری لارنس نے تمام برطانوی خواتین اور بچوں کو رہائش گاہ میں منتقل ہونے کا حکم دیا۔

30 جون کو لارنس کو معلوم ہوا کہ تقریباً 5000 باغی فوجی شہر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ لارنس نے عجلت میں تقریباً 600 فوجیوں کو ان کا سامنا کرنے کے لیے اکٹھا کیا۔

لکھنؤ سے چھ میل دور چنہٹ کے مقام پر دونوں فوجوں کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں انگریز سپاہیوں کو بری طرح شکست ہوئی۔ اس کے بعد باغیوں نے لکھنؤ کا مکمل محاصرہ کر لیا۔

تین دن بعد برجیس قدر کو آودھ کے تخت پر بٹھایا گیا۔ چونکہ وہ اس وقت بالغ نہیں تھے اس لیے انتظامیہ کی ساری ذمہ داری ان کی والدہ بیگم حضرت محل پر آ گئی۔

حضرت محل ایک افریقی غلام کی بیٹی تھیں

مؤرخ روزی لیولن جونز لکھتی ہیں کہ ’بیگم حضرت محل کا تعلق بہت عام سے گھرانے سے تھا۔ ان کے والد امبر ایک افریقی غلام تھے جبکہ ان کی ماں مہر افزا تھی جو امبر کی راکھیل تھیں۔ وہ لکھنؤ کے پرکھانہ سنگیت سکول میں موسیقی سیکھتی تھیں، اس لیے انھیں 'مہک پری' کہا جاتا تھا۔

انھوں نے اپنی قابلیت یا اچھی شکل یا دونوں کی وجہ سے واجد علی شاہ کی توجہ حاصل کی تھی اور واجد علی شاہ نے متعہ کے ذریعے حضرت محل کو اپنی عارضی بیوی بنایا تھا۔ 1845 میں انھوں نے واجد علی شاہ کے بیٹے کو جنم دیا جس کی وجہ سے ان کا رتبہ بڑھ گیا اور انھیں ملکہ کا درجہ دے دیا گیا۔

لیکن 1850 میں حضرت محل کی تقدیر نے نیا موڑ لے لیا۔ واجد علی شاہ نے نہ صرف انھیں طلاق دی بلکہ انھیں اپنے حرم سے بھی نکال دیا۔

کتاب

،تصویر کا ذریعہPENGUIN

رودرنگشو مکھرجی اپنی کتاب 'اے بیگم اینڈ دی رانی حضرت محل اور لکشمی بائی ان 1857' میں لکھتے ہیں کہ 'اس کا مطلب یہ ہے کہ جب واجد علی شاہ کو انگریزوں نے لکھنؤ سے نکال کر کلکتہ بھیج دیا تھا، تو ان کے ساتھ حضرت محل نہیں تھیں۔ وہ اب بیگم نہیں رہی لیکن جب ان کا بیٹا نواب اور مغل بادشاہ کا گورنر بنا تو انھیں خود بخود دوبارہ بیگم کا خطاب مل گیا۔ وہ نہ صرف باغیوں کی بلکہ عام لوگوں کی بھی رہنما بن گئیں۔

بیگم حضرت محل

،تصویر کا ذریعہINDIAN POSTAL DEPARTMENT

،تصویر کا کیپشنبیگم حضرت محل کے نام سے جاری ڈاک ٹکٹ

ریذیڈنسی پر 35000 باغیوں کا گھیراؤ

جولائی 1857 تک سپاہی منگل پانڈے کو برطانوی افسران پر حملہ کرنے کے جرم میں بیرک پور میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ میرٹھ، کانپور اور دہلی بغاوت کی آگ میں جل رہے تھے اور جھانسی کے جوکھن باغ میں انگریز عورتوں اور بچوں کے قتل کے بعد رانی لکشمی بائی جھانسی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

جیسے ہی انگریز سپاہیوں کی شکست کی خبر چنہٹ میں پھیلی، باغی سپاہی لکھنؤ پہنچنے لگے۔ اگلے آٹھ ماہ یعنی مارچ 1858 تک حضرت محل نے لکھنؤ میں باغیوں کی قیادت کی۔

اس دوران 37 ایکڑ پر مشتمل ریذیڈنسی تین ماہ تک محاصرے میں رہی، جس میں 3000 برطانوی بچے، فوجی، شہری، ہندوستانی فوجی، ان کے حامی اور نوکر موجود تھے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ریذیڈنسی کو تقریباً 35000 باغیوں نے گھیر لیا تھا۔ روز بروز ان کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔

ایک انگریز افسر جیمز نیل نے لارڈ کیننگ کو لکھے خط میں لکھا کہ 'ریذیڈنسی کے اندر حالات اتنے خراب ہو گئے تھے کہ لارنس نے سوچنا شروع کر دیا کہ وہ باغیوں کے سامنے زیادہ سے زیادہ پندرہ سے بیس دن تک کھڑا رہ سکے گا۔'

ہندوستان کی بغاوت کو کور کرنے کے لیے خصوصی طور پر بھیجے گئے اخبار 'دی ٹائمز' کے نمائندے ویویم ہاورڈ رسل نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ 'تین ماہ کے محاصرے کے دوران تین ہزار برطانوی باشندوں میں سے نصف یا تو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے یا مارے گئے۔ بیگم نے حیرت انگیز قوت اور قابلیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پورے اودھ کو اپنے بیٹے کی خاطر لڑنے پر آمادہ کیا۔'

لکھنؤ کی ریذیڈنسی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنلکھنؤ کی ریذیڈنسی

لارنس کی ریذیڈنسی میں موت

جولائی 1857 کے اوائل میں ایک دن، ہنری لارنس تمام اڈوں کا معائنہ کرنے کے بعد اپنے کمرے میں واپس آیا۔ اس سے ایک دن پہلے اس کے کمرے میں چھوٹی توپ کا گولہ پھٹا تھا لیکن لارنس کو کوئی چوٹ نہیں آئی تھی۔

رودرنگشو مکھرجی اپنی کتاب 'ڈیٹ لائن 1857 ریوولٹ اگینسٹ دی راج' میں لکھتے ہیں کہ 'لارنس کے عملے نے انھیں دوسرے کمرے میں جانے کا مشورہ دیا جو ریذیڈنسی کے اندر کی طرف تھا۔ لارنس نے فیصلہ کیا کہ وہ اگلے دن اپنا کمرہ بدل لے گا۔ اس کا خیال تھا کہ ایسا کوئی شوٹر نہیں ہو گا جو ایک ہی جگہ کو دو بار مارنے کا سوچے۔

لارنس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لیکن حقیقت میں یہی ہوا ہے۔ جب لارنس ایک خط لکھ رہا تھا، اسی جگہ ایک اور گولہ اس کے کمرے میں آکر پھٹ گیا۔ ہنری لارنس بری طرح زخمی ہوا۔ اسے اتنی شدید چوٹیں آئیں تھیں کہ وہ جانبر نہ ہو سکا اور چار جولائی کو اس کی موت ہو گئی۔

اسے ریذیڈنسی میں خاموشی سے سپرد خاک کر دیا گیا اور اگلے چند دنوں تک کسی کو اس کی موت کی خبر نہیں ہونے دی گئی۔

بیگم حضرت محل کا دربار تارا کوٹھی میں تھا

انگریزوں کا مقابلہ کرنے کے تمام فیصلے بیگم حضرت محل کے دربار میں ہو رہے تھے۔

ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ 'جب بھی بیگم کے گھر پر دربار ہوتا تھا، حکومت کے تمام ارکان اور کمانڈر اس میں شریک ہوتے تھے۔ تارا کوٹھی میں ہفتے میں دو تین بار ایسی ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ دربار برجیس قدر کے نام پر اشتہارات جاری کرتے تھے جس میں لوگوں سے اپنے دین کو بچانے کے لیے لڑنے کی درخواست کی جاتی تھی۔ ان اشتہارات میں برطانوی راج کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔

اس کے علاوہ دربار برجی تعلق داروں کو قدر کے نام سے حکم نامہ جاری کرتے تھے۔ عام لوگ جس انداز میں انگریزوں کی مخالفت کر رہے تھے، اس سے ظاہر ہے کہ ان حکمناموں کو سنجیدگی سے لیا جا رہا تھا اور لوگوں پر ان کا اثر صاف نظر آ رہا تھا۔

لکھنؤ ریذیڈنسی میں پھنسے لوگوں کی مدد کے لیے کانپور سے بھیجے گئے ہنری ہیولاک اور جیمز آؤٹرام کے دستوں کو عام دیہاتیوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا تھا۔

لڑائی کے علاوہ لکھنؤ کی سڑکوں پر جشن کا ماحول تھا۔ لوگ ایک دوسرے کو حلوہ پوری اور مٹھائیاں بانٹ رہے تھے۔

دہلی میں شکست کھانے کے بعد باغی لکھنؤ پہنچ گئے

باغیوں کو پہلا دھچکا اس وقت لگا جب 25 ستمبر 1857 کو ہیولاک اور آؤٹریم کے دستے ریذیڈنسی میں گھسنے میں کامیاب ہو گئے لیکن اس پر مکمل قبضہ نہیں کر سکے کیونکہ ان کی تعداد کم تھی۔

آوٹرم ریذیڈنسی کے اندر گیا اور اس کا اپنے ساتھیوں سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

چارلس بال نے اپنی کتاب 'ہسٹری آف دی انڈین میوٹینی' میں لکھا، 'آؤٹرم کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی ہر کوشش کو بیگم حضرت محل نے ٹھکرا دیا۔'

کیونکہ اس وقت تک دہلی پر انگریزوں کا قبضہ تھا، بہت سے باغی اودھ کے باغیوں کی مدد کے لیے وہاں سے بھاگ چکے تھے۔

جنگ 1857

،تصویر کا ذریعہGetty Images

رودرنگشو مکھرجی اپنی کتاب 'آودھ ان ریولٹ' میں لکھتے ہیں کہ 'جنوری 1858 تک لکھنؤ میں باغی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب پہنچ چکی تھی۔ اس وقت سوچ یہ تھی کہ انگریز اگرچہ لکھنؤ چھوڑ چکے ہیں لیکن جلد واپس آجائیں گے۔'

بیگم حضرت محل لکھنؤ کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی تھیں تاکہ انگریزوں کی واپسی کو ہر ممکن حد تک مشکل بنایا جا سکے۔ لکھنؤ کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے تقریباً 15,000 کارکنان لگائے گئے تھے۔ قیصر باغ کے چاروں طرف ایک گہری خندق کھودی گئی تھی تاکہ گومتی ندی کا پانی وہاں لایا جا سکے۔

حضرت محل کے سپاہیوں نے انگریزوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کی

نومبر 1857 میں کولن کیمبل کی قیادت میں برطانوی فوجیوں نے ریذیڈنسی میں محصور برطانوی عوام اور ان کے حامیوں کو باہر نکال لیا۔

چارلس بال لکھتے ہیں کہ 'اس کے لیے انگریزوں کو جس قدر مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس مقابلے میں 3000 باغی مارے گئے اور ان کی 80 بندوقیں انگریزوں نے اپنے قبضے میں لے لیں۔'

دسمبر 1857 تک ہوا کا رخ مکمل طور پر تبدیل ہونا شروع ہو گیا تھا۔ وارانسی میں کرنل جیمز نیل نے بغاوت میں ملوث لوگوں کو آم کے درختوں پر لٹکا کر پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا تھا۔ الہ آباد شہر کو آگ لگا دی گئی اور لوگوں کو گولیوں سے اڑایا جا رہا تھا۔

ایرا مکھوتی اپنی کتاب 'ہیروئنز پاورفل انڈین ویمن آف متھ اینڈ ہسٹری' میں لکھتی ہیں کہ 'بیگم اور ان کے سپاہیوں کے لیے سب سے زیادہ پریشانی کی بات جیمز آؤٹرم اور ان کے سپاہیوں کی عالم باغ محل میں مسلسل موجودگی تھی۔

بیگم کے سپاہیوں نے عالم باغ محل پر نو بار حملہ کیا۔ لیکن وہ انگریزوں کو وہاں سے بھگانے یا کانپور سے ان کی سپلائی لائن منقطع کرنے میں ناکام رہے۔ بیگم حضرت محل بھی اپنے ہاتھی پر بیٹھ کر ایسے ہی ایک حملے میں شامل ہوئی تھیں۔'

کتاب

،تصویر کا ذریعہANTHEM PRESS

لیکن رودرنگشو مکھرجی کا ماننا ہے کہ 'حضرت محل نے خود لڑائی میں حصہ نہیں لیا تھا، لیکن انھوں نے نہ صرف اس کی منصوبہ بندی کی تھی بلکہ لڑائی سے متعلق تمام احکامات ان کے دربار سے ہی دیے گئے تھے۔ انھوں نے باغیوں کے حوصلے بلند کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔'

سنہ 1856 میں جب انگریزوں نے اودھ کو اپنی ریاست میں ضم کر لیا تھا تو انھیں ایک گولی بھی نہیں چلانی پڑی تھی، لیکن 1858 میں انھیں لکھنؤ پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت لگانی پڑی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

بیگم حضرت محل کو مولوی احمد اللہ شاہ کا چیلنج

لیکن بیگم کو انگریزوں سے زیادہ چیلنج ان کی اپنی ریاست کے مولوی احمد اللہ شاہ سے ملا۔ شاہ نے دعویٰ کیا کہ اسے براہ راست خدا کی طرف سے انگریزوں کا تختہ الٹنے کا حکم ملا ہے۔ لوگوں میں مقبول مولوی نے بتایا کہ وہ گوالیار کے محراب شاہ کا شاگرد تھا۔

رودرنگشو مکھرجی اپنی کتاب 'اودھ ان ریولٹ' میں لکھتے ہیں کہ 'احمد اللہ آگرہ میں فقیر کی حیثیت سے رہتے تھے۔ اس نے انگریزوں کے خلاف جہاد کیا تھا، اس وقت ان کی عمر 40 کے لگ بھگ تھی۔ وہ بہت کم پڑھے لکھے تھے اور فارسی اور عربی تھوڑی بہت بول سکتے تھے۔ چنہٹ کی جنگ میں وہ موجود تھے۔'

کتاب

،تصویر کا ذریعہALEPH BOOK COMPANY

بیگم حضرت محل اور ان کے ساتھی نہیں چاہتے تھے کہ مولوی احمد اللہ شاہ لکھنؤ میں داخل ہوں، لیکن جب باغی انگریزوں کے دباؤ میں تھے تو ان کے اشتعال انگیز پیغامات کو نظر انداز کرنا مشکل تھا۔

جب باغیوں کو جنگ میں شکست ہوئی تو حضرت محل کو مجبور کیا گیا کہ وہ انھیں لکھنؤ میں داخل ہونے دیں۔ جنوری 1858 تک باغیوں میں دو گروہ تھے۔ اودھ کے سپاہی بیگم حضرت محل اور برجیس قدر کی حمایت کر رہے تھے جبکہ دوسرے شہروں اور دہلی کے سپاہی مولوی احمد اللہ شاہ کا ساتھ دے رہے تھے۔

نیپال کے گورکھا سپاہیوں کی انگریزوں کی حمایت

اچانک خبر آئی کہ نیپال کے جنگ بہادر رانا کے خوفناک گورکھا سپاہی انگریزوں کی مدد کے لیے لکھنؤ پہنچ رہے ہیں۔

رودرنگشو مکھرجی لکھتے ہیں کہ 'بیگم کو معلوم ہوا کہ انگریزوں نے جنگ بہادر کو گورکھا سپاہیوں کے بدلے گورکھپور شہر اور لکھنؤ کی لوٹ سے حاصل ہونے والی رقم کا کچھ حصہ دینے کی پیشکش کی تھی۔ اس کو توڑنے کے لیے بیگم حضرت محل نے جنگ بہادر کو ایک اور پیشکش کی۔

گورکھا سپاہی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے اس سے وعدہ کیا کہ اگر انھوں نے انگریزوں کی مدد نہیں کی تو وہ گورکھپور کے علاوہ اعظم گڑھ، اراہ اور وارانسی ان کے حوالے کر دیں گی۔ لیکن بیگم کے حاضرین، جو قلندری فقیر کے بھیس میں بھیجے گئے تھے، راستے میں انگریزوں کے ہاتھوں پکڑے گئے اور مارے گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ گورکھا سپاہی انگریزوں کی حمایت میں لکھنؤ کی طرف بڑھتے رہے۔

انگریزوں کے قیصر باغ محل میں داخل ہونے سے پہلے حضرت محل فرار ہو گئی تھیں۔

فروری 1858 میں بیگم کو اپنے ایک تالقدار مان سنگھ کی غداری کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

اسی دوران کیمبل کی قیادت میں تقریباً 60,000 برطانوی فوجی لکھنؤ کی طرف بڑھے۔ ان میں سے 40,000 فوجی یورپ سے لڑنے کے لیے ہندوستان پہنچ چکے تھے۔ آخر کار انگریزوں نے قیصر باغ پر قبضہ کر لیا۔ باغیوں نے اس کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں۔

ڈبلیو ایچ رسل نے اپنی کتاب 'مائی ڈائری ان انڈیا' میں لکھا کہ 'بیگم نے آخر تک ہمت نہیں ہاری۔ وہ قیصر باغ میں ٹھہری۔ وہ 15 مارچ 1858 کو اپنے کچھ حامیوں کے ساتھ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی، اس سے پہلے کہ برطانوی فوجی اس کے محل میں داخل ہو جاتے۔'

انھوں نے لکھنؤ کے باہر موسیٰ باغ میں انگریزوں کے خلاف دوسرا محاذ کھولا۔ بیگم حضرت محل نے انگریزوں کے خلاف آخری جنگ 21 مارچ 1858 کو مولوی احمد اللہ کے ساتھ موسیٰ باغ میں لڑی لیکن اس جنگ میں انگریز ان پر غالب آ گئے۔

اس کے ساتھ ہی تمام باغی منتشر ہو گئے۔ مولوی احمد اللہ شاہ روہیل کھنڈ کی طرف چلے گئے جہاں انھوں نے انگریزوں کو گوریلا جنگ میں مصروف رکھا۔ لیکن پھر اس کے اپنے ہی ساتھیوں میں سے ایک نے اسے دھوکہ دیا اور اس کا سر قلم کر دیا۔

بیگم حضرت محل نے نیپال میں پناہ لی

بیگم حضرت محل اپنے بیٹے اور باقی حامیوں کے ساتھ نیپال کی سرحد کی طرف چلی گئیں۔ اس نے گھاگھرا ندی کو عبور کیا اور بہرائچ ضلع میں بونڈی قلعے کو اپنا اڈہ بنایا۔

بندیل کھنڈ سے فرار ہونے والے مراٹھا لیڈر نانا صاحب بھی وہاں پہنچ گئے۔ لکھنؤ چھوڑنے کے بعد بھی بیگم کے ساتھ 15000 سے 16000 سپاہی تھے۔ ان کے پاس 17 بندوقیں بھی تھیں۔ انھوں نے اتنی دور سے بھی اودھ کا نظم و نسق چلانے کی کوشش ترک نہیں کی۔

وہاں سے برجیس قدر کے نام سے بھی فرمان جاری ہوئے۔ یہی نہیں ان کے سپاہیوں کی تنخواہیں بھی دی گئیں۔ لیکن جب تمام امیدیں ختم ہونے لگیں اور ایسا لگنے لگا کہ انگریز ان پر قبضہ کر لیں گے تو بیگم نے نیپال میں پناہ لینے کا فیصلہ کیا۔

بیگم حضرت محل

،تصویر کا ذریعہHURST

نیپال کے جنگ بہادر رانا نے اعلان کیا کہ اگر بیگم حضرت محل نے نیپال میں امن سے رہنے کا وعدہ کیا تو انھیں وہاں رہنے دیا جائے گا اور نیپالی سرزمین پر اپنے خلاف تشدد کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حضرت محل نے ساری زندگی نیپال میں گزاری۔

بیگم حضرت محل آخری سانس تک نیپال میں ہی رہیں

وہ 1857 کی پہلی جنگ آزادی کی واحد رہنما تھیں جن پر انگریز کبھی قبضہ نہیں کر سکے۔اس دوران ان کے سابق شوہر واجد علی شاہ بغاوت میں حضرت محل کے کردار سے سخت ناراض ہوئے۔

انھوں نے کرنل کیوناگ سے شکایت کی کہ انھیں حضرت محل کے نام کے استعمال کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ واجد علی شاہ نے اپنی باقی زندگی کلکتہ کے قریب مٹیا برج میں گزاری۔

بیگم حضرت محل 1879 تک زندہ رہیں۔ انگریزوں نے ان کی ہندوستان واپسی کی خواہش کو آخر تک قبول نہیں کیا۔ ایس این سین اپنی کتاب 1857 میں لکھتے ہیں کہ 'انگریزوں نے انھیں واجد علی شاہ کی طرح پنشن کی پیشکش کی لیکن بیگم نے اسے ٹھکرا دیا۔ ان کا انتقال نیپال میں ہوا اور وہیں دفن ہوئیں۔ لیکن انگریزوں سے برابر کا مقابلہ کرنے والی اس خاتون کو تاریخ میں وہ مقام نہیں ملا جس کی شاید وہ حقدار تھیں۔'

بیگم کے بیٹے برجیس قدر کو ملکہ وکٹوریہ کے تخت پر فائز ہونے کے 50 سال مکمل ہونے کے موقع پر معاف کر دیا گیا۔ وہ ہندوستان واپس آئے اور کلکتہ میں رہنے لگے جہاں ان کا انتقال 14 اگست 1893 کو ہوا۔