لڑکی پر منگیتر کے اغوا کا الزام: ’شادی کرو ورنہ گولی مار دیں گے‘

انکر

،تصویر کا ذریعہNaseem Malik

،تصویر کا کیپشنگزشتہ برس انکر کی ملزمہ سے شادی طے پائی تھی
    • مصنف, شاہ باز انور
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، بجنور

انڈین ریاست اتر پردیش کے ضلع بجنور میں ایک لڑکی پر الزام ہے کہ اس نے شادی سے انکار پر اپنے منگیتر کو اغوا کر لیا ہے۔

اس معاملے میں پولیس نے لڑکی، اس کے کزن اور ایک اور شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس معاملے میں چار مزید ملزمان فرار ہیں۔

پولیس اہلکار کشن موراری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جمعرات کی صبح جوڈشیئل مجسٹریٹ چاندپور کے سٹینو کے طور پر کام کرنے والے انکر کمار اپنے گھر سے اپنے دوست پردیپ کمار کے ساتھ دفتر جا رہے تھے۔ ابھی راستے میں ہی تھے کہ پیچھے سے ایک کار آئی۔ اس کار میں پانچ لوگ سوار تھے۔ جن میں ایک خاتون بھی شامل تھیں۔ کچھ لوگوں کے پاس ہتھیار بھی تھے۔ انھوں نے انکر کو خوفزدہ کر کے کار میں بٹھا لیا اور فرار ہو گئے۔ جس کے بعد پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف شکایت درج کر لی تھی۔ ‘

اس واردات کے عینی شاہد اور انکر کے دوست پردیپ کمار موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔

پردیپ کمار نے میڈیا کو بتایا ’میں اور انکر گھر سے دفتر کے لیے نکلے۔ صبح تقریباً پونے دس بجے راستے میں ہی ہمارے پیچھے سے ایک کار آئی۔ اس کار میں سوار لوگوں کے ہاتھ میں اسلحہ تھا، انھوں نے پستول کی نوک پر انکر کو زبردستی کار میں بٹھا لیا اور فرار ہو گئے۔‘

شادی کے لیے لڑکا اغوا

،تصویر کا ذریعہNaseem Malik

،تصویر کا کیپشنپولیس نے ملزمہ سمیت تین افراد کو گرفتار کیا ہے

’شادی نہ کرنے پر جان سے مارنے کا منصوبہ’

دن کی روشنی میں پیش آنے والی اس واردات کے بعد علاقے میں پولیس حرکت میں آئی اور تقریباً چار گھنٹے کی مشقت کے بعد پولیس کو نجیب آباد کے آریہ شماج مندر میں انکر مل گئے۔

ملزم لڑکی سمیت تین دیگر افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ایس پی بجنور دنیش کمار نے میڈیا سے کہا ’چاند پور سے انکر کو اغوا کرنے کے بعد یہ لوگ اسے نجیب آباد علاقے میں واقع آریہ سماج مندر لے گئے۔ یہاں لڑکی سے انکر کی جبری شادی کروانے کا منصوبہ تھا۔ لیکن پولیس ٹیم نے کچھ موبائل سرویلنس پر لگائے ہوئے تھے۔ اسی کی مدد سے تین ملزمان کو ڈھونڈ کر گرفتار کیا جا سکا۔‘

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے بتایا کہ ’ملزمہ کے پاس سے شادی کا لال جوڑا اور دو پستول بھی برآمد ہوئیں۔‘ ان کے مطابق چار ملزمان ابھی بھی فرار ہیں۔‘

اغوا کرنے کی وجہ

پولیس نے بتایا ’گذشتہ برس انکر اور ملزمہ کی شادی طے ہوئی تھی۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان بات چیت بھی شروع ہو گئی۔ لیکن انکر کے خیالات اس سے نہیں مل پا رہے تھے، اس لیے وہ یہ شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔‘

ایس پی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’اگر انکر آریہ سماج مندر میں لڑکی سے شادی کرنے سے انکار کرتا تو وہ لوگ اس کا قتل کر دیتے۔ یہ ان کے منصوبے کا حصہ تھا۔‘

پردیپ کمار

،تصویر کا ذریعہNaseem Malik

،تصویر کا کیپشنانکر کے دوست پردیپ کمار بھی واردات کے وقت ان کے ساتھ موجود تھے

’شادی کرو ورنہ گولی مار دیں گے‘

انکر اس واقعے کے بعد سے ڈرے ہوئے ہیں۔

انکر نے میڈیا سے کہا ’شالنی (فرضی نام) اور میری شادی طے ہو گئی تھی۔ شادی طے ہونے کے بعد ہماری فون پر بات بھی ہوتی تھی۔ لیکن پھر بات بگڑ گئی۔ میں نے کہا کہ میں شادی نہیں کروں گا۔ آپ فیصلہ کر لیں، جو کچھ بھی آپ کا ہے ہم واپس کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس سلسلے میں پنچایت بھی بیٹھی۔ پنچایت میں وہ لوگ رشتہ ختم کرنے کے لیے تیار بھی ہو گئے تھے۔ لیکن گھر جا کر لڑکی دوبارہ شادی کی ضد کرنے لگی۔‘

انکر نے بتایا کہ اس دن دفتر جاتے وقت ان کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے بتایا ’کار میں پانچ افراد سوار تھے۔ ان میں سے زیادہ تر کے پاس پستول تھی۔ وہ لوگ مجھے نجیب آباد لے گئے۔ بیچ راستے مجھے پستول دکھا کر ڈرایا بھی گیا۔ وہ لوگ کہہ رہے تھے کہ شادی کرو ورنہ گولی مار دیں گے۔‘

انکر کے ایک رشتہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ لڑکی نے پہلے ہی دھمکی دے دی تھی کہ اگر وہ اس سے شادی نہیں کرے گا تو وہ اسے چاند پور سے اغوا کر لے گی۔

پولیس

،تصویر کا ذریعہNaseem Malik

،تصویر کا کیپشنپولیس کے مطابق ملزمان کے پاس سے پستولیں بھی برآمد ہوئی ہیں

ملزمہ کے اس جنون کی وجہ

اس واقعے کے بعد علاقے کے لوگ اس موضوع پر بات کر رہے ہیں، لوگ یہ بھی سوال کر رہے ہیں کہ آخر اس لڑکی میں اتنا جنون آیا کہاں سے کہ اس نے منگیتر کو اغوا کرنے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔

چاند پور کی ڈپٹی ایس پی سونیتا دہیا نے بی بی سی کو بتایا ’لڑکی کے والد کا انتقال ہو چکا ہے۔ اس کا ایک بھائی ہے اور ایک رشتہ دار کا بیٹا ان کے ساتھ اس معاملے میں شامل ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ اور افراد بھی اس سازش کا حصہ تھے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’لڑکی انکر کے پیچھے پاگل ہے۔ اگر انکر اغوا کے دوران یا اس کے بعد تھوڑا بھی اعتراض کرتا تو عین ممکن تھا کہ وہ لوگ اسے مار ہی ڈالتے۔