افغانستان زلزلے میں زندہ بچ جانے والے جو زندگی کی خوفناک قیمت چکا رہے ہیں

- مصنف, سکندر کرمانی
- عہدہ, بی بی سی نیوز، صوبہ پکتیکا، افغانستان
رحمت گل کا خاندان ایک سابق افغان سیاست دان کی جانب سے عطیہ کیا گیا خیمہ لگانے میں مصروف ہے۔
یہاں ایک خالی پلاٹ پر ریڈ کراس (ہلال احمر) کی جانب سے عطیہ کیے گیے خیموں کی قطار لگی ہے۔ یہ خیمے ہی اب ان لوگوں کا گھر ہیں۔
ان کے گھر ہی نہیں، اس ہفتے افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے گیان ضلع میں آنے والے طاقتور زلزلے کے مرکز کے قریب سب کچھ تباہ ہو چکا ہے۔
6.1 شدت کے زلزلے میں اب تک تقریباً ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کم از کم 1500 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ زلزلہ ایک ایسے وقت میں آیا تھا جب زیادہ تر افراد سو رہے تھے اور اسی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد بھی زیادہ ہوئی۔
رحمت گل کے خاندان کے سات افراد نیند میں ہی موت سے جا ملے۔
رحمت گل کہتے ہیں ’میں نے اپنی تین بیٹیوں اور چار نواسوں کو مرتے دیکھا، میری زندگی کا اب کوئی مقصد نہیں رہا۔۔۔ میرا دل ٹوٹ گیا ہے۔‘

لیکن ان کے کچھ خاندان کے وہ افراد جو بچ گئے ہیں، ان کو دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ اس خاندان نے زلزلے کے بعد پہلی رات موسلادھار بارش سے بھیگتے کھلے آسمان تلے گزاری۔
وہ کہتے ہیں ’ہمیں مدد کی ضرورت ہے، ہمارے پاس کچھ نہیں بچا ہے، جو کچھ بھی تھا وہ سب تباہ ہو گیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
طالبان حکومت کے ایک ترجمان کے مطابق تاحال کم از کم 1000 اموات اور 1500 زخمیوں کی تصدیق ہو چکی ہے تاہم شدید بارشوں اور امدادی کارروائیوں میں مشکلات کی وجہ سے اموات اور زخمیوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔
زلزلے نے خاص کر ان کمزور عمارتوں کو نشانہ بنایا جو پہاڑی علاقوں پر واقع تھیں اور زلزلے کے جھٹکے برداشت نہ کر سکیں۔ زلزلے کے جھٹکوں سے سینکڑوں گھر تباہ ہوئے ہیں اور بعض مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ بھی ہوئی ہے۔
صوبہ پکتیکا کا ضلع گیان سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہے۔
متاثرین کے لیے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی و مقامی خیراتی اداروں کے ساتھ ساتھ طالبان حکومت کی طرف سے امداد جاری ہے۔ رحمت گل کے خیمے کے قریب ہلال احمر، کوکنگ آئل اور کمبل سمیت ضروری اشیا کے پیکج تقسیم کر رہی ہے۔
امداد کے انتظار میں ایک بڑے ہجوم کے درمیان بیٹھے ایک شخص نے بتایا ’ہمیں ہر چیز کی ضرورت ہے، کیونکہ ہمارے پاس جو کچھ بھی تھا وہ اب مٹی تلے دب گیا ہے۔‘
گیان قصبے کے مرکز میں واقع چھوٹا بازارایک امدادی ڈپو بن گیا ہے جہاں سامان سے بھرے ٹرک آ رہے ہیں، لیکن افغانستان ایک ایسا ملک ہے جو پہلے سے ہی معاشی اور انسانی بحران سے دوچار تھا۔

گذشتہ اگست میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اوسط آمدنی میں تقریباً ایک تہائی کمی ہوئی ہے اور لاکھوں لوگوں کو بھوک کا سامنا ہے۔
سخت گیر طالبان حکومت کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد بین الاقوامی فلاحی ادارے ملک سے جا چکے ہیں۔ پچھلی حکومت کا جن وسیع ترقیاتی فنڈز پر انحصار تھا، ان میں سے زیادہ تر کو روک دیا گیا ہے۔ ملک میں سہولیات کی شدید قلت ہے۔
طالبان کی وزارت دفاع امدادی کارروائیوں کی سربراہی کر رہی ہے اور زلزلے کے بعد حکومت نے عالمی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں طبی کارکنان اور ضروری سامان بھیج رہے ہیں اور پڑوسی ملک پاکستان میں موجود فلاحی ادارے بھی معاونت کر رہے ہیں۔
انسانی امداد کا سلسلہ جاری تو ہے لیکن پکتیکا اور خوست میں اب سینکڑوں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔
کئی زخمیوں کا علاج ابھی تک باقی ہے۔ ہیلو ٹرسٹ نامی فلاحی تنظیم جو بارودی سرنگیں صاف کرنے کا کام کرتی ہے، اب انھوں نے موبائل ہیلتھ کلینک قائم کر لیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ایک خیمے میں بیٹھے ڈاکٹر نقیب اللہ بچوں کو چیک کر رہے ہیں۔ ان کے خیمے کے باہر انھیں دکھانے کے منتظر زخمی بچوں کی لمبی قطار ہے۔
پانچ سالہ برکت اللہ کا بازو چھت گرنے سے زخمی ہو گیا تھا۔ نقیب اللہ نے پہلے برکت کے بازو کے گرد لپٹی پٹیوں کو چیک کیا اور انھیں اسی حالت میں چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’بہت سے بچے زخمی ہوئے ہیں۔ کچھ مریضوں کو فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کابل لے جانا پڑتا ہے۔ شہر ان گاؤں سے کم از کم تین گھنٹے کی مسافت پر ہیں اور زیادہ تر سڑکیں کچی اور خراب حالت میں ہیں۔‘
زرما گل کے پاؤں میں چوٹ آئی ہے جس کا علاج کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے ہمیں اپنا گھر دکھایا جو سڑک کے نیچے دبا ہوا ملبے کا ایک ڈھیر ہے۔
جب زلزلہ آیا تو انھیں بہت مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔۔۔ کہ اپنے خاندان میں سے پہلے کس کو بچایا جائے؟

زرما گل بتاتے ہیں ’جب چھت اور دیواریں گریں تو میں نے اپنی بیوی کو پکارتے ہوئے سنا کہ ’میری مدد کرو‘ لیکن میری بیٹی بھی کمرے میں تھی اور میں نے پہلے اسے باہر نکالا۔‘
اس کے بعد وہ اپنے دوسرے بچوں کو بچانے کے لیے دوسرے کمرے میں چلے گئے اور جب تک واپس آئے، ان کی بیوی مر چکی تھی۔
برسوں کی جنگوں سے تھکے ہوئے لوگ۔۔۔ جو پہلے ہی تباہ حال معیشت میں بمشکل جی رہے تھے۔۔۔ اب انھیں ایک نئے بحران کا سامنا ہے۔












