افغانستان میں زلزلہ: ’میں نے زلزلے میں اپنے خاندان کے 19 افراد گنوا دیے‘

،تصویر کا ذریعہGayan Comprehensive Health Center
- مصنف, علی حمدانی
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
’میں نے زلزلے میں خاندان کے 19 افردا گنوا دیے۔ میں بات نہیں کر سکتی میرا دل بہت کمزور ہو گیا ہے۔‘
افغانستان میں آنے والے 6.1 شدت کے زلزلے میں اب تک تقریباً ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کم از کم 1500 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
صوبہ پکتیکا کے ہسپتال میں زیر علاج ایک خاتون بی بی حوا نے بتایا کہ ’مرنے والے افراد میں سے سات ایک کمرے میں، پانچ دوسرے میں جبکہ چار ایک اور کمرے میں تھے اور تین ایک اور میں۔۔۔ میرے خاندان کے سب افراد مارے گئے۔‘
زلزلے میں زندہ بچ جانے والے ایک اور زخمی شبیر نے بتایا کہ ’ایک آواز آئی اور میرا بستر ہلنے لگا، چھت گر گئی اور میں اندر پھنس گیا لیکن مجھے آسمان دکھائی دے رہا تھا۔ میرا کندھا اتر گیا، میرے سر پر چھوٹ لگی لیکن میں باہر نکل آیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ میرے خاندان کے سات یا نو افراد اسی کمرے میں تھے جہاں میں تھا، وہ سب مر گئے ہیں۔‘
6.1 کی شدت والا یہ زلزلہ دو دہائیوں میں افغانستان کا بدترین زلزلہ ہے۔ منگل کی صبح یہ ملک کے مشرقی حصے میں جانی و مالی نقصان کا باعث بنا۔
طالبان حکومت کے ایک ترجمان کے مطابق تاحال کم از کم 1000 اموات اور 1500 زخمیوں کی تصدیق ہو چکی ہے تاہم شدید بارشوں اور امدادی کارروائیوں میں مشکلات کی وجہ سے اموات اور زخمیوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔
زلزلے نے خاص کر ان کمزور عمارتوں کو نشانہ بنایا جو پہاڑی علاقوں پر واقع تھیں اور زلزلے کے جھٹکے برداشت نہ کر سکیں۔ زلزلے کے جھٹکوں سے سینکڑوں گھر تباہ ہوئے ہیں اور بعض مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ بھی ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صوبہ پکتیکا کا ضلع گیان سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہے۔ خدشہ ہے کہ یہاں کئی لوگ تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
دو برس قبل بین الاقوامی فلاحی تنظیموں نے ادھر ایک کلینک قائم کیا تھا۔ اس کا مقصد معمولی امراض سے نمٹنا تھا اور بہتر طبی امداد کے لیے مریضوں کو بڑے شہروں کے ہسپتالوں کی طرف بھیجنا تھا۔ یہاں حادثات اور ایمرجنسی کے لیے کوئی الگ انتظامات نہیں۔
اس کلینک میں کام کرنے والے محمد گل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس کلینک میں صرف پانچ بستر ہیں اور منگل کو آنے والے زلزلے کے بعد یہاں علاج کی ناکافی سہولیات ہیں۔‘
’کلینک کے تمام کمرے تباہ ہو چکے ہیں، ہمارے کلینک پر صبح سے پانچ سو مریض آچکے ہیں۔ ان میں سے دو سو کی موت ہوئی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGayan Comprehensive Health Center
محمد گل بتاتے ہیں کہ پکتیکا صوبے کے ایک دیہی ضلع میں ہیلی کاپٹر کی مدد سے گنے چنے مریضوں کو ریسکیو کیا گیا تاکہ ان کا علاج دوسرے شہروں میں ہو سکے جبکہ دو ڈاکٹر ایک عارضی آؤٹ ڈور کلینک میں ان مریضوں کا علاج کر رہے ہیں جن کے پاس اور کوئی راستہ نہیں بچا۔
اس کلینک میں موجود جنریٹر، جو اب بجلی کا واحد ذریعہ ہے کے لیے محدود ایندھن ہے اور تاحال دیگر صوبوں کے حکام نے جو وعدے کیے وہ پورے نہیں ہو سکے۔ دریں اثنا زلزلے کے باعث اموات اور زخمیوں کی آمد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
محمد گل بتاتے ہیں کہ ’درجنوں لوگوں کو طبی امداد کی ضرورت ہے۔ میرا نہیں خیال وہ ایک اور رات زندہ بچ پائیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGayan Comprehensive Health Center
یاد رہے کہ سخت گیر طالبان حکومت کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد بین الاقوامی فلاحی ادارے ملک سے جا چکے ہیں۔ ملک میں صحت کا نظام کارکنان اور سہولیات کی شدید قلت سے دوچار ہے۔
طالبان کی وزارت دفاع امدادی کارروائیوں کی سربراہی کر رہی ہے اور زلزلے کے بعد حکومت نے عالمی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں طبی کارکنان اور ضروری سامان بھیج رہے ہیں اور پڑوسی ملک پاکستان میں موجود فلاحی ادارے بھی معاونت کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم افغانستان میں مغرب کی حمایت یافتہ حکومت جانے اور طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اکثر ممالک نے افغانستان سے تعلق منقطع کر لیے تھے جبکہ اس کے بینکاری کے شعبے پر پابندیاں لگائی گئی تھیں جس سے شدید معاشی بحران پیدا ہوا۔
سینیئر طالبان رہنما عبدالقہار بلخی نے کہا ہے کہ ’حکومت کو بدقسمتی سے پابندیوں کا سامنا ہے۔ تو اس لیے وہ ضرورت کے تحت لوگوں کی مالیاتی امداد نہیں کر پا رہی۔‘
’بین الاقوامی امدادی ادارے، ہمسایہ ممالک، علاقائی ممالک اور دنیا بھر کے ملکوں نے مدد کی پیشکش کی ہے اور ہم اس کی قدر کرتے ہیں اور اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اس امداد کو بڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ زلزلے سے بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGayan Comprehensive Health Center
قریبی ضلعے کے ایک امدادی کارکن نے بی بی سی کو بتایا کہ جب منگل کو طالبان کے قائم مقام ضلعی گورنر نے گیان کا دورہ کیا تو لوگوں نے بلند آواز میں ان کے خلاف نعرے بازی کی اور ان سے کہا کہ یہاں سے چلے جائیں۔
یہ کارکن زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں کے لیے آیا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کابل میں طالبان رہنماؤں نے مزید مدد اور وسائل بھیجنے کا وعدہ کیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’طالبان میں اتنی صلاحیت نہیں کہ اس تباہی سے نمٹ سکیں۔ یہاں کوئی نظام رائج نہیں۔ اور ہمیں بین الاقوامی مدد کی بھی امید نہیں کرنی چاہیے۔ دنیا افغانستان کو بھول چکی ہے۔‘
طالبان کی آمد سے قبل بھی ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے امدادی اداروں کے پاس محدود صلاحیت تھی۔ ان کے پاس کچھ طیارے اور ہیلی کاپٹر موجود تھے۔
پکتیکا کے طبی حکام کے مطابق علاقے میں درد کش ادویات اور اینٹی بایوٹکس کی شدید قلت ہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGayan Comprehensive Health Center
گیان کے عارضی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کا تعلق قریبی شہر غزنی سے ہے اور وہ رضاکارانہ طور پر یہاں مدد فراہم کرنے آئے ہیں۔ جب وہ ادھر آئے تو لوگوں نے انھیں گھیر لیا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ایک جوان باپ چھاتی کے فریکچر سے متاثر ہیں۔ ’وہ روتے ہوئے اپنے خاندان والوں کو پکار رہے تھے۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ اگر وہ زندہ نہیں تو مجھے مرنے دو۔‘
اس ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مریض مرد ہیں جبکہ ملبے تلے دبی خواتین اور بچوں کا تباہ حال عمارتوں سے نکلنا مشکل لگتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ بچے اس کلینک میں بغیر والدین کے آئے جس میں ایک آٹھ سالہ لڑکا شامل ہے۔
’وہ لوگوں کی منتیں کر رہا تھا کہ کوئی اس کے والدین اور بہن بھائیوں کو بچا لے جو گھر پر پھنسے ہوئے ہیں۔ پھر اس نے کسی کو کہتے سنا کہ وہ مر چکے ہیں۔ وہ رونے لگا اور بے ہوش ہو گیا۔‘

،تصویر کا ذریعہGayan Comprehensive Health Center
بی بی سی کو ایسی کئی تصاویر بھیجی گئی ہیں جن میں زخمی حالت میں لوگ کلینک میں اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ علاقے میں لاشیں زمین پر پڑی ہوئی ہیں۔
فی الحال وہاں کوئی سرکاری امدادی کارکن موجود نہیں تاہم قریبی علاقوں سے لوگ پہنچ کر اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ ارگون سے آئے ایک امدادی کارکن نے عمارتوں میں پھنسے کئی لوگوں کو نکالا۔ وہ کہتے ہیں کہ صبح سے وہ 40 لاشیں نکال چکے ہیں اور اکثر نوجوان اور بچے تھے۔
جو لوگ اس تباہی سے زندہ بچنے میں کامیاب ہوئے ان کے لیے بھی مستقبل قریب مشکل دکھائی دے رہا ہے۔
ایک رضاکار ڈاکٹر نے بتایا کہ ’ہمارے پاس زخموں کو صاف کرنے کے لیے صاف پانی بھی موجودہ نہیں اور یہاں شدید گرمی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ جلد انفیکشن پھیل جائے گا۔‘
اس تحریر میں کچھ لوگوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔











