گجرات فسادات: سپریم کورٹ نے مودی کے خلاف ذکیہ جعفری کی درخواست خارج کر دی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی سپریم کورٹ نے وزیراعظم نریندر مودی کو سنہ 2002 کے گجرات فسادات کے مقدمے سے بری کیے جانے کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ان فسادات میں مارے جانے والے احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری کی درخواست خارج کر دی۔
ذکیہ جعفری نے اپنی درخواست میں سنہ 2002 کے گجرات فسادات کیس میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی سمیت 59 لوگوں کو سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کی طرف سے دی گئی ’کلین چٹ‘ کو چیلنج کیا تھا۔
گجرات فسادات انڈیا میں مذہبی تشدد کے بدترین فسادات میں سے ایک تھے۔ احسان جعفری کانگریس کے سابق رکن پارلیمان تھے جو ان فسادات کے دوران مارے جانے والوں میں شامل تھے۔
ان فسادات کا آغاز ایک ٹرین میں آگ لگنے اور اس سے 60 ہندو یاتریوں کی ہلاکت سے ہوا تھا جس کے بعد ہنگامہ آرائی کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا جس کے دوران لگ بھگ 1000 سے زائد افراد، جن میں زیادہ تر مسلمان تھے، قتل ہوئے۔
ذکیہ جعفری نے فسادات کے پیچھے ’بڑی سازش‘ کی تازہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ انھوں نے اس معاملے میں تفتیش کاروں پر بھی الزام لگایا کہ وہ سازش کرنے والوں کو ’تحفظ‘ دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ نریندر مودی سنہ 2002 میں گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے اور ان پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے ریاست میں مسلم مخالف فسادات کو روکنے کے لیے زیادہ کوشش نہیں کی۔ مودی اس الزام کی بارہا تردید کر چکے ہیں۔
تشدد کی ابتدائی تحقیقات گجرات پولیس نے کی اور اس کے بعد سنہ 2008 میں سپریم کورٹ کی طرف سے مقرر کردہ ایک آزاد خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کے ذریعے تفتیش کی گئی۔ سنہ 2012 میں تفتیش کاروں نے اپنی رپورٹ پیش کی، جس میں کہا گیا کہ فسادات کے معاملے میں نریندر مودی کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔
گلبرگ قتل عام کی انکوائری میں 63 دیگر افراد کے خلاف بھی کوئی ثبوت نہیں ملے، جن میں اعلیٰ سرکاری افسران بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اہلکاروں کے خلاف ’کوئی قابل استغاثہ ثبوت‘ نہیں ملے۔
ذکیہ جعفری نے ’بیورو کریسی کی بے عملی، پولیس کی لاپرواہی اور سازش، تشدد کو ہوا دینے والوں‘ کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
پورا معاملہ کیا ہے؟
28 فروری 2002 جب گجرات میں فسادات اپنے عروج پر تھے، دنگائیوں نے ایک ہاؤسنگ سوسائٹی پر حملہ کر کے اس میں موجود لوگوں کو مار کر جلا دیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں کانگریس پارٹی کے ایک سابق ممبر پارلیمنٹ احسان جعفری شامل تھے اور زندہ بچنے والوں میں ان کی اہلیہ ذکیہ جعفری تھیں، جنھوں نے انصاف کے لیے عدالت کا رخ کیا تھا۔
28 فروری 2002 کو جب فسادیوں نے گلبرگ سوسائٹی نامی مڈل کلاس ہاؤسنگ سوسائٹی پر حملہ کیا تو آس پاس کے بہت سے مسلم لوگوں نے اس امید پر کہ سابق ایم پی اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے انہیں بچا لیں گیں ان کے گھر میں پناہ لی تھی۔
ذکیہ جعفری نے ماضی میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے شوہر نے مودی کو، جو کہ اس وقت ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ تھے، مدد کے لیے فون کیا تھا لیکن انہیں کوئی مدد نہیں ملی۔
گلبرگ سوسائٹی قتل عام کے زندہ بچ جانے والوں کا کہنا ہے کہ جب ہجوم نے سوسائٹی پر حملہ کیا تو احسان جعفری نے اپنے دفاع میں بندوق چلائی۔ لیکن فسادیوں کی تعداد کے سامنے انکی دفاع کی کوشش ناکام رہی۔
بالآخر ان کے گھر میں چھپے 69 افراد کو فسادیوں نے قتل کر دیا اور لاشوں کو آگ لگا دی۔
یہ فسادات آزادی کے بعد کے بدترین فسادات میں سے ایک تھے۔ سنہ 2002 میں گجرات کے شہر گودھرا میں ایک ٹرین میں آگ لگنے سے 60 ہندوؤں کی ہلاکت کے بعد یہ فسادات شروع ہوئے تھے جس میں 1000 سے زائد افراد، جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ٹرین میں آگ لگانے کا الزام مسلمانوں پر لگایا گیا اور ہندو ہجوم نے اس کے بعد ہونے والے تشدد میں کم از کم تین دن تک گجرات کے قصبوں اور گاؤں میں مسلمان محلوں میں فسادات کیے۔
مودی نے فسادات سے متعلق کسی بھی غلط کام کرنے سے انکار کیا ہے لیکن فسادات کے لیے کبھی بھی معافی نہیں مانگی۔
ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے حملے کے تین ہفتے بعد عینی شاہدین کا انٹرویو کیا۔
ان میں سے ایک نے بتایا کہ جعفری کے گھر میں چھپے لوگوں نے حملہ آوروں سے پتھروں سے لڑنے کی کوشش کی لیکن حملہ آوروں کی تعداد زیادہ تھی اور مسلح ہونے کی وجہ سے وہ چھپے ہوئے لوگوں پر آسانی سے قابو پا گئے۔
انھوں نے ایچ آر ڈبلیو کو بتایا کہ '3:30 بجے انھوں نے لوگوں کو کاٹنا شروع کر دیا اور 4:30 بجے تک پورا معاملہ ختم ہو چکا تھا۔ احسان جعفری کو بھی مار دیا۔ انھوں نے دروازہ بند کر رکھا تھا لیکن دروازہ ٹوڑ دیا گیا۔‘
عینی شاہدین نے کہا، 'انھوں نے جعفری کو باہر کھیچ کر نکالا اور پیشانی پر مارا، پھر پیٹ پر، پھر ان کی ٹانگوں پر تلوار سے وار کیا۔ اس کے بعد وہ انہیں سڑک پر لے گئے، مٹی کا تیل ڈالا اور جلا دیا۔ وہاں پولیس موجود نہیں تھی۔ اگر وہ وہاں ہوتے تو ایسا نہ ہوتا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'لاشوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ میں نے انہیں (اپنے خاندان والوں کو) ان کے کپڑوں کے حصوں سے پہچانا۔ انھوں نے پہلے انہیں کاٹا اور پھر جلا دیا۔ دیگر لڑکیوں کی عصمت دری کی گئی، کاٹا گیا اور جلا دیا گیا۔ پہلے انھوں نے ان کے زیورات لیے، میں اوپر سے دیکھ رہا تھا۔ میں نے یہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اگر میں باہر آتا تو مجھے بھی مار دیا جاتا۔ چار پانچ لڑکیوں کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا۔ دو شادی شدہ خواتین کا بھی ریپ کیا گیا اور انہیں کاٹ دیا گیا۔‘
ایس آئی ٹی رپورٹ نے مودی کو کلین چٹ دے دی

،تصویر کا ذریعہAFP
ان فسادات میں ذکیہ جعفری بچ گئیں اور انھوں نے 2006 میں گجرات کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کے سامنے شکایت درج کرائی جس میں انڈین پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے اندراج کا مطالبہ کیا۔ ان کی شکایت میں مختلف سرکاری افسر اور بشمول نریندر مودی کئ سیاست داں نامزد تھے۔ مودی اس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔
2008 میں سپریم کورٹ نے فسادات کے سلسلے میں جاری معتدد ٹرائلز پر رپورٹ پیش کرنے کے لیے ایک ایس آئی ٹی کا تقرر کیا اور بعد ازاں ایس آئی ٹی کو ذکیہ جعفری کی طرف سے دائر شکایت کی تحقیقات کا حکم بھی دیا۔
خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے 8 فروری 2012 کو ایک حتمی رپورٹ جمع کروائی تھی۔ ایس آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں نریندر مودی سمیت 59 لوگوں کو یہ کہتے ہوئے کلین چٹ دے دی تھی کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کا کوئی ثبوت نہیں۔
اس کے ساتھ ہی ذیلی عدالت نے بھی ایس آئی ٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر انھیں کلین چٹ دے دی تھی۔
2013 میں ذکیہ جعفری نے 'کلوزر رپورٹ' کی مخالفت کرتے ہوئے عرضی داخل کی۔
تاہم مجسٹریٹ نے ایس آئی ٹی کی رپورٹ کو برقرار رکھا اور جعفری کی عرضی کو خارج کر دیا۔
پھر ذکیہ جعفری نے گجرات ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس نے 2017 میں مجسٹریٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا اور جعفری کی درخواست کو خارج کر دیا۔
ذکیہ جعفری نے اس کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔
سپریم کورٹ کے تین ججز کے بنچ نے ذکیہ جعفری، تحقیقاتی ٹیم اور دیگر کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد دسمبر 2021 میں کیس میں فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
سپریم کورٹ کی سماعت کے دوران ذکیہ جعفری کے وکیل کپل سبل نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی ٹی نے دستیاب تمام مواد کی جانچ نہیں کی اور اس کی تحقیقات میں تعصب ظاہر ہے۔ انھوں نے دلیل دی کہ ریاست نے نفرت پھیلانے میں مدد کی تھی۔
دوسری جانب ریاستی حکومت کی طرف سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے دعویٰ کیا کہ ریاست نے 'وہ سب کچھ کیا جو وہ کر سکتی تھی۔‘
جمعے کو عدالت نے کیس میں تفتیش کاروں کی طرف سے دائر کی گئی حمتی رپورٹ کو قبول کرتے ہوئے سنہ 2013 کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
عدالت نے ذکیہ جعفری کی درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ یہ میرٹ پر نہیں۔
عدالت نے ان کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے ایس آئی ٹی کے ممبران کی بہترین کارکردگی کے لیے تعریف کی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ 'ریاست گجرات کے کچھ ناراض عہدیداروں کی دوسروں کے ساتھ مل کر ایسے انکشافات کر کے سنسنی پیدا کرنے کی کوشش کی تھی جو کہ ان کے اپنے علم میں غلط تھے۔ ایس آئی ٹی نے مکمل جانچ کے بعد ان کے دعوؤں کا جھوٹ پوری طرح سے بے نقاب کر دیا تھا۔‘
ذکیہ جعفری کی طرف سے عدالت کے اس فیصلے پر فی الحال کوئی ردعمل نہیں آیا ہے۔













