دہلی فسادات پر اقلیتی کمیشن کی رپورٹ: سنہ 1931 کے کانپور فسادات سے سنہ 2020 کے دہلی فسادات تک، 89 برسوں میں کچھ نہیں بدلا؟

خوفزدہ مسلم خواتین

،تصویر کا ذریعہMANSI THAPLIYAL

    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

آج سے لگ بھگ 89 برس قبل یعنی 24 مارچ سنہ 1931 کو انڈیا کے معروف شہر کانپور میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوئے جو کئی دنوں تک جاری رہے۔

رواں برس 23 فروری کو انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کے گنجان آباد شمال مشرقی علاقے میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکے اور کانپور فسادات کی طرح یہ بھی کئی روز تک جاری رہے۔

یہ محض اتفاق نہیں کہ ہندوستان نے آزادی تو حاصل کر لی لیکن 89 سال بعد بھی انڈیا کا مزاج نہ بدل سکا۔

89 برس قبل اُس وقت انگریز حکومت سے آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والی آل انڈیا کانگریس پارٹی نے ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی جس نے بڑے پیمانے پر لوگوں کی شہادتیں ریکارڈ کرنے کے بعد اُسی سال رپورٹ پیش کی لیکن اس کی اشاعت میں تاخیر ہوئی کیونکہ چھ رکنی تحقیقاتی کمیٹی کے بیشتر ارکان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ لیکن پھر بھی یہ رپورٹ سنہ 1933 میں شائع ہو گئی۔

رواں سال دہلی میں ہونے والے فسادات میں دہلی اقلیتی کمیشن نے نو مارچ کو ایک دس رکنی کمیٹی تشکیل دی جو بعد میں نو رکنی رہ گئی اور کورونا کی وبا سے حفاظت کے لیے 24 مارچ سے ملک بھر میں نافذ سخت لاک ڈاؤن کے سبب سست روی کا شکار ہونے کے باوجود 27 جون کو کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کر دی۔

یہ بھی پڑھیے

اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام نے بی بی سی کو بتایا کہ اشاعت کے بعد اس رپورٹ کو 16 جولائی کو ریلیز کر دیا گیا ہے جس میں ایک باضابطہ تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کے مطالبے کے ساتھ ساتھ چند دیگر سفارشات بھی شامل ہیں۔

کانپور فسادات کے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کو نیشنل بک ٹرسٹ نے معروف تاریخ داں بپن چندر کے چیئرمین رہتے ہوئے تلخیص کے ساتھ سنہ 2006 میں از سر نو شائع کیا تھا۔

دہلی فسادات کی رپورٹ کی
،تصویر کا کیپشنرواں سال دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کی رپورٹ 16 جولائی کو پیش کی گئی

کانگریس رہنما بھگوان داس ٹنڈن نے سنہ 1931 میں لکھا کہ ’کانپور فسادات تو اس ناسور کا شدید ترین مظاہرہ تھا جو گذشتہ دس بارہ برسوں سے بہت تیزی سے پنپ رہا تھا، جس کے جراثیم ہندوستان کی سیاست نے کم سے کم چند نسل پہلے چھوڑے تھے۔‘

دہلی فسادات پر تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے دیباچے میں لکھا گیا ہے کہ ’دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں 23 فروری 2020 کو جو پرتشدد واقعات ہوئے اور کئی دنوں تک بلا روک ٹوک جاری رہے وہ بظاہر ایک فرقہ کو، جنھوں نے ایک امتیازی قانون (سی اے اے) کی مخالفت کی تھی، باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ سبق سکھانے کے لیے کیے گئے تھے۔‘

خیال رہے کہ انڈیا میں شہریت کا ترمیمی قانون 2019 انڈیا کے تین پڑوسی ممالک پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے غیر قانونی طور پر انڈیا آنے والی چھ مذہبی اقلیتی برادریوں (ہندو، بدھ، جین، سکھ، پارسی اور مسیحی) کو شہریت دینے کی بات کرتا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس میں مسلمانوں کا شامل نہ کیا جانا جانبداری کا مظہر ہے اور یہ کہ تین ممالک کو ہی شامل کیا جانا غیر منطقی ہے۔

حکومت کا موقف ہے کہ یہ قانون شہریت دینے کے لیے ہے نہ کے لینے کے لیے، لیکن پیر 13 جنوری 2020 کو حزب اختلاف کی اہم جماعت کانگریس کی قیادت میں پارلیمان کے احاطے میں مختلف پارٹیوں کی میٹنگ میں یہ قرارداد منظور کی گئی کہ 'سی اے اے، این آر سی، اور این پی آر ایک غیر قانونی پیکج ہے جو بطور خاص غریبوں، پسماندہ طبقوں، دلتوں، لسانی اور مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بناتا ہے اور این پی آر ہی این سی آر کی بنیاد ہے۔‘

یہاں کانپور کے فسادات سے ایک دو اور باتیں یکساں نظر آتی ہیں۔ یہاں بھی ’آزادی‘ کا ذکر ہے اور یہاں بھی 'غداری' کے چارجز ہیں، ہر چند کہ یہ چارجز اقلیتی امور کے اس وقت کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے متعلق ہیں جس میں انھوں نے کویت کی حکومت کا مسلمانوں کے حال کا نوٹس لینے کے لیے شکریہ ادا کیا تھا۔

کپل مشرا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کپل مشرا کے بیان کے بعد ہی فرقہ وارانہ فسادات کی آگ بھڑک اٹھی

رواں سال فروری کے آخری ہفتے کے دوران دہلی میں ہونے والے فسادات کے نتیجے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 53 افراد کی ہلاکت ہوئی اور کم از کم ڈھائی سو افراد زخمی ہوئے، املاک کے نقصانات کروڑوں میں ہیں۔ مرنے والوں میں زیادہ تر یعنی تین چوتھائی تعداد اقلیتی برادری یعنی مسلمانوں کی ہے۔

اس رپورٹ کے بارے میں بی بی سی نے جب اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی سے رجوع کیا تو انھوں اس رپورٹ کی بہت سی باتوں کو مسترد کر دیا تاہم انھوں نے بی جے پی رہنما اور رکن پارلیمان انوراگ ٹھاکر اور پرویش ورما کے دہلی اسمبلی کی انتخابی مہم کے دوران کی جانے والی تقاریر کو غلط کہا۔

بی جے پی کے رکن پارلیمان پرویش ورما نے 28 جنوری کو ایک نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’لاکھوں لوگ وہاں (شاہین باغ) جمع ہیں۔ دہلی کے عوام کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا پڑے گا۔ وہ آپ کے گھروں میں گھس جائیں گے، آپ کی بہنوں اور بیٹیوں کا ریپ کریں گے، انھیں ماریں گے۔ آج وقت ہے، مودی جی اور امیت شاہ کل آپ کو بچانے نہیں آئیں گے۔‘

اسی دوران 20 جنوری کو ایک ریلی میں بی جے پی کے انوراگ ٹھاکر نے لوگوں سے پوچھا ’دیش کے غداروں کو‘ جس کے جواب میں وہاں موجود ہجوم نے جواب دیا ’گولی مارو ... کو۔‘

اس کے علاوہ دہلی انتخابات میں بی جے پی کے امیدوار کپل مشرا نے 23 فروری کو کہا تھا ’جب تک امریکی صدر انڈیا کے دورے پر ہیں ہم اس وقت تک پُرامن رہیں گے لیکن اگر تین دن میں جعفر آباد اور چاند باغ کی سڑکیں خالی نہیں کی گئیں تو اس کے بعد ہم پولیس کی بھی نہیں سنیں گے، سڑکوں پر آ جائیں گے۔‘

ظفر الاسلام خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ 24 تاریخ سے ہی فسادات کے متعلق پریشان تھے اور حکام سے رابطے میں تھے۔

27 فروری کو فسادات کی آگ بجھنے کے بعد انھوں نے دو مارچ کو ان علاقوں کا دورہ کیا اور دہلی حکومت سے تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کی اپیل کی۔‘

ڈاکٹر ظفرالاسلام خان
،تصویر کا کیپشندہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کہتے ہیں کہ وہ 24 تاریخ سے ہی فسادات کے متعلق پریشان تھے اور حکام سے رابطے میں تھے

انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ تو جانتے ہی ہیں کہ دہلی میں اقتدار کے دو سرے ہیں۔ ایک حکومتِ دہلی اور ایک مرکزی حکومت کی جانب سے لیفٹیننٹ گورنر۔ جب انھوں نے ہمارے خطوط کا جواب نہیں دیا تو پھر ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ اقلیتی امور کے کمیشن کو بھی اس طرح کی کمیٹی کی تشکیل کا حق ہے اور پھر ہم نے اپنے طور پر ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی جس میں مختلف مذاہب جیسے ہندو، مسلم، سکھ، مسیحیت سے تعلق رکھنے والے اہم اور سرکردہ افراد شامل تھے۔‘

انھوں نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے تشکیل کے بارے لکھا ہے کہ ’15 دسمبر سنہ 2019 کے بعد سے سی اے اے، این آر سی کی مخالفت میں پُرامن مظاہرین کے خلاف دہلی پولیس اور غنڈوں کے ہاتھوں دہلی پریشان ہے۔‘

اقلیتی امور کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں دہلی پولیس کی غیرجانبداری پر سوال اٹھایا گیا ہے اور کہیں کہیں اسے فسادیوں کا ساتھ دینے والا، کہیں خاموش تماشائی اور کہیں اپنے کردار کے ساتھ انصاف کرنے والا بتایا گیا ہے۔

پولیس نے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے بلکہ وہ فسادات سے متعلق چارج شیٹ داخل کرنے میں مشغول ہے۔

رپورٹ میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیا گیا ہے کہ بی جے پی کے جس رہنما کپل مشرا کے اشتعال انگیز بیان کے بعد فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے پولیس نے اب تک ان کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کافی شواہد نہیں ہیں، اس لیے ایف آر درج نہیں کی گئی ہے۔

دہلی فسادات کی رپورٹ میں ہے کیا؟

دہلی اقلیتی کمیشن کی دہلی فسادات پر 134 صفحات پر مشتمل شائع رپورٹ بی بی سی کے پاس ہے جو کہ متاثرین سے ملاقات اور بات چیت کے بعد تیار کی گئی ہے۔

دہلی کے سرکردہ تعلیمی اور تحقیقی ادارے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے تاریخ میں اقلیتی امور پر پی ایچ ڈی کرنے والے ریسرچ سکالر ابھے کمار نے رپورٹ کے بارے میں بتایا کہ ’فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے چیئرمین ایم آر شمشاد صاحب نے رپورٹ میں جو کہا ہے ان میں تین چار اہم باتیں یہ ہیں کہ اس میں پولیس کا کردار ہے۔ یعنی پولیس نے متاثرین کی ایف آئی آر کو درج کرنے میں پس و پیش سے کام لیا ہے۔ ان فسادات میں جو متاثر ہوئے ہیں انھی کو ان فسادات کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، اور جو لوگ فسادات کرانے والے تھے انھیں بری بھی کیا گیا ہے، ان پر کوئی کیس درج نہیں کیا گیا ہے اور پولیس بھی ان کو بچا رہی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’شہریت کے قانون کے خلاف جو مظاہرہ کر رہے تھے اور جو فسادات کی زد میں تھے انھی کو فسادی قرار دیا گیا۔ پولیس نے انھی لوگوں کا نام چارج شیٹ میں ڈالا ہے اور میڈیا والے انھی کے پیچھے پڑے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے۔ اس سے قبل ہاشم پورہ فسادات یا پھر سکھ مخالف فسادات کے معاملے میں عدالت نے پولیس کے کردار کو جانبدارانہ قرار دیا تھا اور سزائیں بھی سنائی تھیں۔

رپورٹ کی اہم بات کا ذکر کرتے ہوئے ابھے کمار نے کہا کہ اس میں فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے چند اہم سفارشات بھی کی ہیں جس میں ہائی کورٹ کے کسی ریٹائرڈ یا موجودہ جج کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی آزاد انکوائری کیمٹی کے قیام کی بات کی گئی ہے۔ اس میں سول سوسائٹی کے رکن کے ساتھ ریٹائرڈ پولیس افسر کی شمولیت کی بات بھی کہی گئی جن کا عہدہ ڈی آئی جی سے کم نہ ہو۔

ابھے کمار نے جے این یو سے تاریخ کے شعبے میں اقلیتی امور پر پی ایچ ڈی کیا ہے

،تصویر کا ذریعہAbhay Kumar

،تصویر کا کیپشنابھے کمار: ’رپورٹ کے مطابق پولیس نے متاثرین کی ایف آئی آر کو درج کرنے میں پس و پیش سے کام لیا ہے، ان فسادات میں جو متاثر ہوئے ہیں انھی کو ان فسادات کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، اور جو لوگ فسادات کرانے والے تھے انھیں بری کیا گیا ہے‘

ابھے کمار نے بتایا کہ یہ اس لیے ضروری ہے تاکہ پولیس کے کردار کو سامنے لایا جا سکے اور جنھوں نے اشتعال انگیزی اور نفرت انگیزی کی ہے ان کے خلاف بھی کارروائی ہو۔

ابھے کمار نے رپورٹ میں لفظ ’پوگروم‘ یعنی نسل کشی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کے فسادات کو دو فرقوں کے مابین لڑائی کے طور پر دکھایا جا رہا ہے جو کہ درست نہیں ہے کیونکہ اس میں ایک فرقے کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

’میرے خیال سے شہریت کے متنازع بل کے خلاف جو سیکولر طاقتیں کھڑی ہوئی تھیں ان کا دباؤ حکومت پر بڑھتا جا رہا تھا اور حکومت نے بات چیت کے بجائے تشدد کا راستہ اختیار کیا اور طاقت کا استعمال کیا اور دہلی کا جو فساد ہے اس کے تار کہیں نہ کہیں اس معاملے سے جڑے ہوئے ہیں۔‘

رپورٹ کے متعلق بات کرتے ہوئے ظفر الاسلام خان نے بتایا کہ انھوں نے متاثرہ علاقے میں پوسٹر لگوائے اور اعلان کرایا کہ جو متاثرین ہیں وہ باہر آئیں اور اپنی شکایات ہم تک پہنچائیں۔

اس ضمن میں انھیں 400 سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں۔ انھوں نے کہا کہ پولیس نے بھی انھیں تقریباً 500 ایف آئی آر کی کاپیاں دیں لیکن انھوں نے مکمل طور پر تعاون نہیں کیا ہر چند کہ اقلیتی امور کے کمیشن کی جانب سے اس قسم کے مطالبے پر عمل کرنے کے وہ پابند ہیں۔

دہلی فسادات تصویر

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 53 افراد ہلاک ہوئے، رپورٹ میں ان کے نام اور عمریں درج ہے

بی بی سی کو جو رپورٹ ملی ہے اس میں لوگوں کے شواہد ہیں، املاک کے نقصانات کی تفاصیل ہیں، مساجد، مدارس اور مزاروں کو پہنچنے والے نقصانات کا ذکر ہے۔ میڈیا کوریج کے حوالہ جات ہیں۔

فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے چیئرمین اور سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ایم آر شمشاد نے رپورٹ کے پیش لفظ میں متاثرین میں سے ایک کی بات نقل کرتے ہوئے لکھا کہ ’دہلی پولیس کی جانب سے چارج شیٹ داخل کیے جانے سے بہت پہلے جب ہم مصطفیٰ آباد کے فساد سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے تھے تو ہم نے ایک معمر مسلم شخص سے فسادات کے بعد حالات کے بارے میں بات کی تو انھوں نے دو اشعار سنا دیے جس یہاں نقل کیا جا رہا ہے:

اسی کا شہر وہی مدعی وہی منصف

ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا (امیر قزلباش)

اور

شہر طلب کرے اگر تم سے علاج تیرگی

صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو (پیرزادہ قاسم)

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فسادات شمال مشرقی دہلی کے شیو وہار، کھجوری خاص، چاند باغ، گوکل پوری، موج پور، قراول نگر، جعفرہ آباد، مصطفی آباد، اشوک نگر، بھاگیرہ وہار، بھجن پورہ اور کردم پوری علاقوں میں ہوئے۔

رپورٹ میں سنہ 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ شمال مشرقی دہلی میں ہندوؤں کی آبادی 15 لاکھ 29 ہزار 337 یعنی 22۔68 فیصد ہے جبکہ مسلمانوں کی آبادی چھ لاکھ 57 ہزار 585 یعنی 34۔29 فیصد ہے۔

باقی مسیحی آبادی نو ہزار 123 ہے، سکھ 17 ہزار 424 ہیں، بدھ مذہب کے پیروکار دو ہزار 388 ہیں جبکہ جین مذہب کے ماننے والے 24 ہزار ہیں اور ان سب کا تناسب ایک فیصد یا اس سے کم ہے۔

خیال رہے کہ شمال مشرقی دہلی کے فسادات سے قبل دہلی میں اسمبلی انتخابات تھے اور ووٹ کو پولرائز کرنے کے لیے بی جے پی کے بہت سے اراکین نے اشتعال انگیز تقاریر کی تھیں جس کا ذکر رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

مسلم خواتین کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنان فسادات کے دوران بہت سے مسلمان گھرانوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا

رپورٹ کی ایگزیکٹو تلخیص میں کہا گیا ہے کہ جنوری اور فروری میں دائیں بازو کے ہندو گروپس اور ان کے حامیوں کی جانب سے سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو واضح طور پر دھمکانے کی کوششیں ہوئی ہیں اور کھلے ‏عام دو گولی مارنے کے واقعات ہوئے ہیں۔

30 جنوری کو دہلی پولیس کے سامنے رام بھکت گوپال نے جامعہ یونیورسٹی کے باہر گولی چلائی اور یکم فروری کو مسٹر کپل گجر شاہین باغ میں جاری مظاہرے کے مقام پر گھس آئے اور گولی چلائی۔ ان واقعات کے بعد 23 فروری کو موج پور میں کپل مشرا کی اشتعال انگیز تقریر اور جعفر آباد میں جاری مظاہرے کو طاقت کے زور پر ہٹانے کی دھمکی کے بعد شمال مشرقی دہلی میں فسادات پھوٹ پڑے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’یہ فسادات میں منصوبہ بندی کے تحت، منظم اور ٹارگٹڈ حملے ہوئے۔ حملہ آور ’ہر ہر مودی‘، ’مودی جی کاٹ دو ان ملّوں (مسلمانوں) کو‘، آج تمہیں آزادی دیں گے' جیسے نعرے لگا رہے تھے۔

شواہد میں بتایا گیا ہے حملہ آور ہجوم میں بہت سے لوگ باہر کے تھے۔ مسلمانوں کے گھروں کو لوٹا گیا اور انھیں نذر آتش کر دیا گیا۔ لوگوں کی باتوں سے لگتا ہے کہ یہ فساد فوری اشتعال کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ منصوبہ کے تحت اور منظم تھا۔

رپورٹ میں مذہبی مقامات یعنی مساجد، مدارس اور مزاروں کی بات کی گئی ہے اور اس سلسلے میں ان کے نام بھی شائع کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر تقریبا دو درجن مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا گیا اور ان میں توڑ پھوڑ اور آتشزدگی کی گئی، قرآن کی بے حرمتی کی گئی اور ان کے جلے اوراق بھی دستیاب ہوئے۔

اس رپورٹ میں یہ کہا گیا کہ فسادات کے بعد بڑی تعداد میں مسلمان اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور جو ریلیف کیمپ میں رہ رہے تھے وہ بھی کورونا وبا کی وجہ سے نافذ لاک ڈاؤن کے سبب کیمپ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

خواتین کو نشانہ بنانے کی بات بھی اس رپورٹ میں کی گئی ہے کہ کس طرح ہجوم نے مختلف خواتین کے برقعے اور حجاب کو کھینچا۔ خواتین نے بتایا ہے کہ کس طرح مظاہرے کے مقام پر انھیں پولیس نے اور حملہ آوروں نے لاٹھیوں سے پیٹا اور ان پر تیزاب سے حملے ہوئے اور انھیں جنسی تشدد کی دھمکی دی گئی۔

رپورٹ میں یہ درج ہے کہ فلم ’غدر‘ کے مکالمے بھی سنے گئے کہ ’آج کتنی سکینائیں اٹھا لی جائیں گی۔‘ خواتین کے ساتھ زیادتیوں کی اخباروں میں شائع رپورٹس کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔

پولیس اور بھیڑ

پولیس کا کردار

اس میں پولیس کے کردار پر سوال اٹھایا گیا ہے کہ ان کے سامنے واقعات رونما ہوتے رہے اور انھوں اسے روکنے کے لیے کارروائی نہیں کی یا انھیں بعض علاقون سے بار بار بلایا گیا لیکن وہ وہاں نہیں پہنچی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شواہد میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے کارروائی نہ کرنے کی وجہ بھی یہ کہتے ہوئے نہیں بتائی کہ انھیں اس کا حکم نہیں ہے۔

رپورٹ میں ہندی روز نامے ’دینک بھاسکر‘ کی ایک رپورٹ کو نقل کیا گیا ہے جس میں ایک سینٹرل ریزرو پولیس کا جوان کہتا ہے کہ ’ایسی لاچاری میں ہم کیا کریں۔ ہمیں نہیں پتا کہ ہمیں یہاں کیوں تعینات کیا گیا ہے۔ ہمیں کچھ بھی کرنے کا حکم نہیں ہے۔ اگر ہمیں حکم ہوتا تو ان فسادی لڑکوں کو ہم دس منٹ میں سیدھا کر کے گھر بھیج دیتے۔‘

رپورٹ اور پولیس کے کردار پر ہم نے مہاراشٹر کیڈر کے مستعفی آئی پی ایس عبدالرحمان سے فون پر بات کی تو انھوں نے کہا ’اس رپورٹ کی اکیڈمک ویلو ہے، اس کی قانونی اہمیت نہیں ہے۔ اگر یہ کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت ہوتی تو اس کی کچھ اہمیت ہوتی تاہم حکومت اس پر بھی عمل کرنے کی پابند نہیں تھی۔‘

عبدالرحمان آئی پی ایس

،تصویر کا ذریعہTwitter/Abdur Rahman IPS

،تصویر کا کیپشنعبدالرحمان آئی پی ایس مہاراشٹر کیڈر سے تعلق رکھتے ہیں اور انھوں نے سی اے اے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے استعفی دے دیا ہے

یہ بات ڈاکٹر ظفرالاسلام نے کہی کہ ہم نے اپنی رپورٹ میں جو مشورے دیے ہیں اس میں کمیشن آف لا کے تحت ایک تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کی بات کی گئی ہے۔ اب حکومت اسے مانے یا نہ مانے یا اس میں سے کتنی بات مانے یہ حکومت پر منحصر ہے۔

سویڈن میں ’پیس اینڈ کنفلکٹ ریسرچ‘ کے شعبے میں پروفیسر اشوک سوائیں نے کہا کہ ’موجودہ بی جے پی حکومت کو دیکھتے ہوئے اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ اس پر کوئی عمل ہو گا یا اسے سنجیدگی سے لیا جائے گا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ یہ رپورٹ اکثریتی برادری میں ان کے حامیوں کے درمیان ان کے کریڈینشیلز کو بڑھاتی ہے۔

اس کے متعلق ظفرالاسلام خان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کو عالمی سطح پر مثبت انداز میں لیا گیا اور اگر رپورٹ نہ بھی آتی تو ان کے حلقے میں تو اس طرح کی باتیں ہوتی ہی رہتیں کہ ’دیکھو سبق سکھا دیا۔‘ یہی سبق سکھانے کی بات دوسرے لوگوں نے بھی کہی ہے اور نعروں سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے۔

پولیس کے کردار پر بات کرتے ہوئے آئی پی ایس عبدالرحمان نے کہا کہ ’پولیس کو اپنا فرض نبھانا چاہیے تھا۔ اسے بھیڑ کا حصہ نہیں بننا چاہیے تھا۔ پولیس کو پتا ہے کہ مرکز میں کس کی حکومت ہے لیکن اسے انڈیا کے آئین یا پولیس مینوئل کے تحت کام کرنا چاہیے تھا نہ کہ کسی کہ جانبداری کا مظاہر کرنا چاہیے تھا۔‘

مسلم نوجوان

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنفساد کرنے والوں کے نرغے میں ایک مسلمان دہلی فسادات کا جہرہ بن گئی

انھوں نے کہا کہ دہلی پولیس کے رویے پہلے ہی جانبدارانہ رہے ہیں۔ ’ایک جانب اگر دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں وہ طلبہ کے خلاف زیادہ قوت کا استعمال کرتی ہے وہیں جے این یو میں وہ خاموش تماشائی بنی رہتی ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ وہاں تشدد کرنے والے کس مکتبۂ فکر سے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اب جبکہ رپورٹ سامنے آئی ہے تو مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے کیونکہ دہلی پولیس ان کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔

لیکن اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اس طرح کی رپورٹس پہلے بھی آتی رہی ہیں، چاہے وہ بھیونڈی کے فسادات ہوں یا پھر احمد آباد کے فسادات، لیکن ان کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا ہے۔

ابھے کمار نے بتایا کہ ’اس کے دونوں پہلو ہیں۔ منفی پہلو یہ ہے کہ رپورٹس کو دبا دیا جاتا ہے، اس پر کوئی عمل نہیں ہوتا ہے، حکومت ان پر زیادہ توجہ نہیں دیتی ہے۔‘

ایک پولیس افسر وبھوتی نارائن رائے نے بھی اپنی کتاب میں اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ کس طرح سے کمیشن کی رپورٹس دبی رہ جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر رپورٹس پر عمل بھی کیا جاتا ہے تو پولیس کے بڑے افسران کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی ہے اور اگر کچھ ہوتا بھی ہے تو نچلی سطح کے پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہوتا ہے۔‘

’اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ (دیسی) میڈیا کے تمام پراپیگنڈے کے باوجود بھی غریب مظلوم کی جانب سے حقائق کو کم از کم منظر عام پر رکھ دیا گیا ہے۔ اور تاریخ میں یہ بات درج ہو گئی ہے کہ کیا حقیقت ہے اور کیا فسانہ ہے۔ میں تو یہی کہوں کا کہ اس رپورٹ کو سنجیدگی سے لیں اور جو ناانصافیاں ہوئی ہین اس کا تدارک کیا جائے۔‘

انھوں نے فسادات کے دوران دہلی حکومت اور بطور خاص اروند کیجریوال کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا ’ہمیں پتا ہے کہ جب دہلی کے فسادات ہوئے تو کیجریوال صاحب کو انتخابات میں سیکولر جماعت کی زبردست حمایت ملی تھی اور لوگوں کا خیال تھا کہ فسادات کے دوران وہ بڑے لیڈر کے طور پر سامنے آئیں گے لیکن وہ وہاں خاموش رہے اور انھیں لگا کہ زیادہ بولنے سے ان کا ووٹ بینک ختم ہو جائے گا۔‘

آگے کا راستہ

رپورٹ میں چند باتوں کی جانب اقلیتی کمیشن کی توجہ مبذول کی گئی تو کچھ سفارشات دہلی اور مرکزی حکومت سے کی گئی ہیں۔

ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کا کہنا ہے کہ انھوں نے رپورٹ حکومت کو اور مختلف اداروں کو بھیج دی ہے اور اب فیصلہ انھیں کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ متاثرین کو انصاف ملے، معاوضہ ملے اور ہرجانے ادا کیے جائیں اور مستقبل میں ایسا نہ ہو پائے اس حوالے سے اقدام کیے جائیں۔

معاوضے کے متعلق انھوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اس میں بہت فرق دیکھا گیا ہے۔ ’جو سرکاری افراد ہلاک ہوئے ہیں ان کے لیے تو ایک کروڑ روپے ہرجانے کا اعلان ہوا لیکن عام عوام کی موت پر ان کے اہلخانہ کو محض دس لاکھ دیے جانے کی بات کہی گئی ہے۔‘

عبدالرحمان کہتے ہیں کہ انھوں نے کانگریس کے دور میں قائم کردہ ’سچر کمیٹی‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں یہ سفارش کی گئی تھی کہ نہ صرف پولیس متنوع ہو بلکہ ہندوستان کی مختلف برادریوں کی خاطر خواہ نمائندگی بھی ہو تاکہ اس قسم کے واقعات میں کمی لائی جا سکے۔

پولیس کی گشت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس کے متعلق ریسرچ سکالر ابھے کمار کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں پولیس، انتظامیہ اور سیاسی رہنماؤں پر انگلی اٹھائی گئی ہے۔ ’میرے خیال سے متاثرین کو انصاف ملنا چاہیے جن لیڈروں نے اشتعال انگیزی کی ہے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور پولیس ریفارم کی ضرورت ہے جو کہ ایک لمبی بات ہے کہ پولیس کو کس طرح جمہوری طور پر ذمہ دار بنایا جائے۔‘

’پرکاش سنگھ صاحب جیسے لوگ جو پولیس میں اصلاح کی بات کرتے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ پولیس میں جو محروم اور محکوم طبقہ ہے اس کی نمائندگی بہت زیادہ نہیں ہے۔ میں نے جو مطالعہ کیا ہے اس میں یہ پایا ہے کہ محکمہ پولیس میں مسلمانوں کی مناسب نمائندگی نہیں ہے۔‘

اشوک سوائیں کی طرح ابھے کمار نے بھی نئی حکومت یعنی بی جے پی کی حکومت پر اس رپورٹ کو سنجیدگی سے لینے کے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے یہاں تک کہا کہ گذشتہ دنوں یہ خبر آئی تھی کہ اس سے قبل فسادات پر جو تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹس پیش کی گئی تھی اس میں سے وزارت داخلہ کی ویب سائٹ سے 13 رپورٹس کو ہٹا لیا گیا ہے۔

’جب میں نے اس بابت چھان بین کی تو پتا چلا کہ دسمبر 2018 میں انڈین میڈیا میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ سنہ 1961 کے بعد سے فرقہ وارانہ فسادات سے متعلق 13 تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹس غائب ہیں اور سینٹرل انفارمیشن کمیشن نے اس سلسلے میں سیکریٹری داخلہ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان رپورٹس کے لیے ایک عہدہ دار کو تعینات کرے۔ اس کے بعد سے اس کے متعلق زیادہ معلومات نہیں ہیں۔‘

اشوک سوائیں اور ابھے کمار کا کہنا ہے کہ اس کے لیے سیکولر فورسز کے ساتھ آنے اور مستقل جدوجہد کی ضرورت ہے یعنی ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔

معروف تاریخ داں ہربنس مکھیا نے مجھے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ انڈیا میں تمام تر تاریخی شواہد کی بنیاد پر ’پہلا فساد مغل بادشاہ اورنگزیب کی وفات کے بعد اٹھارویں صدی کی دوسری دہائی میں نظر آتا ہے اور وہ بھی مودی جی کے گجرات میں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ریاستوں کے درمیان خواہ کتنی ہی معرکہ آرائیاں کیوں نہ ہوئی ہوں لیکن سماجی سطح پر امن و امان قائم تھا۔

پروفیسر مکھیا نے کہا کہ ’ہم آج تاریخ کے اس مقام پر آ گئے ہیں کہ جہاں ہر سال 500 سے زیادہ فرقہ وارانہ فساد ہو رہے ہیں جبکہ پوری اٹھارویں صدی میں صرف پانچ ایسے فسادات کے شواہد ملتے ہیں جو تاریخی اعتبار سے اس کی تعریف پر پورے اترتے ہیں۔‘