افغانستان میں زلزلہ: طالبان کا ریسکیو آپریشن ’تقریباً مکمل‘، پاکستان نے سرحدی راستے کھول دیے

افغانستان میں زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں جہاں کم از کم ایک ہزار اموات ہوئی ہیں تاہم افغان طالبان کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق افغان طالبان کی فوج کے ترجمان محمد اسماعیل معاویہ کا کہنا ہے کہ ’ریسکیو آپریشن ختم ہو گیا ہے۔ کوئی بھی ملبے تلے نہیں دبا ہوا۔‘ جبکہ قدرتی آفات سے نمٹنے کی وزارت کے ترجمان محمد نسیم حقانی نے کہا ہے کہ بڑے ضلعوں میں ریسکیو آپریشن ختم ہوگیا ہے تاہم دوردراز علاقوں میں جاری ہے۔

اقوام متحدہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ طالبان کی وزارت دفاع کے مطابق 90 فیصد سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مکمل ہوگیا ہے۔

ادھر پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان، خاص کر خوراک اور ادویات، پہنچانے کا عمل جاری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے ہیلی کاپٹر، ایمبولینس اور ریسکیو ٹیمیں متاثرین کی مدد کر رہی ہیں۔‘

انھوں نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ دو سرحدی گزر گاہیں انگور اڈہ اور غلام خان کو کھول دیا گیا ہے تاکہ زخمیوں کو پاکستان کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جاسکے۔

اب تک ملک میں زلزلے اور شدید بارشوں کے باعث ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سہولیات کی کمی اور دشوار گزار علاقوں کے باعث ریسکیو عملے کو امدادی کارروائیوں میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔

’زلزلے سے متعدد بچے ہلاک ہوئے‘

افغانستان میں ڈاکٹروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بدھ کو آنے والے زلزلے میں متعدد بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس چھ اعشاریہ ایک شدت کے زلزلے کے باعث لاتعداد افراد ملبے تلے دفن ہو گئے جو اکثر کچے مکانوں میں رہائش پذیر تھے۔

افغانستان میں تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں ایک ہزار اموات کے بعد طالبان نے بین الاقوامی مدد کی اپیل کی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق منگل کی شب آنے والے زلزلے سے 1000 افراد ہلاک اور 1500 زخمی ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 'ہم اس علاقے تک نہیں پہنچ پا رہے، یہاں نیٹ ورک بہت کمزور ہیں۔'

واضح رہے کہ افغانستان کا صوبہ پکتیکا منگل اور بدھ کی درمیانی سب آنے والے زلزلے سے شدید متاثر ہوا تھا اور زلزلے کے بعد سے اب تک متعدد افراد مٹی سے بنے مکانات کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ سمیت دیگر فلاحی اداروں کی جانب سے زلزلے سے بری طرح متاثر ہونے والے پکتیکا صوبے میں ایمرجنسی شیلٹر اور کھانے سے متعلق امداد فراہم کی ہے۔افغانستان میں صحت کا نظام اس سانحے سے پہلے بھی بری حالت میں تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عینی شاہدین اور امداد میں مدد کرنے والوں نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں کئی گاؤں مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، سڑکیں بند اور موبائل فون ٹاور کام نہیں کر رہے جب کہ اموات کی تعداد میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔

متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں اور دوردراز علاقوں میں زخمیوں اور لاشوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے تاہم ملک میں جاری موسلادھار بارشوں اور ژالہ باری سے امدادی کاموں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

دیہی مشرقی افغانستان میں سفر کرنا آسان نہیں اور ایسے میں اگر امدادی کارکن متاثرہ علاقوں میں پہچنے میں کامیاب ہو بھی گئے تو نامناسب حالات اور کم وسائل کے باعث وہ بہت سے علاقوں میں منہدم مکانات کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے اپنے ہاتھوں سے کھدائی کر رہے ہیں۔

ایک افغان شہری نے شدید زلزلے کے بعد تباہی کے مناظر اور صورتحال کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’چند ہیلی کاپٹر مدد کو پہنچے ہیں لیکن یہ واضح نہیں کہ وہ لاشیں منتقل کرنے کے علاوہ اور کیا مدد کر سکتے ہیں۔‘

ایک مقامی متاثر شخص احمد نور کا کہنا تھا کہ ’رات تقریباً ڈیڑھ بجے کے کچھ دیر بعد زلزلہ آیا، میں خوفزدہ ہو گیا تھا، میں نے اپنے دوستوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ان میں سے کچھ نے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو کھو دیا۔ چند صحیح سلامت ہیں لیکن ان کے گھر تباہ ہو گئے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کو ہر جگہ ایمبولینس کے سائرن کی آوازیں سنائی دیں گی، میں نے لوگوں سے بات کی ہے وہ بہت زیادہ پریشان اور اضطراب کا شکار ہیں۔ انھوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے۔ وہ بہت ہی بری صورتحال میں ہیں۔‘

’آپ جس گلی میں بھی جاتے ہیں وہاں لوگ اپنے پیاروں کی موت کا ماتم کرتے سنائی دیتے ہیں‘

علی حمدانی اور تھوم پول، بی بی سی نیوز

زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں موجود عینی شاہدین ایک سنگین صورتحال بیان کرتے ہیں۔ وہاں موجود ایک صحافی کا کہنا تھا کہ ’آپ جس گلی میں بھی جاتے ہیں آپ کو وہاں لوگ اپنے پیاروں کی موت کا ماتم کرتے سنائی دیتے ہیں۔‘

بی بی سی کی طرف سے دیکھی گئی ایک تصویر میں ایک تین، چار سالہ بچی مٹی و دھول میں لت پت اپنے جزوی طور پر منہدم گھر کے سامنے کھڑی ہے۔ اس کے چہرے پر پریشانی اور خوف کے آثار نمایاں ہیں اور یہ واضح نہیں کہ اس کے باقی خاندان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ بی بی سی ان کی خیریت کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

49 سالہ عالم وفا زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے پکتیکا پہنچے ہیں تاکہ وہاں پھنسے افراد کو نکال سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’سرکاری سطح پر کوئی امدادی کارکن موجود نہیں ہیں، لیکن قریبی شہروں اور دیہات کے افراد یہاں لوگوں کی مدد کو پہنچے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ وہ آج صبح ہی یہاں پہنچے ہیں اور انھوں نے خود 40 لاشوں کو اٹھایا، جن میں سے زیادہ تر بچے، بہت چھوٹے بچے تھے۔

طالبان کے سینیئر اہلکار عبد القہار بلخی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت اس وقت لوگوں کی اتنی مدد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی جتنی حالات کے مطابق درکار ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی ایجنسیاں، ہمسایہ ممالک اور عالمی طاقتیں مدد کر رہے ہیں لیکن امداد کئی گنا بڑھانے کی ضرورت ہے کیوں کہ ’اتنا تباہ کن زلزلہ گزشتہ کئی دہائیوں میں نہیں آیا۔‘

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرس نے کہا ہے کہ اس وقت ’ایجنسی مکمل طور پر امدادی سرگرمیوں کے لیے فعال ہو چکی ہے۔‘ اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے مطابق طبی ٹیمیں، سامان، خوراک اور عارضی پناہ گاہیں متاثرہ علاقوں کی جانب بھجوائے جا چکے ہیں۔

افغان عوام پہلے ہی بہت سے مصائب اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہاں غربت اس وقت عروج پر ہے اور ملک کئی دہائیوں سے تنازعات کا شکار رہا ہے۔ گذشتہ برس جب طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا تو کئی ممالک نے ترقیاتی امداد بند کر دی تھی۔

اور ایسے میں یہاں موجود کم وسائل اور کمزور سہولیات اس تباہی کا مقابلہ کرنے اور اس میں مدد فراہم کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

ضوبہ پکتیکا کے ضلع گیان کے ایک ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ’ڈاکٹر اور نرسیں خود اس زلزلے سے متاثرہ ہیں اور زخمیوں میں شامل ہیں۔ ہمارے پاس زلزلے سے پہلے ہی بہت کم لوگ اور سہولیات موجود تھی اور اب اس زلزلے نے ہمارے پاس موجود جو چند سہولیات تھی ان کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ میرے کتنے ساتھی زندہ بچے ہیں۔‘

امدادی ایجنسیاں متاثرہ افراد کی مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن مواصلات اور پانی کی فراہمی ایک چیلنج ہے اور امدادی سرگرمیوں میں مشکلات بڑھا رہی ہے۔ امدادی ادارے وہاں موجود متاثرہ افراد کے لیے خوراک، ادویات اور ہنگامی شیلٹر لانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے نمائندہ سام مورٹ کا کہنا تھا کہ ’متاثرہ اضلاع میں ہماری موبائل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ٹیمیں موجود ہیں جو زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دے رہی ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے امدادی ٹرک بھی راستے میں ہیں جن میں متاثرہ افراد کے لیے حفظان صحت کی کٹس، کمبل، خیمے اور ترپالیں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بارش کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یقیناً یہ ان کے خلاف ہے جو بھوک سے مر رہے ہیں، غریب اور بیمار ہیں اور قحط سے متاثرہ ہیں۔ یہ ایک طاقتور اور دوبارہ ابھرنے کی صلاحیت رکھنے والی آبادی نہیں۔‘

امریکی جیالوجیکل سروے کے مطابق اس زلزلے کی شدت چھ اعشاریہ ایک تھی جو زمین میں 51 کلومیٹر گہرائی پر شروع ہوا۔ واضح رہے کہ زلزلہ ایک ایسے وقت آیا جب زیادہ تر لوگ سو رہے تھے۔

افغانستان ایک ایسے خطے میں موجود ہے جہاں زمین کی تہہ میں کئی فالٹ لائنز موجود ہیں جن میں چمن فالٹ لائن، ہری رد فالٹ لائن، وسطی بدخشاں فالٹ لائن اور درواز فالٹ لائن شامل ہیں۔

اسی وجہ سے افغانستان میں زلزلوں کی وجہ سے کافی تباہی ہوتی ہے خصوصا دیہی علاقوں میں جہاں زیادہ تر مکان کمزور ہوتے ہیں۔

دوسری جانب دہائیوں سے جاری خانہ جنگی کی وجہ سے افغانستان کی حکومتوں کے لیے قدرتی آفات کا مقابلہ کرنا بھی مشکل رہا ہے حالانکہ بین الاقوامی اداروں نے گزشتہ برسوں میں کئی عمارات کو محفوظ بنانے کی کوششیں ضرور کی ہیں۔