بلوچستان میں زلزلہ: ہرنائی میں شدید تباہی، متعدد ہلاکتیں، فوج و سول انتظامیہ کی امدادی کارروائیاں جاری

پاکستان صوبہ بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب آنے والے زلزلے کے نتیجے میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے کنٹرول روم کے مطابق کم از کم 15 افراد ہلاک اور 150 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

سول انتظامیہ، فوج اور ایف سی کی جانب سے متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور زخمیوں کو فوری امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

بلوچستان کے ڈی جی ہیلتھ سروسز ڈاکٹر ناصر علی بگٹی نے فون پر بی بی سی سے کو بتایا کہ ایم ایس ہرنائی کے مطابق اب تک 200 سے زائد زخمیوں کو علاج فراہم کیا گیا ہے جبکہ نو ایسے مریض جن کی حالت تشویشناک ہے انھیں بذریعہ ہیلی کاپٹر کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔ ان میں چار خواتین، دو بچے اور تین مرد شامل ہیں۔

ابتدا میں پی ڈی ایم اے نے اس زلزلے میں 20 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی تاہم ضلعی ہیلتھ آفیسر پشین ڈاکٹر کامران اور ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے اب تک 15 ہلاکتوں کی تصدیق ہو سکی ہے جن میں آٹھ بچے، تین مرد اور چار خواتین شامل ہیں۔

نامہ نگار آسیہ انصر کے مطابق حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ہرنائی کے آس پاس کے دیگر علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں تاہم وہاں ہونے والے نقصانات کی آفیشل رپورٹس ابھی موصول نہیں ہوئیں ہیں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے بلوچستان نصیر ناصر کے مطابق زلزلے سے متاثرہ 35 افراد شدید زخمی ہیں جبکہ 160 افراد معمولی زخمی ہیں۔ ہرنائی میں سول ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر منظور نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ زلزلے کی وجہ سے پانچ بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

ہرنائی میں لیویز فورس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہرنائی شہر اور دیگر علاقوں میں زلزلے سے متعدد گھر گر گئے ہیں جہاں سے لوگوں کو نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے مقامی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ زلزلے سے 100 سے زیادہ کچے مکانات منہدم ہوئے ہیں۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر پانچ اعشاریہ نو تھی جبکہ زمین میں اس کی گہرائی پندرہ کلومیٹر تھی۔ زلزلے کا مرکز بلوچستان کے علاقے ہرنائی کے قریب تھا۔ ہرنائی اور بلوچستان کے متعدد علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب تین بج کر دو منٹ پر محسوس کیے گئے ہیں۔

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے بلوچستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقے ہرنائی میں امداد کارروائیوں کے لیے سکیورٹی فورسز کے دستے پہنچ چکے ہیں۔ متاثرہ افراد کے لیے ادویات، خوراک اور خیموں سمیت دیگر ضروری سامان پہنچا دیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجی ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس عملہ سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔ جبکہ شدید زخمی افراد کو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔

بلوچستان کے آئی جی ایف سی ہرنائی کے متاثرہ علاقے پہنچ چکے ہیں اور وہ ریسکیو آپریشن کی نگرانی کے ساتھ ساتھ زلزلے میں ہونے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جبکہ روالپنڈی سے بھی اربن ریلیف ریسکیو ٹیم کو بھی متاثرہ علاقے بھیج دیا گیا ہے۔

ہرنائی کوئٹہ شہر کے مشرق میں واقع ہے اور اس کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں بڑی تعداد میں کوئلے کی کانیں ہیں۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ زلزلے کی وجہ سے ہرنائی میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے اور ضلع میں ایمرجنسی نافذ کر کے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کو متحرک کرکے ہیوی مشینری ہرنائی کے لیے روانہ کردی گئی ہے۔

ہرنائی میں مقامی صحافی یزدانی ترین نے بتایا ہے کہ زلزلے کے جھٹکے بہت شدید تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہرنائی شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ہرنائی میں لیویز فورس کے ہیڈکوارٹر کے ایک اہلکار نے بتایا کہ زلزلے کے جھٹکے ہرنائی، شاہرگ اور دیگر علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ان کا کہنا تھا کہ متعدد علاقوں میں زلزلے سے گھروں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ بعض مقامات پر گھروں کے گرنے سے جانی نقصان ہوا ہے۔

زلزلے کی خوف کی وجہ سے لوگ گھروں سے باہر نکل گئے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔

اطلاعات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے کوئٹہ کے علاوہ مستونگ، پشین، سبی اور متعدد دیگر علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے تاہم ہرنائی کے علاوہ دیگر علاقوں سے تاحال جانی اور مالی نقصانات کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہیں۔

بلوچستان کی پارلیمانی سیکریٹری برائے صحت ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے کہا ہے ہرنائی اورکوئٹہ سمیت دیگرعلاقوں میں زلزلے کے ممکنہ نقصانات کے پیش نظر طبی ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ کوئٹہ، ہرنائی اور گرد و نواح میں نقصانات کی اطلاع کے پیش نظر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سمیت تمام مراکز صحت میں ڈاکٹرز اور عملہ ہنگامی بنیادوں پر طلب کر لیا گیا ہے۔