کیا جانوروں میں قدرتی طور پر ایسا نظام موجود ہے جو انھیں آنے والی قدرتی آفات سے آگاہ کرتا ہے؟

    • مصنف, نورمن ملر
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

سنہ 2004 میں، انڈونیشیا میں زیر سمندر 9.1 شدت کے زلزلے سے جنم لینے والے سونامی نے بحر ہند کے آس پاس کی ساحلی آبادیوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا، اس کے نتیجے میں درجنوں ممالک میں کم از کم دو لاکھ 25 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاکتوں کی بڑی تعداد کے پیچھے یہی وجہ تھی کہ بہت آبادیوں کو کسی قسم کی کوئی وارننگ نہیں دی گئی تھی۔

لہروں کی اونچائی اور زلزلے کا پتا لگانے والے مقامی سینسرز کا انتباہی نظام بھی کوئی واضح الرٹ دینے میں ناکام رہا تھا۔ بہت سے سینسرز کی مرمت نہیں کی گئی تھی لہٰذا وہ کام ہی نہیں کر رہے تھے جبکہ کئی ساحلی علاقوں میں تو سائرن والا کوئی وارننگ نظام ہی موجود نہیں تھا۔

بہت سے ٹیکسٹ پیغامات خطرے والے علاقوں میں رہنے والوں تک پہنچنے میں ناکام رہے یا کسی نے انھیں پڑھنا گوارا ہی نہیں کیا۔

پانی کی نو میٹر (30 فٹ) اونچی لہریں ساحلی علاقوں سے ٹکرا جانے سے گھنٹوں پہلے، کچھ جانور آنے والے خطرے کو محسوس کرتے ہوئے بھاگنے کی کوشش کرتے نظر آئے۔

عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق ہاتھی اونچی زمین کی طرف بھاگے، پرندوں نے نشیبی علاقوں میں اپنے گھوںسلے چھوڑ دیے اور کتے باہر نکلنے سے کترا رہے تھے۔

تھائی لینڈ کے ساحلی گاؤں بنگ کوئے میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ ساحل سمندر پر بھینسوں کا ایک ریوڑ اچانک شوروغوغا کرنے اور سمندر کی طرف دیکھنے لگا، پھر سونامی کے آنے سے چند منٹ قبل یہ بھینسیں قریبی پہاڑ کی چوٹی کی طرف دوڑیں۔

ارینا رفلیانا، جو اقوام متحدہ کی بین الاقوامی حکمت عملی برائے آفات کے ایک مشاورتی گروپ کا حصہ تھیں، کہتی ہیں کہ ’زندہ بچ جانے والوں نے گائے، بکریوں، بلیوں اور پرندوں جیسے جانوروں کو بھی دیکھا جو زلزلے کے فوراً بعد اور سونامی سے پہلے اندورنی علاقوں کی جانب جانے کی کوشش کرتے نظر آئ۔ اور بچ جانے والے بہت سے افراد ان جانوروں کے ساتھ یا فوراً بعد بھاگے۔‘

رفلیانا نے دیگر آفات کے حوالے سے اپنے فیلڈ ورک سے جڑی کئی ایسی کہانیاں سنائیں: جیسا کہ سنہ 2010 میں سماٹرا کے قریب زیر سمندر زلزلے سے جنم لینے والا سونامی، جس کے نتیجے میں مینتاوائی جزائر پر تقریباً 500 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہاں بھی ہاتھیوں جیسے کچھ جانوروں کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ ایسا محسوس ہوا کہ جیسے وہ اس بارے میں پہلے سے علم رکھتے ہوں۔

حال ہی میں جنوری میں ٹونگا میں آتش فشاں پھٹنے سے دو دن پہلے ایک کچھوے کو اچانک یوٹرن لیتے دیکھا گیا تھا۔

قدرتی آفات سے باقاعدگی سے متاثر ہونے والے بہت سے علاقوں میں ابتدائی وارننگ سسٹم موجود نہیں ۔ سنہ 2017 میں ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کا کہنا تھا کہ تقریباً 100 ممالک کے پاس قدرتی آفات کے لیے کوئی پیشگی انتباہی نظام موجود نہیں۔

لیکن آفات سے پہلے جانوروں میں دیکھے گئے اس رویے کے بارے میں سامنے آنے والے بیانات نے کچھ محققین کو سنجیدگی سے اس نظریے کی سائنسی وجوہات جاننے کی ترغیب دی ہے۔

محقیقین جاننا چاہتے ہیں کہ کیا جانوروں میں قدرتی طور پر کوئی ایسا نظام موجود ہے جو انھیں آنے والی قدرتی آفات سے آگاہ کرتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا جانور انسانوں کے لیے قدرتی وارننگ سسٹم بن سکتے ہیں؟

قدرتی آفت سے پہلے جانوروں کے غیر معمولی رویے کا سب سے قدیم حوالہ 373 قبل مسیح میں ملتا ہے، جب یونانی مؤرخ تھوسیڈائڈز نے تباہ کن زلزلے سے چند دن پہلے چوہوں، کتے اور نیلوں کے شہر چھوڑنے کی اطلاع دی تھی۔

سنہ 1805 میں نیپلز میں آنے والے زلزلے سے چند منٹ پہلے بیلوں، بھیڑوں اور کتوں نے اکھٹے ہو کر شوروغوغا یعنی خطرے کی گھنٹی بجانا شروع کر دی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ سنہ 1906 میں سان فرانسسکو میں آنے والے زلزلے سے پہلے بھی گھوڑے بھاگ گئے تھے۔

جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ بھی کئی قدرتی آفات کا پتا لگانا مشکل ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر زلزلے کے سینسرز صرف اسی وقت جھٹکے محسوس کرتے ہیں جب زمین کو جھٹکے لگ رہے ہوتے ہیں۔

قابل بھروسہ پیشگوئی کرنے کے لیے پیشگی سگنلز کی ضرورت پڑتی ہے اور ابھی تک سائنسدانوں کو کوئی ایسا سگنل نہیں ملا جو کسی بڑے زلزے سے پہلے مسلسل ظاہر ہوا ہو۔ اسی لیے کچھ سائنسدان جانوروں کا برتاؤ جیسے غیر روایتی وارننگ سگنلز پر غور کرنا چاہتے ہیں۔

چارلوٹ فرانسیاز، فرانسیسی بائیو ڈائیورسٹی آفس (او ایف بی) میں آرنیتھولوجیکل ٹیم کی لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ کیوی کواکا پروجیکٹ کا حصہ بھی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’آج ہمارے پاس جتنی بھی ٹیکنالوجی موجود ہے، اس کے باوجود ہم زلزلوں یا زیادہ تر قدرتی آفات کی صحیح پیشگوئی نہیں کر پا رہے ہیں۔‘

ان کا اشارہ ان پرندوں کی نقل و حرکت کا جائزہ ہے جو دورانِ ہجرت بحرالکاہل سے گزررتے ہیں اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ ہر طرح کے طوفانوں اور دیگر خطرات سے بچ نکلتے ہیں۔

جانور کس طرح آفات کی پیشگوئی کر سکتے ہیں، اس حوالے سے سب سے اہم تحقیق پانچ سال قبل جرمنی کے میکس پلانک انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیوئیر کے مارٹن وِکلسکی کی رہنمائی میں ایک ٹیم نے کی تھی۔

اس تحقیق کے دوران وسطی اٹلی میں زلزلے سے متاثرہ علاقے کے ایک فارم پر مختلف جانوروں (گائے، بھیڑ اور کتے) کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس عمل کو بائیولوگنگ کہا جاتا ہے۔

ہر جانور کے ساتھ چپس والے کالر منسلک کیے گئے تھے۔ ان چپس سے اکتوبر 2016 سے اپریل 2017 کے درمیان، ہر چند منٹ بعد مرکزی کمپیوٹر کو جانور کی نقل و حرکت کا ڈیٹا بھیجا جاتا تھا۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس عرصے کے دوران اس خطے میں 18000 سے زیادہ زلزلے ریکارڈ کیے گئے، جن میں 0.4 شدت کے چھوٹے سے جھٹکے سے لے کر چار یا اس سے اوپری درجے کے درجنوں زلزلے شامل تھے۔ ان میں 6.6 شدت کا نورسیا میں آنے والا تباہ کن زلزلہ بھی شامل تھا۔

محققین کو ملنے والے شواہد کے مطابق فارم پر موجود جانوروں نے زلزلے سے 20 گھنٹے پہلے اپنا رویہ بدلنا شروع کر دیا تھا۔

جن جانوروں کی نگرانی کی جا رہی تھی وہ سب کے سب پہلے کے مقابلے میں 45 منٹ تک 50 فیصد زیادہ متحرک تھے۔ اس سے محققین نے 4.0 سے زیادہ شدت کے زلزلے کی پیشگوئی کی تھی۔ اس طرح اس طریقے کا استعمال کرتے ہوئے آٹھ میں سے سات زلزلوں کی بالکل درست پیشگوئی کی گئی۔

وکلسکی نے سنہ 2020 میں یہ تحقیق ریلیز کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جو جانور زلزلے کے مرکز سے جتنا قریب تھے، ان کے رویے میں اتنا پہلے یہ تبدیلیاں دیکھی گئیں۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جس کی ہم توقع کر رہے تھے کہ جب آنے والے زلزلے کے مرکز میں تبدیلیاں ہونے لگتی ہیں اور مرکز سے فاصلہ بڑھنے کے ساتھ ان کی شدت میں کمی آتی جاتی ہے۔‘

وِکلسکی کے ذریعہ کی گئی ایک اور تحقیق میں جس میں سسلی میں ماؤنٹ ایٹنا کے آتش فشاں والے علاقے میں بکریوں (جن پر ٹیگ لگائے گئے تھے) کی نقل و حرکت کی نگرانی کی گئی، اس میں پتا چلا کہ بظاہر جانوروں کو ایٹینا کے پھٹنے کا پہلے سے احساس ہو گیا تھا۔

ریچل گرانٹ جو جنوبی امریکہ میں جانوروں کے رویوں کی ماہر ماحولیات تھیں اور اب لندن ساؤتھ بینک یونیورسٹی سے منسلک ہیں، انھیں بھی ایسے ہی شواہد ملے ہیں۔

انھوں نے پیروین اینڈیس کے یانچاگا نیشنل پارک کے اندر موشن ٹرگر کیمروں (حرکت جانچنے والے کیمرے) کا استعمال کرتے ہوئے جانوروں کی نقل و حرکت کی بائیولوگنگ کی۔ سنہ 2011 میں کونٹامانا میں 7.0 کی شدت سے آنے والا زلزلہ بھی اس ریکارڈ کا حصہ ہے۔

اس تحقیق کے متعلق سنہ 2015 کے مقالے میں گرانٹ نے لکھا کہ ’کیمرے پر ریکارڈ کیے گئے جانوروں کی تعداد زلزلے سے تقریباً 23 دن پہلے کم ہونا شروع ہو گئی تھی، زلزلے سے آٹھ دن پہلے مزید کم جانوروں میں نقل و حرکت دیکھی گئی۔‘

زلزلے سے 10ویں، چھٹے، پانچویں، تیسرے، دوسرے دن پہلے تک اور زلزلے والے دن بھی جانوروں کی کوئی حرکت ریکارڈ نہیں کی گئی، جو انتہائی غیر معمولی بات ہے۔‘

اہم بات یہ ہے کہ گرانٹ کو اس بات کے شواہد بھی ملے کہ مقامی جانوروں کے رویے میں تبدیلیوں کا سبب کیا ہے۔ ان کے مطابق زلزلے سے دو ہفتے پہلے ہر دو سے چار منٹ تک مقامی ماحول کے الیکٹرک چارج میں بڑی تبدیلی دیکھی گئی جو جانوں میں رویے کی تبدیلی کا سبب بنی۔

خاص طور پر کونٹامنا کے زلزلے سے تقریباً آٹھ دن پہلے بہت بڑی تبدیلی ریکارڈ کی گئی جو جانوروں کی حرکات کے کیمرے سے اوجھل ہونے والے مرحلے سے مطابقت رکھتی ہے۔

سائنسدان اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا زلزلوں سے پہلے ماحول کے الیکٹرک چارج میں تبدیلی یا ارتعاش (جسے جانور بھی محسوس کرتے ہیں) آنے والے زلزلوں کے لیے وارننگ کا کام کر سکتا ہے؟

زلزلے ہمیشہ چٹانوں کی گہرائیوں میں شدید دباؤ پیدا ہونے کے نتیجے میں آتے ہیں۔ برقی چارج پیدا کرنے والے اس دباؤ کو ’پازیٹیو ہول‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ ارتعاش زمین کی گہرائیوں سے سطح تک بہت تیزی سے پہنچتا ہے، جہاں یہ ہوا کے مالیکیولز کو آئنز میں تبدیل کرتے ہیں۔ اس عمل کو آئنائزیشن کہا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں زلزلوں سے پہلے اس طرح کا آئنائزیشن ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ ’پازیٹیو ہول انتہائی کم فریکوینسی کی برقی لہریں بھی پیدا کرتا ہے، اس سے ایک اضافی سگنل ملتا ہے جسے کچھ جانور محسوس کر لیتے ہیں۔

کوونٹری یونیورسٹی میں فزیکل جیوگرافی اور قدرتی خطرات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر میتھیو بلیکیٹ کہتے ہیں ’سائنسی طور پر زلزلے سے پہلے کے حالات کے متعلق کوئی دستاویزی معلومات نہیں لیکن کچھ سائنسدانوں کے نظریے کے مطابق، ہو سکتا ہے کہ جانوروں نے زلزلے سے بچنے کا طریقہ کار تیار کر لیا ہو۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’شاید جانور زلزلے سے پہلے زمین سے آنے والے دباؤ کی لہروں کو محسوس کر لیتے ہوں یا جس وقت چٹانیں سکڑنا شروع ہوتی ہیں اس وقت وہ الیکٹرک چارج میں تبدیلی یا ارتعاش کو فالٹ لائنز کے طور پر پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جانوروں میں بھی بہت زیادہ مقدار میں آئرن پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ مقناطیسیت اور برقی لہروں کو محسوس کر سکتے ہیں۔‘

یہ ’پازیٹیو ہول‘ زلزلے سے پہلے ظاہر ہونے والے کچھ زہریلے کیمیکلز کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر اگر وہ پانی کے ساتھ رابطے میں آئیں تو وہ آکسیڈیشن کا عمل شروع کر سکتے ہیں جس سے بلیچنگ ایجنٹ ہائیڈروجن پرآکسائڈ تیار ہوتا ہے۔ آرگینکل مادے اور چارج کیریئرز کے درمیان ہونے والے کیمیکل ری ایکشن سے دیگر چیزیں بھی بن سکتی ہیں جیسے کہ اوزون گیس۔

سنہ 2001 میں انڈیا کی ریاست گجرات میں 7.7 ریکٹر سکیل کے زلزلے سے چند دن پہلے سیٹلائٹ تصاویر میں تقریباً ایک سو مربع کلومیٹر کے علاقے پر کاربن مونوآکسائڈ کی مقدار میں ایکدم اضافہ دیکھا گیا اور یہی مقام بعد میں زلزلے کا وسطی مقام بنا۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ جیسے جیسے زلزلے کا دباؤ بڑھنے لگتا ہے تو زمین سے کاربن مونوآکسائڈ کا اخراج شروع ہو جاتا ہے۔

بہت سے جانور انتہائی حساس حسی صلاحیت سے لیس ہوتے ہیں جو قدرتی اشاروں کو محسوس کر سکتے ہیں جن پر ان کی زندگی کا انحصار ہو سکتا ہے۔

اس لیے یہ بالکل ممکن نظر آتا ہے کہ کچھ جانور زلزلے سے پہلے ہی جان جائیں کہ زلزلہ آنے والا ہے۔

ناخوشگوار کیمیکلز کو سونگھا جا سکتا ہے، کم فریکوئنسی کی لہریں محسوس کی جا سکتی ہیں اور کھال یا پنکھوں میں آئنائز ہوا کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔

عموماً زلزلوں کا پیشگی اندازہ لگانا اتنا مشکل ہے تو اس تحقیق سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے: کیا انسان درحقیقت جانوروں کے مشاہدات سے زلزلوں کی پیشگوئی کر سکتا ہے اور اس طرح لوگوں کو خبردار کر سکتا ہے کہ زلزلے آ رہے ہیں؟

سنہ 2020 کے ایک تحقیقی مضمون میں، وکیلسکی اور ان کے ساتھیوں نے اٹلی میں تحقیق کے اعداد و شمار کی بنیاد پر جانوروں کی حرکات کی نگرانی کرنے والی سائٹس کا استعمال کرتے ہوئے زلزلے کا ابتدائی انتباہی نظام کا ایک پروٹو ٹائپ ترتیب دیا۔

انھوں نے اندازہ لگایا کہ آنے والے زلزلے کے مقام کے قریب عام جانور جو اسے کسی طرح محسوس کرنے کے قابل تھے، وہ اس کے ٹکرانے سے 18 گھنٹے پہلے نشانیاں دکھائیں گے۔ زلزلے کے مرکز سے دس کلومیٹر (6.2 میل) دور واقع جانوروں کو آٹھ گھنٹے بعد انتباہی نشانات دکھانا چاہیے، اس کے بعد مزید آٹھ گھنٹے بعد 20 کلومیٹر (12.4 میل) دور کھیتوں میں جانوروں کو۔

وہ کہتے ہیں ‘اگر درست ہے تو، یہ اشارہ کرے گا کہ اگلے دو گھنٹوں کے اندر زلزلہ آنے والا ہے۔‘

محققین کو دنیا بھر کے مختلف زلزلہ زدہ علاقوں میں طویل عرصے تک جانوروں کی ایک بڑی تعداد کا مشاہدہ کرنے کی ضرورت ہو گی پھر جا کر ہی وہ زلزلوں کی پیشگوئی کے لیے استعمال ہو سکیں گے۔

اس کے لیے وکیلسکی عالمی سطح پر جانوروں کی نقل و حرکت کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر جانوروں کے عالمی مشاہداتی نظام اکارس سے رجوع کر رہے ہیں۔

اکارس سنہ 2002 میں سائنسدانوں کے عالمی تعاون کے ذریعے قائم کیا گیا ایک اقدام ہے۔

اس کا مقصد کرہ ارض کے حیوانات اور اس کے مختلف نظاموں کے درمیان تعامل کے بارے میں ڈیٹا اور شواہد فراہم کرنا ہے۔ یہ اس مقصد سے ٹیگ کیے گئے چھوٹے جانوروں (جیسے پرندے) کے لیے ایک درست عالمی مشاہداتی نظام فراہم کرتا ہے۔

ادھر چین نے پہلے ہی اپنے شہر ناننگ میں اپنے زلزلہ مانیٹرنگ بیورو کے اعداد و شمار کی بنیاد پر ایک زلزلہ الرٹ سسٹم بنایا ہے، جو زمین کے بہت قریب جانوروں کے رویے کی نگرانی کرتا ہے، خاص طور پر سانپوں کی۔

سانپ اپنے ماحول کے مختلف پہلوؤں میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کا پتا لگانے کے لیے انتہائی حساس حس رکھتے ہیں۔ یہ سانپوں اور دوسرے جانوروں کے رویے میں ہی اچانک تبدیلیاں تھیں، جس نے حکام کو سنہ 1975 میں چینی شہر ہائیچینگ کو ایک زلزلے سے پہلے خالی کرنے پر مجبور کیا، جس سے بے شمار جانیں بچیں۔

ناننگ بیورو کے اس وقت کے ڈائریکٹر جیانگ ویسونگ نے سنہ 2006 میں چائنہ ڈیلی کو بتایا کہ ‘زمین پر موجود تمام مخلوقات میں سے، سانپ شاید زلزلوں کے لیے سب سے زیادہ حساس ہیں۔ جب زلزلہ آنے والا ہوتا ہے تو سانپ بِلوں سے باہر نکل جاتے ہیں چاہے کتنی بھی سردی ہو۔‘

صرف زلزلے ہی وہ واحد قدرتی خطرہ نہیں جن کے بارے میں جانوروں کو پیشگی انتباہ مل جاتا ہے۔ دیگر قدرتی خطرات کا پیشگی پتا لگانے کے قابل ہونے کی وجہ سے پرندے بھی اب توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔

سنہ 2014 میں امریکہ میں سنہری پنکھوں والے وابلر پرندے کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے سائنسدانوں نے ایک حیران کن چیز دیکھی جسے بعد میں انخلائی ہجرت کہا گیا۔

یہ پرندے مشرقی ٹینیسی کے کمبرلینڈ پہاڑوں میں واقع اپنے افزائش کے علاقے سے اچانک اڑ گئے اور 700 کلومیٹر (435 میل) دور منتقل ہو گئے باوجود اس کے کہ وہ جنوبی امریکہ سے 5,000 کلومیٹر (3,100 میل) کا سفر طے کر چکے تھے۔ پرندوں کے جانے کے تھوڑی دیر بعد 80 سے زیادہ بھگولوں کا طوفان علاقے سے ٹکرا گیا، جس سے 35 افراد ہلاک اور تقریباً ایک ارب ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔

واضح لگ رہا تھا کہ پرندوں نے کسی طرح 400 کلومیٹر (250 میل) سے زیادہ دور سے آنے والے طوفان کو محسوس کیا تھا۔ انھوں نے یہ کیسے کیا، اس میں ابتدائی تحقیق کی توجہ انفراساؤنڈ پر ہے یعنی کم فریکوئنسی کی آواز کی لہریں جو انسانوں کے لیے ناقابل سماعت ہیں لیکن پورے قدرتی ماحول میں موجود ہیں۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں جنگلی حیات کے ماہر حیاتیات ہنری سٹریبی نے اس وقت کہا ‘ماہرین موسمیات اور طبیعیات کئی دہائیوں سے جانتے ہیں کہ طوفان بہت مضبوط انفرا ساؤنڈ بناتے ہیں جو طوفان سے ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ طے کر سکتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ شدید طوفانوں سے انفراساؤنڈ ایک فریکوئنسی پر سفر کرتا ہے جسے پرندے سننے کے قابل ہو چکے ہوں گے۔

انفراساؤنڈ میں تبدیلی کا پتا لگانا بھی ایک ایسا طریقہ کار سمجھا جاتا ہے جس کے ذریعے ہجرت کرنے والے پرندے وسیع سمندری گزرگاہوں پر طوفانوں سے بچنے کے قابل نظر آتے ہیں اور یہی خیال بحر الکاہل میں جاری کیوی کواکا پرندوں کا مطالعہ کرنے میں آزمایا جا رہا ہے۔

یہ مطالعہ ایک ریڈیو پروگرام سے متاثر ہو کر بنا جس میں فرانسیسی بحریہ کے افسر جیروم چارڈن نے بار ٹیلڈ گاڈ وِٹ نامی ایک پرندے کے بارے میں سنا تھا، جو ہر سال نیوزی لینڈ اور الاسکا کے درمیان 14,000 کلومیٹر (8,700 میل) کا فاصلہ طے کرتا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا اور فرانسیسی پولینیشیا میں ریسکیو آپریشنز کے ایک تجربہ کار کوآرڈینیٹر کے طور پر چارڈن جانتے تھے کہ یہ سفر کتنا مشکل ہو گا۔

شدید طوفان بحرالکاہل اور اس کے الگ تھلگ جزیروں کی کمیونٹیز پر کثرت سے ٹکراتے ہیں۔ تو کیسے بار ٹیلڈ گاڈ وِٹس بظاہر ان طوفانی خطرات کی روک تھام کے بغیر اپنا سالانہ سفر کرنے کے قابل تھے؟

جنوری 2021 میں قائم کیے گئے، اس پروجیکٹ میں فرانس کے نیشنل میوزیم آف نیچرل ہسٹری کی ایک ٹیم شامل ہے، جس میں پانچ مختلف انواع کے 56 پرندوں کو جی پی ایس ٹریکرز کے ساتھ فٹ کیا گیا ہے تاکہ وہ سمندر کے اس پار جانے والے راستوں کی پیروی کریں۔

بین الاقوامی خلائی سٹیشن ان کی نگرانی فراہم کرتا ہے، پرندوں کے اڑتے وقت ان سے سگنل وصول کرتا ہے اور یہ مشاہدہ کرتا ہے کہ وہ راستے میں قدرتی خطرات کا کیسے مقابلہ کرتے ہیں۔ ان کے ٹیگز موسمیاتی ڈیٹا بھی جمع کرتے ہیں تاکہ بحرالکاہل میں موسمیاتی ماڈلنگ اور موسم کی پیشگوئی کو بہتر بنایا جا سکے۔

کیوی کواکا یہ بھی دیکھیں گے کہ آیا پرندوں کا رویہ سونامی جیسے غیر معمولی خطرات کے خلاف خبردار کر سکتا ہے، جو مخصوص انفراساؤنڈ پیٹرن پیدا کرنے کے لیے جانا جاتا ہے جو اصل لہروں سے آگے دوڑتے ہیں۔

فرانسیاز کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد ابتدائی انتباہی نظام میں پرندوں کے ممکنہ استعمال کی جانچ کرنا ہے جو طوفان یا سونامی کی آمد سے آگاہ کرتا ہے۔

ٹیم فی الحال کرلیوز پر جی پی ایس ٹیگز کی بازیافت کے عمل میں ہے تاکہ یہ جانچ کی جا سکے کہ آیا انھوں نے ٹونگا میں حالیہ آتش فشاں پھٹنے کے چند گھنٹے بعد بحر الکاہل میں فرانسیسی موسمیاتی غباروں کے ذریعے رجسٹرڈ انفرا ساؤنڈ لہر پر ردعمل ظاہر کیا۔

لیورپول یونیورسٹی میں سمندری حیاتیات کی ماہر سامنتھا پیٹرک بھی انفراساؤنڈ کا ایک ایسے طریقہ کے طور پر جائزہ لے رہی ہیں، جس کے ذریعے پرندے قدرتی خطرات کا پتا لگا سکتے ہیں اور ان سے بچ سکتے ہیں اور توسیع کے ذریعے، شاید انسانوں کو بھی خبردار کر سکتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘میرے خیال میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ممکن ہے کہ پرندے انفرا ساؤنڈ میں ہونے والی تبدیلیوں کو محسوس کر سکیں۔‘

لیکن تمام ماہرین یہ نہیں سمجھتے کہ جانوروں کے ابتدائی انتباہی نظام آفات کی پیشگوئی کے لیے ایک قابل عمل آپشن ہیں اور یہاں تک کہ اگر وہ مدد کرتے ہیں تو، صرف جانوروں کی نقل و حرکت ہی کو دیکھنا کافی نہیں۔ لوگوں کو مکمل تصویر حاصل کرنے کے لیے ابتدائی انتباہی سگنل کے مجموعہ پر انحصار کرنے کی ضرورت ہو گی۔

پھر بھی، جب کہ ہم ابھی تک جانوروں سے بات کرنے کے قابل نہیں ہو سکے ہیں، شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ان کی وارننگز پر زیادہ توجہ دیں۔