انڈیا اور بنگلہ دیش میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے درجنوں ہلاک اور لاکھوں افراد متاثر

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, زبیدہ عبدالجلیل
- عہدہ, بی بی سی نیوز
انڈیا اور بنگلہ دیش میں مون سون کی طوفانی بارشوں کے دوران سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں کم از کم 59 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔
اس صورتحال سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں جبکہ امدادی کارکنان کے لیے متاثرین تک پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے متنبہ کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں آنے والے سیلابی ریلوں کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
بنگلہ دیش کے حکام نے اسے سنہ 2004 کے بعد ملک میں آنے والا سب سے خطرناک سیلاب قرار دیا ہے۔
گذشتہ ہفتے کے دوران نہ ختم ہونے والی بارشوں سے ملک کے وسیع شمال مشرقی علاقے شدید متاثر ہوئے جہاں ہمسایہ ملک انڈیا کے پہاڑوں سے آنے والے پانی نے مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔
وہاں سکولوں کو عارضی پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ گھروں میں مقید لوگوں کو بچانے کے لیے فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ پانی کی سطح بڑھنے کے باعث کئی گھر زیر آب ہیں اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی قلت کا سامنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لقمان کا خاندان بنگلہ دیش میں سلہٹ کے کمپنی گنج گاؤں میں رہائش پذیر ہے۔ انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’جمعے کو پورا گاؤں زیر آب آ چکا تھا اور ہم سب پھنس گئے تھے۔‘
اس 23 سالہ نوجوان نے مزید بتایا کہ ’ہم نے پورا دن اپنے گھر کی چھت پر انتظار کیا۔ ایک پڑوسی نے ہمیں اپنی عارضی کشتی کے ذریعے بچایا۔ میری والدہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی پوری زندگی میں ایسے سیلاب نہیں دیکھے۔‘
ادھر انڈیا کی ریاست آسام میں پانچ دنوں کے دوران طوفانی بارشوں سے 18 لاکھ سے زیادہ کی آبادی متاثر ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے صحافیوں کو بتایا کہ انھوں نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ سیلاب میں پھنسے لوگوں کو ’تمام ضروری اشیا اور امداد فراہم کریں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آسام کے اودیانہ گاؤں کی رہائشی حسنہ بیگم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارا گھر زیر آب آچکا ہے۔ میں نے اپنی زندگی کبھی میں ایسے بڑے سیلاب نہیں دیکھے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ 28 سالہ خاتون جمعرات سے پلاسٹک کے ایک ٹینٹ میں اپنے بچوں سمیت رہ رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ایک کیمپ میں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں۔ میرے بیٹے کو بخار ہے لیکن ہم اسے ڈاکٹر کے پاس نہیں لے جا سکتے۔‘
رانجو چوہدری اسی گاؤں میں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’چاروں طرف سے پانی نے ہمیں گھیر لیا ہے۔ پانی ہمارے گھروں میں بھی داخل ہوگیا ہے۔‘
قریب دو دہائیاں قبل مئی کے اواخر میں بنگلہ دیش کے سلہٹ علاقے میں بدترین سیلاب آئے تھے اور علاقہ مکین تاحال اس تباہی سے نمٹ رہے ہیں۔ ان سیلابوں میں کم از کم 10 افراد ہلاک جبکہ 40 لاکھ متاثر ہوئے تھے۔
سابق قانون ساز سید رفیق الحق کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں انسانی بحران کا خدشہ ہے۔ ’قریب تمام سلہٹ، سونم گنج بیلٹ زیر آب ہے اور لاکھوں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ قریب 31 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں جبکہ قریب دو لاکھ افراد کو کچھ اونچائی پر عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی ایشیا میں موسمی بارشیں کسانوں کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہیں تاہم ہر سال ان سے بڑے پیمانے پر جان و مال کا نقصان ہوتا ہے۔ بنگلہ دیش اور انڈیا دونوں نے حالیہ برسوں کے دوران خراب موسم سے ہونے والا نقصان جھیلا ہے۔
اگرچہ ماحولیاتی ماہرین موسم سے متعلق کسی انفرادی واقعے کو ماحولیاتی تبدیلی قرار نہیں دیتے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات سے مزید تباہی ہوسکتی ہے، خاص کر ان ملکوں میں جو زمین کی نچلی سطح پر واقع ہیں اور ان میں گنجان آبادی ہے۔













