دریائے سندھ کا پانی روکنے کے بیان پر انڈین صحافی پر تنقید کا سیلاب

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
انڈیا کے ایک بین الاقوامی ٹی وی کی سرکردہ صحافی پلکی شرما کی اس ٹویٹ پر شدید ردعمل ہوا ہے جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ کہ انڈیا کو دریائے سندھ کے پانی پر کنٹرول کر کے پاکستان میں سیلاب اور قحط سالی پھیلانی چاہیے۔
پلکی نے گذشتہ شام ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے خلاف انڈیا کو ایک طاقتور سٹریٹیجک برتری دیتا ہے۔ پاکستان کی 80 فی صد زراعت اس پانی پر انحصار کرتی ہے جس پر انڈیا کا کنٹرول ہے۔ انڈیا پاکستان میں پانی کے کنٹرول سے سیلاب اور قحط سالی پیدا کر سکتا ہے۔ انڈیا اس حربے کو استعمال کرنے سے کیوں ہچک رہا ہے؟ کیا سندھ کے ہتھیار کو استعمال کرنے کا وقت آ گیا ہے؟‘
اس ٹویٹ کے شائع ہوتے ہی ٹوئٹر پر پلکی شرما کے بیان کے خلاف بہت شدید رد عمل دیکھنے میں آیا۔ کئی صارفین نے انھیں دائیں بازو کی قوم پرستی کا ترجمان قرار دیا تو بعض نے اُنھیں ’غیر ذمے دارانہ صحافت‘ کے لیے برا بھلا کہا۔ ان کی حمایت میں بہت کم بیان سامنے آئے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
پلکی شرما ایک ٹی وی چینل ڈبلیو آئی او این (ویان) کی مدیر ہیں جس کے مالک آر ایس ایس کے ایک سرگرم کارکن ہیں۔ اُنھوں نے لوگوں کے ردعمل کے بعد ایک وضاحتی بیان جاری کیا جس میں اُنھوں نے لکھا کہ ’میں نے اپنی ٹویٹ پر بڑی تعداد میں آنے والے رعمل کو دیکھا۔
شاید اس پیغام کو اور بہتر طریقے سے لکھا جانا چاہیے تھا۔ کیونکہ یہ میری سٹوری کے ان پہلوؤں کو اجاگر نہیں کر سکا جس میں میں نے صاف طور پر کہا ہے کہ انڈیا کو اپنی سٹریٹجک برتری کو ہتھیار کے طور پر نہیں بلکہ دباؤ کے طور پر استعمال کرنا چاہیے، اس پر شدید ردعمل کی ضرورت نہیں ہے۔ کوئی سیلاب اور قحط سالی پیدا کرنے کی بات نہیں کر رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
امبیکا وشوناتھ نے ٹویٹ کی کہ ’جب آپ کو آبی وسائل، انجیںيئرنگ اور جغرافیے کے بارے میں کچھ نہ معلوم ہو اور آپ پاکستان مخالف اور احمقانہ اشتعال کے ڈھول پیٹ کر مقبولیت حاصل کرنا چاہتے ہوں تو یہی ہوتا ہے۔ یہ صرف مضحکہ خیز نہیں خطرناک ٹویٹ ہے۔‘
اس کے جواب میں کرشن کانت شرما نے لکھا ہے ’پلکی شرما کافی دنوں سے بالکل یہی کر رہی ہیں۔ اس طرح اُنھوں نے دائیں بازو کے قوم پرستوں میں اپنی مقبولیت خاصی بڑھا لی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
نئی دلی میں گذشتہ دنوں سندھ طاس معاہدے کی دو روزہ میٹنگ ہوئی تھی جس میں پاکستان اور انڈیا کے وفود نے شرکت کی تھی۔ پلکی شرما نے پاکستان میں سیلاب اور قحط سالی پیدا کرنے سے متعلق ٹویٹ اسی میٹنگ کے تناظر میں کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک اور صارف نے ٹویٹ کی کہ ’ڈیئر پلکی شرما، آپ برائے مہربانی آر ایس ایس، بجرنگ دل اور وی ایچ پی میں شامل ہو جائیے کیونکہ وہاں آپ کے لیے ایک درخشاں مستقبل ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
ایک اور صارف آئی ایم سایوج نے پلکی کی حمایت میں لکھا ہے ’پلکی شرما ایک سچی قوم پرست ہیں۔ خود انڈیا کے اندر ریاستوں کے درمیان دریاؤں کے پانی کا تنازع ہے۔ اںڈیا کیوں ایک ایسے دشمن ملک کو پانی فراہم کر رہا ہے جو ہمارے ملک میں دہشت گردی کی اعانت کر رہا ہے۔‘
وسوندھر نامی صارف سمیت کئی دیگر نے اس جانب توجہ دلائی کہ کسی ملک کا پانی بند کرنا جنیوا کنونشن کے خلاف ہے اور سنہ 65، سنہ 71 اور سنہ 1999 میں بھی کبھی انڈیا کی جانب سے پاکستان کا پانی نہیں روکا گیا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
واضح رہے کہ دریائے سندھ دنیا کے سب سے بڑے دریاؤں میں سے ایک ہے جس کی ابتدا چین کے خطے تبت کے پہاڑوں سے ہوتی ہے اور پھر یہ انڈیا سے ہوتا ہوا پاکستان میں داخل ہوتا ہے اور بالآخر سندھ سے ہوتا ہوا بحیرہ عرب میں گر جاتا ہے۔
انڈیا اور پاکستان کے درمیان دریائی پانی کی تقسیم سندھ طاس معاہدے کے تحت ہوتی ہے جو 1960 میں عالمی بینک کی کوششوں سے طے پایا تھا۔
اس معاہدے کو جدید دنیا کے کامیاب ترین معاہدوں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے جس نے دونوں ممالک کے درمیان شدید تر تنازعات کے باوجود پانی کے معاملے پر جنگ کو روکے رکھا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
تاہم انڈیا میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بعض قوم پرست رہنماؤں کی جانب سےوقتاً فوقتاً پاکستان کو جانے والے دریاؤں کے پانی کا رخ موڑنے یا پانی کم کرنے جیسی باتیں کی جاتی رہی ہیں۔
لیکن خود حکمران جماعت بی جے پی سمیت مرکزی دھارے کی سیاسی قیادت کی جانب سے ان بیانات کو ’غیر ذمے دارانہ‘ اور ’ناقابل عمل‘ کہہ کر مسترد کر دیا گیا ہے۔












