انڈین وفد کا دورہ افغانستان: انڈیا کی طالبان سے ’دہائیوں کی دوریاں‘ کم کرنے کی کوشش؟

،تصویر کا ذریعہANI
انڈین وزارت خارجہ کے جوائنٹ سکریٹری جے پی سنگھ کے ہمراہ ایک اہم وفد افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچا ہے۔ پچھلے سال افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کسی سرکاری انڈین وفد کا کابل کا یہ پہلا دورہ ہے۔
جے پی سنگھ کی قیادت میں وفد نے طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی اور سفارتی تعلقات، تجارت اور انسانی امداد پر تبادلہ خیال کیا۔
بی بی سی پشتو کے مطابق اس ملاقات کے بعد متقی نے انڈین وفد کے دورے کو ایک اچھی شروعات قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا کو افغانستان میں اپنی سفارتی موجودگی اور قونصلر خدمات دوبارہ شروع کرنی چاہییں۔
اس دورے کے دوران انڈین وفد ان بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کرے گا جو وہاں انسانی امداد کی تقسیم کے کام میں مصروف ہیں۔
اس کے ساتھ یہ وفد ان جگہوں پر بھی جا رہا ہے جہاں انڈیا کی جانب سے پراجیکٹ اور سکیموں پر عمل کیا گیا ہے۔
انڈیا افغانستان کو کیا امداد بھیج رہا ہے ؟
انڈیا نے طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے گذشتہ نو مہینوں کے دوران 20 ہزار میٹرک ٹن گندم، 13 ٹن ادویات، کووِڈ ویکسین کی 5 لاکھ خوراکیں اور موسم سرما کے کپڑے کئی کھیپوں میں بھیجے ہیں۔
انسانی امداد کی یہ کھیپیں کابل کے اندرا گاندھی چلڈرن ہسپتال اور اقوام متحدہ کی خصوصی ایجنسیوں بشمول ڈبلیو ایچ او (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) اور ڈبلیو ایف پی (ورلڈ فوڈ آرگنائزیشن) کے حوالے کی گئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ انڈیا اس وقت افغانستان کو مزید طبی امداد اور غذائی اشیا بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ انڈیا افغانستان کے ان لوگوں کو بھی مدد فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو طالبان کی آمد کے بعد ملک چھوڑ کر ایران چلے گئے ہیں۔انڈیا نے ایران میں پناہ گزینوں کے طور پر رہنے والے لوگوں کی مدد کے لیے ویکسین کی دس لاکھ خوراکیں بھی فراہم کی ہیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق ’انڈیا نے یونیسیف کو 6 کروڑ پولیو ویکسین اور دو ٹن ضروری ادویات کی مدد بھی بھیجی ہے۔‘
غور طلب ہے کہ انڈیا سے افغانستان بھیجی جانے والی خوراک اور دیگر ضروری اشیا کی تقسیم اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت اور فوڈ آرگنائزیشن کے ذریعے کی جاتی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں بھوک کی وجہ سے تقریباً 30 لاکھ افراد کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں، اسی طرح ڈبلیو ایچ او کے مطابق وہاں صحت کی دیکھ بھال کا نظام بھی خطرے میں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈبلیو ایچ او کے مطابق، افغانستان میں فلاح و بہبود کے پروگرام کا وہاں صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں سب سے بڑا کردار ہے، جو 2,331 طبی مراکز کے ذریعے لاکھوں لوگوں کی صحت کا خیال رکھتا ہے۔
لیکن گذشتہ سال اگست میں طالبان کے وہاں اقتدار سنبھالنے کے بعد اس پروگرام کے لیے عالمی فنڈنگ روک دی گئی ہے۔ فلاح و بہبود کے پروگرام کو پہلے ورلڈ بینک، یورپی کمیشن اور اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی کی مدد حاصل تھی۔
اس کے ساتھ حالیہ خشک سالی کی وجہ سے وہاں زراعت اور املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور پبلِک سروسز کی حالت بہت خراب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکتوبر 2021 میں ڈبلیو ایچ او نے وہاں کے تقریباً 2 کروڑ لوگوں میں خوراک کے بحران کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق یہی وجہ ہے کہ انڈیا نے افغانستان کے عوام کی ضروریات کے پیش نظر فی الحال وہاں انسانی امداد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
طالبان حکومت پر انڈیا کا اب تک کیا موقف رہا ہے؟
طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد انڈیا پہلے کہہ رہا تھا کہ وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا اور عالمی برادری سے بھی اپیل کی تھی کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے میں کوئی جلدی نہ کی جائے۔
تاہم ابتدائی چند ماہ کے دوران انڈیا کی پالیسی میں تبدیلی کے آثار نظر آئے اور انڈیا نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے نمائندوں سے ملاقات کی۔
حالانکہ اس ملاقات کو انڈیا نے کبھی قبول نہیں کیا لیکن گذشتہ سال اگست کے آخر میں دوحہ میں انڈین سفیر دیپک متل اور طالبان کے سرکردہ رہنما شیر محمد عباس ستینکزئی کے درمیان ملاقات ہوئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہANI
طالبان کے ساتھ انڈیا کی یہ پہلی باضابطہ بات چیت تھی۔
انڈیا کی وزارت خارجہ کی جانب سے دیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ مذاکرات طالبان کی درخواست پر کیے گئے ہیں جس کا اہم موضوع افغانستان میں مقیم انڈین شہریوں کی حفاظت اور وہاں رہنے والی اقلیتوں کو آنے کی اجازت دینا تھا۔‘
انڈیا نے طالبان کے سرکردہ رہنما کے ساتھ سٹریٹجک مسئلہ بھی اٹھایا جس میں یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ طالبان افغانستان کی سرزمین انڈیا کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
طالبان کے ساتھ دوسری باضابطہ ملاقات 21 اکتوبر کو ہوئی جب انڈیا کے ایک وفد نے وزارت خارجہ کے جوائنٹ سیکرٹری جے پی سنگھ کی قیادت میں ماسکو میں طالبان کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ طالبان وفد کی قیادت ان کے نائب وزیراعظم عبدالسلام حنفی کر رہے تھے۔
یہ وفد روس کی دعوت پر افغانستان کے معاملے پر منعقد 'ماسکو فارمیٹ' کانفرنس میں شرکت کے لیے گیا تھا اور اس موقع پر انڈیا اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان بات چیت ہوئی۔
اس کے بعد انڈیا نے افغانستان کے معاملے پر چین، روس اور پاکستان کے ساتھ چار ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کا اجلاس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی تھی، تاہم نومبر میں ہونے والی اس میٹنگ میں چین اور پاکستان سے کسی نے شرکت نہیں کی۔
یہ میٹنگ گذشتہ سال 10 نومبر کو انڈیا میں ہوئی تھی جس میں روس، ایران، ازبکستان، ترکمانستان، قزاقستان، کرغزستان اور تاجکستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد 'دلی ڈیکلریشن آن افغانستان' کے نام سے 12 نکاتی منشور بھی جاری کیا گیا۔ اجلاس میں شامل تمام ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ افغانستان کی سرزمین سے کسی بھی قسم کی دہشت گرد ٹریننگ، منصوبہ بندی یا اس سمت میں مالی امداد کے لیے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اگرچہ یہ اجلاس طالبان حکومت کے بارے میں تھا لیکن اس میں افغانستان کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے پیچھے انڈیا کی حکومت کا جواز یہ تھا کہ اس اجلاس میں شریک کسی بھی ملک نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔
تاہم طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس ملاقات کے بارے میں ٹویٹ کیا کہ ’امید ہے کہ اس طرح کی ملاقاتوں سے افغانستان کے مسئلے کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔‘
افغانستان کے بارے میں انڈیا کی پالیسی
افغانستان کے حوالے سے انڈیا کی کبھی ’ایک پالیسی‘ نہیں رہی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انڈیا نے سکیورٹی اور سٹریٹیجک معاملات کو امریکہ اور نیٹو افواج پر چھوڑ دیا اور اپنی پوری توجہ افغانستان کی تعمیر نو تک مرکوز رکھی۔
وظائف دینے کا معاملہ ہو، یا نئی پارلیمان اور ڈیم کی تعمیر ہو یا پھر بجلی اور سڑکوں کی سکیمیں ہوں انڈیا نے اپنا دائرہ کار صرف اسی تک محدود رکھا اور بھاری سرمایہ کاری بھی کی۔
تاہم سٹریٹجک امور کے ماہرین کے مطابق انڈیا افغانستان کے معاملے میں زیادہ دیر تک ’میدان سے باہر بیٹھ کر‘ سب کچھ نہیں دیکھ سکتا۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ ’طالبان کو اپنا راج ٹھیک سے چلانا چاہیے‘ صرف یہ کہنے اور اس کا انتظار کرنے سے انڈیا کچھ حاصل نہیں کر سکتا۔
ماہرین کے مطابق انڈیا کو افغانستان کے عوام کی خاطر وہاں اپنی موجودگی برقرار رکھنی چاہیے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کئی دہائیوں تک طالبان سے فاصلہ رکھنے کے بعد اب انڈیا اپنے قدم آگے بڑھا رہا ہے۔











