تاج محل کے کمرے کھولنے کی درخواست خارج: ’کل آپ کہیں گے کہ ہمیں ججوں کے چیمبر میں بھی جانے دیا جائے‘

تاج محل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, نیاز فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی

انڈیا کی الہ آباد ہائی کورٹ میں تاج محل کے مغلیہ وجود پر سوال اٹھانے والی پٹیشن کو یہ کہہ کر خارج کر دیا ہے کہ وہ اس ’درخواست سے متفق نہیں ہیں۔‘

تاج محل گزشتہ کئی روز سے سرخیوں میں ہے لیکن اس بار اپنی خوبصورتی کی وجہ سے نہیں بلکہ عدالت میں داخل کی جانے والی اس درخواست کی وجہ سے جس میں نہ صرف مقبرے کی مغلیہ وجود پر سوال اٹھایا گیا ہے بلکہ دہائیوں سے بند تاج محل کے 22 کمروں کو کھولنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا اس میں ہندو دیوتا اور صحیفے موجود ہیں۔

مدعی رجنیش سنگھ نے، جو کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ایودھیا یونٹ کے میڈیا انچارج ہیں، دعویٰ کیا کہ تاج محل کے بارے میں جھوٹی تاریخ پڑھائی جا رہی ہے اور وہ سچائی جاننے کے لیے کمروں میں جا کر تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم عدالت ان کی دلیل سے متفق نہیں تھی۔ لائیو لا نامی ایک ویب سائٹ عدالت اور قانون سے متعلق موضوع پر رپورٹ کرتی ہے۔

ان کے مطابق عدالت نے مدعی سے کہا کہ ’جائیں اور تحقیق کریں۔ ایم اے کریں، پی ایچ ڈی کریں۔۔۔ اگر کوئی ادارہ ایسے موضوع منتخب کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے، تو پھر ہمارے پاس آئیں۔‘

جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس سبھاش ودیارتھی کے ڈویژن بینچ نے مزید کہا کہ ’اس طرح کی بحث ڈرائنگ روم کے لیے ہوتی ہے، عدالت کے لیے نہیں۔‘

درخواست گزار عدالت کی جانب سے ایک کمیٹی کی تقرری چاہتے تھے تاکہ تاج محل کے بارے میں ’سچائی‘ سامنے آ سکے۔

انھوں نے عدالت میں دلیل دی تھی کہ ’میں یہ واضح کرتا ہوں کہ میری بنیادی تشویش بند کمروں کے بارے میں ہے اور ہم سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کمروں میں کیا ہے۔‘

انھوں نے التجا کی کہ ’براہِ کرم مجھے ان کمروں میں جانے اور تحقیق کرنے کی اجازت دیں۔‘ تاہم بینچ نے کہا کہ ’کل آپ آئیں گے اور کہیں گے ہمیں ججوں کے چیمبر میں بھی جانے دیا جائے۔‘

پیٹیشن میں مزید کیا کہا گیا ہے؟

انھوں نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ ’یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تاج محل کا نام شاہجہان کی اہلیہ ممتاز محل کے نام پر رکھا گیا تھا تاہم کئی کتابوں میں شاہجہان کی اہلیہ کا نام ممتاز الزمانی بتایا گیا ہے ممتاز محل نہیں۔‘

’یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک مقبرے کی تعمیر میں 22 سال لگتے ہیں کیونکہ تکمیل حقیقت سے بالاتر ہے اور مکمل طور پر ایک لغو بات ہے۔‘

اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے ریاست اتر پردیش، نے جس کے دائرہ اختیار میں تاج محل آتا ہے، اس معاملے پر اعتراض کا اظہار کیا اور عدالت کو بتایا کہ اس معاملے پر آگرہ کی عدالت میں پہلے سے ہی ایک مقدمہ زیر التوا ہے۔

درخواست گزار نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ انھوں نے اس سے قبل حکومت کو ان کمروں کو بند رکھنے کی وجوہات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے درخواست دائر کی تھی لیکن حکومت نے کہا تھا کہ انھیں سیکیورٹی وجوہات سے بند رکھا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب محکمہ آثار قدیمہ نے جواب دینا بند کر دیا تو وہ عدالت میں درخواست دینے پر مجبور ہو گئے۔

تاج محل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

درخواست میں حکومت کو ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ’تاج محل کی حقیقی تاریخ‘ کا مطالعہ کرنے اور اسے شائع کرنے اور اس سے متعلق تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے۔

درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ بہت سے گروپوں نے دعویٰ کیا ہے کہ تاج محل ایک پرانا شیو مندر ہے جسے ’تیجو محلیہ‘ کے نام سے جانا جاتا تھا اور اس کی تائید بہت سے مورخین بھی کرتے ہیں۔

سنہ 1965 میں کیا گیا دعویٰ کہ یہ ایک ’شیو مندر‘ ہے

حالانکہ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے یہ درخواست خود دائر کی ہے اور ان کی پارٹی بی جے پی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ تاہم ہندو دائیاں بازو اکثر اس طرح کے دعوے دوسرے مغل اور مسلم حکمراں کے دور میں بنائی گئی تعمیرات پر بھی وقتا فوقتاً کرتا رہا ہے۔

کئی جماعتوں نے تاج محل کو مندر بتاتے ہوئے وہاں کئی مرتبہ پوجا کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔

تاج محل سے متعلق دائیں بازو کے مورخ پی این اوک نے پہلی بار سنہ 1965 میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ ایک شیو مندر ہے۔ کئی بی جے پی کے رہنماوں نے بھی ایسے ہی دعوے کیے ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

بروز بدھ بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ اور جے پور کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی دیویا کماری نے دعویٰ کیا تھا کہ جس جگہ پر تاج محل بنایا گیا ہے وہ ان کے خاندان کا ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’زمین کے بدلے میں معاوضہ دیا گیا تھا، لیکن کتنا تھا قبول ہوا یا نہیں، میں یہ نہیں کہہ سکتی کیونکہ میں نے ان ریکارڈوں کا مطالعہ نہیں کیا جو ہمارے ’پوٹھی خانہ‘ میں موجود ہیں لیکن زمین ہمارے خاندان کی تھی۔ شاہ جہاں نے اسے لیا تھا۔‘

تاج محل میں کمروں کو کھولنے سے متعلق درخواست کی حمایت میں بات کرتے ہوئے انھوں نے میڈیا کے نمائندوں سے کہا کہ ’اس بات کی تحقیقات کی جانی چاہیے کہ تاج محل کی تعمیر سے پہلے وہاں کیا تھا۔ لوگوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ’مقبرے‘ سے پہلے اصل میں کیا تھا۔‘

اس سے پہلے انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کا خاندان کا تعلق ہندو دیوتا رام کے بیٹے سے ہے اور وہ اسے ثابت کرنے کے لیے اپنے خاندان کے شجرہ نسب کا ثبوت فراہم کرنے کو تیار ہیں۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Hardism

حالانکہ ہندو قدامت پسندی کے حامیوں نے تاج محل کو مندر اور اس کے کمروں کو کھولنے کے مطالبے کی حمایت کی ہے، سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے اس طرح کے مہمات کے خلاف بھی ردِعمل دیا۔

یوصف انصاری نے تاج محل کی تعمیر سے متعق شاہ جہاں کا ایک فرمان ٹویٹ کیا جو جس میں شاہ جہاں نے دیویا کماری کے آباؤ اجداد راجا جے سنگھ کو مخاطب کیا ہے۔

ہارڈک راجگور نے لکھا کہ ’اس پر حملہ کرنا ایک غیر ضروری عدم تحفظ کی عکاسی کرتا ہے جس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے بلکہ ہماری ساکھ ختم کو نقصان ہوتا ہے۔‘

پروفیسر ہیپی مون جیکب نے لکھا کہ ’وہ کیسا ملک ہے جہاں لوگ تاج محل کو کھودنا چاہتے ہیں اور اسے ختم کرنا چاہتا ہیں۔‘