'تاج محل اللہ کی ملکیت ہے'

تاج محل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں جتنے سیاح آتے ہیں ان میں سے ایک چوتھائی تاج محل کو دیکھنے کے لیے بھی آتے ہیں
    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

دنیا کی معروف ترین عمارتوں میں شامل تاج محل ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔

انڈیا کی شمالی ریاست اترپردیش کے سنی وقف بورڈ نے عدالت میں جوابی حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاج محل اللہ کی ملکیت ہے اور ان کے پاس اس کے وقف کیے جانے کی دستاویزات نہیں ہیں، تاہم یہ وقف شدہ عمارت ہے اس لیے اسے بورڈ کے حوالے کرنا چاہیے۔

سنی وقف بورڈ کے چیئرمین ظفر احمد فاروقی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ بہت پرانا ہے اور اب اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے ایک ہفتے قبل اترپردیش سنی وقف بورڈ کو یہ بات ثابت کرنے کے لیے دستاویزات طلب کی تھیں کہ تاج محل کو ان کی تحویل میں ہونا چاہیے۔

ظفر احمد فاروقی کا کہنا ہے کہ ملک میں قبروں اور مساجد کو قانونی طور پر وقف کی املاک تصور کیا جاتا ہے اور اس طرح تاج محل بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے بتایا کہ بہت پہلے عرفان بیدار نام کے ایک شخص نے عدالت سے رجوع کیا تھا اور یہ معاملہ 90 کی دہائی میں عدالت میں آیا تھا پھر انڈیا کے محکمۂ آثار قدیمہ (اے ایس آئی) نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں سنہ 2011 میں اپیل کی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ 'تاج محل مقبرہ ہے اور وہاں شاہجہاں کا سالانہ عرس ہوتا ہے، وہاں جمعے کی نماز ہوتی ہے اور رمضان میں تراویح کی نماز ہوتی ہے ایسے میں وقف بورڈ کا اس پر حق ہونا چاہیے۔'

تاج محل

فی الحال تاج محل کا انتظام و انصرام محکمۂ آثار قدیمہ کے ہاتھوں میں ہے۔

جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا اس کا انتظام محکمۂ آثار قدیمہ سے لے کر وقف کے حوالے کر دینا چاہیے تو انھوں نے کہا کہ اس کا انتظام تو محکمے کے پاس ہی رہنا چاہیے کیونکہ وہ اچھی طرح سے اس کام کو انجام دے رہے ہیں اور یہ کہ وقف کے پاس ایسے وسائل نہیں کہ آثار قدیمہ کی اچھی طرح دیکھ ریکھ کر سکے، لیکن اس کا اسحقاق یا تشخص بورڈ کے پاس ہونا چاہیے۔

انھوں نے بتایا کہ ریاست میں وقف کی اپنی ملکیت صرف دو ہیں، ایک جس میں ان کا دفتر ہے اور دوسرا پرانا دفتر اور یہ دونوں ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے مزید کہا کہ 'وقف کی کوئی املاک نہیں ہوتی بلکہ وقف کی ہوئی ساری جائیداد اللہ کی ہوتی ہے اور وقف بورڈ صرف اس کا انتظام دیکھتا ہے۔'

اس سے قبل سنہ 2014 میں اترپردیش کے ریاستی وزیر اعظم خان نے مطالبہ کیا تھا کہ 365 سال پرانی اس یادگار کو سینٹرل سنی وقف بورڈ کے حوالے کر دینا چاہیے۔

انڈیا ٹوڈے میں شائع خبر کے مطابق بعض شیعہ ادارے بھی اس پر اپنا دعویٰ پیش کرتے ہیں۔

جبکہ بعض سخت گیر ہندو تاج محل کو 'تیجو مہالیہ کا مندر' قرار دیتے ہیں تو بعض اسے ہزاروں سال پرانے شیو مندر کی جگہ پر تعمیر کردہ عمارت کہتے ہیں۔