انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی غیر ملکی سربراہان کو گجرات کیوں بلاتے ہیں؟

    • مصنف, تیجا ویدیا
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار

انڈین ریاست گجرات کے شہر جام نگر میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے گلوبل سینٹر فار ٹریڈیشنل میڈیسن کے افتتاح کے موقع پر منگل کو ماریشس کے وزیر اعظم پراوِند جگناتھ بھی انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی اور ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادہانوم کے ساتھ موجود تھے۔

اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ انھوں نے ڈاکٹر ٹیڈروس کو ایک گجراتی نام دیا ہے۔

’آج صبح جب وہ مجھ سے ملے تو کہنے لگے اب میں صحیح گجراتی بن چکا ہوں تو میرا گجراتی نام رکھیں۔ آج میں نے انھیں تلسی بھائی کا نام دیا۔‘

جمعرات کو برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن بھی انڈیا کے دورے کے پہلے دن احمد آباد پہنچیں گے جہاں وہ کچھ صنعتوں کا دورہ کریں گے۔

ایک ہی ہفتے میں دو ملکوں کے وزرائے اعظم انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ گجرات کا دورہ کریں گے تاہم گجرات کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جاپانی وزیراعظم شنزو آبے، چینی صدر شی جن پنگ اور دیگر رہنما بھی گجرات کا دورہ کر چکے ہیں۔

اگر ہم ٹائم لائن پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ سنہ 2014 کے بعد غیر ملکی رہنماؤں کے گجرات کے دوروں میں اضافہ ہوا۔ کئی ممالک کے وزرائے اعظم اور صدور نے گجرات کا دورہ کیا۔

یہاں یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی غیر ملکی سربراہان کو گجرات کیوں لاتے ہیں؟

شی جن پنگ سے بورس جانسن تک

  • برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن جمعرات کو احمد آباد پہنچیں گے، وہ احمد آباد میں چند پروگراموں اور میٹنگز میں شرکت کریں گے اور پھر دلی جائیں گے۔
  • سنہ 2017 میں جاپانی وزیراعظم شنزو آبے 13 اور 14 ستمبر کو احمد آباد کے دو روزہ دورے پر آئے۔
  • فروری 2020 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ انڈیا کے دو روزہ دورے پر پہنچے تھے، وہ سب سے پہلے احمد آباد پہنچے اور اس کے بعد آگرہ اور دلی گئے۔
  • ستمبر 2014 میں جب چینی صدر شی جن پنگ نے انڈیا کا دورہ کیا تو انھوں نے پہلے احمد آباد اور پھر دلی کا دورہ کیا۔
  • سنہ 2018 میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی احمد آباد کا دورہ کیا۔ انھوں نے دلی اور ممبئی کا بھی دورہ کیا۔

روایت میں تبدیلی

اگر ہم 2014 سے پہلے کے دوروں پر نظر ڈالیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ غیر ملکی رہنماؤں کے زیادہ تر دورے دلی میں ہوتے تھے۔ چونکہ ممبئی انڈیا کا اقتصادی مرکز ہے تو کئی غیر ملکی رہنما وہاں بھی گئے۔

اب صورتحال بدل چکی ہے ، نریندر مودی کئی ممالک کے سربراہان کو گجرات لے آئے ہیں۔ گجرات میں غیر ملکی رہنماؤں کے استقبال کے لیے روڈ شو اور رنگا رنگ پروگرام بھی ہوئے ہیں۔

جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنہ 2020 میں گجرات کا دورہ کیا تو موٹیرا کرکٹ سٹیڈیم میں ’نمستے ٹرمپ‘ پروگرام کا انعقاد کیا گیا اور ایک روڈ شو بھی۔ پروگرام پر تنقید بھی کی گئی۔

جاپانی وزیراعظم شنزو آبے کا دورہ انڈیا بھی گجرات سے شروع ہوا۔ ماہرین نے ان کے گجرات کے دورے کو اہم قرار دیا تھا کیونکہ اس وقت گجرات میں پچاس جاپانی کمپنیاں تھیں۔

جب چینی صدر شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ سنہ 2014 میں احمد آباد پہنچے تو دریائے سبرمتی کے کنارے لوک رقص کے ذریعے ان کا استقبال کیا گیا۔

کچھ سیاسی تجزیہ کار اس نئی روایت پر تنقید کرتے ہیں۔

دلی میں مقیم سیاسی تجزیہ کار ونود شرما کہتے ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ وزیر اعظم نے اپنی آبائی ریاست میں کسی غیر ملکی صدر یا وزیر اعظم سے بار بار ملاقات کی ہو۔ یہ مناسب نہیں۔‘

واضح رہے کہ اس دوران کچھ ممالک کے سربراہان نے دارالحکومت دلی کا بھی دورہ کیا۔

اکتوبر 2021 میں ڈنمارک کے وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن نے دلی کا دورہ کیا۔ فروری 2020 میں میانمار کے صدر یو ون منٹ نے دلی اور آگرہ کا دورہ کیا۔ اٹلی کے وزیر اعظم پاولو جینٹیلو نے سنہ 2017 میں دلی کا دورہ کیا تھا۔

اگر کوئی سربراہ ریاست گجرات کا دورہ کر رہا ہے تو اس کے پیچھے کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ وزیر اعظم ہونے کے باوجود نریندر مودی دیگر ریاستوں کے مقابلے گجرات کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔

سری لنکا، بھوٹان اور پرتگال کے وزرائے اعظم نے سنہ 2018 اور 2019 میں انڈیا کا دورہ کیا، وہ بھی دلی کے دورے پر تھے۔

اگر کوئی سربراہ ریاست گجرات کا دورہ کر رہا ہے تو اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ وزیراعظم ہونے کے باوجود نریندر مودی دیگر ریاستوں کے مقابلے گجرات کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔

گجرات بزنس ماڈل

کبھی کبھار صنعت کاروں کے ساتھ ملاقاتیں ہوتی ہیں اور سرمایہ کاری کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔

گجرات کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے نریندر مودی نے ’وائبرینٹ گجرات سمٹ‘ کا آغاز کیا، جس نے ملکی اور ملکی سرمایہ کاروں کو اپنی جانب راغب کیا۔ بی جے پی نے گجرات کو بزنس ماڈل ریاست کے طور پر بھی متعارف کرایا۔

گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ہمنت شاہ کہتے ہیں کہ ’غیر ملکی سربراہوں کے گجرات کے دورے صنعتوں کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوئے ہیں اور آج گجرات کا شمار دنیا کی اہم جگہوں میں ہوتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جب کوئی غیر ملکی مہمان آتا ہے تو انھیں ریاست کی سمجھ آتی ہے۔ جس کے طویل المدتی فوائد ہوتے ہیں۔ اس کی بنیاد پر وہ سرمایہ کاری کے منصوبے بناتے ہیں۔‘

’وزیراعظم گجرات سے ہیں اور اگر اس سے گجرات کو فائدہ ہوتا ہے تو اچھا ہے۔‘

مصنف اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریٹائرڈ پروفیسرگھنشیام شاہ اس سے متفق نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سرمایہ کاروں کا کوئی ملک نہیں ہوتا۔ جب نریندر مودی وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم نہیں تھے تب بھی گجرات میں غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی تھی۔‘

احمد آباد اپنی ٹیکسٹائل ملوں کے لیے جانا جاتا تھا، گجرات کی کاروباری تشخص بی جے پی حکومت سے پرانا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سیاسی مقاصد کے لیے دورے

ڈونلڈ ٹرمپ، نیتن یاہو اور شنزو آبے کے دوروں کے دوران روڈ شوز کا انعقاد کیا گیا اور ہزاروں افراد کو سڑکوں پر جمع کیا گیا تھا۔ ان پروگرامز کو اس وقت تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔

بہت سے ماہرین ایسے پروگراموں کو ’سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش‘ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے پروگرام جمہوریت کے لیے خطرناک ہیں۔

اس حوالے سے دلی میں مقیم سیاسی تجزیہ کار ونود شرما کا کہنا ہے کہ وفاقی سیاست میں ہر ایک کو برابر کا مقام حاصل ہے، اس لیے اگر کسی ایک ریاست کو اہمیت دی جائے تو یہ نقصان دہ ہے۔"

شرما کہتے ہیں کہ ’جب نریندر مودی وزیر اعظم بنے تو انھوں نے ’ٹیم انڈیا‘ کہا۔ جب ٹیم کی بات آتی ہے تو تمام کھلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو یہ دیکھنا چاہیے کہ کن ریاستوں کے پاس غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے وسائل ہیں۔

’یہ مرکز کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاستوں کے درمیان تعمیری مقابلہ پیدا کرے کہ کون سی ریاست سب سے زیادہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری لاتی ہے۔ اس کے لیے ہر ریاست کو یکساں مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔‘

’اگر کوئی وزیر خارجہ گجرات میں خصوصی سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے یا اس کا اصرار ہے تو یہ الگ بات ہے۔‘

سینئیر گجراتی صحافی رمیش اوجھا کا کہنا ہے کہ ’نریندر مودی وزیر اعظم کو اس کی پرواہ نہیں۔ ایک یا دو بار نریندر مودی کے لیے اپنی ریاست میں پروگرام منعقد کرانا ٹھیک ہے لیکن ہمیشہ ایسا کرنا ٹھیک نہیں ہوتا۔‘

’مجھے نہیں لگتا کہ کسی اور وزیر اعظم نے اپنی ریاست کو اتنی اہمیت دی، جتنی نریندر مودی نے دی۔ مجھے اس میں دو چیزیں نظر آتی ہیں، ایک وزیر اعظم کا اپنی ریاست سے لگاؤ ​​اور دوسرا یہ کہ گجرات ایک کمفرٹ زون ہے۔‘

گجرات کی مشہوری کا منصوبہ

جب کوئی رہنما کسی دوسرے ملک کا دورہ کرتا ہے تو وہ عام طور پر اس ملک کے دارالحکومت کا سفر کرتا ہے۔ بعض اوقات وہ ملک کے دارالحکومت کے علاوہ دوسرے شہروں یا ریاستوں کا دورہ بھی کرتے ہیں تاہم بورس جانسن کے دورہ گجرات کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا سوال ہے کہ بڑے غیر ملکی رہنماؤں کو گجرات کیوں لے جایا جا رہا ہے؟

بھگیش سونیجی، گجرات کونسل آف دی ایسوسی ایٹڈ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری آف انڈیا کی سابق چیئرپرسن اور ایک کاروباری شخصیت ہیں۔

بھگیش سونیجی کہتی ہیں کہ ’انڈیا کے وزیراعظم اور انڈیا کے گجراتی وزیراعظم ہونے کے درمیان فرق نریندر مودی میں واضح ہے۔‘

’گجرات میں پروٹوکول دلی جیسا ہے جو دوسری ریاستوں میں نہیں ملتا، پہلے ہوتا تھا کہ غیر ملکی لیڈر دلی آتے اور پھر کہیں اور چلے جاتے، اب غیر ملکی رہنما گجرات آتے ہیں اور پھر کبھی کبھار کہیں اور چلے جاتے ہیں۔‘

گھنشیام شاہ کہتے ہیں کہ ’اس کے پیچھے یہ سوچ ہے کہ گجرات دوسری ریاستوں سے آگے ہے۔ سنہ 2009 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران، بی جے پی کے سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی بی جے پی کے وزیر اعظم کے امیدوار تھے اور مودی ان کے لیے انتخابی مہم چلا رہے تھے۔‘

اس وقت بھی مودی اپنی تقریر میں اڈوانی کو گجرات کے ’نمائندہ‘ کے طور پر پیش کر رہے تھے کیونکہ اڈوانی گاندھی نگر سے لوک سبھا الیکشن لڑ رہے تھے۔

گھنشیام شاہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سنہ 2017 کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ مودی نے کہا کہ ’آج گجراتی کہاں ہے؟ ماضی میں دلی میں کوئی گجراتی نہیں تھا، آج میں ہوں، میں آپ کو چائے کے لیے بلا رہا ہوں۔‘

اس کے ساتھ گھنشیام شاہ کہتے ہیں کہ ’نریندر مودی گجرات کو فروغ دینے کا موقع کبھی نہیں گنواتے، وہ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ گجرات قومی سطح پر ایک ماڈل ہے۔‘