آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا میں کووڈ بحران: گجرات کے وہ نڈر صحافی جو کورونا سے مرنے والوں کی گنتی میں ’رونگٹے کھڑے کرنے والے‘ تجربات سے گزرے
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، انڈیا
یکم اپریل کو انڈیا کی مغربی ریاست گجرات میں ایک اخبار کے ایڈیٹر کی اہلیہ اور بیٹی کووڈ 19 ٹیسٹ کروانے کے لیے ایک سرکاری ہسپتال گیئں۔
قطار میں انتظار کرتے ہوئے انھوں نے دو تھیلوں میں دو لاشیں لپٹی دیکھیں۔ ریاستی دارالحکومت گاندھی نگر کے ہسپتال کے عملے نے بتایا کہ ان کی موت کووڈ 19 سے ہوئی ہے۔
ماں اور بیٹی نے گھر لوٹ کر راجیش پاٹھک کو بتایا کہ انھوں نے ہسپتال میں کیا دیکھا۔ راجیش پاٹھک گجراتی روزنامہ سندیش کے مقامی ایڈیشن کے مدیر ہیں۔
مسٹر پاٹھک نے اس شام اپنے نامہ نگاروں کو بلایا اور اس کے متعلق مزید تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’حکومت کے پریس بیانات میں گاندھی نگر میں تو ابھی تک کووڈ 19 سے ہونے والی کسی موت کا ذکر نہیں کیا جا رہا ہے۔‘ اس دن گجرات میں سرکاری طور پر کووڈ 19 سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد صرف 9 بتائی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگلے دن نامہ نگاروں کی ایک ٹیم نے گجرات کے سات شہروں احمد آباد، سورت، راجکوٹ، وڈوڈرا (بڑودہ)، گاندھی نگر، جام نگر اور بھاؤ نگر میں کووڈ 19 کے مریضوں کا علاج کرنے والے ہسپتالوں کا دورہ اور اموات کی تعداد کا ریکارڈ رکھنا شروع کیا۔
تب سے اس 98 برس سے شائع ہونے والے گجراتی زبان کے اخبار سندیش میں مرنے والوں کی تعداد روزانہ شائع کی جانے لگی، جو کہ عام طور پر سرکاری اعداد و شمار سے کئی گنا زیادہ ہوتی تھی۔
مسٹر پاٹھک کہتے ہیں کہ ’ہسپتالوں میں ہمارے ذرائع موجود ہیں اور حکومت نے ہماری کسی بھی رپورٹ سے انکار نہیں کیا تاہم ہمیں اس کے لیے فرسٹ ہینڈ تصدیق کی ضرورت پڑی ہے۔‘
لہذا اخبار نے کچھ پرانی طرز کی صحافت کرنے کا فیصلہ کیا۔ 11 اپریل کی شام کو دو نامہ نگاروں اور ایک فوٹو گرافر نے احمد آباد کے ایک 1200 بیڈ والے سرکاری کووڈ 19 ہسپتال کے مردہ خانے کا دورہ کیا۔ 17 گھنٹے کے دوران انھوں نے مردہ گھر کے واحد دروازے سے 69 لاشوں کو نکال کر ایمبولینسز میں رکھتے ہوئے دیکھا۔ اگلے دن گجرات میں سرکاری طور پر 55 اموات کا ذکر کیا گیا، جن میں احمد آباد میں 20 اموات بتائی گئی تھیں۔
16 اپریل کی رات صحافیوں نے احمد آباد کے گرد 150 کلومیٹر (93 میل) کا سفر کیا اور تقریباً 21 شمشانوں کا دورہ کیا۔ وہاں انھوں نے جلتی چتاؤں کے علاوہ لاشوں کے تھیلے دیکھے، انھیں شمار کیا، رجسٹروں کی جانچ کی، شمشان کے کارکنوں سے بات کی، ’پرچیوں‘ پر نگاہ ڈالی جس میں موت کی وجہ درج تھی،اور تصاویر لیں اور ویڈیوز ریکارڈ کیں۔
انھیں پتا چلا کہ زیادہ تر اموات میں دوسری ’بیماریوں‘ کا ذکر تھا حالانکہ ان سے نمٹنے کے لیے کووڈ کے سخت پروٹوکول کا استعمال کیا جا رہا تھا۔ رات کے اختتام پر اس ٹیم نے 200 سے زائد لاشوں کی گنتی کی تھی لیکن دوسرے دن احمد آباد میں صرف 25 اموات بتائی گئیں۔
اپریل بھر سندیش کے نڈر صحافیوں نے سات شہروں میں مرنے والوں کی گنتی کی۔ 21 اپریل کو انھوں نے 753 اموات کی گنتی کی جو کہ انڈیا کی مغربی ریاست میں وبا کی دوسری مہلک لہر کے دوران ایک دن میں سب سے زیادہ تعداد تھی۔ اس کے علاوہ انھوں نے دوسرے کئی دن بھی 500 سے زیادہ اموات ریکارڈ کیں۔ پانچ مئی کو انھوں نے وڈوڈرا میں 83 اموات ریکارڈ کیں لیکن سرکاری تعداد 13 بتائی گئی۔
گجرات کی حکومت نے گنتی کو کم دکھانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وفاقی پروٹوکول پر عمل پیرا ہے لیکن دوسرے اخبارات کی رپورٹس میں بھی مبینہ طور پر کم گنتی کا ذکر ہے۔
مثال کے طور پر انگریزی زبان کے معروف اخبار ’دی ہندو‘ نے یہ اطلاع دی کہ 16 اپریل کو ریاست کے سات شہروں میں کووڈ 19 پروٹوکول کے ساتھ 689 لاشوں کی آخری رسومات ادا کی گئیں جبکہ پوری ریاست میں اس دن سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد صرف 94 بتائی گئی۔
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ صرف گذشتہ ماہ ہی گجرات میں کووڈ 19 سے مرنے والوں کی تعداد شاید دس گنا کم کر کے بتائی گئی۔
وبائی مرض کی وجہ سے لوگ جنازے اور آخری رسومات میں شریک نہیں ہو پا رہے ہیں اس لیے اخبارات تعزیتی پیغامات سے بھرے پڑے ہیں اور کچھ تعزیتی پیغامات سے پتہ چلتا ہے کہ کووڈ سے مرنے والوں کی تعداد کو کم کر کے بتایا جا رہا ہے۔
ایک دوسرے معروف مقامی اخبار گجرات سماچار کی رپورٹ کے مطابق سنیچر کے روز بھروچ ضلع کے ایک شمشان گھاٹ میں ہونے والی آخری رسومات کی تعداد اور سرکاری موت کے اعداد و شمار میں مطابقت نہیں تھی۔
گجرات میں اب تک سرکاری طور پر چھ لاکھ 80 ہزار سے زیادہ کووڈ 19 کے انفیکشن سامنے آئے ہیں اور آٹھ ہزار 500 سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔
وبائی مرض سے بری طرح متاثر متعدد انڈین شہروں سے اموات کی کم گنتی کی اطلاعات ملی ہیں لیکن گجرات کی کم گنتی کا پیمانہ واضح طور پر نظر آتا ہے، یہاں تک کہ ہائی کورٹ نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکمران بی جے پی والی ریاستی حکومت کی تادیب کی۔
ججز نے اپریل میں کہا کہ ’اصل تصویر کو چھپانے سے ریاست کو کچھ حاصل نہیں ہو گا اور درست اعداد و شمار کو دبانے اور چھپانے سے عوام میں خوف، اعتماد میں کمی اور خوف و ہراس جیسے سنگین مسائل پیدا ہوں گے۔‘
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ زیادہ تر کووڈ 19 سے ہونے والی موات کا سبب مریض کی بنیادی حالت یا دوسرے امراض بتائے گئے ہیں۔
ایک سینیئر بیوروکریٹ نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ صرف ان مریضوں کی موت کو کووڈ سے ہونے والی موت کے تحت شمار کیا جا رہا ہے جن میں وائرس کی مثبت جانچ آئے اور ان کی موت ’وائرل نمونیا‘ سے ہوئی ہو۔
وزیر اعلیٰ وجے روپانی کا کہنا ہے کہ ’ڈیتھ آڈٹ کمیٹی کے ذریعہ ہر موت کی تحقیقات ہو رہی ہیں اور انھیں ریکارڈ کیا جارہا ہے۔‘
ٹورنٹو یونیورسٹی کے پربھات جھا، انڈیا میں ’ملین ڈیتھ‘ کی حوصلہ مندانہ سٹڈیز کی سربراہی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مردہ خانے اور شمشان گھاٹوں یا قبرستانوں میں مردوں کی گنتی کرنے اور ان کا سرکاری اعداد و شمار کے ساتھ موازنہ کرنے میں خامی ہو سکتی ہے کیونکہ سرکاری اعداد و شمار دیر سے آتے ہیں۔
برطانیہ جیسے ملک نے کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد میں موت کے گننے کے طریقہ کار کے جائزے کے بعد کمی کر دی ہے۔ مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا بھر میں 30 سے 40 فیصد تک کووڈ 19 سے ہونے والی اموات کم رپورٹ کی گئی ہیں۔
ڈاکٹر جھا کا کہنا ہے کہ ’وبائی امراض کے دوران رپورٹنگ اور ریکارڈنگ کے نظام بھر جاتے ہیں، لہذا حکام اکثر (تعداد کو) اپ ڈیٹ کرنے میں وقت لگاتے ہیں لیکن انھیں اپ ڈیٹ کرنا لازمی ہوتا ہے اور وہ تمام اموات کو ریکارڈ کرتے ہیں۔ ہسپتالوں اور شمشان گھاٹوں اور مردہ خانوں میں لاشوں کی گنتی حکام پر دباؤ ڈالنے کا اچھا طریقہ ہے تاکہ وہ اس معاملے میں شفافیت برتیں۔‘
صحافیوں کے لیے یہ ایک خوفناک تجربہ رہا ہے۔
سندیش کے ایک فوٹو گرافر ہیتش راٹھوڑ نے مرنے والوں کی گنتی کا رونگٹے کھڑے کرنے والا تجربہ شیئر کیا۔
انھوں نے کہا ’لوگ (ہسپتالوں میں) داخل ہو رہے تھے اور بیگ میں بند لاش کے طور پر باہر آ رہے تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ مسٹر مودی نے جب سنہ 2016 میں متنازع طور پر کرنسی پر پابندی عائد کی تھی تو بینکوں کے باہر جو قطاریں لگتی تھیں اسی طرح کی شمشان گھاٹوں پر مردوں کی چھ چھ گھنٹے کی قطاریں تھیں۔
انھوں نے کہا کہ ’پانچ سال بعد میں نے ہسپتالوں، مردہ گھروں اور شمشان گھاٹوں کے باہر بھی ویسی ہی قطاریں دیکھیں۔ اس بار وہاں زندہ رہنے کی جدوجہد کرنے والے لوگوں اور مرنے والوں کی قطاریں تھیں۔‘
سندیش کے ایک نامہ نگار رونق شاہ کا کہنا ہے کہ وہ رات کے سناٹے کو چیرنے والی تین کم سن بچوں کی چیخ و پکار سے لرز اٹھے جب ہسپتال نے ان کے والد کی ہلاکت کا اعلان کیا۔ مسٹر شاہ نے بتایا کہ ’بچے کہہ رہے تھے کہ وہ اپنے والد کو گھر لے جانے کے لیے ہسپتال آئے تھے اور سات گھنٹے بعد ان کی لاش لے کر واپس جا رہے ہیں۔‘
دیپک مشلہ جنھوں نے شمشان گھاٹوں میں ٹیم کی رہنمائی کی ان کا کہنا ہے کہ وہ ’خوفزدہ اور لرزتے ہوئے‘ گھر واپس آئے۔
انھوں نے بتایا ’میں نے دیکھا کہ والدین اپنے مردہ بچوں کے جسم کے تھیلے لے کر آتے، آخری رسومات ادا کرنے والے کارکنان کو پیسہ دیتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ براہ کرم میرے بچے کو لے جاؤ اور اسے جلا دو۔ وہ لاش کو چھونے سے بھی خوفزدہ تھے۔‘
اس ٹیم میں شامل ایک رپورٹر امتیاز اجین والا کا خیال ہے کہ گنتی کم کر کے دکھائے جانے کا معاملہ کافی بڑا ہے کیونکہ انھوں نے اور ان کے ساتھیوں نے صرف ایک ہسپتال میں لاشوں کی گنتی کی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ احمد آباد میں کووڈ 19 کے مریضوں کا علاج کرنے والے 171 سے زیادہ نجی ہسپتال موجود ہیں اور ’وہاں کوئی گنتی نہیں کر رہا ہے۔‘