آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دلی ہنگاموں میں گجرات فسادات کی گونج کیوں؟
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی نیوز
انڈیا کے شہر دلی میں گذشتہ ہفتے سے شروع ہونے والے مذہبی فسادات جنھوں نے شہر کو جنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ایک دہائی میں ہونے والے سب سے زیادہ ہولناک فسادات ہیں۔
متنازع شہریت کے قانون کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان معمولی جھڑپوں سے شروع ہونے والے فسادات نے یک لخت ہندؤوں اور مسلمانوں کے درمیان ایک بڑے مذہبی فسادات کی شکل اختیار کر لی اور یہ انھوں نے تیزی سے دارالحکومت کے گلی کوچوں اور جھونپڑ پٹیوں کو اپنے لپیٹ میں لے لیا۔
پولیس ہنگاموں سے نظریں چراتی دکھائی دی اور مسلح جتھوں نے شہر کی سڑکوں پر بلا روک ٹوک ہنگامہ آرائی کی۔ مساجد، گھروں اور دکانوں پر حملہ کیا گیا، بعض اوقات مبینہ طور پر پولیس کے ساتھ مل کر حملہ کیا گیا۔ تشدد سے پردہ ہٹانے والے صحافیوں کو آتش زنوں نے روکا اور ان کے مذہب کے بارے میں پوچھا گیا۔
سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں مسلح افراد زخمی مسلمان مردوں کو قومی ترانہ پڑھنے پر مجبور کرتے اور ایک نوجوان کو بے رحمی کے ساتھ پیٹتے نظر آئے۔ خوفزدہ مسلمان خاندان شہر کے مخلوط محلے چھوڑنے لگے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تین روز کے ہنگاموں اور 20 سے زیادہ ہلاکتوں کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلی مرتبہ ٹویٹ کرتے ہوئے امن کی اپیل کی۔ ان کی ٹویٹ میں متاثرین کے لیے دکھ اور درد مندی کا کوئی اظہار نہیں تھا۔
دلی کی حکمراں جماعت عام آدمی پارٹی کو بھی ان حالات میں کچھ مؤثر اقدامات نہ اٹھانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بہت سوں نے اسے دلی پولیس، جسے انڈیا میں سب سے زیادہ وسائل میسر ہیں کی سنگین ناکامی اور حزب اختلاف کی جماعتوں کا ایک ساتھ اکٹھا ہو کر سڑکوں پر آکر تناؤ کو کم کرنے میں نااہلی قرار دیا ہے۔
اس سب کے پیش نظر مسلح جتھوں کو فسادات کرنے کی کھلی چھوٹ اور متاثرین کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔
اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ دلی ہنگاموں کا موازنہ ماضی میں ہونے والے انڈیا کے بدترین فرقہ وارانہ فسادات سے کیا جا رہا ہے۔
سنہ 1984 میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی ان کے سکھ محافظ کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد دارالحکومت میں سکھ مخالف مظاہروں میں تقریباً 3000 افراد مارے گئے تھے۔
اور سنہ 2002 میں گجرات میں ایک ٹرین میں لگنے والی آگ کے نتیجہ میں 60 ہندو یاتریوں کی ہلاکت کے بعد ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ وزیر اعظم مودی اس وقت ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔
پولیس پر دونوں فسادات میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ دلی ہائی کورٹ نے جو فسادات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے، کہا ہے کہ وہ 'اپنے زیر نگرانی' 'ایک اور 1984' نہیں ہونے دے سکتی ہے۔
براؤن یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر اشوتوش ورشنے جنھوں نے انڈیا میں بڑے پیمانے پر مذہبی تشدد پر تحقیق کی ہے ، کا خیال ہے کہ دلی کے فسادات بہت حد تک 1984 اور 2002 کی طرح 'ایک منظم قتل عام دکھائی دیتا ہے۔'
پروفیسر ورشنے کے مطابق منظم قتل عام اس وقت ہوتا ہے جب پولیس ہنگاموں کو روکنے کے لیے غیر جانبدارانہ طور پر کام نہیں کرتی، اس وقت توجہ نہیں دیتی جب ہجوم ہنگامہ آرائی کر رہا ہوتا ہے اور بعض اوقات مجرموں کی 'واضح طور پر' مدد کرتی ہے۔
دلی پولیس کی بے حسی گذشتہ تین روز سے سب سے سامنے آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ' یقیناً ابھی تشدد کی انتہا ماضی میں ہونے والے گجرات یا دہلی جیسے فسادات تک نہیں پہنچی، ہماری تمام تر توانائیاں اس تشدد کو مزید پھیلنے سے روکنے پر مرکوز ہونی چاِہیں۔'
سیاسیات کے ماہر بھانو جوشی اور محققین کی ایک ٹیم نے فروری میں ریاستی انتخابات سے قبل دلی کے حلقوں کا دورہ کیا تھا۔ انھیں علم ہوا کہ حکمراں جماعت بی جے پی نے اپنی جماعت کو شبہات، دقیانوسی تصورات اور بد نظمی کے بارے میں مسلسل پیغام دینے کے لیے متحرک کیا ہوا ہے۔
ایک محلے میں انھوں نے پارٹی کے ایک کونسلر کو لوگوں سے یہ کہتے ہوئے دیکھا کہ 'آپ اور آپ کے بچوں کے پاس مستقل ملازمتیں اور پیسہ ہے۔ لہذا مفت، مفت کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیں۔ (وہ حکومت کی طرف سے لوگوں کو مفت پانی اور بجلی دینے کی طرف اشارہ کررہی تھیں۔) اگر یہ قوم باقی نہیں رہی تو تمام آزادیاں بھی ختم ہوجائیں گی۔'
تجزیہ کار جوشی کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں ملکی سلامتی کے بارے میں اس طرح کی پیش گوئی کرنا کہ جب انڈیا ایک ’محفوظ ملک‘ ہے 'پہلے سے موجود لسانی تفریق کو مزید وسعت دینا اور لوگوں کو شبہات میں ڈالنے' کے مترادف ہے۔
دلی کی انتخابی مہم میں وزیر اعظم مودی کی جماعت نے ایک متنازعہ نئے شہریت کے قانون، کشمیر کی خود مختاری کو ختم کرنے اور ایک نیا ہندو مندر بنانے کے لیے معاشرے کو تفریق کرنے مہم شروع کی۔
پارٹی قائدین نے آزادانہ طور پر نفرت انگیز تقاریر کی تھیں اور انھیں انتخابی حکام نے سنسر کیا تھا۔ دلی کے ایک مسلم اکثریتی محلے شاہین باغ میں خواتین کے ذریعہ شہریت کے قانون کے خلاف وسیع پیمانے پر ہونے والے احتجاج کو بی جے پی کی مہم نے خاص طور پر نشانہ بنایا تھا جس میں مظاہرین کو 'غدار' ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
بھانو جوشی کا کہنا ہے کہ 'اس مہم کے نتائج واٹس ایپ گروپس، فیس بک پیجز، اور گھرانوں میں شبہات اور نفرت پر مبنی گفتگو کے صورت میں سامنے آئے۔'
دلی کی نازک اور حساس صورتحال کبھی بھی بگڑنے میں صرف وقت حائل تھا۔
اتوار کے روز بی جے پی کے ایک رہنما نے دھمکی جاری کرتے ہوئے دلی پولیس کو کہا کہ ان کے پاس ان مقامات جہاں لوگ شہریت کے قانون کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں کو خالی کروانے کا تین دن کا وقت ہے اور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں تو اس کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔
جھڑپوں کی پہلی اطلاعات بعد میں اس دن سامنے آئیں۔ اس کے بعد ہونے والے نسلی تشدد کی پیش گوئی ایک المیہ تھا۔