انڈیا اور چین کا سرحدی کشیدگی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی اور فوجی رابطے بڑھانے پر اتفاق

چین اور انڈیا نے اپنی مشترکہ سرحد پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

چین کے شہر ووہان میں انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات میں سرحدی کشیدگی کے خاتمے پر اتفاق ہوا۔

غیر رسمی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ان اقدامات کے تحت عسکری اور سکیورٹی رابطوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

خیال رہے کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان تعلقات میں بہتری پر دو روزہ غیر معمولی بات چیت گذشتہ برس متنازع ہمالیہ خطے میں صورتحال کشیدہ ہونے کے بعد پہلی مرتبہ ہو رہی ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

یہ تنازع گذشتہ برس سکّم کی سرحد کے نزدیک بھوٹان کے ڈوکلالم خطے سے شروع ہوا تھا جہاں چینی فوج ایک سڑک تعمیر کرنا چاہتی تھی۔

بھوٹان کا کہنا تھا کہ یہ زمین اس کی ہے۔ انڈین فوجیوں نے بھوٹان کی درخواست پر چینی فوجیوں کو وہاں کام کرنے سے روک دیا۔ چین نے انتہائی سخت لہجے میں انڈیا سے کہا کہ وہ اپنے فوجی، بقول اس کے، چین کے خطے سے واپس بلائے۔

بعد میں دونوں ملکوں میں معاہدے کے بعد انڈین فوج ڈوکلام میں پیچھے ہٹ گئی۔

وزیراعظم مودی صدر نے شی جن پنگ سے اب ملاقات کیوں کی؟

تجزیہ کار شاشنک جوشی نے وضاحت کی کہ کیا وجہ ہے کہ انڈین وزیراعظم مودی اور چینی صدر شی اپنے اپنے دارالحکومت سے دور بغیر اپنی ٹیم کے تعلقات بہتر بنانے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے پاس دراصل کوئی حتمی ایجنڈا نہیں تھا اور بڑھتے ہوئے اختلافات پر بات کرنے کے لیے بھی اچھا خاصا وقت تھا۔

پہلی بات یہ ہے کہ انڈیا سمجھتا ہے کہ گذشتہ برس کا بحران دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک خطرناک موڑ پر لے آیا تھا اور اس طرح کی کشیدگی کو ایک حد تک ہی رہنا چاہیے خاص کر جب ملک میں 2019 میں عام انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے۔ اس سے زیادہ وسیع تناظر میں یہ بھی ہے کہ چین کی معیشت انڈیا کے مقابلے میں پانچ گنا بڑی ہے اور اس کے دفاعی اخراجات تین گنا زیادہ ہیں۔

جب کہ انڈیا کو سرحد پر مقامی سطح پر تو کئی طرح سے عسکری برتری حاصل ہے لیکن اسے اب بھی اپنی طاقت میں اضافے کے لیے وقت درکار ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

دوسرا یہ کہ انڈیا چاہتا ہے کہ اسے ان معاملات پر چین کا تعاون حاصل ہو جہاں پر چین کا کردار اہمیت کا حامل ہے جیسا کہ دہشت گرد گروہوں کے حوالے سے پاکستان پر دباؤ ڈالنا اور جوہری تجارت کے سپلائرز گروپ یعنی این ایس جی کی رکنیت حاصل کرنا۔

حالیہ برسوں میں انڈیا کی مایوسی میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ وہ اپنے ابھرنے کی راہ میں چین کو ایک رکاوٹ کے طور پر دیکھتا ہے۔

تیسرا پہلو یہ ہے کہ انڈیا عالمی سیاست کے ایک غیر یقینی ماحول میں اپنا ردِ عمل دے رہا ہے۔ انڈیا کو تشویش ہے کہ شمالی کوریا کے بحران کی وجہ سے بیجنگ واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کر لے گا اور اس کے بعد روس کے ساتھ بھی تعلقات میں بہتری لائے گا کیونکہ روس کے مغربی ممالک سے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ انڈیا دونوں جانب دوستی رکھے۔

چین اور روس کے مضبوط ہوتے تعلقات اور امریکہ کے روس سے نمٹنے کے لیے چین پر سے نظریں ہٹانے پر انڈیا کے سابق سفارت کار اور انڈیا کی حکومت کو قومی سلامتی پر مشورہ دینے والی ایک کمیٹی کے رکن پی ایس راگوان کا کہنا ہے کہ انڈیا کے لیے دانشمندانہ طرز عمل یہ ہے کہ وہ چین کے ساتھ مربوط بات چیت کو برقرار رکھے چاہے دونوں بڑی طاقتوں کو یہ ناگوار ہی گذرے۔

اس میں چین کے لیے بھی فائدے کی بات ہے کیونکہ گذشتہ برس دنیا میں انڈیا وہ واحد ملک تھا جس نے ایشیا کو سڑک اور ریل کے ذریعے یورپ سے جوڑنے کے چین کے دنیا کے ایک سب سے بڑے منصوبے کی مخالفت کی تھی۔