انڈیا میں لاؤڈ سپیکر پر اذان کا تنازع: ’اذان بمقابلہ ہنومان چالیسا‘

لاؤڈسپیکر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

انڈیا میں ان دنوں ایسے کئی تنازعات ہیں جو مذہب کے گرد گھوم رہے ہیں جن میں سے اکثر میں بحث کا رخ مسلمانوں اور اسلام کی جانب ہے۔

ابھی 'حجاب' کے خلاف معاملہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ 'حلال' کے خلاف شور سنائی دینے لگا۔ اسی دوران لاؤڈ سپیکر پر اذان کے خلاف کئی ریاستوں میں مہم نظر آئی اور یہ مہم اتنی شدت اختیار کر گئی کہ کئی سخت گیر ہندو تنظیموں نے اس کے خلاف عدالت میں مفاد عامہ کے تحت عرضیاں داخل کر رکھی ہیں۔

بات یہاں رکی نہیں بلکہ مغربی ریاست مہاراشٹر کی ایک اہم پارٹی مہاراشٹر نو نرمان سینا یعنی ایم این ایس کے سربراہ راج ٹھاکرے نے یہ دھمکی ڈے ڈالی کہ اگر لاؤڈ سپیکر پر اذان بند نہیں کی گئی تو ان کے کارکنان تین مئی کو مسجدوں کے باہر لاؤڈ سپیکر پر زور زور سے ہنومان چالیسا بجائیں گے۔

واضح رہے کہ ہنومان چالیسا ہندوؤں کے بھگوان ہنومان کی تعریف میں لکھا گیا 40 مصرعوں کا ایک کلام ہے جسے مقدس پاٹھ یا منتر کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسے 16ویں صدی کے شاعر تلسی داس نے لکھا تھا جنھوں نے ہندوؤں کے بھگوان رام پر مبنی رزمیہ 'رام چرترمانس' بھی لکھی تھی۔

سوشل میڈیا پر بھی اسی تنازعے کی بازگزشت سنی جا سکتی ہے اور 'اذان' کے ساتھ ساتھ 'اذان بمقابلہ ہنومان چالیسا' جیسے ہیش ٹیگ نظر آ رہے ہیں جن میں فرقہ وارانہ رنگ نمایاں ہے۔

سنہ 2017 میں انڈیا کے معروف گلوکار سونم نگم نے بھی اذان کی مخالفت کی تھی لیکن بعد میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ کسی مذہب کے خلاف نہیں ہیں اور یہی بات اب راج ٹھاکرے نے کہی ہے کہ وہ کسی مذہب کے خلاف نہیں ہیں بلکہ شور کی آلودگی کے خلاف ہیں اور اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

لیکن انڈیا کے نوجوان لیڈر اور بھیم سینا کے بانی چندر شیکھر آزاد نے انڈیا کے الیکشن کمیشن اور مہاراشٹر کے پولیس سربراہ کو لکھا ہے کہ راج ٹھاکرے کے خلاف تعذیرات ہند کی دفع 298 تحت (دانستہ طور پر مذہبی جذبات مجروح کرنے) مقدمہ چلانے کا کہا ہے۔ جبکہ ان کی پارٹی کے سیکریٹری اشوک کامبلے نے حکام سے راج ٹھاکرے کی پارٹی کی رجسٹریشن کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

راج ٹھاکرے کبھی اپنے چچا بال ٹھاکرے کے جانشین سمجھے جاتے تھے

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/MNS OFFICIAL

،تصویر کا کیپشنایم این ایس لیڈر راج ٹھاکرے کبھی اپنے چچا بال ٹھاکرے کے جانشین سمجھے جاتے تھے

راج ٹھاکرے کے بیان کے بعد مہاراشٹر میں لاؤڈ سپیکر پر اذان سے متعلق بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔

خبررساں ادارے اے این آئی کے مطابق ناسک کے پولیس کمیشنر دیپک پانڈے نے کہا ہے کہ ’تمام مذہبی مقامات کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ وہ تین مئی سے پہلے پہلے لاؤڈ سپیکر کے استعمال کا اجازت نامہ حاصل کریں۔ تین مئی کے بعد اگر کسی کو حکم کی خلاف ورزی کرتے پایا گیا تو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔'

اس کے بعد انھوں نے ہنومان چالیسا کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ 'بھجن یا ہنومان چالیسا بجانے کے لیے اجازت لینی ہوگی۔ اذان کے 15 منٹ پہلے اور 15 منٹ بعد تک اس کی اجازت نہیں ہوگی۔ مسجد سے 100 میٹر فاصلے کے اندر بھی اس کو بجانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس حکم کا مقصد نظم و ضبط برقرار رکھنا ہے۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

بہر حال یہ پہلا موقع نہیں ہے جب انڈیا میں لاؤڈ سپیکر پر اذان کا مسئلہ سامنے آیا ہو۔ ممبئی میں حکمراں جماعت شیو سینا کے رکن شاہد رضا نے بی بی سی اردو سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اذان لوگوں کو نماز کی جانب بلانے کے لیے ہے نہ کہ کسی کو تکلیف دینے کے لیے۔ اگر اس کی آواز کو لاؤڈ سپیکر پر مدھم رکھا جائے تو بہتر ہوگا۔‘

اس سے قبل مہاراشٹر پولیس نے ایک سروے میں پایا تھا کہ اذان کی آواز کو لاؤڈ سپیکر پر کم کرنے کے عدالت کے فیصلے کے بعد 72 فیصد مساجد میں یا تو آواز کو کم کر دیا گیا ہے یا پھر لاؤڈ سپیکر کا استعمال ہی بند کر دیا گیا ہے۔

راج ٹھاکرے کو ’پس پردہ بی جے پی کی حمایت حاصل ہے‘

شاہد رضا نے کہا کہ جہاں تک راج ٹھاکرے کی بات ہے تو وہ مہاراشٹر اور ممبئی میں ’اپنی کھوئی ہوئی زمین کی تلاش میں ہیں اور انھیں پس پردہ بی جے پی کی حمایت حاصل ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ شیو سینا، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور کانگریس کی اتحادی حکومت کے بعد سے راج ٹھاکرے اور ان کی پارٹی ’حاشیے پر چلی گئی ہے اور ان کا سیکولر چولہ اتر گیا ہے۔ یہاں تک کہ انھوں نے اپنے پرچم کا رنگ بھی بدل دیا ہے۔ پہلے اس میں اوپر نیلا، درمیان میں بھگوا یعنی زعفرانی اور نیچے سبز رنگ ہوا کرتا تھا۔ نیلا اگر دلتوں کی نمائندگی کرتا تھا تو بھگوا ہندوؤں کی اور سبز مسلمانوں کی۔ لیکن اب ان کا پرچم پورا کا پورا بھگوا رنگ کا ہے اور اس میں جو مہر استعمال ہوئی ہے وہ عہد وسطی کے مراٹھا بادشاہ شیواجی مہراج کی مہر ہے۔'

شور

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY IMAGES

انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ سارا کھیل وہ بی جے پی کی پشت پناہی کے ساتھ میونسپل اور دیگر انتخابات کے لیے کر رہے ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس سے قبل انھوں نے مہاراشٹر میں بہار اور اترپردیش والوں کے خلاف مہم چھیڑی تھی اور بہار سے سرکاری اسامیوں میں بھرتی کا امتحان دینے والے طلبہ کی پٹائی میں بھی ان کی پارٹی شامل تھی لیکن اب وہ ایودھیا جانے کی بات کرتے ہیں۔ ایودھیا اترپردیش کا ایک شہر ہے جسے مقدس کہا جاتا ہے اور ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ ان کے بھگوان رام وہیں پیدا ہوئے تھے اور وہ وہیں کے بادشاہ تھے۔

’ہم اذان سے ڈسٹرب نہیں ہوتے‘

مہاراشٹر سے قبل جنوبی ریاست کرناٹک میں بھی لاؤڈ سپیکر پر اذان کی مخالفت ہوئی تھی۔ ریاست کرناٹک میں بی جے پی کی حکومت ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے انڈیا کے سابق وزیر اعظم اور جنتا دل (ایس) کے سربراہ ایچ ڈی دیوگوڑا نے خبر رساں ادارے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی پالیسی کا نفاذ ریاست میں بی جے پی کا خاتمہ ہوگا۔

کرناٹک میں کانگریس کے سربراہ ڈی کے شیوکمار نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’وہ مسلمانوں کو پریشان کر رہے ہیں۔ حسن کو حسن رہنے دیں۔ کوئی بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کر رہا۔ ہم اذان سے ڈسٹرب نہیں ہوتے۔‘

دریں اثنا بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے بھی اس پر اپنا موقف ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جو اذان یا لاؤڈ سپیکر کی مخالفت کر رہے ہیں ’ان کا مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے‘۔ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’لوگوں کو اپنے اپنے عقیدے کی پیروی کرنے دیں، انھیں روکیں نہیں۔‘

شور

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY IMAGES

انھوں نے یہ بات اس وقت کہی جب ان کی کابینہ میں شامل ایک بی جے پی وزیر نے ایم این ایس رہنما راج ٹھاکرے کے مسجدوں سے تین مئی تک لاؤڈ سپیکر ہٹانے کے مطالبے کی حمایت کی۔

’لوگوں کو مذہبی بنیاد پر تقسیم کر کے ووٹ لینے کی کوشش‘

لاؤڈ سپیکر پر اذان کی مخالفت سے متعلق دہلی یونیورسٹی میں تاریخ کے استاد اور سماجی کارکن ابھے کمار کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات سے شدید تکلیف ہوئی ہے۔

انھوں نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'مسلمانوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنا کر، ان کے جذبات کو مجروح کر کے، ان کے عقائد اور مذہبی رسومات کو ٹھیس پہنچا کر، لوگوں کو ہندو مسلمان کے نام پر پولررائز کر کے اور لوگوں کو مذہبی بنیاد پر تقسیم کر کے ووٹ لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا 'آپ نے دیکھا ہوگا کہ ان دنوں انڈیا کے مختلف علاقوں میں فرقہ پرستی کے واقعات میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ چاہے وہ کھانے پینے سے متعلق معاملہ ہو، یا اذان یا پھر حجاب کے متعلق ہو، غیر ضروری باتوں کو طول دیا جا رہا ہے۔ اور دن رات دانستہ طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2024 میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں یا پھر گجرات، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ جیسی بعض ریاستوں میں آنے والے مہینوں میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ایسا کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے پاس عوام کی فلاح و بہبود کا کوئی کام نہیں ہے اس لیے انھوں نے 365 دنوں پر مبنی ایک کیلنڈر بنا لیا جس میں اسی طرح کے غیر ضروری مسائل کو اٹھائیں گے۔

'آج ہم حجاب پر بات کریں گے، کل ہم کھانے پینے پر بات کریں گے، پرسوں گوشت پر بات کریں گے۔ اس کے اگلے دن بیف پر بات کریں پھر کسی دن لو جہاد پر بات کریں گے، پھر تبدیلی مذہب کے بارے میں بات کریں گے، دہشت گردی کے بارے میں بات کریں گے، ان کے پاس 365 کے بجائے سات آٹھ سو مسائل ہیں جسے وہ چھیڑتے رہتے ہیں۔'

شور

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس سے قبل لاؤڈ سپیکر پر اذان کو کب کب چیلنج کیا گیا؟

یوں تو دنیا بھر کی بہت سی مساجد میں آج بھی لاؤڈ سپیکر پر اذان نہیں دی جاتی ہے لیکن لاؤڈ سپیکر کے عام ہونے کے بعد مسلمانوں میں بھی اس کے استعمال پر اختلاف رائے رہا ہے۔ لاؤڈ سپیکر کے حامی اس کی مخالفت کرنے والے کو سائنس مخالف اور قدامت پسند تک کہتے رہے ہیں۔

بہر حال انڈیا کی عدالت عظمی میں سنہ 2005 میں پہلی بار یہ معاملہ سامنے آیا جب جولائی میں سپریم کورٹ نے رات دس سے صبح چھ بجے تک لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی لگا دی تھی۔ پھر اس کے خلاف کئی ریاستوں میں اپیل کی گئی تو پھر تہواروں کے مواقع پر سال میں 15 دنوں کے لیے نصف شب تک لاؤڈ سپیکر کے استعمال کی اجازت دی گئی۔

پھر اگست سنہ 2016 میں بامبے ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ لاؤڈ سپیکر کا استعمال آئین ہند میں آرٹیکل 25 کے تحت شہریوں کو دیے جانے والے بنیادی حقوق میں شامل نہیں ہے۔

عدالت عالیہ نے کہا 'ہمارا فیصلہ ہے کہ تمام مذہبی مقامات شور کی آلودگی کے قانون کی پاسداری کریں۔ کوئی بھی مذہب یا مت یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ لاؤڈ سپیکر یا پبلک ایڈریس سسٹم کا استعمال ان کا بنیادی حق ہے۔'

اذان اسلام کا بنیادی حصہ ہے

،تصویر کا ذریعہTAUSEEF MUSTAFA

،تصویر کا کیپشناذان اسلام کا بنیادی حصہ ہے

پھر جون سنہ 2018 میں شمالی ریاست اتراکھنڈ کے ہائی کورٹ نے لاؤڈ سپیکر کی آواز کو پانچ ڈیسیبل تک محدود کر دیا حالانکہ سانس لینے کی آواز بھی دس ڈیسیبل ہوتی ہے۔ پھر بعد میں عدالت نے اسے غلطی کو تسلیم کیا اور حکم واپس لے لیا لیکن رات کے 12 بجے کے بعد بغیر اجازت کسی مندر، مسجد یا گرودوارے کو لاؤڈ سپیکر کی اجازت سے روک دیا۔

ستمبر سنہ 2018 میں کرناٹک ہائی کورٹ نے رات دس بجے کے بعد لاؤڈ سپیکر کے استعمال سے روک دیا اور آواز کی سطح کے معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنے کا حکم دیا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے مطابق لاؤڈ سپیکر کی آواز کی سطح صنعتی علاقے میں دن کے وقت 75 ڈی بی جبکہ رات کو 70 ڈی بی تک اجازت ہے۔ کمرشل علاقے میں دن اور رات میں یہ بالترتیب 65 اور 55 ڈی بی ہے جبکہ رہائشی علاقے میں 55 اور 45 ڈی بی ہے۔

جولائی سنہ 2019 میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے عوامی مقامات پر بغیر پیشگی اجازت نامے کے لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی لگا دی۔

15 مئی سنہ 2020 کو الہ آباد ہائی کورٹ نے یہ کہا کہ اذان اسلام کا بنیادی اور لازمی حصہ ہے لیکن لاؤڈ سپیکر یا آواز کو اونچا کرنے والی مشینوں کے ذریعے اس کی ادائیگی لازمی نہیں ہے۔ اس لیے عدالت نے انسانی آواز میں اذان کی اجازت قائم رکھی لیکن آئین ہند کے آرٹیکل 25 کے تحت اسے بنیادی حقوق سے مبرا قرار دیا۔

جنوری سنہ 2021 میں کرناٹک ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو حکم دیا کہ مذہبی مقامات پر لگے غیر قانونی لاؤڈ سپیکر کو فوری طور پر ہٹا دیا جائے جو کہ سپریم کورٹ کے شور کی آلودگی کے فیصلے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

جبکہ نومبر میں ایک بار پھر سے عدالت نے ریاستی حکومت سے یہ وضاحت طلب کی کہ مسجدوں کو قانون کی بنیاد پر لاؤڈ سپیکر کے استعمال کی اجازت ہے اور پوچا کہ ان کو محدود کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔