مسکان خان کا بی بی سی کو انٹرویو: ’میں بہت ڈری ہوئی تھی، جب ڈرتی ہوں تو اللہ کا نام لیتی ہوں‘

- مصنف, عمران قریشی
- عہدہ, بی بی سی ہندی
’میں نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا کیونکہ میں بہت ڈر گئی تھی۔ اور جب میں ڈرتی ہوں تو اللہ کا نام لیتی ہوں۔‘
یہ کہنا ہے انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ طالبہ مسکان خان کا جو وہ مقامی کالج میں بی کام سیکنڈ ایئر کی طالبہ ہیں۔ گذشتہ دو دنوں سے مسکان کی ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں وہ حجاب پہن کر اپنے کالج میں ایک سکوٹی پر داخل ہوتی ہیں اور اس دوران انھیں دیکھ کر ایک ہجوم ’جے شری رام‘ کے نعرے بلند کرتا ہے اور اُن کا پیچھا کرتا ہے۔
ہجوم کی جانب سے نعرے بلند کیے جانے پر وہ مڑتی ہیں اور ایک ہاتھ اٹھا کر ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگاتی ہیں۔
بی بی سی نے مسکان خان سے بات کر کے اس ویڈیو کے پیچھے محرکات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ذیل میں بی بی سی کی جانب سے پوچھے گئے سوال اور مسکان کی جانب سے دیے گئے جواب تحریر کیے گئے ہیں۔
اس دن آپ کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا تھا؟
مجھے کچھ معلوم نہیں تھا، میں ہمیشہ کی طرح کالج جا رہی تھی۔ باہر سے آنے والے کچھ لوگ گروپ کی شکل میں کھڑے ہو گئے اور مجھ سے کہا کہ آپ برقع پہن کر کالج کے اندر نہیں جائیں گی۔ اگر آپ کالج جانا چاہتی ہیں تو آپ کو برقع اور حجاب اُتار کر اندر جانا ہو گا۔ اگر آپ برقعے میں رہنا چاہتی ہیں تو آپ گھر واپس چلی جائیں۔
مگر میں اندر آ گئی۔ ابتدا میں میں نے سوچا کہ میں خاموشی سے چلی جاؤں گی۔ لیکن وہاں بہت سے نعرے بلند ہو رہے تھے۔ ’برقع ہٹاؤ‘ اور ’جے شری رام‘ جیسے نعرے لگ رہے تھے۔
میں نے سوچا تھا کہ میں کلاس میں جاؤں گی لیکن وہ تمام لڑکے میرے پیچھے ایسے آ رہے تھے جیسے وہ سب مجھ پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ یہ 30 سے 40 افراد تھے۔ میں اکیلی تھی، ان میں انسانیت نہیں ہے۔ اچانک وہ میرے پاس آئے اور چلانا شروع کر دیا۔ کچھ نے نارنجی رنگ کے سکارف پکڑے ہوئے تھے۔
اور میرے منھ کے سامنے آ کر اس طرح لہرانے لگے اور وہ کہہ رہے تھے: ’جے شری رام‘، ’چلے جاؤ‘، ’برقعہ ہٹاؤ۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہVideo Grab
آپ کتنے عرصے سے حجاب پہنے ہوئے ہیں؟
جب میں پہلی بار پری یونیورسٹی (کالج) گئی تھی تو تب سے میں نے حجاب پہننا شروع کیا تھا۔ کالج میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ سب کچھ پہلے جیسا تھا۔ میں حجاب پہن کر کلاس میں جا رہی تھی۔ میں کلاس میں برقع نہیں پہنتی صرف حجاب پہنتی ہوں۔ میں اپنے بال چھپا کر کلاس اٹینڈ کرتی ہوں۔ لیکن اس دن وہ لوگ مجھے کیمپس میں داخل نہیں ہونے دے رہے تھے۔
ان کی بڑی تعداد باہر سے آئی ہوئی تھی۔ کالج کے چند طالب علم ہی وہ وہاں موجود تھے۔
وہ لوگ کیا کہہ رہے تھے؟
وہ کہہ رہے تھے کہ برقع اُتار دو، ورنہ کالج نہیں جا سکتیں۔ وہ سب مجھے ڈرا رہے تھے۔ میرے سامنے چار لڑکیاں آئیں۔ گیٹ بند تھا۔ پھر کسی طرح پرنسپل صاحب آ گئے۔ پرنسپل اور اساتذہ مجھے بحفاظت اندر لے گئے۔
لڑکے ان پر آوازیں کستے چلے گئے، وہ رو کر اندر چلی گئیں، پھر میرے ساتھ بھی وہی ہوا۔ میں نہیں روئی، میں نے اس کے خلاف آواز بلند کی۔
یہ بھی پڑھیے
آپ نے کیا کہا...؟
میں نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا، کیونکہ میں ڈر گئی تھی۔ جب ڈر لگتا ہے تو اللہ کا نام لیتی ہوں۔ جب میں اللہ کا نام لیتی ہوں تو ہمت پیدا ہوتی ہے۔
حجاب پہننے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
کالج میں ہمارے پرنسپل نے خود کہا تھا کہ آپ حجاب پہن کر آ سکتی ہیں۔ یہ بیرونی عناصر آ کر ایسا تماشا بنا رہے ہیں۔ پرنسپل صاحب نے خود کہا کہ آپ جیسے پہلے آیا کرتے تھے ایسے ہی آؤ، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
یہ باہر کے لوگ آ کر اس قسم کے کام کر رہے ہیں۔
آپ کے خیال میں کس کو حجاب پہننا چاہیے یا نہیں؟
ہاں، پہننا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہ@BombayBombil
اگر اس پر اعتراض ہو تو آپ کی کیا رائے ہو گی؟
مجھے اپنے انڈیا کے آئین پر یقین ہے۔ انشا اللہ ہم ہائی کورٹ کے حکم کا انتظار کر رہی ہیں۔
حجاب بمقابلہ زعفرانی شال کی بحث جو اس وقت چل رہی ہے کیا یہ ٹھیک ہے، کیا اس سے دوسرے طلبا کے ساتھ آپ کے تعلقات متاثر ہوں گے؟
میری عاجزانہ گزارش ہے کہ میں یہاں کوئی ذات پات کی باتیں نہیں پھیلا رہی ہوں، چاہے کوئی ہندو ہو یا مسلمان۔۔ میں صرف اپنی تعلیم، اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہوں کیونکہ ہمیں تعلیم حاصل کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ ہمیں اندر نہیں آنے دیا جا رہا کیونکہ ہم حجاب پہن کر آتی ہیں۔
ہم اسے برسوں سے پہن رہی ہیں۔ کوئی نئی چیز نہیں پہنی ہے۔ یہ لوگ تو ایسے نارنجی دوپٹے لہرا رہے تھے کہ اگر یہ برقع پہن کر آئیں گی تو ہم پھر یہ پہن کر آئیں گے۔
میرے کالج میں لڑکے پرنسپل سے کہہ رہے ہیں کہ اگر وہ برقع پہن کر آئے گی تو ہم اس نارنجی شال کو بھی نہیں اتاریں گے۔
ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ جیسے مرضی آئیں اور جو مرضی پہن کر آئیں۔ ہمیں صرف حجاب پہننے کی اجازت چاہیے۔ وہ کیسے آتے ہیں ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے۔ ہمیں صرف تعلیم کی ضرورت ہے۔ ہمارے پرنسپل ہمارے ساتھ ہیں، اساتذہ ہمارے ساتھ ہیں۔ یہ صرف بیرونی عناصر ہیں جو آ کر تماشا بناتے ہیں۔
اور ہمیں انڈیا کے آئین پر یقین ہے۔












