دلی فسادات: محمد انصار، جہانگیر پوری کے ’رابن ہُڈ‘ مرکزی ملزمان میں کیسے شامل؟

محمد انصار

،تصویر کا ذریعہKAPIL MISHRA/TWITTER

ایک جانب انڈیا کی سپریم کورٹ نے دلی کے کشیدگی زدہ علاقے جہانگیر پوری میں انہدامی کارروائی پر حکم امتناع جاری کیا ہے وہیں یہ بات بھی کی جا رہی ہے کہ اس واقعے کے مرکزی ملزم دراصل کون ہیں۔

انڈیا کے مرکزی شہر دلی کے جہانگیر پوری علاقے میں سنیچر کو ہندوؤں کے ہنومان جینتی جلوس کے دوران پُرتشدد واقعے کے بعد سے حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ اس معاملے میں پولیس نے اب تک 23 افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں سے دو نابالغ ہیں۔ گرفتار ہونے والوں میں سے 14 کو اتوار کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

دلی پولیس کے ریکارڈ کے مطابق محمد انصار کی عمر 35 سال ہے۔ والد کا نام علاؤالدین ہے۔ انھوں نے چوتھی جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے اور جہانگیر پوری بی بلاک میں رہتے ہیں۔

ہنومان جینتی کے موقع پر جلوس کے دوران سنیچر کو جب ہندو اور مسلمانوں کے درمیان پُرتشدد جھڑپ ہوئی تو وہ موقع پر موجود تھے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تشدد کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب یاترا سی بلاک سے جی بلاک جا رہی تھی، جبکہ انصار بی بلاک کے رہنے والے ہیں۔

محمد انصار کا جہانگیر پوری بی بلاک میں چار منزلہ مکان ہے۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ نیچے کی منزل پر رہتے ہیں اور اوپر کی تین منزلوں پر کرایہ دار رہتے ہیں۔

انصار کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ پورا خاندان چند سال پہلے بی بلاک میں رہنے آیا تھا۔ اس سے پہلے وہ جہانگیر پوری کے سی بلاک میں رہتے تھے۔ یہ تمام معلومات انصار کے پڑوسیوں سے ملی تھیں۔

انصار کے گھر کے دونوں جانب ہندو خاندان رہتے ہیں۔ ان گھروں کے باہر ہندو دیوی دیوتاؤں لکشمی، گنیش اور ہنومان کی تصویریں اس بات کی گواہی دیتی ہیں۔

جب انصار کے بارے میں محلے کے لوگوں سے پوچھا گیا تو گلی میں موجود کچھ لوگوں نے اپنے دروازے بند کر لیے اور کچھ نے میڈیا سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

شیخ ببلو 45 سال سے جہانگیر پوری میں مقیم ہیں۔ وہ سنیچر کے واقعے کے عینی شاہد بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ محمد انصار کو ان کی پیدائش کے وقت سے جانتے ہیں اور سی بلاک میں ان کے پڑوسی تھے۔

بی بی سی سے بات چیت میں شیخ ببلو کا کہنا ہے کہ ’بچوں کی تعلیم اور مناسب پرورش کی وجہ سے انھوں نے سی بلاک کا علاقہ چھوڑ دیا۔ انھوں نے زیادہ تعلیم حاصل نہیں کی ہے اور وہ کباڑ کا کاروبار کرتے ہیں اور فٹ پاتھ پر ان کی موبائل کی دکان بھی ہے۔‘

جہانگیر پوری، دلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ نے دلی کے کشیدگی زدہ علاقے جہانگیر پوری میں انہدامی کارروائی پر حکم امتناع جاری کیا ہے

رابن ہڈ یا راجہ بابو؟

پولیس کی گرفت میں آنے کے بعد محمد انصار کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہی ہے جس میں انھیں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ 'ہاں میں گنہگار ہوں۔'

اس ویڈیو پر سوال پوچھتے ہی شیخ ببلو بول پڑے۔ ’یہ ویڈیو ہم نے بھی دیکھی ہے۔ پولیس کو 100 سے زیادہ ویڈیوز ملی ہیں۔ ایک ویڈیو بھی دکھا دو جس میں انصار فساد کر رہے ہوں۔‘

اس علاقے میں رہنے والے مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ محمد انصار نے تشدد کو روکنے کی کوشش کی تھی، اسے اکسانے کی نہیں ۔ وہ ہر ایک کی مدد کے لیے آگے آتے تھے خواہ وہ ہندو ہو یا مسلمان۔

لوگوں نے دعویٰ کیا کہ کورونا کے دور میں انصار نے لوگوں میں کھانے کے پیکٹ تقسیم کیے، کورونا وائرس سے مرنے والے ان ہندوؤں کو کندھا بھی دیا جنھیں ان کے گھر والے بھی چھوڑ گئے تھے۔ کچھ انھیں علاقے کا 'رابن ہڈ' کہتے ہیں تو کچھ فلم 'راجہ بابو' کا گووندا جو موقع کے حساب سے پولیس والے بھی ہیں، لیڈر بھی ہیں اور وکیل بھی بن جاتے ہیں۔

کچھ لوگوں نے ایک ارتھی کو کندھا دیتے ہوئے ان کی ویڈیو بھی بی بی سی کے ساتھ شیئر کی، کچھ لوگوں نے ہمیں صبح ہنومان جینتی کی ویڈیو بھی بھیجی، جس میں وہ ایک بچے کو تلوار نہ اٹھانے کی نصیحت کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

تاہم بی بی سی ان ویڈیوز کی صداقت کی تصدیق نہیں کر سکا۔

بی بلاک میں ہی ان کے پڑوس میں للت بھی رہتے ہیں۔ بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا ہے کہ ’گلی محلے کے حساب سے وہ اچھے انسان ہیں ہر گھر کی خوشی اور غم میں شریک ہوتے ہیں۔‘

لیکن جیسے ہی للت سے پولیس کی جانب سے انصار پر لگائے گئے الزامات پر سوال پوچھے گئے، للت یہ کہتے ہوئے گھر کے اندر چلے گئے کہ ’کیا کہا جائے اندر اور باہر کی شکل میں بہت چیزوں میں فرق آ جاتا ہے۔‘

روزی بھی بی بلاک میں محمد انصار کے پڑوس میں رہتی ہیں۔ بی بی سی سے گفتگو میں وہ محمد انصار کے بارے میں کہتی ہیں کہ ’وہ بہت مددگار انسان ہیں۔ لوگوں کی ہر طرح سے مدد کرتے ہیں۔‘

پولیس ریکارڈ میں محمد انصار

تاہم دلی پولیس کا دعویٰ علاقے کے مکینوں کی رائے سے بالکل مختلف ہے۔

بی بی سی سے بات چیت میں دلی پولیس کے سپیشل کمشنر لا اینڈ آرڈر دیپندرا پاٹھک کا کہنا ہے کہ 'جہانگیر پوری تشدد کی تحقیقات ابھی بہت ابتدائی مرحلے میں ہے، محمد انصار کو پورے واقعے کا 'ماسٹر مائنڈ' کہنا درست نہیں ہو گا۔‘

’یہ درست ہے کہ وہ دلی پولس کی ایف آئی آر میں نامزد ملزم ہیں۔ ان کا نام سب سے پہلے آیا۔ سب سے پہلے انھوں نے وہاں چار پانچ لوگوں کو دھکا دیا تھا۔ اس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ باقی تفصیلات زیرِ تفتیش ہیں۔‘

انصار کے گھر کے دونوں طرف ہندو خاندان رہتے ہیں
،تصویر کا کیپشنانصار کے گھر کے دونوں طرف ہندو خاندان رہتے ہیں

'ابھی تفتیش ابتدائی مرحلے میں ہے'

محمد انصار کے نام سے ایک فائل بھی میڈیا میں گردش کر رہی ہے جس میں ان کے پرانے جرائم کا احوال ہے۔

اس فائل کا جواز پیش کرتے ہوئے دیپندر پاٹھک نے کہا کہ ’ہاں، محمد انصار کے خلاف پہلے سات ایف آئی آر درج ہیں، جن میں سے ایک جوئے سے، ایک سرکاری ملازمین پر حملہ کرنے اور ایک لوگوں کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہے۔‘

’دلی میں ان کی (جرائم کی) ہسٹری ہے اور وہ ہمیشہ مقامی پولیس کی نظر میں رہے ہیں۔ ان کے خلاف سات مقدمات ابھی بھی زیر سماعت ہیں اور وہ ضمانت پر ہیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پولیس کو محمد انصار کے خلاف تشدد میں ملوث ہونے کے کوئی ویڈیو ثبوت ملے ہیں، اس پر انھوں نے کہا کہ ’بہت سارے ثبوت موجود ہیں، ثبوت کے بغیر گرفتاری ممکن نہیں۔‘

کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ علاقے کی جامع مسجد کے امام نے محمد انصار کو فون کر کے موقع پر بلایا تھا۔

تاہم جب جہانگیر پوری سی بلاک کی جامع مسجد کے سکریٹری صلاح الدین سے ان دعوؤں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے اسے یکسر مسترد کر دیا۔

انھوں نے کہا کہ ’مسجد کے امام یا ان کے پاس محمد انصار کا موبائل نمبر بھی نہیں ہے۔ واقعے کے وقت محمد انصار مسجد میں بھی نہیں تھے۔‘

محمد انصار کو ایک روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیجا گیا تھا، تاہم اب ریمانڈ میں تین دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔

دیپندر پاٹھک محمد انصار کے لیے ماسٹر مائنڈ کے بجائے، انگریزی الفاظ جیسے ’انسٹی گیٹر‘ یا اشتعال دلانے والا جیسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ بہت سے دوسرے لوگ بھی شامل تھے۔

سوشل میڈیا پر محمد انصار کی وائرل تصویر اور سیاسی جماعتوں کے دعوے

سوشل میڈیا پر انصار کی کئی تصاویر بھی وائرل ہیں جن میں سے ایک بی جے پی رہنما کپل مشرا نے پوسٹ کی ہے جس میں ان کے ہاتھ میں بندوق بھی ہے۔

جب بی بی سی نے دلی پولیس سے یہ سوال پوچھا کہ کیا محمد انصار کے پاس لائسنس یافتہ اسلحہ کے بارے میں کوئی اطلاع ہے؟ تو پولیس نے صاف صاف انکار کر دیا۔

ان کی تصاویر کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ انھیں سونے کے زیورات پہننے کا بہت شوق ہے لیکن انھیں جاننے والوں کا دعویٰ ہے کہ تصویر میں نظر آنے والے تمام زیورات اصلی سونے کے نہیں ہیں۔ وہ دکھاوا کرنا پسند کرتے ہیں۔

دوسری جانب دلی بی جے پی کے ترجمان پروین شنکر کپور نے دعویٰ کیا ہے کہ محمد انصار کا تعلق عام آدمی پارٹی سے ہے۔

jcb

،تصویر کا ذریعہAni

،تصویر کا کیپشناس آپریشن کے دوران مسجد کے گیٹ کو بھی منہدم کیا گیا

سپریم کورٹ کے حکم پر ہندو، مسلم فسادات سے متاثرہ علاقے میں آپریشن روک دیا گیا

ادھر پولیس نے گذشتہ روز علاقے میں سڑک کے دونوں جانب ناجائز تجاوزات کو بلڈوزر سے منہدم کرنا شروع کیا اور عدالت عظمیٰ کے حکم جاری کرنے کے تقریباً دو گھنٹے بعد تک یہ کاروائی چلتی رہی۔ سپریم کورٹ اب اس کیس کی سماعت جمعرات کو کرے گی۔

بدھ کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی کے زیر انتطام مقامی میونسپلٹی نے پولیس کی موجودگی میں ناجائز تعمیرات کو آج صبح سے ہی بلڈوور کی مدد سے مسمار کرنا شروع کر دیا تھا۔ یہ کاروائی اس وقت رُکی جب مارکسی کمیونسٹ پارٹی کی رہنما ورندا کرات عدالت کا حکم امتناع تھامے جہانگیر پوری میں موقع پر پہنچ گئیں اور بلڈوزر کے سامنے کھڑی ہو گئیں۔

بعد میں انھوں نے اعلی پولیس حکام سے اس معاملے پر بات کی جس کے بعد انہدامی کارروائی روک دی گئی ہے۔

تاہم اس دوران اس علاقے میں موجود مسجد کے گیٹ کو منہدم کیا جا چکا تھا۔ متاثرہ علاقے میں فی الحال کشیدگی ہے۔

پولیس افسر دیپیندر پاٹھک نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ فساد زدہ علاقے میں صورتحال پوری طرح پُرامن ہے۔ پولیس نے جہانگیر پوری علاقے کے سبھی راستوں پر ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

یاد رہے کہ ہفتے کے روز ہندو، مسلم فسادات کے بعد جہانگیر پوری علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس اور ہنگامہ آرائی روکنے کی فورس تعینات کی گئی تھی۔ تجاوزات کے خلاف کاروائی کے دوران اضافی پولیس بھی علاقے میں تعینات کی گئی تھی۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے اسے 'بی جے پی کی انتقامی کاروائی' قرار دیا ہے۔

سیاسی رہنما اور رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے جہانگیر پوری علاقے میں انہدامی کاروائی پر ردعمل دیتے ہوئے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ 'حکومت نے غریب مسلمانوں کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے۔ ناجائز تجاوزات کے نام پر مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کی طرح یہاں بھی یہ مسلمانوں کےگھر مسمار کریں گے۔ کوئی نوٹس نہیں، عدالت جانے کا کوئی موقع نہیں۔ یہ مسلمانوں کو زندہ رہنے کی جرات کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔'

عام آدمی پارٹی کے رہنما راگھو چڈھا نے فسادات کے لیے بی جے پی کو ذمےدار قرار دیا ہے۔ 'اگر بلڈوزر چلانا ہے تو بی جے پی کے ہیڈ کورارٹرز پر چلائیے ۔ فساد رک جائے گا۔ یہ دنگے، فساد یہی لوگ کروا رہے ہیں۔ پندرہ برس تک یہ رشوت لے لے کر ناجائز تعمیرات کی اجازت دیتے رہے اور اب اسے مسمار کرنے کی بات کر رہے ہیں ۔ بی جے پی کے ان رہنماؤں کے گھر منہمدم کیے جانے چاہییں جنھوں نے رشوت لے کر یہ ناجائز تعمیرات کروائیں۔'

اس حوالے سے بی جے پی کی طرف سے کوئی باضابطہ بیان نہیں آیا ہے لیکن پارٹی کے بعض رہنماؤں نے بحث و مباحثے میں فسادات کے لیے مسلمانوں اور ‏عام آدمی پارٹی اور کانگریس کو مورد الزام قرار دیا ہے۔

دلی

،تصویر کا ذریعہReuters

ہنومان جینتی جلوس اور پرتشدد واقعات

انڈیا کے مرکزی شہر دلی کے جہانگیر پوری علاقے میں سنیچر کو ہندوؤں کے ہنومان جینتی جلوس کے دوران پُرتشدد واقعے کے بعد سے حالات بدستور کشیدہ ہیں۔

اس معاملے میں پولیس نے اب تک 23 افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں سے دو نابالغ ہیں۔ گرفتار ہونے والوں میں سے 14 کو اتوار کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہندو مسلم فسادات کے اس واقعے میں دونوں فریقین کے ہاتھوں میں ہتھیار دکھائی دے رہے ہیں اور تشدد میں ملوث تمام عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

اس واقعے سے متعلق ایک ویڈیو کی بنیاد پر دلی پولیس نے سونو شیخ، الیاس یونس اور الیاس امام کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں سونو گولیاں چلاتا نظر آ رہا ہے۔

دلی کے پولیس کمشنر نے جہانگیر پوری کی مسجد پر بھگوا (زعفرانی) پرچم لگانے کے الزام کی تردید کی ہے۔ عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ واقعے میں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا گیا۔

’بغیر اجازت جلوس نکالا گیا‘

خود دلی پولیس نے اعتراف کیا ہے کہ جہانگیر پوری میں جلوس کے لیے انتظامیہ سے ضروری اجازت نہیں لی گئی تھی۔

دلی پولیس کے سپیشل سی پی (لا اینڈ آرڈر) دیپندر پاٹھک نے ایک نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سونو شیخ، الیاس یونس اور الیاس امام۔ انھیں ویڈیو میں پولیس اور دیگر لوگوں پر گولی چلاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ دو دن تک تفتیش کے بعد، ہم نے انھیں گرفتار کر لیا ہے۔‘

دیپندر پاٹھک نے کہا کہ ’اس دن تین یاترائیں نکالی گئی تھیں۔ دو جلوسوں کو اجازت دی گئی تھی، ایک صبح گیارہ بجے اور دوسرا دو بجے۔ لیکن تیسرا جلوس جو جہانگیر پوری میں نکلا اسے اجازت نہیں دی گئی تھی۔‘

’اس جلوس کی درخواست ایک دن پہلے شام کو تھانے کو دی گئی تھی اور اسے اجازت نہیں مل سکی تھی۔‘

پیر کی دوپہر تک یہ کہا جا رہا تھا کہ جلوس کے منتظمین کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ دیپندر پاٹھک نے ایک نیوز چینل کو بتایا کہ منتظمین کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے لیکن انھیں اس تفتیش کا حصہ بنایا گیا ہے۔

تاہم پیر کی شام کو میڈیا رپورٹس سامنے آئیں کہ منتظمین کے خلاف اجازت کے بغیر جلوس نکالنے پر ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔

دلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپولیس متعصبانہ رویہ برتنے کے الزامات کو مسترد کر رہی ہے

اطلاعات کے مطابق شمال مغربی دلی کی ڈی سی پی اوشا رنگنانی کو بتایا گیا کہ 17 مارچ کو تیسرے جلوس کے منتظمین کے خلاف سرکاری ملازم کے حکم کی خلاف ورزی کرنے پر آئی پی سی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

مسجد میں کوئی داخل نہیں ہوا: دلی پولیس

سوشل میڈیا پر کچھ پیغامات میں کہا جا رہا تھا کہ جہانگیر پوری کے سی بلاک میں واقع مسجد پر بھگوا (زعفرانی) جھنڈا لگانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن دلی پولیس نے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

ایک نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے سپیشل سی پی دیپندر پاٹھک نے کہا کہ کسی نے مسجد میں داخل ہونے کی کوشش نہیں کی۔

دلی پولیس کمشنر راکیش استھانہ نے بھی مسجد پر بھگوا جھنڈا لگانے کے دعوؤں کی تردید کی ہے۔

پولیس پر ایک مخصوص مذہب کے خلاف کارروائی کا الزام

دلی پولیس پر ایک خاص مذہب کے خلاف کارروائی کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ جب پولیس کے کمشنر راکیش استھانہ سے یہ سوال پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’ہم ہر طرح کے فرانزک ثبوتوں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ہم نے جتنے لوگوں کو گرفتار کیا ہے ان میں دونوں اطراف کے لوگ ہیں۔

’تحقیقات میں جس کے خلاف ثبوت ملے گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ پولیس پر یہ الزام بالکل غلط ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

پولیس کے مطابق تصادم کب شروع ہوا؟

راکیش استھانہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اس پورے معاملے میں نو لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں آٹھ پولیس اہلکار اور ایک عام شہری ہے۔ ’اس سے یہ واضح ہے کہ پولیس نے دونوں فریقین کو ایک دوسرے سے دور کیا اور عام لوگوں کو چوٹ پہنچنے سے بچایا۔‘

پولیس کے مطابق مجموعی طور پر 23 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے آٹھ ایسے ہیں جن کا ماضی میں مجرمانہ ریکارڈ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سی سی ٹی وی اور ڈیجیٹل فوٹیج کی جانچ جاری ہے جس کی بنیاد پر مزید لوگوں کو گرفتار کیا جائے گا۔ تین ہتھیار برآمد کیے گئے ہیں۔ کیس کو اب کرائم برانچ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’فرانزک ٹیم نے جائے وقوعہ کی جانچ کی ہے، مزید شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں، اس کیس کی ہر زاویے سے تفتیش کی جائے گی، سوشل میڈیا کی پوسٹس کو بھی دیکھا جائے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ جو بھی اس میں کسی نہ کسی طرح ملوث رہا ہو وہ بچ نہ سکے۔‘

راکیش استھانہ نے کہا کہ دونوں فریقین کی وائرل ویڈیوز سامنے آ چکی ہیں۔ ’دونوں (فریقین) کے ہاتھوں میں ہتھیار دکھائی دے رہے ہیں۔ تشدد میں ملوث تمام فریقوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘

دلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دلی پولس کی اب تک کی جانچ پر جو سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ان میں سے کچھ یہ ہیں کہ کیا جلوس میں تلواریں لہرانے والے لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی کی جا رہی ہے؟

اگر یہ جلوس پولیس کی اجازت کے بغیر نکالا گیا تھا تو انھوں نے اسے نکلنے سے پہلے کیوں نہیں روکا؟ آخر یہ جلوس حساس علاقے میں کیسے پہنچا؟ عام طور پر اتنے بڑے جلوس کو بغیر اجازت شروع ہی نہیں ہونے دیا جاتا۔ ابھی ان سوالوں کے جواب آنا باقی ہیں۔

جہانگیر پوری فسادات کے عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟

جلوس میں شامل ایک شخص گوریشنکر گپتا نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ جہانگیر پوری کی ایک مسجد کے قریب جلوس کے شرکا پر پتھر برسائے گئے۔ جلوس کے منتظم سکھین سرکار کہتے ہیں ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ’کیا آپ کو معلوم ہے جے شری رام ( کے نعرے سے) کون لوگ جلتے ہیں؟ وہ زعفرانی رنگ سے جلتے ہیں؟‘

مگر یہاں کے علاقہ مکین اس بات کو جھوٹ کہتے ہیں۔

جہانگیر پوری، دلی

،تصویر کا ذریعہEPA

مسجد کے امام محمد صلاح الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ مسجد پر حملہ کیا گیا تھا۔ ’یاترا میں شامل لوگوں نے پہلے پتھر برسانا شروع کیے اور اس کے جواب میں (علاقہ مکینوں نے) ان پر پتھر برسائے گئے۔‘

رہائشی شہادت علی کہتے ہیں کہ انھوں نے افطار کے وقت دیکھا کہ جلوس کے شرکا نے ہاتھوں میں تلواریں اٹھائی ہوئی ہیں اور وہ ’جے شری رام‘ کے نعرے بلند کرتے ہوئے مسجد میں داخل ہو رہے ہیں۔

دریں اثنا دلی کی حکمران جماعت آپ (عام آدمی پارٹی) نے الزام لگایا ہے کہ جہانگیر پوری فسادات کے اہم ملزم انصار بی جے پی کے رہنما ہیں تاہم بی جے نے اس الزام کو مسترد کیا ہے۔

عام آدمی پارٹی نے کہا ہے کہ ’ملزم انصار بی جے پی کا لیڈر ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پارٹی نے ہی ہنومان کے یومِ پیدائش کے مقدس موقع پر فساد کروائے ہیں۔‘

نیوز چینل آج تک کے ساتھ بات چیت میں بی جے پی کے ترجمان پرین شکلا نے ان ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ ماضی میں دلی کی حکومت نے جہانگیر پوری علاقے میں روہنگیا اور بنگلہ دیشی مسلمانوں کو آباد کیا تھا تاہم بعض حلقے

دلی میں شمال مغرب کا علاقہ جہانگیر پوری قریب 47 سال قبل 1975 میں قائم کیا گیا تھا۔ یہاں مختلف علاقوں سے آئے پناہ گزینوں کی آبادیاں قائم کی گئی تھیں جن کا تعلق اتر پردیش، بہار، راجستھان اور مغربی بنگال سے تھا۔

جہانگیر پوری میں ہندو اور مسلم دونوں برادریوں کے لوگ رہتے ہیں۔ ہندوؤں کی ایک بڑی آبادی خاص طور پر دلت یہاں آباد ہے۔ ماضی میں بھی یہاں ہندو مسلم فسادات ہوچکے ہیں۔