یوکرین جنگ: کیا انڈیا عالمی سطح پر بڑھتی قیمتوں میں دنیا کو سستی خوراک مہیا کر سکتا ہے؟

گندم

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, بی بی سی، انڈیا

گذشتہ ہفتے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر جو بائیڈن سے کہا تھا کہ یوکرین جنگ کے باعث عالمی سطح پر خوراک کی بڑھتی قیمتوں اور قلت کے سبب انڈیا دنیا کو خوراک بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ انڈیا کے پاس اپنی 1.4 ارب آبادی کے لیے 'کافی خوراک' موجود ہے اور 'اگر ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اجازت دے تو وہ اگلے دن سے دنیا کو خوراک مہیا کرنے کے لیے تیار ہیں۔'

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کی قیمتوں کی فہرست کے مطابق عالمی سطح پر کاشتکاری کے مسائل کے سبب کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں یوکرین جنگ سے قبل ہی دس سالہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر تھیں۔ یوکرین جنگ کے بعد سے ان قیمتوں میں مزید تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور یہ سنہ 1990 کے بعد سے اب تک کی بلند سطح پر جا پہنچی ہے۔

روس اور یوکرین دنیا میں گندم کے دو بڑے برآمدکنندگان ہیں اور دونوں ملک مجموعی طور پر عالمی سطح پر گندم کا ایک تہائی حصہ سپلائی کرتے ہیں۔ اسی طرح ان دونوں ممالک کا عالمی سطح پر سورج مکھی کے تیل کی برآمد کا 55 فیصد اور مکئی اور جو کی برآمد کا 17 فیصد حصہ ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے مطابق دونوں ممالک سے رواں برس 14 ملین ٹن گندم اور 16 ملین ٹن مکئی کی برآمد متوقع تھی۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خورک و زراعت کی روم میں مقیم اقتصادی ماہر اوپالی گلکیٹی کا کہنا ہے کہ ’خوراک کی رسد میں رکاوٹ اور روس پر عائد پابندیوں کے خطرے کا مطلب یہ ہے کہ خوراک کی برآمدات کے اس حجم کو اب اپنے کھاتے سے باہر نکالنا ہو گا۔ ایسے میں انڈیا خوراک کی برآمدات میں قدم رکھ سکتا ہے، خاص طور پر جب اس کے پاس گندم کا کافی ذخیرہ موجود ہو۔‘

چاول کی فصل

،تصویر کا ذریعہReuters

انڈیا دنیا میں گندم اور چاول کی پیداوار کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ اپریل کے اوائل تک اس کے پاس دونوں اجناس کا 74 ملین ٹن ذخیرہ موجود تھا۔ اس ذحیرہ میں سے 21 ملین ٹن اس کے سٹرٹیجک ریزرو اور سرکاری سطح پر خوراک کی فراہمی کے پروگرام کے لیے رکھا گیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت انڈیا اپنے ملک میں سات سو ملین افراد کو سستی خوراک کی فراہمی کرتا ہے۔

انڈیا دنیا کو ارزاں نرخوں پر گندم اور چاول فراہم کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ وہ اس وقت بھی تقریباً 150 ممالک کو چاول اور 68 ممالک کو گندم برآمد کر رہا ہے۔ اس نے سنہ 2020-2021 کے دوران تقریباً سات ملین ٹن گندم برآمد کی تھی۔

حکام کے مطابق، تاجروں نے، بین الاقوامی منڈی میں خوراک کی بڑھتی ہوئی مانگ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، اپریل سے جولائی کے دوران تین ملین ٹن سے زیادہ گندم کی برآمدات کے معاہدے پہلے ہی کر لیے ہیں۔ اس طرح زرعی اجناس کی برآمدات 2021-22 میں ریکارڈ 50 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔

یہ بھی پڑھیے

انڈین کونسل فار ریسرچ آن انٹرنیشنل اکنامک ریلیشز میں زراعت کے پروفیسر اشوک گولاٹی کے مطابق انڈیا کے پاس رواں مالی سال میں 22 ملین ٹن چاول اور 16 ملین ٹن گندم برآمد کرنے کی گنجائش اور صلاحیت ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'اگر ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن حکومت کے پاس موجود خوراک کے ذخیرہ کو برآمد کرنے کی اجازت دے تو اس کا حجم اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ یہ عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں کو کم کرنے اور دنیا بھر میں ممالک کو درآمدات کی صورت میں پڑنے والے بوجھ کو کم کرنے میں مدد دے گا۔'

اجناس

،تصویر کا ذریعہReuters

البتہ اس حوالے سے کچھ تحفظات بھی ہیں۔ دہلی میں قائم ایک تھنک ٹینک سنٹر فار پالیسی ریسرچ کے سنیئر فیلو ہرش دمودارن کہتے ہیں کہ 'اس وقت تو ہمارے پاس خوراک کا کافی ذخیرہ موجود ہے۔ لیکن اس حوالے سے کچھ تحفظات بھیں ہیں اور ہمیں دنیا کو خوراک مہیا کرنے کے حوالے سے بڑھ چڑھ کر دعوے نہیں کرنے چاہیے۔'

ان میں سب سے پہلے، توقع سے کم فصل کی پیداوار کا خدشہ ہے۔ انڈیا میں گندم کا نیا سیزن جاری ہے اور حکام کا تخمینہ ہے کہ اس سال ریکارڈ 111 ملین ٹن کٹائی کی جائے گی، جو لگاتار چھٹا بمپر فصل کا سیزن ہے۔

لیکن دامودرن کی طرح کے ماہرین اس سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ رواں برس کھاد کی قلت اور بہت زیادہ بارش اور شدید گرمی جیسے موسمی حالات کے باعث فصل کی پیداوار تخمینے سے کافی کم رہے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ 'ہم فصل کی پیداوار کا زیادہ تخمینہ لگا رہے ہیں۔ ہمیں اگلے دس دنوں میں علم ہو جائے گا۔'

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک اور سوالیہ نشان کھاد پر بھی ہے جو کاشتکاری کے لیے ایک اہم جز ہے۔ یوکرین جنگ کے بعد سے انڈیا کے کھاد کے ذخیرے میں کمی آئی ہے۔ انڈیا ڈائی امونیم فاسفیٹ اور نائٹروجن، فاسفیٹ، سلفر اور پوٹاش پر مشتمل کھاد درآمد کرتا ہے۔

روس اور بیلاروس دنیا میں پوٹاش کی 40 فیصد برآمد کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر کھاد کی قیمتیں پہلے ہی گیس کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے زیادہ ہیں۔

دامودرن کا کہنا ہے کہ کھاد کی قلت آسانی سے اگلے برس پیداوار کو متاثر کر سکتی ہے۔ وہ ایک کہتے ہیں کہ اس قلت کو دور کرنے کا ایک طریقہ انڈیا کے پاس ہے کہ انڈیا مصر اور افریقی ممالک کے ساتھ گندم کے بدلے کھاد کے معاہدے کرے۔

اسی طرح اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو انڈیا کو برآمدات بڑھانے میں لوجسٹکل مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اقتصادی ماہر اوپالی گلکیٹی کہتے ہیں کہ 'بڑی مقدار میں اجناس کی برآمد کرنے کے لیے ٹرانسپورٹیشن، سٹوریج، اور بحری جہازوں جیسا بہت بڑا انفراسٹرکچر درکار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ مقدار میں اجناس کی ترسیل شروع کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔'

اس سب میں ٹرانسپورٹیشن کی بڑھتی قیمتوں کا سوال بھی موجود ہے۔

اور آخر میں ملک کے اندر بھی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے پر تشویشناک حد تک تحفظات پائے جاتے ہیں۔ انڈیا میں خوراک کی افراط زر مارچ میں 16 ماہ کی بلند ترین سطح 7.68 فیصد تک پہنچ گئی۔

اس کی بڑی وجہ خوردنی تیل، سبزیوں، اجناس، دودھ، گوشت اور مچھلی کی بڑھتی قیمت کی وجہ سے ہے۔ انڈیا کے مرکزی بینک نے خبردار کیا ہے کہ 'عالمی سطح پر بنیادی خوراک کی چیزوں پر بڑھتی قیمتوں کے دباؤ کے باعث ملک میں مہنگائی کی غیر مستحکم صورتحال جنم لے گی۔

آئی ایف پی آر آئی نامی ایک تھنک ٹینک کے مطابق روس کے یوکرین پر حملے کے عالمی غذائی تحفظ پر 'سنگین نتائج' مرتب ہونے کا امکان ہے۔

عالمی ادارہ خوراک و زراعت کا اندازہ ہے کہ روس اور یوکرین سے گندم، کھاد اور دیگر اجناس کی برآمدات میں طویل رکاوٹ دنیا میں غذائی قلت کے شکار افراد کی تعداد آٹھ سے بڑھا کر 13 ملین تک کر سکتی ہے۔

حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے اور تسلیم کردہ حقائق کے مطابق ملک میں اضافی خوراک کا ذخیرہ ہونے اور بمپر فصل ہونے کے باوجود انڈیا میں 30 لاکھ سے زیادہ بچےخوراک کی کمی کا شکار ہیں۔

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں ایسے بچوں کی شرح ملک میں تیسرے نمبر پر ہے۔

دامودرن کا کہنا ہے کہ 'آپ غذائی تحفظ کے بارے میں لاپرواہ نہیں ہو سکتے اور آپ خوراک کے ذخیرے کو سستی خوراک کے پروگرام کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔

اگر ایک چیز جس کے بارے میں انڈین سیاستدان جانتے ہیں تو وہ ہے خوراک ہے یا اس کی کمی۔ یہ ہی ان کی ریاستی اور وفاقی حکومتوں میں رہنے کی قسمت کا فیصلہ کرتی ہے۔ ماضی میں بھی پیاز کی بڑھتی قیمت کئی ریاستی اور وفاقی حکومتوں کے گرنے کی وجہ بنی ہے۔