گوشت پر پابندی: انڈیا میں رہنے والے سبزی خور نہیں ہیں لیکن یہ دائیں بازو کو کون سمجھائے گا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, اپرنا الوری
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دلی
انڈیا میں ایک بار پھر گوشت سے بنی اشیا نشانے پر ہیں اور ان پر سیاست ہو رہی ہے۔ دائیں بازو کے سیاستدانوں نے دارالحکومت دلی میں ہندو تہوار نوراتری کے دنوں میں گوشت کی دکانیں بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
لیکن انڈیا اور ہندوؤں کو بطور سبزی خور دکھانے کی پُرزور کوششوں میں گوشت کے ساتھ ملک کی طویل اور گہری تاریخ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
انڈیا میں حکومتی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دلی کے رکن پارلیمنٹ پرویش ورما کہتے ہیں ’اگر دوسری کمیونٹیز ہندو تہوار کا احترام کرتی ہیں اور اس فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہیں، تو ہم ان کے تہواروں کا احترام بھی کریں گے۔‘
انھوں نے نو روزہ تہوار کے دوران انڈیا بھر میں گوشت کی دکانیں بند کرنے کی تجویز دی ہے۔ یہ تہوار 2 اپریل کو شروع ہوا ہے۔ نوراتری کے اس تہوار کے دوران اکثر ہندو روزے رکھتے اور گوشت کھانے سے پرہیز کرتے ہیں۔
اپوزیشن اور دہلی کی حکومت (عام آدمی پارٹی)، دونوں نے ہی اس تجویز پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اپنے لذید کھانوں کے لیے مشہور۔۔۔ مکھن والی دھواں اڑاتی چکن کڑاہی اور منھ میں گھل جانے والے کبابوں سے رغبت رکھنے والے اس شہر میں پہلی بار اس قسم کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
ورما شاید اس حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ ان دنوں رمضان کا مہینہ بھی چل رہا ہے اور گوشت افطار یا شام کے کھانے کا ایک اہم جزو ہے۔ اور بظاہر ایسا بھی لگتا ہے کہ وہ یہ مانتے ہیں کہ گوشت کی دکانیں مسلمانوں کی ملکیت ہیں اور زیادہ تر مسلمان ہی وہاں سے خریداری کرتے ہیں اور پورے انڈیا یہاں تک کہ دلی کے تمام ہندو نوراتری کا تہوار مناتے ہیں۔
تاریخ، اعداد و شمار اور حالیہ صورتحال سب ان کے خیالات سے متصادم ہیں۔ دائیں بازو کے نظریات کے برعکس انڈین خوراک، گوشت یا سبزی اور مسلم اور ہندو کی بنیاد پر لوگوں کو مختلف حصوں میں بانٹنے کے نظریے کو رد کرتی ہے۔
دی اکنامک ٹائمز کے ایڈیٹر وکرم ڈاکٹر انڈین کھانوں کے متعلق باقاعدگی سے لکھتے ہیں، وہ کہتے ہیں ’یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کیونکہ انڈین روایات اس سے کہیں زیادہ گہری ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتے ہیں کہ ’انڈیا میں گوشت کھانے کی روایت بہت پرانی ہے اور اس کے ساتھ سبزی کھانے کی روایت بھی بہت گہری ہے اور یہ دونوں اہم ہیں۔ لیکن مجھے اکثر مجبور کیا جاتا ہے کہ میں ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کروں‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ مغرب کے برعکس انڈیا میں ترقی پسند افراد ہی گوشت کھانے کا دفاع کرتے ہیں، مغرب میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد اکثر کم گوشت کھانے اور زیادہ برقرار رہ سکنے والی اشیا اپنانے اور تازہ آب و ہوا میں رہنے پر زور دیتے ہیں۔
وکرم کہتے ہیں ’انڈیا میں سبزی خوری کو دائیں بازو کی جانب سے ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مودی حکومت میں گائے کے گوشت کے خلاف جنگ تیز
اب سے پہلے تک کھانے کی لڑائی زیادہ تر گائے کے گوشت تک ہی محدود تھی۔ ہندو گائے کو مقدس سمجھتے ہیں اور انڈیا کی بیشتر ریاستوں میں گائے ذبح کرنے پر طویل عرصے سے پابندی عائد ہے۔
لیکن 2014 میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے گائے کے گوشت کے خلاف جنگ تیز ہو گئی ہے۔ ان کی پارٹی نے ایسی ریاستوں جہاں ان کا مضبوط ووٹ بینک ہے، وہاں مذبح خانوں کو بند کر دیا ہے اور دائیں بازو کے ہندو گروپوں نے یہ مویشی پالنے والے کسانوں کے ساتھ تشدد بھی لیا ہے۔
اس کا ایک واضح اثر نظر آتا ہے اور وہ یہ کہ اب دلی جیسے شہروں کے ریستورانوں میں گائے کا گوشت مینو کا حصہ تو ہے مگر اکثر اسے صرف ’گوشت‘ لکھا جاتا ہے۔ بہترین قسم کا گوشت بیچنے والے دکاندار جو درآمد شدہ سؤر کے گوشت کی پسلیاں اور دنبے کے گوشت کے پارچے بیچتے ہیں، وہ اسے فریز کر کے نہیں رکھتے اور جو لوگ گائے کا گوشت کھاتے ہیں وہ ڈر کے مارے بس مذاق میں ہی کبھی کبھار سرگوشیوں میں بیف کا نام لیتے ہیں۔
اگرچہ اونچی ذات کے اکثر ہندو گائے کا گوشت نہیں کھاتے مگر انڈیا بھر میں لاکھوں دلت (جنھیں پہلے اچھوت سمجھا جاتا تھا)، مسلمان اور مسیحی گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔ گائے کا گوشت جنوبی ریاست کیرالہ کی کمیونٹیز میں بھی شوق سے کھایا جاتا ہے۔ کیرالہ میں صرف ایک اقلیتی گروہ مذہبی وجوہات کی بنا پر گوشت سے پرہیز کرتی ہے۔
انڈیا میں گوشت کھانے کی روایت مسلمان بادشاہ یا حملہ آور فوجیں نہیں لائیں
انڈیا میں غذائی روایات پر تحقیق کرنے والی غذائیت کی ماہر مانوشی بھٹاچاریہ کا کہنا ہے کہ جنگلی جانوروں کا گوشت 70 ہزار قبل مسیح سے انڈین غذا کا لازمی جزو تھا۔
تاریخ کے مطابق انڈیا میں انڈس سولآئزیشن کے زمانے سے گائے کا گوشت اور جنگلی سؤر بڑے پیمانے پر کھائے جاتے تھے۔ 1500 اور 500 قبل مسیح کے درمیانی ویدک دور میں جانوروں اور گائے کی قربانی عام تھی، گوشت دیوتاؤں کو بھی پیش کیا جاتا تھا اور دعوتوں میں بھی کھایا جاتا تھا۔
لہذا دائیں بازو کے خیالات کے برعکس انڈیا میں گوشت کھانے کی روایت مسلمان بادشاہ یا حملہ آور فوجیں نہیں لائیں۔ بلکہ نئی خوراک اپنانے کی روایتیں نئی سلطنتوں، تجارت اور زراعت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوئیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ گائے کا گوشت اور پھر گوشت برہمنوں اور بعض دیگر اعلیٰ ذاتوں کی خوراک سے غائب ہوتا گیا۔ اس کی مختلف وجوہات ہیں لیکن مذہب سے زیادہ اہم وجہ نہیں تھی۔
ڈاکٹر بھٹاچاریہ کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جنوبی انڈیا میں برہمن کم از کم 16ویں صدی تک گوشت کھاتے تھے۔ شمال میں کچھ دیگر اعلیٰ ذاتوں کے ہندوؤں نے 19ویں صدی کے آخر تک گوشت ترک کیا۔
ان کا خیال ہے کہ آج کل کھائی جانے والی ماڈرن خوراک (جس میں چاول، گندم اور دالیں شامل ہیں) کو بنانے میں بڑا کردار نوآبادیاتی نظام (جس نے زمین کے استعمال، زراعت اور تجارت میں تبدیلیاں کیں) اور قحط سالی کا ہے۔
مگر کچھ براہمن ابھی تک گوشت کھاتے ہیں۔ کشمیری پنڈت اپنے روغن جوش کے لیے مشہور ہیں۔ روغن جوش بکرے یا دنبے کے گوشت سے مل کر بنائی جانے والی ڈش ہے جس میں بہت زیادہ مقدار میں سرخ مرچیں شامل کی جاتی ہیں۔
اس کے علاوہ بنگال اور جنوبی کونکن کے ساحلی علاقوں میں رہنے والے برہمن گھرانوں میں مچھلی کی مختلف اقسام شوق سے کھائی جاتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نچلی ذاتوں کے لوگ گوشت کھانے کا اقرار کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں
گذشتہ برس انڈیا کے نیشنل سیمپل سروے کے اعداد و شمار کے مطابق آج گوشت سے بنی اشیا میں بیف سب سے کم مقبول ہے اور مچھلی سب سے زیادہ پسند کی جاتی ہے اس کے بعد چکن، مٹن اور آخر میں گائے کا گوشت۔
یہ بتانا مشکل ہے کہ انڈین کتنا گوشت کھاتے ہیں۔ پیو سروے میں اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ سبزی خور ہیں، 39 فیصد نے ہاں میں جواب دیا جبکہ 81 فیصد نے کہا کہ وہ گوشت کھاتے ہیں مگر چند پابندیوں کے ساتھ۔ یعنی وہ کچھ مخصوص قسم کا گوشت نہیں کھاتے یا ہفتے کے مخصوص دنوں میں گوشت سے پرہیز کرتے ہیں۔
لیکن سرکاری سروے میں کم تعداد بتائی گئی ہے۔ 2021 کے سروے کے مطابق دیہات میں رہنے والے صرف ایک چوتھائی گھرانوں جبکہ شہروں میں رہنے والے ہر پانچویں شہری نے گذشتہ ہفتے گوشت یا مچھلی) کھائی تھی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ باقی سب سبزی خور ہیں، بلکہ صرف یہ کہ انھوں نے سروے سے پہلے سات دنوں میں کسی قسم کا گوشت نہیں کھایا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر نچلی ذاتوں کے لوگ گوشت کھانے کا اقرار کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں۔
ڈاکٹر بھٹاچاریہ کہتی ہیں کہ ’ہم سبزی خور ہیں جو گوشت ’بھی‘ کھاتے ہیں۔‘
اور وکرم ڈاکٹر بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انڈیا دنیا کی واحد ثقافتوں میں سے ایک ہے جہاں جب دوسرے لوگ گوشت کھا رہے تھے اس وقت اشرافیہ نے سبزی کو اپنایا تھا۔
نتیجہ لذیذ پکوانوں سے بھرا دستر خوان ہے جس میں گوشت کو زیادہ اہمیت دیے بغیر دستر خوان پر ایک ہیرو نہیں سمجھا جاتا۔
یہ بھی پڑھیے
گوا میں رہنے والے وکرم ڈاکٹر مقامی کھانے کو ’نیم سبزی خور‘ کا نام دیتے ہیں۔ وہ کدو کے سالن کی مثال دیتے ہیں جس میں جھینگے بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ غذائیت سے بھرپور اور مزیدار پکوان ہے۔
’جب لوگ گوا آتے ہیں وہ صرف گوشت کھانا چاہتے ہیں۔ لیکن گوا میں رہنے والے اتنی زیادہ مقدار میں گوشت نہیں کھاتے۔ یہاں تک کہ کیتھولک کھانے بھی دالوں پر مشتمل ہیں جن میں تھوڑا سا گوشت یا خشک مچھلی شامل ہوتی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ جنوبی ریاست تامل ناڈو میں دلت ایک سبزی کی ڈش میں پھلیوں کو جانوروں کے کئی اعضا سے ملا کر پکاتے ہیں۔
تاہم وہ کہتے ہیں کہ ’اس طرح مختلف اشیا ملا جلا کر کھانا پکانے کی روایات اب دم توڑ رہی ہیں۔ ’اب آپ کو ریستورانوں کے مینو میں گوشت اور سبزی ملی ڈشز نہیں ملتیں۔‘
انڈیا میں ہر سیکنڈ میں بریانی کی دو پلیٹوں کا آرڈر دیا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اور ان کی بات درست ہے۔ میرا تعلق حیدرآباد سے ہے، ایک ایسا شہر جو مسلماوں کے پکوانوں کے لیے مشہور ہے، جو کھانے مجھے پسند ہیں انھیں کہیں اور تلاش کرنا مشکل ہے۔ مثلاً دالچا، دال اور سبزیوں کا ایک مسالے دار سوپ جسے دنبے یا بکرے کے گوشت کے ساتھ پکایا جاتا ہے۔۔۔ یا ٹماٹر کٹ جس میں انڈے پکا کر گاڑھے ٹماٹر کی گریوی میں بھگوئے جاتے ہیں۔
وکرم ڈاکٹر کے مطابق ہمارے پاس موقع ہے کہ انڈیا میں سبزی خوروں کی پسند کو مدِنظر رکھتے اور اس کے ساتھ گوشت اور سمندری خوراک شامل کرتے ہوئے ہم ایک صحت مند اور آب و ہوا کے موافق کھانے کی روایت بنا سکتے ہیں۔
لیکن دوسری جانب گوشت کی کھپت بڑھ رہی ہے جس میں فیکٹری میں تیار شدہ چکن سب سے زیادہ استعمال ہو رہا ہے۔ پچھلے سال انڈین فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارم سوگی پر سب سے زیادہ آرڈر کی جانے والی ڈش چکن بریانی تھی۔ انڈیا میں ہر سیکنڈ میں بریانی کی دو پلیٹوں کا آرڈر دیا جاتا ہے۔
وکرم ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ’انڈیا کی سبزی خور روایات کو منایا جانا چاہیے مگر دوسروں ہر اسے مسلط کرنے سے کوئی بھی سبزی خوری کی جانب قائل نہیں ہو گا۔‘









