مِس یونیورس ہرناز کور سندھو کا انڈیا میں حجاب کے تنازعے سے متعلق بیان

ہرناز کور سیندھو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنہرناز کور سندھو نے دسمبر 2021 میں مِس یونیورس کا مقابلہ جیتا تھا

انڈیا سے تعلق رکھنے والے مِس یونیورس ہرناز کور سندھو نے حجاب کو ذاتی معاملہ اور پسند قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'اگر کوئی لڑکی حجاب پہنتی ہے تو یہ اس کی مرضی ہے۔'

نیوز ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے ہرناز کور نے کہا کہ ’اگر کوئی لڑکی کسی کے دباؤ میں آکر ایسا کرتی ہے تو اسے اس کا کھل کر اظہار کرنا چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا 'اسے جینے دو جس طرح وہ جینا چاہتی ہے۔ ہم مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔'

مسکان خان
،تصویر کا کیپشنبعض مسلم طالبات نے کرناٹک میں حجاب پر پابندی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے

بعض مسلم طالبات کے حجاب پہننے کی حمایت میں ہرناز کور کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب انڈیا کی ریاست کرناٹک نے تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

اس پابندی کے خلاف ایک مقدمہ اس وقت انڈیا کی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اس سے پہلے حکومت کرناٹک کے اس متنازعہ فیصلے کو چند مسلم طالبات نے ریاستی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا تاہم عدالت نے پابندی کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔

کرناٹک میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنریاست کرناٹک میں طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف دوسری ریاستوں میں بھی احتجاج ہوا

ہرناز کور سندھو نے مِس یونیورس کا ٹائٹل گزشتہ سال دسمبر میں جیتا تھا۔ کسی انڈین خاتون کو یہ اعزاز 21 سال بعد ملا ہے۔

اس عالمی مقابلے کے آخری راؤنڈ میں ہرناز کور سے پوچھا گیا تھا کہ وہ ان نوجوان خواتین کو کیا مشورہ دیں گی جو آج کے دور میں دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں؟

ہرناز کور سندھو کا جواب تھا کہ 'آج کے نوجوانوں پر سب سے بڑا دباؤ خود اعتمادی کی کمی ہے۔ یہ جاننا کہ آپ منفرد ہیں آپ کو خوبصورت بناتا ہے۔ دوسروں سے اور جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے اس سے اپنا موازنہ کرنا چھوڑ دیں۔

'آپ کے ساتھ جو ہوا ہے اس کے بارے میں بات کریں، باہر نکلیں، اپنے لیے آواز اٹھائیں کیونکہ اپنی زندگی کے مالک آپ ہیں۔ آپ اپنی آواز بن جائیں۔

'مجھے خود پر اعتماد ہے اسی لیے آج میں اس مقام پر کھڑی ہوں۔'

ہرناز کور سندھو کا یہ جواب سننے کے بعد مقابلے کے ججوں نے انہیں فاتح قرار دیا تھا۔