حجاب پر کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ: محبوبہ مفتی مایوس، گورنر عارف خان مطمئن

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی ریاست کرناٹک میں ہائی کورٹ نے سکول اور کالجز میں حجاب پر پابندی کے فیصلے کو صحیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حجاب مذہبِ اسلام کا لازمی جزو نہیں ہے۔ حجاب پر کرناٹک ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد سیاسی اور قانونی شعبوں سے وابستہ اہم لوگوں کے ردعمل مسلسل سامنے آرہے ہیں۔
یہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد کرناٹک کے وزیر اعلیٰ باسو راج بومئی نے مسلم طالبات سے اپیل کی ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کا احترام کریں اور کلاسوں میں جا کر اپنے پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھیں۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ 'کرناٹک ہائی کورٹ کا حجاب پر پابندی کو جاری رکھنے کا فیصلہ مایوس کن ہے۔ ایک طرف ہم خواتین کو بااختیار بنانے کی بات کرتے ہیں، تو دوسری طرف ہم انہیں ایک سادہ سے انتخاب کے حق سے محروم کر رہے ہیں۔ یہ صرف مذہب سے متعلق نہیں ہے بلکہ کسی بھی چیز کے انتخاب کی آزادی سے متعلق ہے۔'
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) لیڈر اسد الدین اویسی
حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) لیڈر اسد الدین اویسی نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کئی ٹوئٹ کیے ہیں جس میں انھوں نے کہا ہے کہ یہ مذہب کا نہیں ذاتی آزادی کا معاملہ تھا، انھوں نے کہا ہے کہ 'میں عدالت کے فیصلے سے متفق نہیں ہوں'۔
ایک اور ٹوئٹ میں انھوں نے لکھا' مجھےامید ہے کہ عرضی گزار سپریم کورٹ میں جائیں گے، مجھے یہ بھی امید ہے کہ نہ صرف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ بلکہ دیگر مذہبی تنظیمیں بھی اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گی کیونکہ اس سے مذہب، ثقافت، تقریر اور اظہار خیال کی آزادی کے بنیادی حقوق کو معطل کر دیا گیا ہے'۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اویسی نے کہا،'آئین کہتا ہے کہ ہر شخص کو سوچ، اظہار، عقیدہ اور عبادت کرنے کی آزادی ہے، اگر میرے عقیدے میں سر ڈھانپنا ضروری ہے، تو ایسا کرنا میرا حق ہے۔ حجاب بھی ایک عبادت کی طرح ہے'۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیرالہ کے گورنر عارف محمد خان
کیرالہ کے گورنر عارف محمد خان نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انھوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے کہا،'میں بہت خوش ہوں، یہ بہت اچھا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ برابری کے حق میں ہے۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس کی بنیاد مساوات پر مبنی ہے، یہ ایک سازش ہے جس کے تحت خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے، میرے خیال میں اس فیصلے کے بعد ہونہار لڑکیوں کو بہتر مواقع ملیں گے'۔
عارف محمد خان کا کہنا تھا کہ 'تین طلاق کے معاملے میں بھی اسی طرح کے دلائل دیے جا رہے تھے، لوگوں کو یہ سمجھنے میں کافی وقت لگا کہ یہ اسلام سے مطابقت نہیں رکھتا، اسی طرح حجاب کے معاملے میں بھی یہ سمجھنا ضروری ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
درخواست گزاروں کے وکیل سنجے ہیگڑے
معروف وکیل اور حجاب پر پابندی کو قانونی طور پر چیلنج کرنے والےسنجے ہیگڑے نے کہا ہے کہ کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔
ٹی وی چینلز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی دلیل غلط نہیں ہوتی، عدالت کے سامنے دلائل رکھے گئے، عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کی نظر میں کون سی دلیل درست ہے، اس فیصلے پر بہت ساری اپیلیں ہوں گی، ہم سپریم کورٹ جائیں گے۔
پرہلاد جوشی، مرکزی وزیر
حجاب تنازعہ کیس میں کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کہا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ملک اور ریاست کے سبھی لوگوں سے آگے بڑھنے کی اپیل کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’طلبہ کا بنیادی کام تعلیم ہے، اس لیے ہر چیز کو پیچھے چھوڑ کر تعلیمکو جاری رکھنا چاہیے‘۔
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کرناٹک ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے ٹوئٹ کیا، 'حجاب کے بارے میں آپ کی رائے کچھ بھی ہو، یہ لباس کا معاملہ نہیں ہے، یہ عورت کے اپنے لباس کا انتخاب کرنے یا نہ کرنے کے حق کا سوال ہے۔ یہ بہت بڑی ستم ظریفی ہے کہ اس بنیادی حق کا تحفظ نہیں کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ریاست تلنگانہ کے وزیر اعلی کے چندر شیکھر راؤ
تلنگانہ کے وزیر اعلی کے چندر شیکھر راؤ نے اسمبلی میں کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے اسمبلی میں سوال اٹھایا کہ حکومت یہ کیسے طے کر سکتی ہے کہ کون کیا پہنے گا؟ انہوں نے سوال کیا کہ حجاب پر تنازع کیوں ہے، ہم ماحول میں اتنا ہیجان کیوں پیدا کر رہے ہیں؟
مسلمان طالبات کے حجاب پہننے کے معاملے کی گونج پورے ملک میں سُنی گئی اور حجاب پر پابندی کے فیصلے کے خلاف ملک کی کئی ریاستوں میں مظاہرے بھی ہوئے۔
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ایک کالج کی انتظامیہ کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ مسلمان خواتین کالج کی حدود میں تو حجاب کر سکتی ہیں لیکن کلاس کے دوران نہیں۔
اس سے قبل ہائی کورٹ نے ریاست میں چند مسلمان لڑکیوں کی جانب سے اس حوالے سے دائر کردہ درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انفرادی حقوق پر ادارے کی نظم و ضبط کو برتری حاصل ہے۔
کرناٹک کی ریاستی حکومت نے گذشتہ فروری میں سکولوں اور کالجز میں نقاب اور حجاب پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف ریاست کے کئی اضلاع میں مسلم لڑکیوں نے احتجاج کیا تھا۔ نقاب اور حجاب پہننے والی لڑکیوں کو سکول کیمپس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی جس کے بعد ریاست میں کشیدگی کی فضا پیدا ہو گئی تھی۔
ہزاروں لڑکیوں کو حجاب پہننے کے سبب سکول اور کالج کے دروازوں سے واپس لوٹا دیا گیا تھا۔
یہ درخواست دائر کرنے والی طالبات نے فی الحال ہائی کورٹ کے آرڈرز پر کوئی رد عمل نہیں دیا ہے، تاہم ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جا سکتی ہے۔
اس معاملے پر گذشتہ کئی ماہ سے مسلمان خواتین کا احتجاج جاری تھا۔ مسلمان خواتین کا کہنا تھا کہ انڈیا کا آئین ان کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ جو چاہیں پہن سکتی ہیں۔ دوسری جانب انڈیا مین مسلمان اقلیت میں اس تنازع نے خوف اور غصے کو بھی جنم دیا ہے۔
یہ معاملہ کرناٹک کی ریاست کے دیگر کالجز تک بھی پھیل گیا جہاں اوڈیپی ضلع کے کنڈاپور علاقے کے کالج کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انتظامیہ حجاب کرنے والی خواتین کو داخلے سے روک رہی ہے۔
اس سے پہلے ہونے والا واقعہ بھی اسی ضلع میں پیش آیا تھا۔ کرناٹک کے بارے میں اکثر ماہرین کا ماننا ہے کہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا گڑھ سمجھا جانے والا یہ علاقہ ہندو قوم پرست پالیسیوں اور ہندوتوا نظریے کی لیبارٹری ہے۔ واضح رہے کہ کرناٹک میں بی جے پی ہی برسرِاقتدار جماعت ہے۔











