انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک میں حجاب پر تنازع: 'آپ میرا حجاب چھین رہے ہو، کیا مجھے عزت کے لیے اپنا نام بھی بدلنا ہو گا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, زویا متین
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
نبیلہ شیخ 30 سال کی تھیں جب انھوں نے حجاب کو پابندی سے اوڑھنا شروع کیا اور وہ حجاب لینے والی اپنی تین بہنوں میں سے آخری تھیں۔
سب سے بڑی بہن مزنہ نے ایک کزن سے متاثر ہو کر آٹھ سال کی عمر میں پہلی بار حجاب کا استعمال کیا تھا۔ اس کے بعد وہ اسے اپنے ارد گرد کے حالات اور مواقع کے لحاظ سے پہنتی رہیں۔ لیکن انھیں جلد ہی احساس ہو گیا کہ وہ 'سب کو خوش' نہیں کر سکتیں۔
سب سے چھوٹی بہن سارہ نے اس کا اس وقت سہارا لیا جب وہ اپنی زندگی کے 'مایوس ترین' مقام پر پہنچیں یعنی جب ان کا سرجن بننے کا خواب امتحان میں کم نمبروں کی وجہ سے چکنا چور ہوگیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ اس کی شروعات 'وقت پر نماز پڑھنے جیسی چیزوں سے ہوئی۔ حجاب تو بعد میں آیا اور یہ قدرتی طور پر آیا۔'
دو ڈاکٹروں کے ہاں پیدا ہونے والی یہ تینوں بہنیں انڈیا کے ساحلی میٹروپولیٹن شہر ممبئی میں پلی بڑھیں۔ ان کی ماں اب بھی اپنا سر نہیں ڈھانپتی۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ جب یہ بہنیں ایسا کرتی ہیں تو لوگ یہ فرض کرتے ہیں کہ یہ مجبوری میں ایسا کر رہی ہیں۔
انڈیا میں حجاب بڑے پیمانے پر پہنا جاتا ہے اور انڈیا میں عوامی طور پر اپنے مذاہب کا مظاہرہ عام بات ہے۔ لیکن پچھلے مہینے انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک کے سکول میں پڑھنے والی لڑکیوں نے اسے کلاس میں پہننے سے منع کیے جانے پر احتجاج کیا اور حجاب کے معاملے نے طول پکڑ لیا۔
واضح رہے کہ انڈیا میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔
کیا مسلم لڑکیوں کو کلاس میں حجاب پہننے کا حق ہے؟ اب یہ سوال عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اس تنازعے کے نتیجے میں پرتشدد واقعات رونما ہوئے اور تعلیمی اداروں میں واضح تقسیم نظر آئی جبکہ کرناٹک میں کئی مسلم لڑکیاں کلاسز میں جانے سے رک گئیں۔
بی بی سی نے انڈیا بھر کی مسلم خواتین سے بات کی جن کا کہنا ہے کہ وہ حجاب کے متعلق جاری مباحثے کی 'مداخلت کرنے والی نوعیت' پر ناراض ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دہلی کی ایک خاتون نے کہا: 'ہمیں مسلسل یہ یاد دلایا جاتا ہے کہ (ملک میں) قبول کیے جانے کے لیے ہمیں اپنا مذہب چھوڑ دینا چاہیے۔' ان کا کہنا ہے کہ اس عوامی چیخ و پکار میں جو چیز گم ہو جاتی ہے، وہ ان کی اپنی شدید ذاتی پسند ہے۔
جو حجاب پہننے کا انتخاب کرتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف مذہبی فیصلہ نہیں ہے بلکہ یہ ان کی پرورش کا عکاس ہے۔ اور جو لوگ اسے نہ پہننے کا انتخاب کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ان کے کھلے بال ان کے عقیدے کے جانچنے کا آلہ نہیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMUZNA SHAIKH
'میں مظلوم نہیں ہوں'
نبیلہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں کہ 'لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ کوئی سر پر سکارف پہن کر کیسے با اختیار محسوس کر سکتا ہے۔۔۔ یہ انھیں الجھا دیتا ہے لہذا وہ ہمارے بارے میں فیصلہ کرنے لگتے ہیں۔'
مظلوم ایک ایسا لفظ ہے جسے عام طور پر حجاب پہننے والی خواتین پر چسپاں کیا جاتا ہے، لیکن بہت سی خواتین کا کہنا ہے کہ جو اس بات کو توجہ نہیں دیتیں کہ آخر وہ ایسا کیوں کرتی ہیں یہ بات بھی اپنے آپ میں آزادی دلانے والی نہیں ہے اور نہ ہی لڑکیوں کو سکول سے دور رکھنا ہی روشن خیالی ہے کیونکہ وہ اسے اتارنا نہیں چاہتیں۔
اپنے پہلے نام سے پکاری جانے والی اور انڈیا کے جنوبی شہر بنگلور سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ نق کا کہنا ہے کہ 'نوجوان مسلم خواتین سڑکوں پر نکل کر اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہی ہیں۔ اور آپ مجھ سے اب بھی کہہ رہے ہیں کہ [یہ] خواتین اپنے لیے نہیں سوچ سکتیں؟'
نق بتاتی ہیں کہ جب پانچ سال قبل انھوں نے حجاب لینے کا فیصلہ کیا تو انھیں 'انتہائی عجیب و غریب' ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔
وہ کہتی ہیں کہ 'میرے پردے نے بہت سے لوگوں کی ذہنیت کا پردہ فاش کر دیا۔۔۔ لوگ پھسپھسا کر کہتے: کیا آپ مظلوم ہیں؟ کیا آپ کو گرمی لگ رہی ہے؟ آپ کون سا شیمپو استعمال کرتی ہیں؟ کچھ لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میرے بال بھی ہیں، ان کا خیال تھا کہ مجھے کینسر ہے۔'
ان کے لیے حجاب لباس سے آرائش کا تجربہ بھی تھا، وہ ہر لباس میں گلیمر اور رنگوں میں ڈرامہ دیکھتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں: 'لوگ سمجھتے ہیں کہ میرا حجاب میرے جدید کپڑوں اور میک اپ سے متصادم ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ اگر میں ایک کمرے میں قدم رکھتی ہوں، تو میں چاہتی ہوں کہ لوگ میری طرف دیکھیں اور سوچیں کہ ایک مسلمان عورت اپنے مقاصد حاصل کر رہی ہے، دنیا بھر میں سفر کر رہی ہے، اور پھل پھول رہی ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفا خدیجہ رحمان جنوبی انڈیا کے شہر مینگلور کی ایک وکیل ہیں۔ ان جیسی خواتین کا کہنا ہے کہ حجاب نہ پہننے کی وجہ سے وہ کسی سے کم مسلمان نہیں ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ 'میں نے اسے نہیں پہنا کیونکہ یہ اس سے مطابقت نہیں رکھتا کہ میں کون ہوں، اور کوئی مجھے اسے پہننے کے لیے مجبور نہیں کر سکتا۔ لیکن بالکل اسی طرح، کوئی مجھے یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ مجھے یہ نہیں پہننا چاہیے۔'
وفا کی والدہ نے بھی کبھی حجاب نہیں پہنا لیکن وہ کہتی ہیں کہ وہ اپنے چاروں طرف ایمان والوں کے ساتھ نہ صرف پیغمبر بلکہ اسلام میں خواتین کی کہانیاں سنتے ہوئے پروان چڑھی ہیں۔
وہ پوچھتی ہیں کہ 'نبی کی پہلی بیوی ایک بزنس وومن تھیں، جب کہ دوسری اونٹ پر سوار ہو کر جنگ میں اتریں تھیں، تو کیا ہم واقعی اتنے مظلوم ہیں جیسا کہ دنیا ہمیں منوانا چاہتی ہے؟'
'مسلمان ہونے میں کیا حرج ہے؟'
ایک وقت تھا جب فلک عباس اپنے بالوں کو ڈھانپنے کے خیال سے نفرت کرتی تھیں اور یہ انڈیا کے ایک قدامت پسند شمالی شہر وارانسی (بنارس) میں ایک غیر معمولی انتخاب تھا۔
لیکن وہ 16 سال کی تھیں جب انھوں نے پاکستانی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کو ٹی وی پر دیکھا اور اپنا خیال بدل لیا۔
فلک عباس نے ملالہ کے بارے میں کہا: 'ان کا سر ڈھکا ہوا تھا، لیکن وہ بہت بااختیار لگ رہی تھی۔ میں نے ان سے ترغیب حاصل کی اور اپنا سر بھی ڈھانپنے کا فیصلہ کیا۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کے کانونٹ سکول نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حجاب سکول کے لمبے ٹونک اور ٹراؤزر والے یونیفارم سے ٹکرا رہا ہے۔
فلک نے الزام لگایا کہ انھیں تین دن تک کلاس میں جانے سے روک دیا گیا تھا، یہاں تک کہ ان کا بیالوجی کا امتحان بھی چھوٹ گیا۔ جب انھوں نے احتجاج کیا تو سکول نے ان کے والدین کو بلایا اور ان پر بدتمیزی کا الزام لگایا۔
وہ یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں: 'انھوں نے کہا، اگر میں حجاب پہنوں گی تو اس سے نہ صرف میرے لیے بلکہ سکول کے لیے بھی مسائل پیدا ہوں گے کیونکہ سب کو پتہ چل جائے گا کہ میں مسلمان ہوں۔'
وہ پھر سوال کرتی ہیں کہ آخر 'مسلمان ہونے میں کیا حرج ہے؟'
یہ بھی پڑھیے
لیکن جب ان کے والدین نے ان سے کہا کہ وہ 'حجاب کی وجہ سے اپنی تعلیم کو خطرے میں نہ ڈالیں' تو وہ ان کی بات مان گئیں۔
وہ کہتی ہیں کہ آٹھ سال بعد کرناٹک کے مناظر دیکھ کر وہ ایک بار پھر 'شدید غصے' میں ہیں۔
جنوبی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والی خدیجہ منگت بھی حجاب کی وجہ سے الگ کیے جانے پر برہم ہیں۔
ان کے اسکول نے سنہ 1997 میں راتوں رات حجاب پر پابندی لگا دی تھی لیکن بعد میں اس پابندی کو ختم کر دیا گیا تھا۔ اب خدیجہ کرناٹک کے معاملے پر پریشان ہیں کہ وہاں کیا ہو گا۔
وہ کہتی ہیں: 'سب کچھ آپ کے سامنے ہے۔ آئین، اس کی اقدار اور ہماری آواز سب آپ کے سامنے ہے۔ اس کے باوجود ہمیں مستقل اپنا دفاع کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے یہاں تک اپنی تعلیم کی قیمت پر بھی۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
'لوگ جس طرح سے آپ کو دیکھتے ہیں وہ واقعی پریشان کن ہو سکتا ہے'
جہاں عدالت کی سماعت بظاہر کلاس روم میں حجاب پہننے پر مرکوز ہے، مسلم خواتین اس بارے میں فکر مند ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت اور انتہائی مذہبی بنیاد پر انتہائی منقسم انڈیا میں فیصلے کے کیا اثرات ہوں گے۔
جنوبی شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی سیمیں انصار کہتی ہیں کہ حجاب کو 'سیاسی فائدے' کے لیے تخریبی علامت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
وہ کہتی ہیں: 'میں ہندو لڑکیوں کے ساتھ پلی بڑھی ہوں جو اپنی ٹانگیں سکول کے سکرٹ کے نیچے چھپاتی تھیں، یہ حقیقت اس وقت مجھے زیادہ قابل ذکر نہیں لگیں جب ہم نے سکھ لڑکوں کو پگڑیاں پہنے دیکھا۔'
'لیکن جب حجاب کی بات آتی ہے تو مسلم خواتین کو دو خانوں میں محدود کر دیا جاتا ہے۔ اگر میں حجاب پہنتی ہوں تو میں روایتی اور مظلوم ہوں اور اگر نہیں پہنتی تومیں جدید اور آزاد ہوں۔'
وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے اور ان کی بہن نے حجاب پہننا شروع کیا تھا لیکن جلد ہی اسے ترک کر دیا کیونکہ ان کی پسند کو کبھی بھی مکمل طور پر قبول نہیں کیا گیا۔
سیمیں کہتی ہیں کہ ان کی بہن کو کام پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا جبکہ لوگ جم، بار یا پارٹی جیسی جگہوں پر انھیں گھورا کرتے ہیں جہاں انھیں حجاب میں ملبوس عورت کو دیکھنے کی توقع نہیں ہوتی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتی ہیں: 'لوگ جس طرح سے آپ کو دیکھتے ہیں وہ واقعی کھا جانے والا ہو سکتا ہے'
اور یہ ایک خوف ہے جس کا اظہار بہت سی مسلم خواتین نے کیا ہے کہ اب پہلے سے کہیں زیادہ حجاب ہی وہ چیز ہے جس پر لوگ توجہ دیں گے۔
وفا تو سر پر دوپٹہ بھی نہیں رکھتیں لیکن وہ اس کیس کی سماعت پر نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ انھیں یہ بات پریشان کر رہی ہے۔
وہ کہتی ہیں: 'یہاں تک کہ میں کام پر بھی ہوتی ہوں تو میں اپنے ایئرفون لگاتی ہوں اور [عدالت] کی کارروائی کو فالو کرتی ہوں۔'
وہ اس بات سے پریشان ہیں کہ اس کا ان کی دوستوں اور خاندان والوں پر کیا اثر پڑے گا جو حجاب پہنتی ہیں۔
'آپ میرا حجاب چھین رہے ہو، اس کے بعد کیا؟ میرا نام تو اب بھی عربی ہے۔ کیا مجھے تم سے عزت حاصل کرنے کے لیے اسے بھی بدلنا پڑے گا؟'














