کرناٹک میں حجاب پر پابندی: کیا حجاب کا تنازع انڈیا میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی اقدامات کے تسلسل کی ایک کڑی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
’ہماری پڑھائی پر بہت زیادہ اثر پڑ رہا ہے۔ مجھے بھی آگے بڑھنا ہے، میرے بھی خواب ہیں۔ میرے بھی مقاصد ہیں۔ ہم نے صرف آئین پر عمل کیا ہے، ہمیں کالج سے باہر رکھنا غلط ہے۔ میں ایک مہینے سے کلاس سے باہر ہوں۔ لیکن میں حجاب ہٹا کر کالج نہیں جاؤں گی۔ یہ میرا انفرادی حق ہے۔ میں عدالت کے فیصلے کا انتظار کروں گی۔‘
اوڑوپی میں بارہویں جماعت کی یہ طالبہ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ان کے والدین ان کی پڑھائی کے بارے میں بہت پریشان ہیں۔
’ہمارے فون نمبرز اور پتے سوشل میڈیا پر ڈال دیے گئے ہیں۔ ہمیں جو کالز آ رہی ہیں اور جو دھمکیاں دی جا رہی ہیں ان سے ہمارے والدین بہت پریشان ہیں۔ لیکن ہمارے حق کی لڑائی میں وہ ہمارے ساتھ ہیں۔‘
اس طالبہ نے بتایا کہ حجاب پر پابندی لگنے کے بعد لڑکیوں کی زندگی بہت مشکل ہو گئی ہے۔ ’مجھے اس عمر میں اتنا سہنا پڑ رہا ہے۔ میں بس اتنا چاہتی ہوں کہ آنے والے دنوں میں کسی طالبعلم کو ان مشکلات سے نہ گزرنا پڑے۔ یہ بہت اذیت ناک ہے۔‘
انڈیا کی ریاست کرناٹک میں حجاب پر پابندی سے فضا میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ آج بھی ہزاروں لڑکیوں کو حجاب پہننے کے سبب سکول اور کالج کے دروازوں سے واپس لوٹا دیا گیا۔
ان کے والدین نے حجاب کے ساتھ اپنی بچیوں کو سکول میں داخل ہونے کی اجازت نہ دینے پر سکول انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا۔ کرناٹک ہائی کورٹ میں ایک وکیل نے عدالت سے دریافت کیا کہ آخر پابندی کے لیے حجاب کو ہی کیوں منتخب کیا گیا؟
حجاب پہننے والی ایک طالبہ کی نمائندگی کرتے ہوئے سینیئر وکیل پروفیسر روی کمار نے ہائی کورٹ میں عدالت سے کہا کہ سماج کے سبھی طبقے مذہب کی سینکڑوں علامتیں استعمال کرتے ہیں۔ تو آخر انھوں نے صرف حجاب کو ہی کیوں منتخب کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ کیا اسے مذہب کی بنیاد پر تفریق برتنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت میں تین رکنی بینچ اس معاملے کی روزانہ سماعت کر رہا ہے۔ اس کا فیصلہ جلد ہی متوقع ہے لیکن اس معاملے کی گونج اب پورے ملک میں سنائی دی رہی ہے۔ حجاب پر پابندی کے فیصلے کے خلاف ملک کی کئی ریاستوں میں مظاہرے ہوئے ہیں۔

کرناٹک کے عوام اس سوال پر منقسم ہیں
منگلور کے ایک سینیئر وکیل منوراج راجیو کا کہنا تھا کہ ’قرآن میں کہاں لکھا ہے کہ حجاب لازمی ہے اور اس پرعمل نہ کرنے پر یہ سزا ہو گی۔ اگر یہ لازمی نہیں ہے تو پھر تعلیمی اداروں میں مذہبی شناخت کے اظہار کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ جو یونیفارم ہے اسے پہننا چاہیے۔ یہ سرکاری درس گاہیں ہیں۔
’اس کے ضابطے پر عمل کرنا ہو گا۔ ہر طالبہ کو یونیفارم پہن کر آنا ہو گا۔ اس میں کیا مشکل ہے؟ مذہب پر سکول کے باہر عمل کیجیے۔ اسے گھر تک محدود رکھيے۔ مذہب کو سکول میں مت لائیے۔‘
ڈاکٹر رخسانہ حسن کرناٹک کی ایک معروف ماہر تعلیم ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ حکومت نے یہ فیصلہ اچانک تعلیمی سال کے وسط میں کیا ہے جو غلط ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر حکومت کو حجاب پر پابندی لگانی تھی تو اسے تعلیمی سیشن کے شروع میں لگانی چاہیے تھی۔ جس کو حجاب کے بغیر داخلہ لینا ہوتا وہ داخلہ لیتی اور جس کو نہیں لینا ہوتا وہ حجاب والے سکول میں چلی جاتی۔ وہ کہتی ہیں کرناٹک کے بہت سے کالجز میں غیر تحریری طور پر یہ ضابطہ نافذ ہے اور کئی کالجز حجابی لڑکیوں کو داخلہ نہيں دیتے۔
معروف سکالر پروفیسر جاوید جمیل کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک مذہبی فریضہ ہے۔ پتہ نہیں اس پر کیوں پابندی لگائی گئی۔ کچھ لوگ اسے ایک سیاسی مسئلہ بنانا چاہتے تھے۔ اس لیے انھوں نے اسے اٹھایا۔ لڑکیاں آرام سے جا رہی تھیں۔ پڑھ رہی تھیں، انھیں پڑھنے دیا جاتا۔‘
ثقافتی کارکن گنیش دیو نے ایک مضمون میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’نوعمر لڑکیوں کو حجاب پہننے کے لیے ذلیل کرنا ملک کے آئین پر حملے کے مترادف ہے۔ یہ لاقانونیت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
’حجاب کا سوال اب محض یونیفارم طے کرنے یا انفرادی آزادی کا سوال نہیں ہے۔ یہ ملک میں معاشرتی تنوع کے تحفظ یا اس سے انکار کرنے کا بھی سوال نہیں ہے۔ اب یہ صرف فرقہ وارانہ نفرت کا بھی سوال نہیں رہا ہے۔ اس میں سب سے اہم اور فکر آمیز پہلو اس کے سیاسی محرکات میں پنہاں ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے
حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشل کے سابق سربراہ آکار پٹیل حجاب پر پابندی کو ہندوتوا کے ایک وسیع ایجنڈے کے حصے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں ’سنہ 2014 کے بعد سے انڈیا نے مسلمانوں پر دھاوا بول دیا ہے۔ یہ جو کرناٹک میں آج ہو رہا ہے یہ صرف اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ہم نے کچھ برسوں میں مسلمانوں پر پابندیاں لگائی ہیں کہ وہ مقررہ مقامات پر نماز پڑھیں۔ وہ راستے میں انڈے اور گوشت نہ بیچیں۔ آپ کالج اور سکول میں اپنا حجاب نہ پہنيں۔‘
’2014 کے بعد انڈین حکومت نے انڈیا کے مسلمانوں سے کہا ہے کہ آپ سچے ڈھنگ کے انڈین نہیں ہیں۔ یہ بات مسلمان محسوس کر رہے ہیں۔ اسی لیے یہ لڑکیاں اپنے حجاب پر اڑی ہوئی ہیں۔ سوال حجاب کا نہیں ہے۔ سوال اس بات کا ہے انڈیا اپنی اقلیتوں اپنے مسلمانوں کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھتا ہے۔‘
انڈیا کے ٹی وی چینلز پر حجاب کے مسئلے کو مذہبی انتہا پسندی، وہابی تحریک، بین الاقوامی دہشت گردی اور انتہا پسند تنطیموں کی تحریک سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کار کرناٹک حکومت کے فیصلے کی ٹائمنگ کے بارے میں سوال کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ تنازع دانستہ طور پر تخلیق کیا گیا ہے تاکہ اتر پردیش میں جاری ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے عوام کو مذہبی خطوط پر تقسیم کیا جا سکے۔
ان بحث و مباحثے سے دور کرناٹک میں ہزاروں لڑکیوں کا تعملیمی مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ حجاب کے تنازعے نے نوعمر طلبہ اور طالبات کے درمیا ن ایک گہری دراڑ پیدا کر دی ہے۔












