مدثر ڈار: ’میں نہیں چاہتا کہ میرے بچے اس فن کے چسکے میں اپنا وقت ضائع کریں‘

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو سروس، سری نگر
’شادی نہ ہوئی ہوتی اور میرے بچے نہ ہوتے، تو میں شاید پینٹنگ نہ چھوڑتا لیکن بچے پینٹنگ تو نہیں کھا سکتے۔ یہاں آرٹ کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی، اب میں مزدوری کر کے بچوں کا پیٹ پالوں گا۔‘
یہ کہنا ہے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کولگام ضلع کے رہنے والے 30 سالہ مدثر رحمٰن ڈار کا۔
مدثر گذشتہ 12 برس سے پینٹنگ اور مِنیچر آرٹ کے شعبے میں سرگرم ہیں اور اُن کے مطابق مقامی افراد سے انھیں ’فخرِ کشمیر‘ کا خطاب ملا اور ان کے کام کو سراہتے ہوئے انڈیا بُک آف ریکارڈز کے ساتھ ساتھ اُن کا نام ایشیا بُک آف ریکارڈز میں بھی شامل ہو چکا ہے۔
مدثر اپنی بیوی اور دو بیٹیوں کے ساتھ فقط ایک کمرے میں رہتے ہیں۔ ایک کونے میں کچن ہے، دوسرے کونے میں بستر، تیسرے میں کپڑے اور چوتھے کونے میں مدثر کی ورکشاپ جہاں وہ پینٹ کرتے ہیں۔
انگوٹھی کے نگینوں پر خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے ہو بہو عکس اُتارنے پر اُن کی خوب پزیرائی ہوئی لیکن انھیں گِلہ ہے کہ حکومت نے انھیں پرموٹ نہیں کیا اور ان کا محبوب مشغلہ اُن کا روزگار نہ بن سکا۔

’بیرونی ممالک کی بات رہنے دیں، انڈیا کے بڑے شہروں میں ایک پینٹنگ ہزاروں اور لاکھوں میں بِکتی ہے لیکن یہاں ایک پورٹریٹ کے مشکل سے پانچ سو روپے ملتے ہیں۔ حکومت نے بھی میرے ہنر کی قدر نہیں کی۔ میں نے اپنی بیٹیوں کا سکول میں داخلہ کرانا ہے، پیسہ کہاں سے آئے گا۔ مُجھے افسوس تو ہو گا لیکن زندگی میں کبھی کبھی مشکل فیصلہ لینا پڑتا ہے، اسی لیے اب میں محنت مزدوری کروں گا لیکن پینٹنگ نہیں کروں گا۔‘
حکومت کی بے توجہی سے مدثر یہاں تک مایوس ہو چکے ہیں کہ وہ اپنی بیٹیوں کو برش اُٹھانے پر ڈانٹتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

’میں نہیں چاہتا کہ میرے بچے اس ’فن کے چسکے‘ میں اپنا وقت ضائع کریں۔ سوشل میڈیا پر ملنے والے چند حوصلہ افزا کمنٹس سے کیا ہوتا ہے۔ فن اگر روزگار کا ذریعہ بنے تو انسان اس میں زندگی لگا دے گا۔ میں نہیں چاہتا کہ میرے بچوں کی حالت کل کو میرے جیسی ہو جائے۔‘
قابل ذکر ہے کہ فنونِ لطیفہ اور مختلف زبانوں کے ادب کو فروغ دینے اور فن کاروں کی تربیت و حوصلہ افزائی کے لیے جموں کشمیر میں باقاعدہ ایک ادارہ ہے جس کا نام ’اکیڈمی آف آرٹ کلچر اینڈ لنگویجز‘ ہے لیکن مدثر کہتے ہیں کہ یہاں سے بھی انھیں کسی طرح کی کوئی مدد نہیں ملی۔
یہاں تک کئی عالمی اداروں کی طرف سے تعریفی اسناد کے باوجود وہ ابھی تک اپنے فن کی کوئی نمائش بھی منعقد نہیں کر سکے ہیں۔

یہ کہنے پر کہ بعض دیگر فنکار اپنے فن سے خوش ہیں، مدثر کہتے ہیں کہ ’امیر لوگوں کے بچے جب فن میں دلچسپی لیتے ہیں تو ہر طرف سے اُن کی مدد کی جاتی ہے لیکن غریب نوجوان جب دل و جان سے کسی فن میں سرگرم ہو جائے تو اُسے پیٹ پالنے کے لیے الگ سے کام کرنا ہوتا ہے۔‘
’یہ آسان فن نہیں۔ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کو انگھوٹی کے پتھر پر اُتارنے میں مجھے لگاتار سات دن لگے۔ یہ وہی کر سکتا ہے جس کے پاس وسائل ہوں۔‘











