’جگاڑ‘ لگانے کی ماہر قوم: مسائل کا غیر روایتی حل نکالنا کوئی انڈیا والوں سے سیکھے

سش

،تصویر کا ذریعہAlamy

    • مصنف, کرسچیئن کوچ
    • عہدہ, بی بی سی ٹریول

پاکستان کے چند گرم شہروں کی طرح انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں بھی موسم گرما انتہائی شدید ہوتا ہے اور کبھی کبھی تو یہاں درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک بھی پہنچ جاتا ہے۔

سنہ 2018 کے موسم گرما میں برطانوی صحافی ڈین نیلسن دہلی کے علاقے ’نظام الدین کالونی‘ میں منتقل ہوئے تو انھیں سب سے پہلا مسئلہ یہ درپیش تھا کہ انھیں فی الفور اپنے نئے گھر میں ایئرکنڈیشننگ کا بندوبست کرنا تھا تاکہ دہلی کی سخت گرمی سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔

ایک صبح انڈیا کا معروف اخبار ’دی ہندو‘ پڑھتے ہوئے اُن کی نظریں ایک اشتہار پر آ کر ٹھہر گئیں۔ یہ اشتہار ’سنو بریز‘ (برفانی ہوا) نامی ایک ’ایجاد‘ سے متعلق تھا جو درحقیقت برف کی مدد سے چلنے والی ایک کولنگ مشین تھی۔

اس کو تخلیق کرنے والے ایک ریٹائرڈ انڈین صحافی تھے اور انھوں نے یہ اس غرض سے بنائی تھی کہ دیہاتوں میں آباد غریب افراد شدید گرمی میں اس سے مستفید ہو سکیں اور ٹھنڈک کا احساس پا سکیں۔

نیلسن کا تجسس اُس وقت مزید بڑھا جب انھوں نے اس مشین کی قیمت پڑھی جو کسی بھی برانڈڈ ایئر کنڈیشنر کا عشر عشیر بھی نہیں تھی۔

سش

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اگرچہ ’سنو بریز‘ نامی اس مشین کی کسی بھی گھر میں تنصیب کے لیے الیکٹریشن کی خدمات درکار تھیں مگر پھر بھی نیلسن نے اسے حاصل کرنے کا آرڈر دے دیا۔

آرڈر دینے کے ایک ہفتے بعد یہ عجیب و غریب اور بظاہر بے ڈھنگی نظر آنے والی مشین اُن کے گھر پہنچ گئی۔

نیلسن یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’یہ ایک بہت بڑے نیلے رنگ کے کوڑے دان جیسی تھی جس پر سکیٹ بورڈ جیسا ڈھکن لگا ہوا تھا۔‘

اپنی بات کو ختم کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’سنو بریز‘ نامی یہ مشین ’جگاڑ‘ کی بہترین مثال تھی۔ یاد رہے کہ کسی بھی پُرکفایت اور سستی ایجاد کے لیے مقامی زبان میں ’جگاڑ‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کسی مسئلے کا غیر روایتی اور سستا حل نکالنا۔

انڈیا کے دیہی علاقوں میں سفر کے دوران آپ کو جگہ جگہ ’جگاڑیں‘ نظر آئیں گی۔

یہ پورے گاؤں کو بجلی فراہم کرنے والے پرانے اور خستہ حال ٹرک کی صورت میں ہو سکتی ہے، یا کوٹ کے ہینگرز کی مدد سے تیار ہونے والے عارضی ٹی وی ایریل (وہ آلہ جو سگنل کیچ کرتا ہے اور ٹی وی پر تصویر صاف آتی ہے) کی صورت میں۔

سش

،تصویر کا ذریعہAlamy

یہ خوبصورتی سے پینٹ کی گئی تین پہیوں والی گاڑی بھی ہو سکتی جس میں سوار افراد کی تعداد بعض اوقات 20 تک بھی ہو سکتی ہے۔ یہ تین پہیوں والی گاڑی لکڑی کے تختوں اور پرانے موٹر سائیکلوں کے سپیئر پارٹس کو جوڑ کر مقامی سطح پر تیار کی جاتی ہے اور اس کا انجن پانی کھینچنے والی موٹر سے چلتا ہے۔

دوسری طرف دیکھیں تو آپ کو دہلی کی مصروف اور بھیڑ سے بھرپور سڑکوں پر سفید ٹوپیاں پہنے ہزاروں کی تعداد میں ’ڈبے والے‘ نظر آئیں گے۔ اپنی سائیکلوں پر سٹین لیس سٹیل کے ٹفن بکس قرینے سے سجائے ان افراد کی ذمہ داری شہر کے دفاتر میں کام کرنے والے دو لاکھ سے زائد افراد کو گرم اور تازہ کھانا پہنچانا ہے۔

یہ افراد اپنے کام میں اتنے ماہر ہیں کہ معروف کمپنی ’فیڈایکس‘ نے اُن کے ’بنا غلطی کیے کام کو سرانجام دینے کے راز‘ کو جاننے کے لیے یہاں کا دورہ کیا تھا۔

حالیہ سالوں میں جگاڑ ایک عام استعمال ہونے والا لفظ بن چکا ہے۔ انڈیا کے مینیجمنٹ گوروز مغربی بزنس کو مشکل معاشی حالات میں جگاڑ کے استعمال کے مشورے دیتے نظر آّتے ہیں تو دوسری طرف سوشمل میڈیا پر ’جگاڑ نیشن‘ (یعنی جگاڑ لگانے والی قوم) جیسے ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے انڈین نوجوان مزاحیہ میمز کا تبادلہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

شس

،تصویر کا ذریعہAlamy

کانان لکشمی نرائن چنئی میں کاروبار کرتے ہیں۔ مجھ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انڈیا میں مسائل کا فوری اور غیر روایتی حل تلاش کرنے کی روایت پرانی ہے۔ اگر آپ کسی دور دراز گاؤں میں رہتے ہیں جہاں بجلی بہت زیادہ جاتی ہے، تو کوئی نہ کوئی گاڑی یا ٹریکٹر کے ذریعے گھر میں بجلی کی فراہمی یقینی بنا لے گا۔

لکشمی نرائن کی کمپنی ’ورٹیکس انجینیئرنگ پرائیویٹ لیمیٹڈ‘ نے ’گاراما ٹیلر‘ کے نام سے ایک اے ٹی ایم مشین تیار کی تھی جو صرف ستر واٹ کے بلب جتنی بجلی استعمال کرتی ہے۔ کم پیسوں سے تیارشدہ اس مشین میں ان پڑھ افراد کے لیے انگوٹھے کے ذریعے پیسے نکلوانے کی سہولت بھی موجود ہے۔ اگر بجلی چلی بھی جائے تو یہ مشین ایک بیٹری کے ذریعے چلتی رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یہ مشین کسی عام اے ٹی ایم مشین کے مقابلے میں چار گنا سستی ہے جس نے دیہاتوں میں زندگی آسان بنا دی ہے جہاں کسی قریبی بینک کی اے ٹی ایم مشین آپ کے گھر سے سینکڑوں میل دور بھی ہو سکتی ہے۔

لکشمی نرائن کہتے ہیں کہ اس مشین کی ایجاد میں بھی جگاڑ کا عنصر شامل تھا کیونکہ ایک سوچ تھی جسے آزمایا گیا اور دیکھا گیا کہ کیا چیز کام کر رہی ہے اور کیا نہیں، اور اس کے ذریعے مشین میں بہتری لائی گئی۔

ایک ایسے ملک میں جہاں عالمی بینک کے مطابق 27 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، نئی ایجادات کے لیے تخلیقی صلاحیت کا استعمال ناگزیر ہے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہAlamy

’جگاڑ یاترا‘ لکھنے والے نیلسن کہتے ہیں کہ جب آپ مشکلات کے نتیجے میں ہونے والی کوششوں کو انڈیا کے مقابلے کے کلچر سے جوڑتے ہیں تو ایسے حل نکلتے ہیں جو شاید ہی کہیں اور مل سکتے ہوں۔

انڈیا کی حکومت نے کچھ برس قبل جگاڑ کا ایک حیران کن اور انوکھا استعمال کیا۔

نومبر 2013 میں انڈیا نے خلیج بنگال کے ایک چھوٹے جزیرے سے خلا میں ’مانگلیان‘ نامی مشن بھیجا تھا۔ مریخ کے گرد چکر لگانے والا یہ پہلا ایشیائی خلائی جہاز تھا۔ دیگر خلائی مشن کے مقابلے میں 'مانگلیان' پر صرف 75 ملین (ساڑھے سات کروڑ) ڈالر کی رقم خرچ ہوئی تھی جو کچھ بھی نہیں۔ یاد رہے کہ سنہ 2014 میں انٹرنیشنل خلائی سٹیشن کی تعمیر پر 160 ارب ڈالر خرچ ہوئے تھے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے فخریہ انداز میں دعویٰ کیا تھا کہ خلا میں ایک راکٹ بھیجنے پر انڈیا کا خرچ ہالی وڈ فلم ’گریویٹی‘ پر آنے والے خرچ سے بھی کم ہوا ہے۔

نیلسن کہتے ہیں کہ اگر کوئی اور سائنسدان ہوتا تو کہتا کہ کہ ایسا نہیں ہو سکتا لیکن انڈین لوگ آسانی سے ہار نہیں مانتے۔

بزنس کی دنیا بھی اب کم قیمت میں بننے والے مانگلیان کی طرح جگاڑ کا سہارا لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ممبئی کی ٹاٹا کمپنی نے صاف پانی تک رسائی نہ رکھنے والے شہریوں کے لیے انتہائی کم قیمت اور بنا بجلی چلنے والا واٹر پیوریفائر بنایا ہے۔

اسی طرح گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی نے بھی انڈیا میں سفر سستا کر دیا ہے۔ سنہ 2009 میں ٹاٹا کی نینو گاڑی نے ایئر بیگ، ریڈیو، سینٹرل لاکنگ اور ایئر کنڈیشنر جیسی سہولیات کے بغیر دنیا کی سستی ترین گاڑی بنانے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

’جگاڑ اینوویشن‘ نامی کتاب کے مصنف جے دیپ پربھو کہتے ہیں کہ مغربی کمپنیاں بھی جگاڑ کے بنیادی اصول اپنا کر فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ اُن کے مطابق اس وقت چھوٹی چھوٹی کمپنیاں بڑی کمپنیوں سے تیز اور سستا کام کر رہی ہیں۔ ’راسپبری پائی (کوڈنگ میں نوجوانوں کی دلچسپی بڑھانے کے لیے بنائے جانے والے کریڈٹ کارڈ سائز کمپیوٹر) کو دیکھ لیں جو کیمبرج یونیورسٹی میں بنے۔ ٹیکنالوجی کی مدد سے یونیورسٹیز میں چھوٹی چھوٹی ٹیمیں ایسے کام کر رہی ہیں جو دس بیس سال قبل صرف بڑی کمپنیاں یا حکومتیں کر سکتی تھیں۔‘

ظاہر ہے کہ آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جگاڑ صرف انڈیا میں ہی نہیں ہوتی۔ بہت سے ترقی پزیر ممالک میں لوگ سستے حل ڈھونڈتے ہیں۔ برازیل میں اسے ’گمبیرا‘ کہا جاتا ہے، چین میں 'ژیژو چوانگشن' کہتے ہیں۔ جیسا کہ نیلسن کہتے ہیں، برطانیہ میں ہوم شیڈ انویٹرز کو بھی ’جوگاڑو‘ کہا جا سکتا ہے۔

لیکن انڈین قسم کی جگاڑ شاید فطرت کا حصہ یا یوں کہیں کہ روحانیت کا حصہ ہے۔

نیلس کہتے ہیں کہ یہاں تک کہ ہندو دیوتا گنیش نے بھی اپنا سر ’جگاڑ‘ کے کلیے کے تحت حاصل کیا تھا کیونکہ ہندو روایت کے مطابق جب شیوا نے گنیش کا سر کاٹ دیا اور پھر واپس لگانے کو کوئی انسانی سر نہیں ملا تو شیوا نے گنیش کو ہاتھی کا سر لگا دیا، جو آج تک تصاویر میں آپ دیکھتے ہیں۔

سش

،تصویر کا ذریعہAlamy

جدید دور میں جگاڑ کے بارے میں نیلسن کا کہنا ہے کہ اس کی بنیاد 1950 کی دہائی میں نہرو کے دور اقتدار میں پڑی۔ اس وقت جب انڈیا میں درآمدات ممکن نہیں تھیں تو ’لوگ مغربی اشیا کو مقامی طرز دیتے تھے کیونکہ نئی اشیا نہیں آ سکتی تھیں۔۔۔ یہی وہ مشکل کا وقت ہے جس نے نئی انڈین شناخت بنائی ہے جس کے مطابق وہ مشکل ترین حالات میں بھی مسئلے کا حل تلاش کر لیتے ہیں۔‘

تاہم ’جگاڑ نیشن‘ کے ہیش ٹیگ کی مقبولیت کے باوجود کچھ انڈین لوگ اس کو منفی انداز میں دیکھتے ہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک جگاڑ کا مطلب غیر معیاری کام ہے، قواعد کی خلاف ورزی ہے یا یوں سمجھیں کہ بغیر سمجھے کام کرنے کی کوشش ہے۔

جب ان کی کتاب شائع ہوئی تو پرابھو نے کہا کہ بہت سے بڑی عمر کے انڈین اپنے بارے میں ایسے خیال کو اجاگر کرنے کے خلاف تھے جس کے بارے میں وہ شرمندہ تھے۔'

مزید پڑھیے

بُری جگاڑ کی ایک مثال کچھ یوں ہے کہ کسی کو مِس کال دینا۔ مطلب یہ آپ کا کسی سے بات کرنے کا دل بھی کر رہا ہے مگر آپ پیسے بھی بچانا چاہ رہے ہیں اسی لیے آپ مس کال کریں گے تاکہ اگلا بندہ خود ہی کال کر لے۔

اور زیادہ سنگین معاملات میں جگاڑ کا مطلب ہیلتھ اینڈ سیفٹی قوانین پر عملدرآمد نہ کرنا اور اس کے عوض حکام کو رشوتیں دینا۔ یہاں تک کہ ٹاٹا انڈسٹری کی معروف سستی کار 'نینو' سنہ 2014 میں اس وقت بنانی بنانی روک دی گئی جب اس نے حفاظتی ٹیسٹ میں ناکافی نمبر حاصل کیے۔

نیلسن کہتے ہیں کہ ’جس چیز کو مغرب میں ناممکن کہا جاتا ہے، انڈین اُس میں امکانات دیکھتے ہیں چاہے آپ اسے اچھی چیز کہیے یا بُری۔ اسی لیے انڈیا کی اب کوشش ہے کہ جگاڑ کے منفی پہلو ختم کیے جائیں اور اس کے فوائد پرکھے جائیں۔ یہ انڈیا کو اس کے عالمی طاقت بننے کی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھانے دے رہا۔‘

ہو سکتا ہے کہ اس میں ٹیکنالوجی ان کی مدد کرے۔ انڈیا اس وقت دنیا کی دوسری بڑی موبائل مارکیٹ ہے اور وزیراعظم مودی کا منصوبہ ہے کہ ملک کی معیشت ڈیجیٹل کی جائے۔ پربھو کا ماننا ہے کہ انڈین لوگوں کی ذہنیت جب موبائل ٹیکنالوجی سے جا ملتی ہے تو آپ کو انتہائی پیچیدہ قسم کی جگاڑیں نظر آ سکتی ہیں۔