کلب ہاؤس: انڈیا میں کلب ہاؤس کے آڈیو چیٹ روم میں مسلم خواتین کے متعلق ہتک آمیز گفتگو

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
آڈیو چیٹ کی ایپ ’کلب ہاؤس‘ پر مسلمان لڑکیوں کے بارے میں جنسی، ہتک آمیز اور پرتشدد نوعیت کی بات چیت کے بارے میں شکایات ملنے کے بعد دلی پولیس نے مذہب کی بنیاد پر نفرت پھیلانے کا ایک مقدمہ درج کر لیا ہے۔
سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے اس قسم کی بات چیت کی ریکارڈنگ شیئر کی ہے اور اس پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ کلب ہاؤس کی بات چیت میں متعد لڑکے اور لڑکیاں شریک ہیں اور وہ مسلمان لڑکیوں کے بارے میں تضحیک آمیز انداز میں بات کر رہے ہیں۔
اس بات چیت میں مبینہ طور پر مسلمان لڑکیوں کے بارے میں جنسی، ہتک آمیز اور جارحانہ نوعیت کی باتیں کی گئی ہیں۔ اس آڈیو میں شامل لڑکیاں بھی مسلمان لڑکیوں کو جنسی حملوں کا نشانہ بنائے جانے کی بات چیت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔
دلی میں خواتین کے کمیشن کی سربراہ سواتی مالیوال نے بتایا کہ کسی نے ٹوئٹر پر کلب ہاؤس کی اس بات چیت کی ریکارڈنگ میں اُنھیں ٹیگ کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا ’مجھے اس چیٹ سے انتہائی تکلیف پہنچی، خاص طور سے اس حقیقت کے پیش نظر کہ اس طرح کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ میں نے دلی پولیس کو نوٹس بھیجا اور ان سے فوراً مقدمہ درج کرنے کے لیے کہا ہے۔‘
دسمبر میں ’بُلی بائی‘ نامی اوپن سورس ایپ پر بعض افراد نے انڈیا کی سو سے زیادہ مسلمان لڑکیوں اور خواتین کی تصویریں شائع کی تھیں اور ان کو ہتک آمیز عنوان دیے گئے تھے۔ پولیس نے اس معاملے میں کم از کم پانچ نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے۔
اس سے پہلے ’سُلی ڈیلز‘ نامی اوپن سورس ایپ جولائی سنہ 2021 میں ویب پلیٹ فارم گِٹ ہب پر ہوسٹ کی گئی تھی جس پر 80 سے زیادہ مسلم خواتین کی تصاویر پوسٹ کی گئی تھیں اور انھیں آن لائن ’فروخت‘ کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ جنوری کے شروع میں پولیس نے اس ایپ کے مبینہ خالق کو گرفتار کیا تھا۔
دونوں معاملات میں کوئی حقیقی فروخت نہیں ہوئی لیکن اس کا مقصد مسلم خواتین کو بدنام اور ان کی تضحیک کرنا تھا۔ ان مسلم خواتین میں سے اکثر نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندو قوم پرستی کی بڑھتی ہوئی لہر کے بارے میں کھل کر بات کرتی رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملک کی معروف تجزیہ کار سیما چشتی کہتی ہیں کہ اس طرح کی نفرت آمیز ذہنیت کی جڑیں بہت پرانی ہیں جو اب سامنے آ رہی ہیں۔
’ایک حالیہ جائزے میں پایا گیا ہے کہ ملک کے نوجوانوں میں حالیہ برسوں میں کوئی بنیاد پرست سوچ نہیں پیدا ہوئی ہے بلکہ یہ سوچ پہلے سے موجود تھی جو ان کے ماں باپ سوچتے تھے وہی ذہنیت ان نوجوانوں کی ہے۔ میرے خیال میں ایسا نہیں ہے کہ یہ سب کچھ ڈیجیٹل سپیس کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ فرق اتنا ہے کہ پہلے نوجوان گلیوں میں، نکڑ پر، چائے کی دکانوں پر ساتھ بیٹھ کر جو باتیں کرتے تھے اب وہ سوشل میڈیا پر ہونے لگی ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
کلب ہاؤس کی چیٹ میں کئی لڑکیاں بھی شامل ہیں جو مسلم لڑکیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی باتوں میں ہاں میں ہاں ملا رہی ہیں۔
سیما چشتی کہتی ہیں کہ یہ سوچنا غلط ہے کہ نفرت کی سیاست میں خواتین کی سوچ مردوں سے مختلف ہوگی۔
’یہ سوچ لینا کہ اگر کہیں عورتیں ہوں تو وہاں تشدد نہیں ہو گا، وہ نرم دل ہوں گی، ان کے اندر نفرت نہیں ہو گی، بالکل غلط تصور ہے۔ یہ سوچ بھی پدرشاہی ذہنیت کی دین ہے کہ عورتیں بہت نرم دل ہوتی ہیں، بہت اچھی ہیں، مرد کٹر ہیں۔ خواتین بھی اسی ذہنیت کی شکار ہیں جس کے شکار ان کے ماں باپ یا پورا معاشرہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@rohini_sgh
ان کا کہنا ہے کہ جس دور سے انڈیا گزر رہا ہے اس کا ایک نفرت انگیز روپ سوشل میڈیا پر دکھائی دے رہا ہے۔
کلب ہاؤس کے تازہ معاملے پر سوشل میڈیا پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔
دلی پولیس نے اس معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ کلب ہاؤس کی طرف سے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
اس بارے میں بات کرتے ہوئے ٹوئٹر صارف سوہنی سنگھ کا کہنا تھا کہ ’ہر دھرم سنسد اور کلب ہاؤس سیشن جہاں مسلمان خواتین کو ریپ کرنے سے متعلق وحشیانہ اور مجرمانہ سوچ کو عام کیا جاتا ہے، اور شہریوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ ان پر تشدد کرنا ایک عام بات ہے۔ نفرت آپ کے بچوں کو ایک عفریت میں تبدیل کر رہی ہے۔ اس کا خاتمہ کریں اس سے پہلے کے بہت دیر ہو جائے۔‘
تنویر نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’سُلی ڈیلز اور بُلی بائی اس سارے معاملے کا ایک سرا ہیں۔ یہاں کلب ہاؤس پر نوجوان ہندو لڑکے اور لڑکیاں مسلمان خواتین کو ریپ کرنے کو سات ہندو مندر بنانے سے تشبیہ دے رہے ہیں۔‘
صائمہ نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’تمام شرکا کو گرفتار کرنا چاہیے اور کلب ہاؤس کو پولیس اور حکام کو تمام تفصیلات فراہم کرنی چاہییں۔‘











