دلی میں دیوالی کے موقع پر بریانی بیچنے والے مسلمان دکاندار کو دھمکیاں، سوشل میڈیا صارفین کی مذمت

بریانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کے شمالی علاقے براڑی کے سنت نگر میں دیوالی کے دن بریانی کی دکان چلانے والے ایک مسلمان دکاندار کو دھمکیوں کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد دہلی پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی ہے۔

اس ویڈیو میں دھمکی دینے والا شخص اپنا نام نریش کمار سوریہ ونشی بتا رہا ہے اور خود کو سخت گیر ہندو تنظیم بجرنگ دل کا رکن ظاہر کر رہا ہے۔

ویڈیو میں وہ دکان کے عملے کو دیوالی کے تہوار پر دکان کھولنے پر ہراساں کر رہا ہے اور انھیں دھمکیاں دے رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس واقعے کے بعد دکان کے مالک اور ان کے ملازمین نے فوراً دکان بند کر دی۔ یہ ویڈیو جمعرات کی رات 9 بجے کے قریب ریکارڈ کی گئی جو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

ہندوستان ٹائمز پر موجود اس ویڈیو میں وہ شخص دھمکی دے رہا ہے کہ ‘یہ ہندوؤں کا علاقہ ہے جامع مسجد نہیں، کس نے تمہیں یہاں دکان کھولنے کی اجازت دی ہے۔‘

اس کے ساتھ وہ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ ‘ہندوؤں جاگ جاؤ یہ لو جہاد کرتے ہیں۔‘

انگریزی کے معروف اخبار دی ٹائمز آف انڈیا نے ایک سینیئر اہلکار کے حوالے سے کہا کہ دہلی پولیس نے براڑی پولیس سٹیشن میں دفعہ 295 اے کے تحت مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور مذہبی جذبات کو بھڑکانے کا مقدمہ درج کیا ہے۔

اہلکار کے مطابق ملزم کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تفتیش جاری ہے۔

ادھر ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر رد عمل نظر آیا ہے۔

معروف صحافی راجدیپ سردیسائی نے لکھا ہے کہ ‘اس وائرل ویڈیو سے آپ کو پتا چلے گا کہ نفرت کی سیاست نے گلیوں محلوں میں عام آدمی پر کتنا اثر ڈالا ہے۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

انھوں نے لکھا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کو بالکل بھی برداشت نہیں کیا جانا چاہیے اور پولیس کو چاہیے کو وہ اس شخص کو پکڑے اور اس کے خلاف مقدمہ چلائے۔

سوما نامی ایک صارف نے لکھا کہ ‘مسلمانوں کو اس ملک میں عوامی مقامات اور منظرِ عام سے ہٹایا جا رہا ہے۔ ایس آر کے (شاہ رخ خان) سے لے کر این سی آر (نیشنل کیپیٹل ریجن) دہلی میں بریانی تک اور آسام کے معین الحق سے لے کر گرگاؤں میں نماز تک۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

انھوں نے مزید لکھا کہ ‘ہندو اکثریت یا تو اس تشدد میں سرگرم ہے یا پھر وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہی ہے۔‘

اس کے جواب میں ایک صارف نے لکھا کہ اس طرح کے واقعات کے خلاف ملک بھر میں وکیلوں اور لیگل سیل کا نیٹ ورک ہونا چاہیے۔ ‘مجرموں کو عدالت تک لانا چاہیے۔ اس طرح کے ایک دو واقعات سے یہ خیال پیدا ہوگا کہ انڈیا میں ہجوم کی بالادستی کی اجازت نہیں ہے۔ حزب اختلاف کو یہ کام کرنا چاہیے۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

اس کے جواب میں ایک صارف نے لکھا کہ ’عدلیہ اس گراوٹ کا حصہ ہے جس نے اس کے خلاف مؤقف اختیار کرنے کے بجائے پارلیمانی سیٹ، گورنر کی پوسٹ، این ایچ آر سی کی کرسی لے لی اور یہ فہرست نہ ختم ہونے والی ہے۔‘

میں نے اسی بابت جب ایک سوال دہلی میں قائم جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسلامی دنیا کے امور کے سکالر پروفیسر سہراب سے کیا تو انھوں نے کہا کہ اس قسم کے جرائم کا ارتکاب خاص ذہنیت کے لوگ کرتے ہیں جو کہ انڈیا میں اکثریتی سیاسی ایجنڈے کا حصہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ‘یہ کوئی انفرادی معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ نفرت کی ایک خاص ذہنیت کو فروغ دیے جانے کا نتیجہ ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

'ہمارے ملک میں کلچرل نیشنلزم (ثقافتی قوم پرستی) اس قسم کی ذہنیت کو فروغ دے رہا ہے۔ اور دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ 'اکثریت پسندی کی سیاست میں اکثریتی کلچر کے علاوہ دوسرے کسی کلچر کو برداشت نہیں کیا جا رہا ہے۔ اسے یا تو اکثریتی کلچر میں ضم کرنے کی ضد ہے یا پھر اسے نکال باہر کرنے کی کوشش ہے۔‘

پروفیسر سہراب نے کہا کہ اکثریت پسند سیاست اس ملک کی سب چیز کی اپنے حساب سے تشریح و تعبیر کر رہی ہے۔ ‘اقلیت اور بطور خاص مسلمانوں کی وزیبلیٹی اور اس کے وجود کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔‘

اشتہار

،تصویر کا ذریعہTANISHQ

،تصویر کا کیپشناشتہار میں مسلمان گھرانے میں ہندو بہو دکھانے پر ایک بار پھر لو جہاد پر بحث

انھوں نے کہا کہ مشتعل ہجوم کے تشدد کا واقعہ ہو یا دکانیں بند کروانے کا معاملہ ہو یا فیب انڈیا کے اشتہار کی مخالفت ہو یہ سب اقلیت کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی کوشش ہے جو ایک زمانے سے جاری ہے۔

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ‘یہ معاشی نسل کشی ہے۔ اور نفرت کی سیاست کے فروغ کا شاخسانہ ہے۔ اس کا اثر چھوٹے اور غیر منظم سیکٹر میں زیادہ محسوس کیا جا رہا ہے جہاں اقلیت اور بطور خاص مسلمانوں میں احساس کمتری اور احساس بے بسی پیدا کیا جا سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ اکثریت پسندی کے نتیجے میں دو قسم کے لوگ ہیں ایک وہ جو جرائم کر رہے ہیں اور دوسرے وہ جو اسے خاموشی سے دیکھ رہے ہیں۔ لیگل سسٹم (قانونی نظام)، انتظامیہ ایسے لوگوں کی ناز برداری کر رہا ہے۔‘

بریانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بریانی پر سیاست پرانی ہے

بریانی کو انڈیا کی مقبول ترین ڈشز میں سے ایک کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا لیکن اسے گذشتہ چند سالوں سے ایک خاص مذہب کی ڈش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

کھانے کے ایک ڈلیوری ایپ سوئگی پر مسلسل کئی سالوں سے بریانی کا سب سے زیادہ آرڈر دیا جا رہا ہے۔ سکرول پر شائع ایک مضمون کے مطابق سوئگی کے ایپ پر انڈیا میں ہر منٹ 95 بریانی کے آرڈر دیے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ این ڈی ٹی وی پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق بریانی انٹرنیٹ پر انڈیا کے کھانوں میں سب سے زیادہ سرچ ہونے والی ڈش ہے اور ہر ماہ ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ لوگ بریانی کے بارے میں معلومات تلاش کرتے ہیں۔

مسلم

،تصویر کا ذریعہAFP

لیکن سنہ 2019 میں جب شہریت کا متنازع بل (سی اے اے) منظور کیا گیا اور اس کے خلاف دہلی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں تقریباً 50 دنوں تک مسلسل مظاہرہ ہوتا رہا تو حکمراں جماعت بی جے پی کے بہت سے رہنماؤں نے مظاہرین کو بریانی کھلانے کی بات کہی اور اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔

اسی طرح اترپردیش میں کانگریس رہنما اور سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی بیٹی پرینکا گاندھی نے وزیر اعظم مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں اپنے انتخابی حلقے میں لوگوں سے ملنے کی فرصت نہیں ہے لیکن وہ پاکستان جا کر بریانی کھا سکتے ہیں۔

راہل گاندھی کی انتخابی مہم کے دوران اُن کی کھانا کھاتے ہوئے ایک تصویر کو ایڈٹ کر کے بریانی کی تصویر لگا کر پروپیگنڈا کیا گیا کہ راہل گاندھی بریانی کھا رہے ہیں جس سے مبینہ طور پر اُن کا مسلمانوں کی طرف جھکاؤ نظر آتا ہے۔

سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین نے لکھا کہ نفرت کی وجہ سے یہ چیزیں پیدا ہو رہی ہیں۔ ایک صارف محمد علی نے لکھا ‘یہ وہی لوگ ہیں جو فون کر کے کہتے ہیں کہ کب بریانی کھلا رہے ہو۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

ماہرین کا کہنا ہے کہ بریانی لوگوں کی پسندیدہ ڈش ہے اور ہر علاقے میں اس کا ذائقہ اور بنانے کا اپنا اپنا طریقہ ہے۔ جنوبی انڈیا کے مالا بار سے لے کر حیدر آباد، دلی، مرادآباد، اودھ یعنی لکھنؤ اور کلکتے کی اپنی اپنی اور جداگانہ بریانی ہوا کرتی ہے۔

اسے بعض کھانے کے شوقین نے انڈیا کی مشترکہ تہذیب کی نمائندہ غذا بھی کہا ہے جس میں مختلف چیزوں کو ملا کر ایک لذیذ پکوان تیار ہوتا ہے۔