انڈین ریاست جھارکھنڈ میں جج کی آٹو رکشا ٹکر سے موت حادثہ یا سازش؟

،تصویر کا ذریعہRAVI PRAKASH\BBC
- مصنف, روی پرکاش
- عہدہ, رانچی سے بی بی سی ہندی کے لیے
انڈیا کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں دھنباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اتم آنند کی گذشتہ سال جولائی میں ایک آٹورکشا کی زد میں آکر موت ہو گئی تھی لیکن ان کی موت کو حادثاتی موت کے بجائے سازش کہا جا رہا ہے۔
مبینہ قتل میں ملوث دو افراد کو جھارکھنڈ پولیس نے گرفتار کیا، اور آٹو رکشا کو ضبط کر لیا گیا۔ پہلے ریاستی پولیس نے جانچ کی لیکن پھر عدالت نے از خود نوٹس لیتے ہوئے اس کی جانچ انڈیا کے مقتدر تفتیشی ادارے سی بی آئی کو سونپ دی۔
لیکن ابھی تک ان کی موت کی کہانی الجھی ہوئی نظر آ رہی ہے۔
یہاں تک کہ مقدمے کی سماعت کرنے والے جھار کھنڈ کے چیف جسٹس ڈاکٹر روی رنجن نے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کو سخت سست کہنے سے بھی گریز نہ کیا اور سماعتوں کی مختلف تاریخوں پر سی بی آئی کے لیے یہ تبصرے کیے:
'آپ لوگ ناکارہ ہیں'، 'آپ کی چارج شیٹ فرسودہ ہے'، 'آپ کے ڈائریکٹوریٹ کو ہی بلانا پڑے گا'، 'آپ لوگ ہر روز ایک نئی کہانی بنا رہے ہو'، 'آپ معاملے کو موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔'
یہ تبصرے اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ سپریم کورٹ اور مدراس ہائی کورٹ نے بھی سی بی آئی کے لیے سخت تبصرے کیے تھے۔ دونوں عدالتوں نے سی بی آئی کو 'پنجرے کا طوطا' قرار دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہRAVI PRAKASH\BBC
ملک کی سب سے پیشہ ور تفتیشی ایجنسی مانی جانے والی سی بی آئی کے لیے کیے جانے والے یہ تبصرے اس کی ساکھ اور کام کرنے کے طریقے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
اس معاملے کی اگلی سماعت 21 جنوری کو ہونی ہے۔ اس کے بعد سی بی آئی کو جج اتم آنند کی موت کے معاملے میں ملزم کے نارکو ٹیسٹ اور دیگر تحقیقاتی رپورٹس بھی عدالت میں پیش کرنی ہوں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سی بی آئی نے اس معاملے میں گرفتار لکھن ورما اور راہول ورما کا دو دو بار نارکو ٹیسٹ کرایا ہے۔ ان کی برین میپنگ، فرانزک اسٹیٹمنٹ کا تجزیہ، لیئرڈ وائس اینالسس، فرانزک نفسیاتی تجزیہ اور پولی گراف ٹیسٹ بھی کرائے گئے ہیں۔
ان سب کے باوجود سی بی آئی اپنی چارج شیٹ میں صرف یہ بتانے میں کامیاب رہی ہے کہ جج اتم آنند کی موت کوئی عام حادثہ نہیں تھا بلکہ سازش کے تحت کیا گیا قتل تھا۔ لیکن، تفتیشی ایجنسی اب تک اس قتل کی کوئی ٹھوس وجہ بتانے میں ناکام رہی ہے۔
جھارکھنڈ ہائی کورٹ اس کے طریقہ کار سے ناراض ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ سی بی آئی کی چارج شیٹ ایک ناول کی طرح ہے۔ یہ چارج شیٹ گذشتہ 20 اکتوبر کو دھنباد عدالت کو سونپی گئی تھی۔ اس میں دونوں ملزمان کے خلاف تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 302، 201 اور 34 کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہRAVI PRAKASH\BBC
جج اتم آنند کی موت کیسے ہوئی؟
28 جولائی 2021 کو دھنباد کے اس وقت کے اے ڈی جے جسٹس اتم آنند صبح کی سیر کے بعد جج کالونی میں اپنی رہائش گاہ کے لیے واپس آرہے تھے۔ ان کے گھر سے صرف 500 میٹر پہلے، ایک آٹو رکشہ نے انھیں پیچھے سے ٹکر مار دی۔
وہ منہ کے بل گرے اور اس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہو گئی۔ وہ چار لین والی سڑک کے کنارے چل رہے تھے اور آٹو درمیانی لین پر تھا۔ لیکن اچانک آٹو رکشہ ڈرائیور نے سڑک کے بیچ میں دوڑتی ہوئی اپنی آٹو کو ان کی طرف موڑ دیا۔ جج اتم آنند کو ٹکر مارنے کے بعد آٹو والے وہاں سے فرار ہوگئے۔ اور صبح ہونے کے باعث سڑک پر چند لوگ ہی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیے
اس کے بعد واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج وائرل ہوگئی۔ اس سے یہ بات زیر بحث آئی کہ جج اتم آنند کی موت کوئی عام حادثہ نہیں بلکہ ایک سازش تھی۔ فوٹیج سے صاف ظاہر تھا کہ ڈرائیور نے انھیں ٹکر مارنے کے ارادے سے اپنا آٹو رکشا ان کی طرف موڑا تھا۔
ان کی موت کو چھ ماہ مکمل ہونے والے ہیں لیکن ان کی موت کا معمہ تاحال حل نہیں ہو سکا ہے۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کے قتل کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا اور انھیں کیوں قتل کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہRAVI PRAKASH\BBC
جج اتم آنند کی شخصیت
49 سالہ جج اتم آنند نے دہلی یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کی۔ ان کے والد سدانند پرساد، بیوی کریتی سنہا اور بہنوئی پربھات کمار سنہا وکیل ہیں۔ ان کا خاندان در اصل جھارکھنڈ کے ہزاری باغ سے آتا ہے۔ جج اتم آنند اپنے فیصلوں کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔
انھوں نے جولائی سنہ 2021 میں اپنی موت سے پہلے 36 فیصلے سنائے تھے۔ ان میں سے 34 مقدمات ضمانت سے متعلق تھے۔ انھوں نے صرف چھ ضمانت کی درخواستیں قبول کیں، جو کہ ملزم کی تحویل کی مدت کی بنیاد پر تھیں۔
ان کی عدالت نے باقی تمام ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ یہ تمام مقدمات قتل، کوئلے کی سمگلنگ، جنسی ہراسانی، لاٹری کے غیر قانونی کاروبار جیسے گھناؤنے جرائم سے متعلق تھے۔ اس طرح کے درجنوں مقدمات ان کی عدالت میں زیر سماعت تھے۔
پہلے جھارکھنڈ پولیس نے تفتیش کی
جھارکھنڈ پولیس نے ان کی موت کی تحقیقات کا کام سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کو سونپا تھا۔
پولیس نے دھنباد میں رجسٹرڈ تقریباً 16 ہزار آٹورکشوں کی تفصیلات تلاش کیں۔ کئی آٹو ڈرائیوروں سمیت تقریباً 250 لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی۔ کچھ مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ تب کہیں جا کر جج اتم آنند کے قتل کے لیے استعمال ہونے والا آٹو رکشہ نمبر JH 10R 0461 کا پتا مل سکا۔ اس دوران پولیس نے اس آٹو کے ڈرائیور لکھن ورما اور اس کے ساتھی راہل ورما کو گرفتار کرلیا۔ اس سے کئی راؤنڈ تفتیش کی گئی لیکن دونوں الگ الگ کہانیاں سناتے رہے۔ پولیس کی تفتیش سے معلوم ہوا کہ دونوں پیشہ ور چور ہیں۔

،تصویر کا ذریعہRAVI PRAKASH\BBC
جھارکھنڈ پولیس نے اپنی تحقیقات کے بعد یہ بھی کہا کہ جج کے قتل میں استعمال ہونے والا آٹو رکشہ چوری کا تھا۔ آٹو رکشا کی مالکن سوگنی دیوی نے پتھرڈیہ پولیس سٹیشن میں آٹو چوری کی شکایت درج کرائی تھی۔ انھوں نے کہا کہ 27 جولائی کی رات ان کا آٹو چوری ہو گیا تھا۔ جبکہ پولیس نے 29 جولائی کو چوری کی رپورٹ درج کی۔
اس سے قبل ہی جج اتم آنند کو ٹکر مارنے والے آٹو کا ویڈیو وائرل ہو چکا تھا۔ دھنباد کے ایس ایس پی نے اس وقت کے سٹیشن انچارج امیش مانجھی کو بھی رپورٹ دیر سے داخل کرنے پر معطل کر دیا۔
راہل ورما کے خلاف پورنیندو وشوکرما نامی شخص نے موبائل چوری کی رپورٹ بھی درج کرائی تھی۔
ہائی کورٹ کے حکم پر سی بی آئی سے جانچ
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے جج اتم آنند کیس میں ازخود نوٹس لیا تھا۔ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد اگست کے مہینے میں اس کیس کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی گئی تھی۔
اس کے بعد سے سی بی آئی کے جوائنٹ ڈائریکٹر شرد اگروال کی قیادت میں ایک ٹیم اس کی تحقیقات کر رہی ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک معروف اور انعام یافتہ افسر وی کے شکلا کو اس معاملے کا تفتیش کار بنایا گیا ہے۔ سی بی آئی حکام نے جائے وقوعہ کو دوبارہ تیار کر اپنی تحقیقات شروع کر دی تھی لیکن واقعہ کے 90 دنوں کے اندر چارج شیٹ داخل کرنے کے باوجود سی بی آئی کسی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔ جس کی وجہ سے انھیں ہائی کورٹ میں سخت سست کہا جا رہا ہے۔
سی بی آئی نے اب کہا ہے کہ جج اتم آنند کو آٹو ڈرائیور نے موبائل چھیننے کے لیے دھکا دیا تھا۔ تاہم ہائی کورٹ نے سی بی آئی کی اس تھیوری کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔
بہر حال، جج اتم آنند کے قتل کا معاملہ ایک ایسا معمہ بنا ہوا ہے، جس کا راز جاننے میں سی بی آئی فی الحال ناکام نظر آتی ہے۔ ایسے میں اس معاملے کے اسرار سے پردہ اٹھانے میں وقت لگ سکتا ہے۔












