توہین عدالت : سی بی آئی کے سابق سربراہ کو سزا

ناگیشور راؤ

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشننگیشور راؤ کو سی بی آئی کا عبوری سربراہ مقرر کیا گیا تھا
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

انڈیا کی سپریم کورٹ نے مرکزی تفتیشی بیورو ، سی بی آئی کے سابق عبوری سربراہ ناگیشور راؤ کو توہین عدالت کا قصوروار قرار دیا ہے۔ سزا کے طور پر انہیں آج شام عدالت کی کارروائی ختم ہونے تک عدالت کے کمرے کے ایک کونے میں بیٹھے رہنے کا حکم دیا ہے۔ ان پر توہین عدالت کے لیے ایک لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگئی نے راؤ کو حکم دیتے ہوئے کہا ' آپ عدالت کے ایک کونےمیں بیٹھ جائیے اور عدالت کا آج کاوقت ختم ہونے تک وہیں بیٹھے رہیئے۔ جرمانہ ایک ہفتے کے اندر بھرنا ہے ۔'

یہ بھی پڑھیے

چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالت عظمی کی تین رکنی بنچ کے روبرو منگل کو ناگیشور راؤ حاضر ہوئے ۔ ان کی نمائندگی اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال کر رہے تھے۔ یہ معاملہ چند ہفتے قبل اس وقت کا ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے سی بی آئی کے سربراہ آلوک ورما کو اچانک ان کے عہدے سے ہٹا دیا اور ان کی جگہ ناگیشور راؤ کو عبوری سربراہ مقرر کر دیا۔آلوک ورما کی پٹیشن پر سپریم کورٹ نے یہ حکم صادر کیا تھا کہ اس معاملے کا حتمی فیصلہ ہو جانے تک عبوری سربراہ کوئی اہم فیصلے نہ کریں اور صرف روز مرہ کے انتظامی امور دیکھیں۔ لیکن ناگیشور راؤ نے ایک اہم کیس کی تفتیش کرنے والے ایک اعلی اہلکار کا تبادلہ کر دیا۔

سابق عبوری سربراہ ناگیش راؤ نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے عدالت عظمی سے غیر مشروط معافی مانگی۔ اٹارنی جنرل نےعدالت سے کہا کہ راؤ نے بدنیتی سے یہ تبادلہ نہیں کیا تھا اور وہ فوراً اپنی غلطی مان کر عدالت میں معافی کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔ انہوں نے عدالت سے اپنے فیصلے میں رحم کی اپیل کی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ناگیشور راؤ نے 32 برس تک بہترین خدمات انجام دی ہیں اور ان کے خلاف کارروائی سے ان کے کریئر سے ایک منفی پہلو جڑ جائےگا۔

سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہPti

،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ نے توہین عدالت میں عدالت کے ختم ہونے تک کی سزا سنائی

چیف جسٹس نے ناگیشور کے خلاف توہین عدالت کی سزا دیتے ہوئے کہا کہ 'عدلیہ کی شان اور اس کا وقار برقرار رکھنا ضروری ہے اور یہ توہین عدالت سے نہیں ہوتا۔'

سی بی آئی کچھ عرصے سے اندرونی ٹکراؤ کا شکار ہے ۔ اس کے دو اولین اہلکاروں کو حال میں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ ان دونوں اہلکاروں نے ایک دوسرے کے خلاف بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔بیورو ان دنوں حزب اختلاف کے کئی اعلی رہنماؤں کے خلاف کئی معاملات کی تفتیش کر رہا ہے۔ حزب اختلاف نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی کی حکومت انتخابات سے قبل تفتیشی بیورو کو اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔