وڑا پاؤ: انڈین برگر جس کا مقابلہ میکڈونلڈز بھی نہیں کر سکتا

وڈا پاو

،تصویر کا ذریعہCharukesi Ramadurai

    • مصنف, چاروکیسی رامادورئی
    • عہدہ, بی بی سی ٹراول

’وڑا پاؤ‘ اور ممبئی شہر کا ایک دوسرے کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں سے لے کر بالی وڈ کے معروف اداکاروں تک، تقریباً ہر شخص ’وڈا پاؤ‘ سے اپنی محبت کا اظہار کرنے میں عار نہیں سمجھتا۔

مگر وڑا پاؤ نامی یہ برگر ہے کیا، آئیے پڑھیے ہیں اس تحریر میں۔

سریش ٹھاکر نے آلو کے پیڑوں کی، جنھیں ’وڑا‘ کہا جاتا ہے، ایک اور کھیپ کھولتے ہوئے تیل کے بڑی سی کڑاھی میں ڈالی۔ انھوں نے علی الصبح ہی آلوؤں میں مصالحے ملا کر انھیں پیڑوں کی شکل دے دی تھی۔ یہ مخصوص مصالحہ ہری مرچ، باریک کٹی ہوئی کچی پیاز کے ساتھ ملا کر تیار کیا گیا تھا۔

آلو کے یہ پیڑے بیضوی شکل میں بنے تھے اور سریش انھیں تیل کی کڑھائی میں ڈالنے سے پہلے چنے کے بیسن میں ڈبوتے (ڈِپ) جا رہے تھے۔ تیل میں ’وڑا‘ ڈالتے ہی چھن کی آواز آتی ہے اور چنے کے بیسن کی مہک فضا میں پھیل جاتی ہے۔ اور یہی وہ مہک ہے جو ارد گرد کھڑے بہت سے خریداروں کے دلوں کی ڈھرکن تیز کر دیتی ہے اور پہلے سے لگی بھوک مزید چمک اٹھتی ہے۔

کڑاھی میں ڈالنے کے بعد ’وڑروں‘ کو بڑی سے چھلنی کی مدد سے اِدھر اُدھر گھمایا گیا۔ اور لیجیے دیکھتے ہی دیکھتے وڈا تیار ہو گیا۔

اس کے بعد سریش نے ایک نرم بن کو جسے ’پاؤ‘ کہتے ہیں درمیان سے کاٹ لیا اور کٹی ہوئی ہری مرچ اور دھنیے کی چٹنی ڈال کر میری جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا ’لہسن بھی ڈالنا ہے‘۔

میں نے اثبات میں سر ہلایا، اور انھوں نے فراخدلی کے ساتھ لہسن کی چٹنی بھی اچھی خاصی مقدار میں ڈال دی اور پھر وڑے کو درمیان میں دبا دیا۔ اس طرح ’وڑا پاؤ‘ کا سینڈوچ تیار ہو گیا جسے پرانے اخبار کے ایک ٹکڑے میں لپیٹا، تلی ہوئی ہری مرچ کو الگ سے لپیٹا (گویا کہ پہلے سے لگایا گیا مصالحہ کم تھا!)۔

وڈا پاو:

،تصویر کا ذریعہCharukesi Ramadurai

اس پورے برگر کی قیمت ہے فقط 12 روپے جو میں نے سریش ٹھاکر کو پکڑائے اور اپنی راہ لی۔

جیسے ہی میرے دانت نرم پاؤ سے گزر کر خستہ وڑے میں داخل ہوئے ایسا لگا کہ جیسے میں ممبئی کے اصلی ذائقے سے ہمکنار ہو رہا ہوں۔ یہ ذائقہ اور بناوٹ کے لحاظ سے ایک دوسرے کے بالکل برعکس تھا: پاؤ کی نرمی وڑا کے خستے پن پر ورق کی طرح کام کر رہی تھی۔

ہر چند کہ مجھے ایک زمانے سے مصالحے دار کھانے کا تجربہ تھا لیکن پھر بھی اس کے پہلے ہی نوالے نے تیکھا اور تیز مزا فراہم کیا۔ میں اپنی زبان پر پھیلی ہوئی دونوں چٹنیوں کے تیز ذائقے کو محسوس کر سکتا تھا۔ وڑا پاؤ ایک لذیذ کاربو ہائڈریٹ کا بھرپور مرکب ہے جو کہ کھانے والے کو فوری توانائی فراہم کرتا ہے۔

آج یہ ناشتہ یعنی وڑا پاؤ اور ممبئی شہر ایک دوسرے کے مترادف ہیں۔ فیکٹری ورکرز سے لے کر کالج کے طالب علموں اور بالی وڈ کے ستاروں تک تقریباً ہر شخص کو اس سے اپنی محبت کا اعلان کرنے میں عار نہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ہر روز انڈیا کے مالیاتی دارالحکومت میں 20 لاکھ سے زیادہ وڑا پاؤ کھائے جاتے ہیں۔

اس ایک مخصوص برگر کے لیے وقف ویب سائٹ چلانے والے ٹریول بلاگر کوشل کارخانیس نے مجھے بتایا: ’ایک ایسے شہر کے لیے جہاں دن رات رونق رہتی ہے، میرے خیال میں وڑا پاؤ تیز ترین، سستا ترین اور چلتے پھرتے کرنے والا ناشتہ ہے۔

’میرے خیال میں ممبئی میں کسی کے لیے بھی یہ ’کھانے کا‘ پہلا تجربہ ہوتا ہے۔ جس کم قیمت پر یہ دستیاب ہے اس کی وجہ سے یہ سماجی تفریق کو بہت حد تک مٹانے والا ہے۔‘

وڑا پاؤ مزیدار تو ہوتا ہے لیکن اس ناشتے کے لیے ممبئی والوں کے دل میں جو چاہ اور عزت ہے وہ اکثر ممبئی کے باہر کے لوگوں کو حیران کر دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایسا کہا جاتا ہے کہ یہ ڈش سنہ 1966 میں ممبئی میں رہنے والے اشوک ویدیا نے ایجاد کی تھی، جب انھوں نے ایک ٹرین سٹیشن کے سامنے پہلا وڑا پاؤ سٹال کھولا تھا۔ اس سٹیشن سے سینکڑوں ہزاروں فیکٹری ورکرز اور طلبا، جنھیں اکثر فوری اور سستے ناشتے کی ضرورت ہوتی ہے، گزرتے تھے۔

وڈا پاو:

،تصویر کا ذریعہCharukesi Ramadurai

اور اس طرح وڑا پاؤ ’بمبیا‘ یعنی ممبئی والوں میں فوری مقبول ہو گیا۔ اسے ایجاد کرنے والے اشوک ویدیا ممبئی کی معروف شخصیت بن گئے یہاں تک کہ ایک مقامی صحافی نے ان کے بارے میں ایک دستاویزی فلم بھی بنائی، جس کا نام ’وڑا پاؤ‘ رکھا۔

سنہ 1970 اور 80 کی دہائیوں میں ہڑتالوں کی وجہ سے بالآخر ٹیکسٹائل ملز بند ہونا شروع ہو گئیں، بہت سے سابق مل کارکنوں نے ریاست مہاراشٹر کی دائیں بازو کی سیاسی جماعت شیو سینا کی حوصلہ افزائی سے اپنے اپنے وڑا پاؤ کے سٹال کھولے۔

ممبئی میں مقیم فوڈ رائٹر مہر مرزا نے ریاست کرناٹک کے مندروں والے شہر اُڈوپی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’بعد میں وڑا پاؤ کو شیو سینا نے اُڈوپی کے مہاراشٹرائی متبادل کے طور پر پیش کرنے کے لیے منتخب کیا جو کہ اُس وقت بہت مشہور تھے۔‘

شیو سینا کی مہم کئی جنوبی ہند کے پکوانوں کی مقبولیت میں اضافے کا باعث بنی جیسا کہ ’ڈوسا‘ اور ’اڈلی‘ وغیرہ۔ شیوسینا کا مقصد ممبئی والوں کو ’باہر‘ کے کھانوں کو ترک کرنے اور اپنے کھانوں کو اپنانے پر راضی کرنا تھا، یہ ایک ایسی حکمت عملی رہی جس نے ان ہنگامہ خیز معاشی حالات میں بہت اچھا کام کیا۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ وڑا پاؤ کے دونوں اہم اجزا یعنی آلو اور بن یورپی درآمدات ہیں، جو 17ویں صدی کے آس پاس پرتگال کے رہنے والے ہندوستان لائے تھے۔ ڈش کا واحد کلیدی جزو، جو اصل میں اس خطے سے تعلق رکھتا ہے یا یوں کہیں کہ ہندوستان سے تعلق رکھتا ہے، وہ ہے بیسن (چنے کا آٹا)، جس میں آلو کے پیڑے کو ڈیپ فرائی کرنے سے پہلے ڈبویا جاتا ہے۔

پھر بھی، ممبئی والے وڑا پاؤ کو مکمل طور پر ’بمبیا‘ (اب بمبئی کو لوگ ممبئی کہتے ہیں) ڈش سمجھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ممبئی میں وڑا پاؤ کی صنعت 1990 کی دہائی تک بہت اطمینان سے پھلتی پھولتی رہی جب تک کہ میکڈونلڈز جیسے بین الاقوامی ریستورانوں نے بالکل وڑا پاؤ کی طرح کا ’چیز ویج برگر‘ پیش کرنا نہ شروع کر دیا جو کہ بہت سے انڈیا والوں کی بڑے گوشت سے اجتناب کی خواہش کو پورا کرتا تھا۔

وڈا پاو:

،تصویر کا ذریعہCharukesi Ramadurai

ہر چند کہ پیٹیز تلے ہوئے آلوؤں پر مشتمل ہوتی ہے لیکن میکڈونلڈز کا ’میکالو ٹکی‘ وڈا پاؤ سے زیادہ مختلف نہیں۔ نہ صرف یہ گھریلو وڑا پاؤ کے مسالحے کی سطح سے میل نہیں کھاتا بلکہ اس میں فنکاری کے لیے بھی بہت کم گنجائش ہے۔

وڑا پاؤ کا ذائقہ مکمل طور پر باورچی کی خواہشات پر منحصر ہے، ہر دکاندار یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی کوئی خفیہ ترکیب یا کوئی خاص مصالحہ ہے جو اس کے وڑا پاؤ کو منفرد بناتا ہے: چٹکی بھر مسالحہ، یا چوڑے کی ٹاپنگ (یعنی کڑاہی میں رہ جانے والے آلو کے خستہ ٹکڑے) وڑا کے ساتھ۔

اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ وڑا پاؤ ممبئی میں ہمیشہ سے زیادہ مقبول رہا ہے اور یہ کہاوت کے طور پر ہی نہیں بلکہ حقیقت میں ہاتھوں ہاتھ بک جانے والا برگر ہے۔

یہ شہر کا حقیقی ذائقہ ہے

وڑا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سنہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں مقامی کاروباری شخصیت دھیرج گپتا نے اس میں اقتصادی منفعت دیکھی اور اپنی چین ’جمبو کنگ‘ میں وڑا پاؤ کو فرنچائز کر لیا۔ گپتا نے مجھے بتایا کہ ’اسے 'انڈین برگر‘ کہنے سے اس برگر کو فوری طور پر اہمیت ملی، اور ساتھ ہی ساتھ ممبئی شہر سے باہر والوں کے لیے یہ ایک ثقافتی قرب کا احساس بھی دلاتا ہے۔

کمپنی نے روایتی کھانے کے ساتھ کئی تجربات بھی کیے جیسا کے چینی کھانوں سے متاثر ہو کر شیزوان وڑا پاؤ اور ناچو وڑا پاؤ جس میں اوپر سے ٹورٹیلا چپس ڈالی جاتی ہے۔

گپتا کا کہنا ہے کہ وڑا پاؤ کی ان جدید قسموں نے صارفین کو متاثر کیا ہے اور ان کی فروخت مجموعی فروخت کا 40 فیصد ہے۔ گپتا نے کہا کہ جمبو کنگ کے پاس اب صرف ممبئی شہر میں 75 دکانیں ہیں، جن میں سے ہر دکان میں روزانہ 500 سے زیادہ وڑا پاؤ فروخت ہوتے ہیں۔ ممبئی کے کھانے کی چین پونے اور اندور جیسے شہروں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے جبکہ گپتا اگلے پانچ برسوں میں اپنے کاروبار کو مزید بڑھانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

ان کے باوجود بہت سے ممبئی کے باشندے اب بھی گلی کے کنارے لگے سٹالوں پر بننے والے وڑا پاؤ کے ذائقے کی ہی ضمانت دیتے ہیں۔ وڑا پاؤ کے سب سے مشہور سٹالز، جیسا کہ چھترپتی شیواجی ٹرمینس کے سامنے، آرام دودھ بار یا دادر کے مضافاتی علاقے میں اشوک وڈا پاؤ۔

ان کے علاوہ اب بھی شہر بھر کے مضافاتی ٹرین سٹیشنوں کے قریب وڑا پاؤ کے سٹالز نظر آتے ہیں جو ان مسافروں کی خدمت کے لیے ہر وقت تیار ہیں جو ’بمبئی کی لوکل ٹرین‘ سے کام پر جاتے ہیں۔ کچھ دکانداروں نے تو شیزوان اور سویٹ کارن وڑا پاؤ کی نقل کو بھی فخر کے ساتھ پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔

لیکن ممبئی کے ایک سابق رہائشی کے طور پر میں اب بھی اصلی وڑا پاؤ کا حامی ہوں کیونکہ میرے نزدیک یہ شہر کا حقیقی ذائقہ ہے۔