تیجسوی سوریا: انڈیا میں بی جے پی کے رکن پارلیمان نے مسلمانوں، مسیحیوں کو ہندو بنانے کا بیان واپس لے لیا

سنہ 2020 میں بی جے پی یووا مورچا کے صدر منتخب ہونے کے بعد تیجسوی سریا نئی دہلی میں ایک ریلی کے دوران: فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنتیجسوی سوریا سنہ 2020 میں بی جے پی یووا مورچا کے صدر منتخب ہوئے تھے
    • مصنف, نیاز فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی

انڈیا کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمان تیجسوی سوریا نے مسلمانوں اور مسیحیوں کو ہندو مذہب میں تبدیل کرنے کے مطالبہ کو واپس لے لیا ہے۔

کرناٹک حکومت کے ایک متنازع تبدیلی مذہب کے قانون کی منظوری کے چند روز بعد، 25 دسمبر کو ریاست کے ضلع اُوڈوپی کے کرشنا مٹھ میں منعقد ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ’ہم نے اس ملک میں رام مندر تعمیر کر دیا ہے، جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ختم کر دیا ہے، ہمیں پاکستان کے مسلمانوں کو ہندو بنانا چاہیے، ہمیں گھر واپسی کو ترجیح دینی ہوگی، اکھنڈ بھارت کے تصور میں پاکستان شامل ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا تھا کہ مٹھوں اور مندروں کو اس سلسلے میں قیادت کرنی چاہیے اور ہر مندر اور مٹھ کو اس کے لیے سالانہ ہدف مقرر کرنا چاہیے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب تیجسوی نے تفرقہ انگیز بیان دیا ہو۔ ان کے گذشتہ متنازع تبصروں کی طرح اس بار بھی سوشل میڈیا پر تنقید ہوئی اور انھوں نے 27 دسمبر کو یہ کہتے ہوئے اپنا بیان واپس لے لیا کہ ’دو دن قبل اُوڈوپی سری کرشنا مٹھ میں منعقدہ ایک پروگرام میں میں نے ’بھارت میں ہندو بحالی‘ کے موضوع پر بات کی تھی۔ میری تقریر کے بعض بیانات نے ایک افسوسناک تنازع پیدا کر دیا ہے۔ اس لیے میں غیر مشروط طور پر یہ بیانات واپس لیتا ہوں۔‘

اگرچہ انھوں نے اپنے بیانات واپس لیے لیکن ان کی تقریب کو سوشل میڈیا پر لائیو سٹریم کیا گیا تھا۔ جب تک وہ اپنے بیانات کے لیے معافی مانگتے تب تک ان کی تقریر سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی تھی۔

تیجسوی سوریا کون ہیں؟

تیجسوی کو مرکزی حکمران جماعت بی جے پی کے ایک ابھرتے ہوئے ستارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وہ ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس سے بچپن سے جڑے ہوئے ہیں اور جنوبی بنگلور سے پارٹی کے رکن پارلیمان ہیں۔ 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں پارٹی نے لوگوں کی توقع کے خلاف سابق مرکزی وزیر اننت کمار کی بیوہ، تیجسونی اننت کمار، کے بجائے انھیں ٹکٹ دیا تھا۔

پارٹی کا ان پر اعتماد اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت ان کی عمر محض 28 سال تھی اور انھیں اتنی بڑی سطح پر کوئی انتخابی تجربہ نہیں تھا۔ پارٹی کی امیدوں کے مطابق انھوں نے کانگریس کے ایک تجربہ کار امیدوار کو شکست دی تھی۔

اسی انتخابی مہم کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ ’اگر آپ مودی کے ساتھ ہیں تو انڈیا کے ساتھ ہیں۔ اگر آپ مودی کے ساتھ نہیں تو آپ انڈیا مخالف قوتوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔‘

تیجسوی سریا بی جے پی کی ایک اور رکن پونم مہاجن کے ہمراہ: فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنتیجسوی سوریا بی جے پی کی ایک اور رکن پونم مہاجن کے ہمراہ

اس سے قبل 2018 میں کرناٹک کے شہر کے جے نگر نامی سیٹ کے ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد انھوں نے کہا تھا کہ بی جے پی کو ’صحیح طور پر ایک ہندو پارٹی بننا چاہیے نہ کہ صرف ایک ایسی پارٹی جسے ہندو پارٹی کے طور پر دیکھا جاتا ہو۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ چاہیں تو مجھے متعصب یا فرقہ پرست کہیں۔ لیکن جے نگر میں بی جے پی کی شکست کی واحد وجہ مسلم ووٹوں کا یکطرفہ ہونا ہے۔‘ انھوں نے ثبوت کے طور پر جے نگر کے ایک علاقے کی نشاندہی بھی کی جہاں کانگریس پارٹی کو زیادہ ووٹ ملے تھے۔

انڈین اخبار دی ہندو کی ویشنا رائے نے تو اپنے ایک کالم میں یہاں کہہ دیا کہ تیجسوی انھیں ایک نوجوان نریندر مودی کی یاد دلاتے ہیں۔ ’مودی کی طرح تیجسوی کو آر ایس ایس کی حمایت حاصل ہے۔ مودی کی طرح وہ حقائق کے ساتھ کھیلتے ہیں۔‘

سماجی کارکن راجندرن پربھاکر جو کہ جنوبی بنگلور میں کام کرتے ہیں، بتاتے ہیں کہ ’تیجسوی آر ایس ایس کارکن ہیں اور ان کا بچپن جنوبی بنگلور میں ہی گزرا ہے۔‘ ایک مقامی صحافی کے مطابق اس علاقے میں ہندو اعلیٰ ذاتوں کی اکثریت ہے۔

پربھاکر بتاتے ہیں کہ انھیں آر ایس ایس نے تیار کیا ہے اور وہ نظریاتی طور پر کافی مضبوط ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

وہ کہتے ہیں کہ تیجسوی کئی شعبوں میں ماہر سمجھے جاتے ہیں، مثلاً ’وہ اچھے مقرر ہیں، اچھا لکھتے ہیں اور بحث و مباحثے میں بھی اچھے ہیں۔ اور اس کے علاوہ ان کے بہت اعلیٰ سطح پر سیاسی تعلقات ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ان کے عروج کی وجہ ان کے اعلیٰ سطحی سیاسی تعلقات ہیں، جن میں بی جے پی کے بڑے نام شامل ہیں جن میں سے نریندر مودی بھی ایک ہیں۔‘

پارٹی قیادت سے ان کی قربت اس بات سے صاف ظاہر ہوتی ہے کہ ان کے ایم پی آفس کے افتتاح کے لیے امت شاہ خود بنگلور آئے۔

مودی، تیجسوی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Tejasvi_Surya

،تصویر کا کیپشنتیجسوی سوریا کے عروج کی ایک وجہ ان کے نریندر مودی سے اچھے تعلقات کو بھی سمجھا جاتا ہے

بنگلور شہر کو انڈیا کی ’سیلیکن ویلی‘ کہا جاتا ہے جہاں کمپیوٹر سے متعلق کاروبار اور نوکری کے لیے پورے ملک سے نوجوان آتے ہیں۔ اس کے علاوہ انڈیا کی جنوبی ریاستوں میں تعلیم کی شرح شمالی ریاستوں سے بہتر ہے۔

تاہم گذشتہ دو پارلیمانی انتخابات میں شہر کی تینوں سیٹوں پر بی جے پی کامیاب رہی ہے اور جنوبی بنگلور کی سیٹ پارٹی 1991 سے جیت رہی ہے۔

سماجی ہم آہنگی پر آواز بلند کرنے والے وکیل ونے پربھاکر کہتے ہیں کہ فرقہ وارانہ سیاست سے تعلیم کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

پربھاکر کہتے ہیں کہ یہاں سے فتحیاب ہونے کے لیے پارٹی نے ’وہ چیزیں سیکھ لی ہیں جو اسے سیکھنا چاہیے تھیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ بی جے پی زبردست اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے۔‘

آزمائشی تجربے؟

مئی 2021 میں جب ملک میں کورونا کی وبا اپنے عروج پر تھی تو تیجسوی نے کورونا مریضوں کے لیے بنگلور کے میونسپلٹی ہسپتال میں بستر مختص کرنے کے نظام میں ایک گھوٹالے کا پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ انھوں نے وہاں کام کرنے والے 204 ملازمین میں سے جن 16 کے نام پڑھ کر سنائے وہ سبھی مسلمان تھے۔ ان سبھی افراد کو فوراً نوکری سے نکال دیا گیا تھا۔

حالانکہ پولیس نے چند ہی دنوں میں اس گھوٹالے میں ملوث سات لوگوں کو گرفتار کیا لیکن ان میں سے کوئی بھی تیجسوی کے ذریعے بتائے گئے مسلم نام نہیں تھے۔

تیجسوی کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ 'یہ سب آزمائشی تجربے ہیں۔ یہ بیان دیے جائیں گے، کچھ عرصے کے بعد واپس لے لیں جائیں گے۔ وہ اس سے لوگوں کے ردعمل کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں۔‘

حالیہ مہینوں میں ریاست کرناٹک فرقہ وارانہ واقعات کی وجہ سے سرخیوں میں رہی ہے۔ گذشتہ چند ماہ میں ریاست میں مبینہ طور پر ایک مسلم نوجوان کا ’لو جہاد‘ کے نام پر قتل ہوا، ایک مندر کے انہدام پر رپورٹ کرتے ہوئے ایک اردو صحافی پر حملہ ہوا، ایک مسلمان کی گوشت کی دکان میں توڑ پھوڑ کی گئی، ایک مسجد کے مندر ہونے کا دعویٰ کیا گیا، دائیں بازو کے ارکان بھجن گاتے ہوئے زبردستی چرچ میں داخل ہو گئے۔

اُوڈوپی مٹھ میں تیجسوی سوریا کی تقریر سے چند روز پہلے ریاست اتراکھنڈ کے ہری دوار میں ہندوتوا لیڈروں نے بھی اشتعال انگیز تقریریں کی تھیں۔ انھوں نے ہندوؤں سے اپیل کہ وہ مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھائیں۔ لوگوں کے غم و غصہ کے اظہار کے بعد ریاستی پولیس نے کانفرنس کے کچھ شرکا کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے جن میں جتیندر سنگھ تیاگی بھی شامل ہیں، جنھوں نے چند ہفتے پہلے ہندو مذہب اختیار کیا تھا۔

ونے کہتے ہیں کہ 'ہری دوار میں فرقہ وارانہ بیانات، ریاست میں تبدیلی مذہب کا قانون اور تیجسوی سوریا کے بیانات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔‘

کیا تیجسوی بی جے پی کے مستقبل کے منصوبے کا حصہ ہیں؟

ونے اس بات سے متفق ہیں کہ تیجسوی بی جے پی کے مستقبل کا ایک اہم حصہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’وہ آگے جانے کے لیے اسی طریقے کا استعمال کر رہے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’تیجسوی ایک ایسے شخص ہیں جو کہ تاریخ کے ایک حصے کو اٹھاتے ہیں، آدھی ادھوری باتوں کو توڑتے مروڑتے ہیں اور اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔‘

’وہ ایک ایسے شخص ہیں جو کہ ان آدھی ادھوری اور توڑی مروڑی باتوں کو اٹھا کر ایک خاص قسم کے مستقبل کو پیش کرتے ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’عام نیتاؤں کے برعکس تیجسوی کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔‘