انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں نوجوان تاجروں کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟

مسرت جان
،تصویر کا کیپشنمسرت جان: ’ابتدا میں میرے پاس دس ملازم تھے، اب صرف چار ہیں اور وہ بھی یومیہ اُجرت پر‘
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

سعودی عرب کی وزارتِ صحت میں کئی برسوں تک ماہر دوا ساز کے طور پر کام کرنے کے بعد چند سال قبل مسرت جان اور اُن کے خاوند جان محمد انڈیا کے زیر انتظام کشمیر واپس آئے تھے۔

سنہ 2019 میں انھوں نے بینک سے اس اُمید سے قرض لیا کہ انڈین حکومت نے آئین کے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد جس ’صنعتی انقلاب‘ کا وعدہ کیا تھا وہ بھی اس میں اپنا حصہ تلاش کریں گے۔ تاہم قرض اور اپنی پوری جمع پونجی دوا سازی کے کارخانے میں لگانے کے بعد اب مسرت جان کو یہ کارخانہ بند ہونے کا خدشہ ہے۔

پلوامہ کے لاسی پورہ میں مسرت جان کے کارخانے میں ہسپتالوں کے لیے سینیٹائزر، سپرٹ، فنائل اور دیگر ادویات تیار ہوتی ہیں لیکن اُن کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں کو ادویات سپلائی کرنے کے بعد کئی کئی ماہ تک اُنھیں مطلوبہ رقم نہیں ملتی۔

’ہم تو زہر کھانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ میرے بچوں کو امتحان کے دوران اس لیے ہال ٹکٹ نہیں ملا کیونکہ فیس ادا نہیں ہوئی تھی۔ ابتدا میں میرے پاس دس ملازم تھے، اب صرف چار ہیں اور وہ بھی یومیہ اُجرت پر۔ بینک کا قرضہ نہیں ادا کر پائی ہوں، حکومت نے سبسڈی کی رقم نہیں دی ہے اور ہسپتال انتظامیہ شرطوں پر شرطیں عائد کر کے میرا جینا مشکل کر رہی ہے۔ یہ کارخانہ تو بند ہی ہو جائے گا۔‘

کشمیر
،تصویر کا کیپشنکشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے رواں ماہ اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وادی کشمیر کے 85 فیصد کارخانے بند ہونے کے قریب ہیں

یہ معاملہ صرف مسرت جان تک محدود نہیں بلکہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بیشتر تاجر اور صنعت کار اسی صورتحال کا شکار ہیں۔ صنعت کاروں اور تاجروں کی انجمن ’کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز‘ نے رواں ماہ اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وادی کشمیر کے 85 فیصد کارخانے بند ہونے کے قریب ہیں۔

چیمبر کا دعویٰ ہے کہ صرف رواں سال کے دوران کورونا کے باعث لگنے والی پابندیوں اور وادی میں کشیدگی کی وجہ سے مقامی معیشت کو 10 ہزار کروڑ روپے کا خسارہ اُٹھانا پڑا ہے جبکہ گذشتہ دو برسوں کے دوران مجموعی خسارے کا حجم 50 ہزار کروڑ بتایا جاتا ہے۔

چیمبر کے صدر شیخ عاشق نے بی بی سی کو بتایا ’یہ ساری معلومات ہم نے انڈین حکومت کے سامنے رکھی ہیں اور حکومت نے اس کی تردید بھی نہیں کی۔‘

گذشتہ کئی برس سے کشمیر میں نامساعد حالات کی وجہ سے یہاں کی معیشت کو پے در پے جھٹکے لگے ہیں جن میں سب سے بڑا جھٹکا سیاسی ردعمل کو دبانے کے لیے نافذ کیا جانے والا کرفیو اور انٹرنیٹ پر پابندی بتایا جاتا ہے۔

کشمیر
،تصویر کا کیپشنجاوید پارسا: ’ہم نئے لوگوں کو ملازمت نہیں دے پاتے، کیونکہ حالات کا کوئی بھروسہ نہیں‘

کشمیر میں ایک کامیاب ریستوران چین کے مالک جاوید پارسا کہتے ہیں ’میں چار سال کا حساب دیکھتا ہوں تو کسی بھی مہینے میں نے 30 دن کام نہیں کیا۔ میں اپنا سارا کاروبار انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے کر رہا ہوں۔ میرے خریدار انٹرنیٹ پر ہیں لیکن یہاں حالات میں کوئی ٹھہراؤ ہی نہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’لیکن پھر بھی میں نے ہمت نہیں ہاری اور ہم ہر ضلع میں اپنی دکان کی فرنچائز کھولتے ہیں۔ مگر ہم نئے لوگوں کو ملازمت نہیں دے پاتے، کیونکہ حالات کا کوئی بھروسہ نہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

سوشل میڈیا پر شادی کے جوڑے فروخت کرنے کے بزنس سے منسلک مُسکان چاپرو کہتی ہیں کہ خاتون تاجر ہونے کے اپنے مسائل ہیں لیکن بار بار انٹرنیٹ پر پابندی سب سے بڑی رُکاوٹ ہے۔

کشمیر
،تصویر کا کیپشنمُسکان چاپرو: ’وادی میں بار بار انٹرنیٹ پر پابندی کاروبار کی راہ میں سب سے بڑی رُکاوٹ ہے‘

فیشن ڈیزائنر سعدیہ مفتی کہتی ہیں کہ ’ہڑتال، کرفیو اور قدغنیں تو اپنی جگہ ہیں ہی، سرکاری دفاتر میں جب ہم کوئی تجویز لے کر جاتے ہیں تو سرکاری افسران کی جانب سے اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ایک خاتون بزنس کیسے کرے گی۔ خاتون تاجروں کے لیے ہر طرف مسئلے ہی مسئلے ہیں۔‘

مسرت جان نے بھی ایسے ہی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ’سارے لوازمات پورا کرنے کے بعد جب ایک دفتر میں افسروں نے مجھ سے کہا کہ میری فائل پاس نہیں ہو گی تو میں نے اُن سے ماچس مانگی اور کہا کہ میں خود کو زندہ جلا لوں گی۔‘

پرانے سرینگر کے گوجوارہ میں پیِزا کے کاروبار سے منسلک وحید پنجابی کا کہنا ہے کہ انھوں نے انٹرنیٹ کے ذریعے ہی تجارت شروع کی تھی مگر ’آج کل ہمارے یہاں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی طرح ہی انٹرنیٹ کی بندش کے اوقات ہیں۔ صبح گیارہ بجے سے تین بجے انٹرنیٹ بند ہوتا ہے اور شام کو چھ بجے سے گیارہ بجے رات تک بھی بند رہتا ہے۔ یہی وقت ہمارے کام کا ہوتا ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ ’خودروزگاری کلچر‘ کو فروغ دو، لیکن میرا سوال ہے کیسے؟‘

کشمیر
،تصویر کا کیپشنوحید پنجابی: ’حکومت کہتی ہے کہ ’خودروزگاری کلچر‘ کو فروغ دو، لیکن میرا سوال ہے کیسے؟‘

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اگست 2019 میں جب انڈین حکومت نے کشمیر کی نیم خودمختاری کا خاتمہ کر کے جموں کشمیر کو مرکز کے زیرانتظام علاقہ قرار دیا تو وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے وعدہ کیا تھا کہ اب پورے انڈیا میں کشمیر ترقی اور خوشحالی کی ایک مثال بن جائے گا لیکن انڈیا کے معتبر ادارے ’سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی‘ کے مطابق فی الوقت جموں کشمیر میں بےروزگاری کی شرح 21 فیصد سے زیادہ ہے جبکہ انڈیا میں بےروزگاری کی قومی شرح سات فیصد سے بھی کم ہے۔

سی ایم آئی ای کے مطابق جموں کشمیر میں فی الوقت کام کرنے کے اہل افراد (لیبر فورس) کی تعداد 44 لاکھ ہے اور تازہ شرحِ بے روزگاری کے مطابق اس وقت کم از کم دس لاکھ لوگ بےروزگار ہیں۔ صرف یہی نہیں کشمیر میں مہنگائی کی شرح سات فیصد سے زائد ہے جو قومی شرح یعنی چار فیصد سے تقریباً دگنی ہے۔

محکمہ صنعت و حرفت کے سربراہ محمود شاہ کہتے ہیں کہ حکومت نے حالیہ دنوں میں صعنتی ترقی کے لیے 28 ہزار کروڑ روپے مالیت کی صنعتی پالیسی کا اعلان کیا جس کے تحت نوجوان سٹارٹ اپس کو کارخانے لگانے کے لیے زمین اور مالی معاونت دی جائے گی۔

محمود شاہ کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے کم از کم 20 ہزار نوجوانوں کو روزگار ملے گا لیکن ان دعوؤں کے برعکس نوجوان مایوس ہیں اور تجارتی مواقع میں حائل رُکاوٹوں سے پریشان ہیں۔

کشمیر
،تصویر کا کیپشنوادی میں بیشتر کاروباری حضرات اپنے کاروبار کے لیے انٹرنیٹ پر بھروسہ کرتے ہیں مگر اس کی بار بار بندش کاروبار کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے

اقتصادی امور کی ماہر مہک دھار کہتی ہیں کہ کشمیر میں تجارت کو کئی طرح کی رکاوٹوں کا سامنا رہتا ہے لیکن اِن میں وہ رکاوٹیں بھی ہیں جو حکومت خود کھڑی کرتی ہے۔

’کوئی بڑا فیصلہ کرنا ہو تو مہینوں پر محیط کرفیو نافذ کر دیا جاتا ہے۔ اس کو ہم سِسٹَمِک شاک کہتے ہیں جس کے لیے حکومت خود ذمہ دار ہوتی ہے۔ اس عرصے کے لیے لوگوں سے ٹیکس بھی لیا جاتا ہے اور قرضوں پر سود بھی وصول کیا جاتا ہے۔ کم از کم یہ تو حکومت کی ذمہ داری تھی کہ سِسٹمک شاک سے ہوئے نقصان کا ازالہ کرتی۔‘

مزید پڑھیے

دفعہ 370 ہٹنے سے جموں کشمیر میں تجارتی، تعلیمی اور انتظامی سرگرمیاں براہِ راست وفاقی قوانین کے تحت لائی گئی ہیں۔ ان ہی قوانین میں ’جیم پورٹل‘ بھی شامل ہے۔

پہلے جموں کشمیر میں بیشتر کارخانے سرکاری اداروں کو اپنی مصنوعات سپلائی کرتے تھے لیکن نئے قوانین کے تحت اب سبھی دفاتر ’جیم پورٹل‘ پر ٹینڈر طلب کرتے ہیں اور پورے انڈیا سے کارخانے اس عمل میں حصہ لیتے ہیں۔

مہک کہتی ہیں ’80 فیصد کارخانے اب بند ہونے والے ہیں، کیونکہ وہ اتنے بڑے ملک میں بڑے سرمایہ داروں کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتے۔‘