کووڈ 19: انڈیا میں شراب، کوکنگ آئل یا لاٹری سے غیر ویکسین شدہ افراد کو مائل کیا جاسکتا ہے؟

کووڈ 19، انڈیا، ویکسین

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, شرنایا رشیکیش
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دلی

ابتدائی مشکلات کے بعد انڈیا میں کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے ویکسین مہم نے گذشتہ مہینوں کے دوران اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

اگرچہ انڈیا ویکسینیشن مہم مکمل کرنے کے لیے 31 دسمبر تک اپنی مشکل ڈیڈلائن پر عمل نہیں کرسکا لیکن اس کے باوجود ملک میں اب تک 85 فیصد سے زیادہ اہل افراد کو ویکسین کی کم از کم ایک خوراک مل چکی ہے۔ جبکہ 55 فیصد سے زیادہ لوگ دونوں خوراکیں حاصل کرچکے ہیں۔

مگر اب بھی لاکھوں افراد ایسے ہیں جنھیں ویکسین نہیں مل سکی اور ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنھیں اپنی عمر کی وجہ سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ کووڈ کی نئی قسم اومیکرون کی وجہ سے انڈیا میں بھی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

تو لوگوں کو ویکسینیشن سینٹر لانے کے لیے کچھ انڈین ریساستوں میں غیر معمولی مراعات دی جا رہی ہیں۔

مغربی ریاست گجرات میں میونسپل کارپوریشن نے ویکسین حاصل کرنے والوں کو مفت ایک لیٹر کوکنگ آئل کی پیشکش کی ہے۔ ان کے مطابق یہ پیشکش موثر ثابت ہوئی ہے، خاص کر کم آمدنی والے افراد میں۔

دارالحکومت نئی دہلی میں بچوں کے لیے اچھے سکول میں داخلے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اگر ان کے والدین ویکسین لگوا ہوں۔ عام حالات میں وہاں بچوں کو کسی اچھے سکول میں داخل کروانا ایک مشکل کام ہوسکتا ہے۔

انڈیا میں اس طرز کی تبدیلیاں نئی نہیں۔ یہاں لاکھوں افراد بیوروکریسی کے زیر انتظام فلاحی منصوبوں پر انحصار کرتے ہیں۔

مگر اس قسم کی ترغیبات کے دوران ایک اعلان نے میدان مار لیا۔ 23 نومبر کو مرکزی ریاست مدھیا پردیش کے ایک مقامی اہلکار نے ویکسین کی دونوں خوراکیں حاصل کرنے والوں کے لیے شراب پر 10 فیصد بچت کا اعلان کیا۔

یہ حکم ایک روز بعد ہی واپس لے لیا گیا تھا جب حکمراں جماعت بی جے پی کے ایک قانون ساز نے اعتراض کیا کہ اس سے شراب نوشی بڑھ سکتی ہیں۔

وبائی امراض کے ماہر چندرکانت لہاریا کہتے ہیں کہ ضلعی اہلکار کی کوشش دراصل ایک ’بُری ترغیب‘ تھی جس سے شاید قلیل مدت میں مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن اس کی غیر ارادی قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

یہ فیصلہ تمام بالغ افراد کے لیے ویکسین کی مہم میں انڈین حکومت کو درپیش چیلنجز کو عیاں کرتا ہے۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ابتدائی مہینوں کے دوران ویکسین کی سپلائی میں مشکلات تھیں لیکن انھیں اب دور کر لیا گیا ہے۔ مگر کئی ماہ تک اب بھی لاکھوں غیر ویکسین شدہ افراد ہونے کی محض ایک وجہ کی نشاندہی کرنا ممکن نہیں۔

کووڈ 19، انڈیا، ویکسین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈاکٹر لہاریا کہتے ہیں کہ ’ویکسین کی سپلائی اچھی ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ آسانی سے ہر شخص تک اس کی رسائی کو ممکن بنا سکیں۔ کئی لوگوں کو ویکسین کے لیے دور تک سفر کرنا پڑ سکتا ہے یا اپنے یومیہ معاوضے کا نصف کھونا پڑ سکتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ حکومت کو ان وجوہات کا تفصیلی جائزہ لینا چاہیے۔ ’ایسا ڈیٹا دستیاب نہیں جس سے اس بات کا جائزہ لیا جاسکے کہ ویکسینیشن میں لوگوں کے لیے کیا رکاوٹیں ہیں۔ حکومت کو ایسے علاقوں کی نشاندہی کرنا ہوگی جہاں ویکسینیشن کی شرح کم ہے اور اس کا موازنہ باقی علاقوں سے کرنا ہوگا۔‘

ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ لوگ ویکسین کی ایک خوراک کے بعد مطمئن نہیں ہوتے یا وہ کووڈ 19 سے متاثر ہوچکے ہوتے ہیں۔

نومبر میں وزیر صحت منسکھ منداویا نے کہا تھا کہ 12 کروڑ لوگ ویکسین کی پہلی خوراک حاصل کرچکے ہیں اور وہ اب تک دوسری خوراک کے لیے نہیں آئے۔

یہ بھی پڑھیے

ملک میں اب کووڈ 19 کا پھیلاؤ بھی کم ہوچکا ہے۔ گذشتہ ایک ماہ سے یومیہ اوسطاً 10 ہزار یا اس سے کم مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

ویکسین لگوانے میں ہچکچاہٹ بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔ انڈیا میں بعض شہری یہ سمجھتے ہیں کہ وائرس سے زیادہ خطرناک یہ ویکسین ہے۔

ہیلتھ اکانومسٹ ڈاکٹر ریجو ایم جان کے لیے بڑی پریشانی یہ ہے کہ اگر کووڈ کیسز دوبارہ بڑھے تو بالغ افراد کی ایک بڑی تعداد ہوگی جو اس سے متاثر ہوسکتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ذمہ داری حکومت کی ہے کہ اس کا پتا لگائیں۔ اور ضرورت کے تحت گھروں تک ویکسین پہنچائیں۔‘

کیا ویکسین کے بدلے گاڑیوں کی لاٹری اچھی حکمت عملی ہے؟

لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا ان مراعات سے کوئی فائدہ ہوسکتا ہے۔ کئی ممالک میں ویکسینیشن مہم کے دوران لوگوں کو اس کی خوراک حاصل کرنے پر فائدے دیے گئے ہیں۔

جیسے روس میں کچھ کمپنیوں نے ویکسین پر شک کرنے والوں کو گاڑیوں کی لاٹری کی لالچ دی ہے۔

ہانگ کانگ میں بھی ہزاروں افراد کے لیے اس وقت ویکسین میں دلچسپی بڑھی جب اس میں انھیں مہنگا اپارٹمنٹ، سونا اور ٹیسلا گاڑی جیتنے کا امکان نظر آیا۔ امریکہ میں بھی کچھ مقامی حکومتوں نے ویکسین کے سلسلے میں لوگوں کی حوصلہ افزائی میں گفٹ کارڈ اور لاٹری کی پیشکش کی۔

مگر کیلیفورنیا کاؤنٹی میں نیشنل بیورو آف اکنامک ریسرچ کی تحقیق کے مطابق ایسی مراعات سے ویکسینیشن کی شرح نہیں بڑھتی۔

کووڈ 19، انڈیا، ویکسین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس کے منصفین لکھتے ہیں کہ ’ویکسین کی شرح بڑھانے کے لیے پالیسی میں تبدیلیاں درکار ہیں جیسے کمپنیوں میں ملازمین کے لیے بنائے گئے اصول اور حکومتی فیصلے۔‘

دیگر ماہرین نے اپنی تحقیق میں یہ معلوم کیا ہے کہ امریکی ریاست اوہائیو میں ویکسین حاصل کرنے والوں کی قرعہ اندازی میں 10 لاکھ ڈالر کا انعام موثر ثابت ہوا ہے۔

جرمنی میں ایک سروے میں یہ پتا لگا کہ اگر حکومت غیر ویکسین شدہ افراد کو ایسی آزادیاں دیتی ہے جو ان کے پاس نہیں، انھیں بڑے مالی فوائد دیتی ہے یا یہ یقینی بناتی ہے کہ مقامی ڈاکٹر انھیں ویکسین لگا سکتے ہیں، تو ویکسین کی شرح بڑھ سکتی ہے۔‘

تاہم ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ ایسی مراعات کی صورت میں لوگوں کا رویہ محدود انداز میں تبدیل ہوتا ہے۔ یعنی یہ صرف ویکسین مہم کے آغاز میں شاید زیادہ بہتر کام کرتا ہے۔

ڈاکٹر جان کہتے ہیں کہ ایسے بالغ افراد جنھیں اپنی عمر کی وجہ سے کم خطرے کا سامنا ہے انھیں مراعات دینے کے بجائے اگر چھین لی جائیں تو یہ بہتر راستہ ہوگا۔ جیسے اگر غیر ویکسین شدہ افراد کو قطاروں میں انتظار کرنا پڑے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر آپ مالی مراعات دیں گے تو اس سے بدعنوانی کے مواقع بڑھ جائیں گے۔ یہ بہتر ہوگا اگر ایسی صورتحال بنائی جائے جس میں ویکسین حاصل کرنا لوگوں کے اپنے مفاد میں ہو۔‘

جرمنی اور آسٹریا جیسے ممالک میں غیر ویکسین شدہ افراد کے خلاف کارروائی شروع ہوگئی ہے جہاں ان پر سختیاں کی جا رہی ہیں اور انھیں بار یا ریستوران میں آنے نہیں دیا جارہا۔

گذشتہ ماہ نیو یارک شہر میں ہزاروں غیر ویکسین شدہ میونسپل ملازمین کو معاوضے کے بغیر چھٹی پر بھیج دیا گیا تھا۔ یہ صرف تب ممکن ہوا جب حکومت نے اپنا حکم جاری کیا۔ اب حکومت نجی کاروباری کمپنیوں میں کام کرنے والے ملازمین کے لیے بھی ویکسین لازم بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

ڈاکٹر لہاریا کہتے ہیں کہ مراعات سے متعلق کوئی حکومت عملی شاید کارآمد ثابت ہو لیکن انڈیا میں یہ زیادہ بہتر ہوگا اگر ماضی میں اپنی کامیابیوں سے سیکھا جائے، جیسے پولیو ویکسین پروگرام کے دوران دیکھا گیا۔

سنہ 2014 میں انڈیا پولیو فری ملک بنا۔ اس کے پیچھے کئی برسوں کی محنت لگی جس میں ویکسین کے لیے رکاوٹوں کو دور کیا گیا اور ویکسین پر لوگوں کا اعتماد بڑھایا گیا۔

ڈاکٹر لہاریا کے مطابق ’کمیونٹی کی سطح پر بہتر روابط ضروری ہیں تاکہ طویل مدت میں کووڈ 19 ویکسینیشن پروگرام کو کامیاب بنایا جاسکے۔‘